ɢᴄ ʜᴀᴍᴢᴀ

ɢᴄ ʜᴀᴍᴢᴀ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ɢᴄ ʜᴀᴍᴢᴀ, Moscow.
(1)

آخری طاق رات       *لیلته القدرکیا ہے*✨✨✨✨✨✨✨☘ ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ☘ جس میں فرشتے اپنے رب کے حکم سے اتر...
15/03/2026

آخری طاق رات

*لیلته القدرکیا ہے*
✨✨✨✨✨✨✨

☘ ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
☘ جس میں فرشتے اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں
☘ وہ رات جس میں روح الامین حضرت جبرائیل علیہ اسلام اترتے ہیں
☘وہ رات جو برکتوں والی ہے
☘وہ رات جو سراسر سلامتی ہے
( القدر )
🌹لیلته القدر ہزار مہینوں سے بہتر ایک رات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا
✨✨✨✨✨✨✨
*لیلته القدر کے بارے میں رسول صلی اللہ علیه وسلم نے کیا ہدایات دی ہیں*
✨✨✨✨✨✨✨

☘ رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو رسول صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا " تمہارے پاس یہ مہینہ آگیا ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے افضل ہے جو اس رات ( کا ثواب حاصل کرنے) سے محروم رہا وہ ہر بهلائی سے محروم رہا اس کے خیر سے وهی محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہے" (ابن ماجہ)

✨✨✨✨✨✨✨
*نبی صلی اللہ علیه وسلم کا طرز عمل*
✨✨✨✨✨✨✨

☘ نبی صلی اللہ علیه وسلم کے طرز عمل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں "جب رمضان کا آخری عشرہ آتا آپ صلی اللہ علیه وسلم اپنا تہبند مضبوط باندهہ لیتے یعنی اپنی کمر کس لیتے تهے
ان راتوں میں خود بهی جاگتے اور اپنے گهر والوں کو بهی جگاتے تهے" (بخاری)
✨✨✨✨✨✨✨
*کیا لیلته القدر کو تلاش کرنا چاہیے*
✨✨✨✨✨✨✨

☘ *رسول صلی الله علیه وسلم نے فرمایا "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو"*
( بخاری )

☘ ہمیں چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصی عبادات کا اہتمام کریں

❣صرف *27 شب* کو نہیں بلکہ تمام طاق راتوں میں

🔺 *طاق راتوں سے مراد 29،27،25،23،21 یہ پانچ راتیں ہیں*

🎯 ان میں ہم نے یکساں عبادت کرنی
ہے

✨✨✨✨✨✨✨
*اس رات میں کرنے والے کام کون سےہیں*
✨✨✨✨✨✨✨

📌 شب قدر کا قیام
📌قرآن کی تلاوت
📌 صدقہ و خیرات
📌 دعائیں
📌 ذکر

🌟🌙🌟🌙🌟🌙🌟

تیسری طاق رات

اسم الاعظم

وہ کلمات جنکے پڑھنے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ أَنِّیْ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد*
اے الله! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا تو ہی الله ہے، تیرے سوا کوئی اله نہیں تو ایک ہے، بے نیاز ہے، ایسی ذات ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی وہ جنم دیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔

*اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله! بے شک میں تجھ سے (اس وسیلے سے) مانگتا ہوں کہ ساری حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ بہت زیادہ احسان کرنے والا آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا، (اے) جلال اور اکرام والے!

*لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ*
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔

*اَللّٰهُمَّ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ
ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله !تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو بہت ہی احسان کرنے والا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے (اے) جلال اور اکرام والے!

*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ*
الله کے سوا کوئی الٰہ نہیں

*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ،وَهُوَعَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر، اَلْحَمْدُ للهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ*
الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ سب تعریف الله ہی کے لیے ہے، الله پاک ہے، الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور الله سب سے بڑا ہے اور الله کی مدد کے بغیر نہ (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت۔ اے الله مجھے معاف کردے۔

اسی طرح بعض مفسرین *یاحي يا قيوم* کو اسم اعظم بتاتے ہیں

لیلۃ القدر

لیلۃ القدر سال كی سب سے جلیل القدر رات ہے، اس كے بے شمار فضائل ہیں، اللہ تعالی نے خود قرآن كریم میں ایک سے زائد مقامات پر اس رات كی فضیلت بیان فرمائی ہے، بلكہ ایک پوری سورت، سورت القدر صرف اور صرف اس رات كی فضیلت میں نازل فرمادی۔

اس رات كے چند فضائل درج ذیل ہیں:

1⃣ اس میں قرآن كریم نازل ہوا، (یعنی نزول كا آغاز ہوا، اور پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل ہوا)۔

2⃣ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لہذا جس نے اس ایک رات كی عبادت كو پالیا اس نے ہزار مہینوں سے بھی زیادہ كی عبادت كو پالیا۔

3⃣ اس رات میں فرشتے اپنے سردار حضرت جبریل علیہ السلام كے ساتھ نازل ہوتے ہیں، جو رحمت وبركت كی عظیم نشانی ہے۔

4⃣ یہ رات سراسر سلامتی ہے۔
سورت القدر میں اللہ تعالی كا ارشاد ہے:

(ترجمہ) " شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (یعنی جبریل) اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔"

5⃣ یہ مبارک رات ہے. ارشاد باری تعالی ہے:

(ترجمہ) "حم، قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے، کہ یقینا ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔"
(سورۃ الدخان: 1-3)

6⃣ اس میں پورے سال كی تقدیر یا تمام معاملات كے فیصلے لوح محفوظ سے نكال كر فرشتوں كو سونپ دئے جاتے ہیں، اللہ تعالی كا ارشاد ہے:

" اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔ (یا تقسیم كیا جاتا ہے)"
(سورۃ الدخان: 4)

7⃣ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔"
(بخاری: 1901، مسلم:760)

لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں سے ایک ہے: ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ كی لمبی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
(بخاری: 2016، مسلم:1167)

یہی بات دیگر صحابہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل كی ہے۔ نیز مختلف روایات میں ان طاق راتوں میں سے كچھ كی تخصیص بھی آئی ہے، ان تمام روایات كو جمع كركے بعض علماء اس نتیجے پر پہنچے ہیں كہ لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔

لیلۃ القدر كی فضیلت كا حصول محض جاگ كر نہیں ہوسكتا، بلكہ گپ شپ وغیرہ میں محض جاگ كر رات گزارنا تو اس رات كا ضیاع اور ناقدری ہے، اس فضیلت كا حصول عبادات اور نیكی كے كاموں میں مشغول رہ كر اور خوب محنت كركے ہی ہو سكتا ہے، لہذا ان راتوں میں نوافل، تلاوت اور مطالعۂ قرآن، ذكر، دعاء اور صدقے وغیرہ كا خوب اہتمام كرنا چاہئے، اور عبادت میں خشوع وخضوع لانے كی كوشش اور اللہ كے سامنے عاجزی وگریہ وزاری كرنی چاہئے۔

ليلۃ القدر كی خاص دعا:

ام المؤمنین عائشہ (رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : " پڑھو

«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»

" اے اللہ ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے ، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے "۔
(ترمذی: 3513)

اللہ تعالٰی ہم کو صحیح سمجھ کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے آمین.

21/02/2026

اللّٰه کریم نے ارشاد فرمایا: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: 41]"نکلو تم ہلکے ہو یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں لڑو"۔

عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن کم سے کم معرکۂ جاں میں نہ ہاریں گے تمہیں ❣️
21/02/2026

عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن
کم سے کم معرکۂ جاں میں نہ ہاریں گے تمہیں
❣️

20/02/2026

روزے کے تین مراتب ہیں!

۱-صوم العموم: پیٹ اور شرمگاہ کو خواہش پوری کرنے سے روک لینا،،
۲- صوم الخصوص: کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں اور بدن کے باقی تمام اعضاء کو گناہوں سے بچائے رکھنا،،
۳- صوم خصوص الخصوص: دل کو پست و نیچ ارادوں اور دنیاوی خیالات سے پاک رکھنا اور اسے ماسوا الله کے ہر شے سے منقطع کر دینا "

[مختصر منهاج القاصدين لابن قدامة (ص٤٤)]

‏“ان  سے  آباد  ہے  دنیائے  محبّت  !!! عشق والے ہی مثالوں میں رہا کرتے ہیں!!!             ۰
19/02/2026

‏“
ان سے آباد ہے دنیائے محبّت !!!
عشق والے ہی مثالوں میں رہا کرتے ہیں!!!
۰

" ایک شخص ابو ذر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور فوراً سے انکے گھر کو پرتالنے لگا، پھر کہا، اے ابوذر! آپکا سامان کہاں ہے؟ف...
18/02/2026

" ایک شخص ابو ذر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس آیا اور فوراً سے انکے گھر کو پرتالنے لگا، پھر کہا، اے ابوذر! آپکا سامان کہاں ہے؟
فرمایا! ہمارا ایک اور گھر ہے، جسمیں ہم اپنا بہترین سامان بھیجتے رہتے ہیں،(آخرت)
کہنے لگا! مگر جب تک آپ یہاں رہیں گے تب تک تو آپکو کچھ سامان درکار ہوگا نہ،
ابو ذر فرمانے لگے! اس گھر کا مالک ہمیں یہاں زیادہ دیر نہیں چھوڑنے والا،"

- الزهد لابن أبي الدنيا

ابو الولید بن ہشام بن یحییٰ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:ہم نے سرزمینِ روم پر جہاد کیا، اور ہم باری باری خدمت اور پہرہ دیا ک...
17/02/2026

ابو الولید بن ہشام بن یحییٰ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ہم نے سرزمینِ روم پر جہاد کیا، اور ہم باری باری خدمت اور پہرہ دیا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا نام سعید بن الحارث تھا،،

اللہ نے اسے بندگی کا ایک بڑا حصہ عطا کر رکھا تھا،،
یا تو وہ روزے کی حالت میں ہوتا،
یا قیام کرتے ہوئے،
یا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے،
یا قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتا،،

میں اس کی کثرتِ مشقت پر اسے ٹوکا کرتا اور کہتا: اپنے نفس پر رحم کرو،،

تو وہ جواب دیتا:

"اے ابو الولید! یہ تو چند گنے چنے سانس ہیں،
عمر فنا ہو رہی ہے،
دن گزرتے جا رہے ہیں،
اور ہم موت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟"

ابو الولید کہتے ہیں:

ایک دن سعید بن الحارث خیمے میں سو گیا، اور میں پہرے پر تھا،،
میں نے خیمے کے اندر سے آواز سنی، تو اندر داخل ہوا،

دیکھا کہ سعید نیند میں باتیں کر رہا ہے اور ہنس رہا ہے اور کہہ رہا ہے:

"میں واپس جانا نہیں چاہتا، میں واپس جانا نہیں چاہتا "

پھر اس نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، گویا کوئی چیز پکڑ رہا ہو،
پھر اسے نرمی سے اپنے سینے کی طرف واپس لے آیا، ہنستا رہا،
پھر اچانک کانپتا ہوا جاگ ارہا،

میں اس کے پاس آیا، اسے اپنے سینے سے لگا لیا،
وہ دائیں بائیں دیکھتا رہا یہاں تک کہ پرسکون ہو گیا،
پھر وہ تسبیح، تکبیر اور حمد کرنے لگا۔

میں نے کہا: اے سعید! تمہیں کیا ہوا؟ یہ کیا معاملہ تھا؟
اور میں نے اسے وہ سب کچھ بتا دیا جو میں نے اسے اسکے سوتے وقت دیکھا تھا،

اس نے کہا:

"اے ابو الولید! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں،
جب تک میں زندہ رہوں، اس بات کو چھپائے رکھنا۔"

میں نے اس سے وعدہ کیا کہ اس کی زندگی میں یہ بات کسی کو نہ بتاؤں گا،،

پھر اس نے کہا:

اے ابو الولید! میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے،
لوگ اپنی قبروں سے نکل آئے ہیں، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔

پھر میرے پاس دو آدمی آئے،
میں نے ان سے زیادہ حسین اور کامل کبھی کسی کو نہیں دیکھا تھا،،

انہوں نے کہا:

"اے سعید بن الحارث! خوش ہو جا، خوش ہو جا!
اللہ نے تیرے گناہ معاف کر دیے،
تیری کوشش کو سراہ لیا ہے،
اور تیرا عمل قبول فرما لیا ہے،
ہمارے ساتھ چل، تاکہ ہم تجھے وہ نعمتیں دکھائیں
جو اللہ نے تیرے لیے ہمیشہ کی جنت اور عظیم رضوان میں تیار کر رکھی ہیں۔"

میں ان کے ساتھ بجلی کی طرح تیز گھوڑوں پر سوار ہو گیا،
یہاں تک کہ ہم ایک عظیم محل تک پہنچے،،
نہ اس کی ابتدا نظر آتی تھی، نہ انتہا، نہ اس کی بلندی؛
وہ گویا چمکتا ہوا نور تھا۔

دروازہ کھلا ،،تو اس میں ایسی حوریں تھیں جن کا حسن بیان سے باہر ہے،،

وہ کہنے لگیں:

"یہ اللہ کا ولی ہے،،
یہ اللہ کا محبوب آ گیا ہے،،
مرحبا! مرحبا "

پھر ہم ایسی مجالس تک پہنچے
جن میں سونے کے تخت تھے، جواہرات سے آراستہ،،

ہر تخت پر ایک ایسی حسین لڑکی تھی
جس کا حسن میں بیان نہیں کر سکتا،
اور ان سب کے درمیان ایک ایسی حور تھی
جو سب پر غالب تھی،
جس کے حسن پر نگاہ ٹھہر نہیں سکتی تھی،،

سب لڑکیاں میری طرف لپکیں،،
جیسے پردیس سے لوٹنے والے کا استقبال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مجھے بٹھایا
اور اس حور کے پہلو میں جگہ دی،،

انہوں نے کہا:
"یہ تمہاری زوجہ ہے،
اور اس کے ساتھ تمہیں اس جیسی ایک اور بھی ملے گی،،

میں نے کہا: میں کہاں ہوں؟

اس نے کہا:

"جنتُ المأویٰ میں"

میں نے پوچھا: تم کون ہو؟

کہنے لگی:

"میں تمہاری ہمیشہ رہنے والی زوجہ ہوں "

میں نے کہا: دوسری کہاں ہے؟

کہنے لگی:

"وہ تمہارے دوسرے محل میں ہے۔"

میں نے کہا: میں آج رات تمہارے پاس رہوں گا،
اور کل دوسری کے پاس چلا جاؤں گا،،

میں نے ہاتھ بڑھایا،،تو اس نے نرمی سے میرا ہاتھ میرے سینے کی طرف لوٹا دیا اور کہا:

"آج نہیں…
تمہیں دنیا میں واپس جانا ہے۔"

میں نے کہا:

"میں واپس جانا نہیں چاہتا "

اس نے کہا:

"ضرور جانا ہو گا،
تم تین دن رہو گے،
اور تیسرے دن، ان شاء اللہ، ہمارے ہاں افطار کرو گے "

پھر وہ اٹھ گئی،
اور میں اس کے اٹھنے سے گھبرا کر چونک اٹھا،

ابو الولید کہتے ہیں:

پہلا دن آیا!سعید بن الحارث اٹھا، غسل کیا، خوشبو لگائی، روزہ رکھا،
اور دن بھر دشمن سے لڑتا رہا،
لوگ اس کی جان جوکھوں میں ڈالنے پر حیران تھے۔

دوسرا دن آیا ،،اس نے وہی کیا،،

پھر تیسرا دن آیا،، اس دن بھی اس نے غسل کیا، خوشبو لگائی، روزہ رکھا،
اور ایسا دلیر ہو کر لڑا کہ گویا مردوں میں سب سے بہادر ہو،،
یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب تھا
کہ دشمن کا ایک تیر اس کی گردن میں لگا،
اور وہ منہ کے بل گر پڑا،،

ابو الولید کہتے ہیں: میں لپکا اور اس کے پاس پہنچ کر کہا:

"اے سعید! مبارک ہو وہ افطار جو آج تم کرو گے!
کاش میں بھی تمہارے ساتھ ہوتا!"

سعید نے آنکھ کے اشارے سے مجھے دیکھا،
ہونٹ کو دانتوں میں دبایا اور مسکرا دیا،،
گویا مجھے وہ راز یاد دلا رہا تھا جس پر میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کسی کو نہ بتانے کا،،

پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا،
مسکرایا اور کہا:

"الحمد للہ الذی صدقنا وعده"

اللہ کی قسم!
اس کے بعد اس نے ایک لفظ بھی نہ کہا
یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔

(البداية والنهاية)

16/02/2026

یہ دو بھکاری ایک مسجد کے باہر بھیک مانگ رہے تھے ایک بھکاری کا ایک ہاتھ نہیں تھا اور وہ اکلوتے ہاتھ سے پانی پی رہا تھا۔۔۔

بھیک دینے والے نے پیسے دیئے تو بے اختیار کرامت سے اچانک کٹا ہوا ہاتھ نمودار ہوگیا
جب فراڈی کو تھپڑ پڑا تو لنگڑے فقیر نے بھی دوڑ لگا دی

😂😂😂

رمضان قریب ہے زکوۃ،عطیات اور فطرانہ دیتے وقت مستحقین کو تلاش کریں ایسے فراڈیوں سے ہوشیار رہیں!!

‏انہوں نے دنیا کی لذتیں تج کر میدان کارزار میں جنت کی راہ لی، کیونکہ ان کے نزدیک یہ فانی دنیا ایک پل بھی رہنے کے لائق نہ...
14/02/2026

‏انہوں نے دنیا کی لذتیں تج کر میدان کارزار میں جنت کی راہ لی، کیونکہ ان کے نزدیک یہ فانی دنیا ایک پل بھی رہنے کے لائق نہ تھی۔
یہ وہ بہترین لوگ اور زیرک تاجر ہیں جنہوں نے اپنی جانیں خالق کے سپرد کر کے ابدی نفع کا سودا کر لیا۔
​سودا تو واقعی نفع کا رہا!

Address

Moscow

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ɢᴄ ʜᴀᴍᴢᴀ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share