03/02/2019
حج 2019 کے اخراجات کے بارے میں چند باتیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے حج 2019 پہ سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پہ چند باتیں بطور پاکستانی عرض کرتا ہوں۔
1۔۔۔حج صاحب استطاعت پہ فرض ہے لیکن پہلے زمانے میں ہر شخص خود فیصلہ کرتا تھا کہ وہ حج پہ جا سکتا ہے یا نہیں۔سارے اخراجات اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتے تھے۔اس نے کس معیار کی سواری پہ جانا ہے۔کہاں ٹھہرنا ہے۔کیسے جانور کی قربانی کرنی ہے۔اس سب کا حساب کتاب اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا تھا لیکن اب بات بدل گئی ہے۔
2۔۔۔موجودہ دور میں حج کے اخراجات یا تو حکومت طے کرتی ہے یا پرائیویٹ ٹریولر ایجنسی اپنے مختلف پیکیج دیتی ہے۔جس میں آپ کے آنے جانے۔قیام ۔طعام ۔زیارات۔سعودیہ میں حج کی فیس شامل ہے۔
3۔۔۔گذشتہ چند سالوں کے حج اخراجات کی تفصیل جان لیں۔
حج اخراجات تفصیل کچھ یوں ہے
2013 میں 2 لاکھ 92 ہزار
2014 میں 2 لاکھ 72 ہزار
2015 میں 2 لاکھ 64 ہزار
2016 میں 2 لاکھ 78 ہزار
2017 میں 2 لاکھ 80 ہزار
2018 میں 2 لاکھ 80 ہزار
2019 میں 4 لاکھ 36 ہزار
قربانی کی رقم شامل نہیں اور 2 ہزار ریال حاجی کو لے کر جانا ہیں۔ فل پیکج
2019 میں 5 لاکھ 30 ہزار
4۔۔۔آپ اس تفصیل کو چیک کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جو حج 2013 میں 2 لاکھ 92 ہزار کا تھا وہ 2015 میں 2 لاکھ 64 ہزار روپے کا ہو گیا تھا۔اس کی وجہ بلاشبہ وزارت حج و عمرہ کی بہترین کارکردگی تھی جس نے پہلے سے اچھی پالیسی بنائی اور حجاج کرام کو بہترین سہولیات فراہم کی۔
5۔۔۔2016 اور 2017 میں حج اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا تھا لیکن بنا کسی سبسڈی کے بہتر پیکیج ملا تھا۔لیکن 2018 میں حج کے اصل اخراجات 3 لاکھ 25 ہزار روپے تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے فی حاجی 45 ہزار روپے سبسڈی دے کر حج اخراجات کو 2 لاکھ 80 ہزار روپے پہ برقرار رکھا۔
6۔۔2019 میں حج اخراجات غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ڈالر کی قیمت اضافہ۔سعودیہ میں مقامی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ۔عمارتوں کے کرائے میں اضافہ۔گاڑیوں کے کرائے میں اضافہ(اس مہنگائی کی تصدیق سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں سے کی جاسکتی ہے) جس کی وجہ سے 2019 میں حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار روپے پہ پہنچ گئے ہیں۔
7۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ان حج اخراجات پہ 45 ہزار روپے سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی جو اگر منظور ہو بھی جاتی تو بھی حج 2019 کے اخراجات 3 لاکھ 91 ہزار روپے ہوتے۔جس میں قربانی اور 2 ہزار ریال نقد شامل نہ ہوتے۔
8۔۔۔اب حج اخراجات پہ سبسڈی کا مسئلہ سمجھ لیں۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ آئین کے تحت تمام حجاج کو حج کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرے۔اس کے لیے سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ انتظامی ہے۔شریعت کی طرف سے اس پہ نہ کوئی پابندی ہے اور نہ یہ لازمی ہے۔
9۔۔۔۔اگر کوئی حاجی سبسڈی کے ساتھ حج کرے یا بنا سبسڈی کے حج کرے۔دونوں صورتوں میں حج پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔حج بلکل درست ہے۔
10۔۔۔۔عوام کے پیسوں سے حج پہ سبسڈی دینے کا مسئلہ چونکہ صرف انتظامی ہے تو یہ حکومت کی مرضی پہ ہے کہ وہ سبسڈی دے یا نہ دے۔آپ کی مرضی آپ اس فیصلے پہ تنقید کریں یا تعریف لیکن یہ یاد رکھیں شریعت کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔یہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے میٹرو بس سروس میں عوام کو سبسڈی دی جاتی ہے۔کسانوں کو بعض جگہ بجلی میں سبسڈی ملتی ہے۔فوج کے ملازمین کو ریل کے کرایوں میں رعایت دی جاتی ہے۔
11۔۔۔بعض لوگوں کے مطابق چونکہ حج پہ سبسڈی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے اور ٹیکس دینے والوں میں ہندو۔سکھ۔قادیانی سب شامل ہیں تو ان کے پیسے پہ حج کرنا کیسا ہے۔جواب یہ ہے کہ جب ٹیکس کا پیسہ عوام سے نکل کر حکومت کے پاس چلا گیا تو وہ حکومت پاکستان کی ملک ہے۔اس کا مسلم یا غیر مسلم عوام کی ملکیت سے کوئی تعلق نہیں۔(مفتی حضرات کے لیے فقہ کا قاعدہ پیش خدمت ہے۔تبدل ملک سے تبدل عین ہو جاتا ہے)
12۔۔۔حج اخراجات پہ سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ہے اور آپ اس پہ دل کھول کر تنقید یا تائید کریں ۔یہ آپ کا جمہوری حق ہے لیکن میری ان باتوں پہ غور کرنے کے بعد۔نیز ایک دوسرے پہ فتوے بازی نہ کریں۔جو لوگ پہلے حج کر چکے ان پہ کوئی اعتراض نہ کریں۔
اللہ ہم سب کو حرمین طیبین کی با ادب حاضری نصیب کرے۔آمین۔ منجانب عدیل الرحمان