13/06/2026
Kisi Ki Wall Se...
**درجہ سوم کا ملازم۔۔۔۔
میں ایک سرکاری ادارے میں استاد ہوں۔میں گریڈ 17 میں بھرتی ضرور ہوا تھا لیکن عملی طور پر میرا درجہ عدلیہ، فوج، بیورو کریسی، واپڈا، واسا، پولیس، مال، پٹوار، سیکرٹریٹ، فنانس، لوکل گورنمنٹ کے گریڈ 12 کے ملازمین سے بھی کم ہے۔البتہ درجہ ء چہارم کے ملازم یعنی چوکیدار، نائب قاصد، مالی وغیرہ مجھے افسر سمجھتے ہیں۔
اس شعبے کا انتخاب میں نے اپنی مرضی اور خوشی سے کیا تھا یا نہیں لیکن استاد بننے کے لیے بھی مجھے بہت محنت اور کوشش کرنی پڑی۔
میں استاد بن کر خوش تھا۔
مجھے بتایا گیا کہ میں بھی گزیٹڈ افسر ہوں
لیکن معلوم ہوا کہ میرے پاس صرف سندوں کی فوٹو کاپی اور نادرا کے فارم تصدیق کرنے کا اختیار ہے۔
مجھے بتایا گیا کہ میں اب منصب پیغمبری کا وارث ہوں ۔میں نے گھر سے لے کر گلی، محلے اور سرکاری دفاتر تک اس منصب کی تکریم ڈھونڈنے کی کوشش کی، میں سڑک پر اور دفاتر میں کئی بار اس زعم میں لوگوں سے الجھ پڑا لیکن مجھے ہر بار منہ کی کھانی پڑی۔
مجھے بار بار اشفاق احمد کا روم والا قصہ سنایا گیا لیکن کبھی سیکرٹریٹ، اکاؤنٹ آفس یا کسی دوسرے دفتر میں کوئی میرے لیے کھڑا نہ ہوا، کھڑا ہونا تو دور کی بات کسی نے مجھے بیٹھنے کے لیے کرسی بھی پیش نہیں کی ۔
لے دے کے میرے پاس ایک خوشی اور ایک امید تھی کہ سروس کی تکمیل پر مجھے کچھ مالی آسودگی میسر ہو گی۔مجھ سے یہ حق بھی چھین لیا گیا۔میرے احتجاج کے باوجود کسی نے میری آواز نہیں سنی کیونکہ میں تیسری دنیا کے ملک میں تیسرے درجے کا ملازم اور شہری ہوں۔
(ڈاکٹر اورنگزیب نیازی)
Css Marathon
CSS Platform
Azad Chaiwala
M Tanveer Nandla