30/03/2020
(وزیراعظم عمران خان صاحب کا قوم سے خطاب)
وزیراعظم عمران خان کاقوم سے خطاب
اس وقت ساری دنیا کورونا وائرس کی جنگ لڑ رہی ہے
ہر ملک اپنی صلاحیت کےمطابق کورونا سےجنگ لڑ رہا ہے
چین نےووہان شہر میں 2 کروڑ لوگوں کو لاک ڈاؤن کر دیا
اگر ہمارے بھی چین جیسے حالات ہوتے تو سارے شہروں کو بند کر دیتا
ہمارا مسئلہ ہے. کہ ہماری 25 فیصد آباد غریب ہے، جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتی
اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کاخیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوسکتا
کیا ہم لاک ڈاوَن کر کے لوگوں کےگھروں میں کھانا پہنچا سکتے ہیں؟
یہ ایسی بیماری ہےکہ غریب امیر میں فرق نہیں کرتی،
برطانیہ کے وزیراعظم کو کورونا وائرس ہو گیا ہے
بھارت میں لوگ بھوک کی وجہ سےسڑکوں پرآگئے
بھارتی وزیراعظم لاک ڈاوَن کےفیصلےپر قوم سےمعافی مانگی
ہم نےملکی حالت دیکھ کریہ جنگ حکمت سےلڑنی ہے
حکومت اورقوم مل کرلڑےگی تو کورونا کےخلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے
کیا ہم وسائل سےیہ جنگ لڑ سکتےہیں
ہمارےپاس وسائل تو نہیں ہے،پر سب سے بڑی چیز ہمارے پاس ایمان ہے
ایمان ہماری سب سےبڑی طاقت ہے
ہماری دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے
ان دو طاقتوں کا ہم نے استعمال کرنا ہے، کورونا کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے
وزیراعظم آفس میں ایک سیل ہےجو پورا ڈیٹا دیکھ رہا ہے
امریکہ کا ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر ہے
ہم نے سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا جو 8 ارب ڈالر بنتا ہے
کورونا ٹائیگر فورس تشکیل دینےکافیصلہ کیا ہے
ہماری ٹائیگرفورس بتائےگی کہ گھروں میں قرنطینہ کیسےکرناہے ہے
جن علاقوں کوہم لاک ڈاوَن کریں گے وہاں ٹائیگرفورس رضا کار کھانا پہنچائیں گے
آج وزیراعظم کورونا فنڈز کے قیام کااعلان کرتاہوں
کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائی جانے والی رقم پرکوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی
بیرون ملک پاکستانی ریلیف فنڈمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں
ذخیرہ اندوزوں کو کہنا چاہتا ہوں آپ کی وجہ سےلوگ مریں گے
ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں،ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں ذخیرہ اندوزوں کو عبرت ناک سزائیں دیں گے
مدینہ دنیاکی پہلی فلاحی ریاست تھی
وزیر اعظم کا خطاب میں کہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں کمزورطبقےکاخاص خیال رکھا جاتا تھا
ہمیں پاکستان میں غریب طبقےکا خیال رکھنا ہے
رپورٹر _قاسم مقصود
Like # #
Q.M tvخبروں کی دنیا