26/04/2026
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ کچھ چائے کے تھیلے (tea bags) گرم پانی میں ڈالنے پر بڑی مقدار میں مائیکروپلاسٹکس اور نینوپلاسٹکس خارج کرتے ہیں۔ ایک تھیلا ہر ملی لیٹر چائے میں اربوں نہایت چھوٹے پلاسٹک ذرات چھوڑ سکتا ہے۔ یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب حرارت پلاسٹک والے مواد کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔
تحقیق کے مطابق مختلف مواد کے تھیلوں میں فرق پایا گیا:
پولی پروپلین والے تھیلے سب سے زیادہ ذرات خارج کرتے ہیں
اس کے بعد سیلولوز والے
اور پھر نائلون والے
یہ ذرات بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے انسانی جسم کے خلیات کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔ تجربات میں دیکھا گیا کہ کچھ ذرات آنتوں کے خلیوں میں داخل ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ بعض خلیے کے مرکز (nucleus) تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔
اگرچہ اس کے طویل مدتی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن یہ تحقیق روزمرہ استعمال سے پلاسٹک کے ممکنہ خطرات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ذرات جسم میں سوزش، مدافعتی ردِعمل، اور خلیاتی دباؤ جیسے مسائل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خلاصہ: عام چائے پینے جیسی عادت بھی غیر محسوس طریقے سے جسم میں پلاسٹک کے ذرات بڑھا سکتی ہے، جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
Research Paper 📄
DOI: 10.1016/j.chemosphere.2024.143736