05/08/2026
قومی ضمیر کی آواز
تاریخ انسانی اس بات کی شاہد ہے کہ قومیں ایک وقت تک حکمرانوں کا جبر برداشت کرتی ہیں ۔
اور
اندر ہی اندر لاوا پکتا رہتا ہے ۔
لیکن
ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو!
جبر کے پردے کو چاک کرنے کیلئے
شیشے کے گھر میں بیٹھے حکمرانوں کے تخت کو تختے میں بدلنے میں
کچھ دیر نہیں لگتی
مگر
شیشے کے گھر میں بیٹھنے والوں کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا ۔
شیشے کے گھروں کو ریت کے گھروندوں میں تبدیل ہو ہوتا تاریخ نے بار بار دیکھا ہے ۔
ماضی قریب میں ہمارے ارد گرد اس کی بہت سی مثالیں سویت یونین سے شروع ہو کر نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بہت سی جگہوں پر موجود ہیں ۔
کہیں تو ائیر لفٹ کا ٹائم مل جاتا ہے اور کہیں عوامی سیلاب اس کا بھی وقت نہیں دیتا اور سب کچھ تاراج ہو جاتا ہے ۔
وطن عزیز میں بھی اس وقت جو سیاسی گھٹن کا ماحول پایا جا رہا ہے
جو لکھے اس کے قلم کو توڑو
جو بولے اس سے زبان لے لو
کی پالیسی چل رہی ہے جس کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔
عوام اس وقت مہنگی بجلی، گیس، اور روزانہ تبدیل ہوتی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز کے نام پر بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں جو اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے اس نے ہر گھر میں لڑائی ڈال رکھی ہے ۔ کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں ۔
عوام خودکشیوں پر مجبور ۔
تو کہیں چوکوں چوراہوں پر اپنے معصوم بچوں کو فروخت کے لیے موجود نظر آتے ہیں ۔
اس سڑاند زدہ نظام کے خلاف کل تک صرف جماعت اسلامی آواز بلند کررہی تھی
مگر
اب یہ بحث سرکار کے ایوانوں سے بھی آنا شروع ہو چکی ہے ۔
نظام کو چلانے والے خود اس سے تنگ نظر آ رہے ہیں ۔
ایسے میں
ایک چنگاری بھی سارے گلستاں کو جلا کر راکھ بنا سکتی ہے ۔
ایسے حالات میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے گزشتہ برس مینار پاکستان لاہور کے سائے میں نظام بدلنے کا جو نعرہ لگایا تھا اب وہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے دو سال قبل راولپنڈی میں 14 روزہ دھرنے میں جس حکمت کے ساتھ حکومت کو آئی پی پیز سے چھٹکارا پانے کی ترتیب بتائی تھی اور آج وہ اس انارکی کے خاتمے اور صنعتوں کا پہیہ چلانے کے لیے جو روڈ میپ دے رہے ہیں حکمرانوں کو چاہیے کہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر دو سال کیلئے کر دیں تو
جہاں عوام کے غیض سے بچ سکیں گے وہیں پر ملک میں معاشی استحکام بھی آئے گا ۔
بصورت دیگر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر ملک بھر کے عوام تمام جبر اور خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 7 اگست کو ملک بھر کی سڑکیں بند کرنے نکل پڑیں گے ۔
اور جب یہ عوامی سیلاب سڑکوں پر نکل آیا تو اسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی ۔
محمد آصف چوہدری