22/05/2026
آپ کو دو قسم کے لوگ ملیں گے۔ ایک وہ جو صبح سے شام تک بھاگ رہے ہیں۔ اور دوسرے وہ… جو پورا دن بستر، موبائل اور خیالوں کے درمیان دفن رہتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسرا شخص زیادہ تھکا ہوا ہوتا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ جسم کا تھکنا آسان ہے… دماغ کا تھک جانا خطرناک ہوتا ہے۔
کل میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔
اچھا گھر۔ اچھی شکل۔ اچھے کپڑے۔ جیب میں مہنگا فون۔ مگر آنکھوں میں عجیب سی شکست۔
وہ بولا، “سر! دل نہیں لگتا کہیں بھی۔”
میں نے پوچھا، “دن میں کرتے کیا ہو؟”
وہ ہنس پڑا۔
اور بعض اوقات انسان کی ہنسی اس کے زخم کی سب سے خطرناک آواز ہوتی ہے۔
وہ بولا، “بس… وقت گزر جاتا ہے۔”
یاد رکھیے۔
وقت کبھی نہیں گزرتا… انسان گزر جاتا ہے۔
پھر اس نے مجھے اپنا معمول بتایا۔
رات تین بجے تک موبائل۔ صبح دیر سے آنکھ کھلنا۔ پھر یوٹیوب۔ پھر ریلز۔ پھر دوسروں کی زندگیاں دیکھنا۔ پھر اپنی قسمت کو کوسنا۔ پھر anxiety۔ پھر stress۔ پھر guilt۔
میں خاموش ہوگیا۔
کیونکہ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ یہ لڑکا بے روزگار نہیں… بے مقصد ہوگیا ہے۔
اور انسان جب مقصد کھو دیتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ خود کو کھونے لگتا ہے۔
ذرا غور کیجیے۔
قدیم زمانے کا انسان زیادہ غریب تھا مگر کم پریشان تھا۔ آج کا انسان زیادہ سہولتوں میں ہے مگر زیادہ بے سکون ہے۔
آخر کیوں؟
کیونکہ پہلے انسان تھکتا زیادہ تھا… سوچتا کم تھا۔
آج انسان چلتا کم ہے… سوچتا زیادہ ہے۔
اور خالی دماغ سوچتا نہیں… خود کو کھاتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا۔
جو لوگ پورا دن فارغ ہوتے ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کسی نے سین کر کے جواب نہ دیا، موڈ خراب۔ کسی دوست نے نئی گاڑی لے لی، دل بجھ گیا۔ کسی influencer کی ویڈیو دیکھی، اپنی زندگی فضول لگنے لگی۔
یہ سب کیوں ہوتا ہے؟
کیونکہ موازنہ ہمیشہ خالی انسان کرتا ہے۔
مصروف انسان کے پاس دوسروں کو دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔
ایک مزدور کو دیکھیے۔
وہ شام کو پسینے میں بھیگا گھر لوٹتا ہے۔ جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ مگر وہ اکثر اُس نوجوان سے زیادہ پُرسکون ہوتا ہے جو پورا دن اے سی والے کمرے میں بیٹھا رہا۔
وجہ بہت سادہ ہے۔
مزدور نے دن بھر اپنے وجود کو استعمال کیا ہوتا ہے۔
اور جو چیز استعمال نہ ہو… وہ زنگ کھانا شروع ہوجاتی ہے۔
یہی قانون انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پھر ایک اور حقیقت سنیے۔
انسان کو سب سے زیادہ stress کام نہیں دیتا… بے کار رہنا دیتا ہے۔
کام انسان کو تھکاتا ہے۔
بے مقصدی انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے۔
اسی لیے دنیا کے بڑے ماہرین کہتے ہیں کہ depression اکثر sadness سے نہیں… meaninglessness سے پیدا ہوتا ہے۔
اور meaning کہاں سے آتا ہے؟
ذمہ داری سے۔
حرکت سے۔
سیکھنے سے۔
کسی مقصد کے لیے جاگنے سے۔
ورنہ موبائل کا مسلسل اسکرول انسان کے ذہن کو ایسے چاٹتا ہے جیسے دیمک لکڑی کو چاٹتی ہے۔ باہر سے سب ٹھیک لگتا ہے… اندر سے انسان کھوکھلا ہوچکا ہوتا ہے۔
پھر ایک دن وہ خود سے پوچھتا ہے، “میرے اندر خوشی کیوں نہیں بچی؟”
اور جواب بہت خاموشی سے آتا ہے…
“کیونکہ تم نے اپنی زندگی جینا چھوڑ کر دوسروں کی زندگی دیکھنا شروع کردی تھی۔”
ذرا اپنے بچپن کو یاد کیجیے۔
ہم کم رکھتے تھے مگر زیادہ ہنستے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم حرکت میں تھے۔ کھیلتے تھے۔ بھاگتے تھے۔ گرتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ زندگی اسکرین کے اندر نہیں تھی۔
آج پوری دنیا جیب میں آگئی ہے… مگر سکون دل سے نکل گیا ہے۔
لہٰذا اگر آپ واقعی stress کم کرنا چاہتے ہیں تو صرف آرام نہ کیجیے… اپنے آپ کو استعمال کیجیے۔
کچھ سیکھیے۔
کچھ بنائیے۔
کچھ کیجیے۔
کیونکہ بند کمرے میں رکھا ہوا پانی بھی چند دن بعد بدبو دینے لگتا ہے… اور بند پڑا ہوا انسان بھی۔