M Ishaq Gurmani ASi Panjab police

M Ishaq Gurmani ASi Panjab police Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Ishaq Gurmani ASi Panjab police, Social service, Roshan town kot addu, Kot Addu.

یہ کوئی سفارت خانہ یا کوئی سفارتی دفتر نہیں ہے بلکہ یہ جنوبی پنجاب کا گھوٹا سینٹر ہے🤩
03/04/2026

یہ کوئی سفارت خانہ یا کوئی سفارتی دفتر نہیں ہے بلکہ یہ جنوبی پنجاب کا گھوٹا سینٹر ہے🤩

02/04/2026

مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ

کچھ بچے اس قدر خوبصورت ہوتے ہیں کہ ان کی ماں کو دیکھنے کا دل کرتا ہے

25/09/2025
04/11/2024

گرگٹ کے نئے نئے رنگ

محمد بلال غوری

میں کچھ دنوں سے شدید نوعیت کی کنفیوژن کا شکار ہوں۔ قیدی نمبر 804 فرمایا کرتے تھے کہ نواز شریف ہوں یا شہباز شریف، یہ کٹھ پتلیا ںہیں، انکی کوئی حیثیت نہیں۔ موجودہ حکومت یا سیاسی قیادت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، بات چیت صرف آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ہوگی۔ مگر انکے جانثار شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نوازشریف چاہیں گے، عمران خان تب رہا ہونگے۔ ایک ٹی وی چینل کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے فرمایا کہ پاکستان کا سسٹم آج بھی نوازشریف کے تابع ہے اگر عمران خان نوازشریف سے معافی مانگ لیں تو رہا ہو جائینگے۔ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی ہے تو پھر موجودہ نظام کی کنجی ان کے پاس ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اور سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کرنے کا فیصلہ اور اختیار نواز شریف کے پاس ہے تو پھر نونہالان انقلاب ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کی دعائیں کیوں کر رہے ہیں؟ حالانکہ پاکستانی نژاد امریکی ساجد تارڑ جو ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت قریب سمجھتے جاتے ہیں، وہ واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان ٹرمپ کی پھپھی کا پتر ہے کہ وہ حکومت میں آکر اسے رہا کروائیں گے۔یادش بخیر، مہاتما ایک سے زائد مواقع پر فرما چکے ہیں کہ میرا قصور ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہنا ہے، میں حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ گیا اسلئے میری حکومت گرادی گئی۔ طفلان انقلاب نے ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ ڈالے اور امریکی سازش یعنی رجیم چینج آپریشن کیخلاف بطور احتجاج ’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ جیسے سیاسی نعروں کے ذریعے سماں باندھ دیا۔ لیکن اب تازہ خبر آئی ہے، ڈونلڈ لو سے لڑائی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارا بھائی ہے۔ تحریک انصاف خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے ذریعے بانی تحریک انصاف کا یہ مطالبہ سامنے آیا کہ پاکستان کے عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف امریکہ آواز اُٹھائے۔ اور پھر امریکی ایوان نمائندگان نے باقاعدہ قرارداد منظور کی کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران دھاندلی کے الزامات کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ اتنی جلدی تو راجہ داہر کی قید میں موجود خواتین قیدیوں کی پکار پر محمد بن قاسم نے لبیک نہیں کہا تھا جتنی سرعت سے امریکی حکام نے عمران خان کی دادرسی کا اہتمام کیا۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ امریکی میڈیا نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں مضامین شائع کئے، ان کیلئے بھرپور مہم چلائی اور پھر 60ارکان کانگریس نے قیدی نمبر 804 کو رہا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ایک بار تو مجھے لگا شاید امریکہ میںنقش کہن مٹ گیا ہے، انتظامیہ بدل گئی ہے، جوبائیڈن اور ڈونلڈ لو کا دھڑن تختہ ہوگیا ہے اور نیا امریکہ وجود میں آچکا ہے اسلئے سابقہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے اپنے لاڈلے اتحادی کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر تادم تحریر سب کچھ جوں کا توں ہے۔ البتہ طفلان انقلاب نے ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی اُمیدوں اور توقعات کا مرکز بنالیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تو وہ عمران خان کو رہاکروائیں گے ۔ امریکہ کے اثر و رسوخ اور دبائوکے ذریعے پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بحال ہوجائے گی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ امریکی حکام نے مطلق العنان حکمرانوں کی سرپرستی کی اور جب یہ بھید کھل گیا کہ وہ امریکہ کے پروردہ ہیں ،لوگ ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اورتختہ اُلٹ دیا گیا تو پھر امریکہ نے انہیں سیاسی پناہ فراہم کی اور عوام کے اشتعال سے بچالیا۔مگر یہاںتو اس کے برعکس معاملہ ہوا ۔باقاعدہ سائفر لہرا کر یا پھر ایک سادہ کاغذ کو سائفر قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ امریکہ نے لکھ کر دھمکی دی ہے ۔عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کروانے کے بجائے اسے عالمی سازش کہہ کر مسترد کردیا گیا۔حکومت ختم ہوجانے کے بعد ایک عرصہ تک یہ منجن بیچا جاتا رہا کہ امریکہ نے غلامی قبول نہ کرنے کی سزا دی ہے اور صاف انکار کرنے والے وزیراعظم کو ہٹا کر اپنے کارندوں کو مسلط کردیا ہے ۔امریکہ سے مدد کی توقع کرنے کی تو ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ نہ صرف غیر ملکی سازش کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی تھا بلکہ سچ یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے سرخیل جناب عمران خان درحقیقت امریکی گماشتے ہیں اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرح انہوں نے ایسی خدمات سرانجام دی ہیں جن کے عوض ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوجانے کی صورت میں ان کی مدد کرنا فرض ہے ۔میں کسی بھی پاکستانی کی حب الوطنی پر سوال اُٹھانے کا قائل نہیں اور نہ ہی اس قسم کے الزامات کی طرف مائل ہوں مگر کپتان کے چاہنے والے جس طرح کے خواب دیکھ رہے ہیں اگر وہ حقیقت پر مبنی ہیں تو ان کی تعبیر یہی ہوسکتی ہے۔ویسے تحریک ا نصاف کے بانی رہا ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں امریکہ سے ہاتھ ملانا پڑا توخاطرجمع رکھئے ،وہ پاک امریکہ تعلقات کی ایسی فضیلت بیان کریں گے کہ ان کے پیروکار واشنگٹن اور نیو یارک کو مکہ اور مدینہ سمجھنے لگ پڑیں گے۔زمانہ طالب علمی میں معلوم ہوا کہ گرگٹ نامی رینگنے والا جانور موقع کی مناسبت اور حالات کے پیش نظر رنگ بدل لیتا ہے تاکہ وہ اردگرد کے ماحول سے ہم آہنگ ہو جائے اور کسی کی نظروں میں نہ آسکے۔طویل عرصہ یہ جاننے کی جستجو کی جاتی رہی کہ آخر گرگٹ اتنی جلدی رنگ کیسے بدل لیتا ہے۔آخر کار سوئٹرز لینڈ کے سائنسدان یہ معمہ حل کرنے میں کامیاب رہے اور معلوم ہوا کہ گرگٹ اپنی جلد کے اندر مخصوص خلیوں میں موجود رنگوں کے کرسٹلز کی ترتیب اوپر نیچے کرکے رنگ بدلتا ہے۔ایک عرصہ یہ حسرت رہی کہ کسی گرگٹ کو رنگ بدلتے دیکھا جائے مگر کم بخت گرگٹ کبھی نظر ہی نہیں آیا۔پھر خیال آیا کہ شاید رنگ بدلنے کی قدرت کے باعث یہ مخلوق دکھائی نہیں دیتی۔میں نے گرگٹ تو نہیں دیکھا لیکن عمران خان اور ان کے پیروکاروں کو تیزی سے رنگ اور آہنگ بدلتے کئی بار دیکھا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ اگر گرگٹ کو معلوم ہو جائے کہ کتنے بڑے گرو کا ظہور ہوچکا ہے تو وہ بھی مہاتما کو اپنا مرشد مان لے۔

03/11/2024

کبھی اللہ میاں پوچھیں گے تو ہم بتائیں گے

کسی کو کیا بتائیں ہم عبادت کیوں نہیں کرتے

30/10/2024

پاکستان میں *ڈاکٹر حضرات کلینک* پر ھُوَ الشَّافِی۔ ہیڈ ماسٹر *سکول کی دیوار پر* رَبِ زِدنِی عِلمًا۔ *دکاندار حضرات* وَاللّٰہُ خَیرُ الرَّازِقِین۔ *دودھ والا* مَن غَشَّ فَلَیسَ مِنَّا۔ *ڈرائیور حضرات اللہ* نگہبان۔ *تھانے کا ایس ایچ او* اَلرَّاشِی وَالمُرتَشِی کِلٰاھُمَا فِی النَّار۔ *عدالت کا جج* اِعدِلُو ھُوَ اَقرَبُ لِلتَّقویٰ۔ *سیاست دان* پارلیمنٹ میں اِنَّ لحُکمُ اِلَّا الِلّٰہ۔ جیسے الفاظ لکھوا کر دھڑلے سے بے ایمانی کرتے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کیوں ہے ؟

30/10/2024

ہمیں ایک میگنا کارٹا کی ضرورت ہے
یاسر پیر زادہ
30 اکتوبر ،
بحث بہت پرانی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں تو اب یہ گفتگو ہی نہیں ہوتی لیکن ہمارے ہاں ہر تھوڑے عرصے بعد اِس کا غلغلہ ضرور اٹھتا ہے، تعجب اِس بات پہ نہیں کہ یہ بحث کیوں ہوتی ہے حیرانی اِس بات پر ہوتی ہے کہ بہت ہی پڑھے لکھے، قابل اور سمجھدار لوگ، جو پاکستان کے دیگر مسائل پربغیر کسی لگی لپٹی کے درست موقف رکھتے ہیں، اِس معاملے میں پٹری سے اتر جاتے ہیں اور یوں گفتگو کرنے لگتے ہیں کہ اُن میں اور ڈونلڈ ٹرمپ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نمونے کے طور پر ملاحظہ ہو ایک ٹویٹ: ’’میری نہایت دیانتدارانہ اور سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے کیونکہ عوام و خواص میں سے کوئی بھی اس پر یقین نہیں رکھتا یا کم از کم جمہوری اصولوں اور طریقوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں جو زیادہ تر مغرب سے درآمد شدہ ہیں۔ پاکستان کے مسائل گمبھیر اور پیچیدہ ہیں، پاکستان کے سیاستدان نہ اِن مسائل کو حل کرنے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی اُن میں اِس کی صلاحیت ہے۔ دراصل ہمیں ماہرین کی حکومت کی ضرورت ہے، انڈونیشیا 1966 میں یہ تجربہ کرچکا ہے، اُس نے تیس سال سے زائد عرصے تک یہ نظام چلانے کے بعد جمہوریت کی حتمی واپسی کی راہ ہموار کی۔ لوگ اپنی مرضی کے مطابق نعرے تو لگا سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اڑتالیس مسلم اکثریتی ممالک میں سے صرف تین میں جمہوریت کی کچھ نہ کچھ شکل موجود ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کی ناکامی کی ٹھوس وجوہات ہیں جن کا ہمیں سامنا کرنا چاہیے نہ کہ کبوترکی طرح آنکھیں بند کرلینی چاہئیں۔‘‘
جن صاحب نے یہ ٹویٹ کی ہے وہ صاحبِ نظر ہیں اور ہر معاشی اور سماجی مسئلے پر دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں جسے رد کرنا عموماً مشکل ہوتا ہے، توانائی کا بحران ہو یا مرکزی بینک کا شرح سود گھٹانے کا معاملہ، برآمدات بڑھانے کا گھن چکر ہو یا اشرافیہ کو دی جانے والی سبسڈی، ہر مسئلے پر اُن کی رائے مدلل ہوتی ہے جو وہ ناقابل تردید اعدادو شمارکے ساتھ بیان کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُن سے اختلاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم اِس جمہوریت والے معاملے میں اُنہوں نے وہی بنیادی غلطی کر دی جو ہمارے اکثر دانشور خواتین و حضرات کرتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے خلاف یہ دلیل کوئی نئی نہیں ہے، البتہ اِس دلیل میں ایک مفروضہ پوشیدہ ہے اور وہ مفروضہ یہ ہے کہ میں چونکہ ایک معزز اور تعلیم یافتہ آدمی ہوں، انگریزی میں ٹویٹ کر سکتا ہوں، میرے پاس ڈگریاں ہیں اور بین الاقوامی اداروں میں کام کرنے کا تجربہ، اِس لیے جب میں جمہوریت میں اپنا ووٹ کسی کو دوں گا تو وہ بہت سوچ سمجھ کر محض ملکی مفاد کے تابع دوں گا البتہ وہی ووٹ اگر کوئی تانگے والا، فٹ پاتھ پرپیدا ہونے والا، ان پڑھ، غریب اور ناخواندہ شخص دے گا تو ظاہر ہے کہ اُس میں وہ بات کہاں ہوگی مولوی مدن کی سی، اِس لیے وہ اپنا ووٹ ضائع کر دے گا، پس ثابت ہوا کہ پاکستان میں جمہوریت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ اگر ملک چند برسوں کیلئے (کم از کم دس سال) اہلِ نظر اور صاحب علم لوگوں کے ایک نیک نیت گروہ کے حوالے کر دیا جائے جو پوری جانفشانی اور تندہی سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا روڈ میپ بنائیں اور پھر اُس پر عمل کرکے ملک کو اِس گرداب سے نکالیں، تو اُس کے بعد ہم غریب غربا اور کمی کمین لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر جمہوریت کے ’ثمرات‘ بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔
اِن دونوں مفروضوں میں جان نہیں ہے۔ برطانیہ میں 1215ء میں میگنا کارٹا پر دستخط کیے گئے تھے، اُس وقت کے برطانیہ کی شرح خواندگی کے درست اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 1215ء کے برطانیہ میں خواندگی کی شرح آج کے پاکستان سے بہرحال کم تھی، وہ برطانیہ اُسی طرح ملاؤں اور اشرافیہ کے چُنگل میں تھا جس طرح آج کا پاکستان ہے، یا شاید اِس سے بھی بدترحالت میں۔ اگر اُس وقت بھی برطانیہ کے دانشوروں کے مشوروں پر عمل کیا جاتا تو نہ میگنا کارٹا پر دستخط ہوتے اور نہ برطانیہ دنیا کی بہترین جمہوریت بننے کا دعویٰ دار ہوتا۔ پاکستان میں جمہوریت اِس لیے ناکام نہیں ہوئی کہ یہاں ان پڑھ اور گنوار لوگوں نے اپنے ووٹ کا درست استعمال نہیں کیا یا جمہوریت اُن کے خمیر میں نہیں، بلکہ یہاں جمہوریت اِس وجہ سے نہیں پنپ سکی کہ 1958ء، 1971ء، 1979ء اور 1999ء اور اُس کے بعد تک جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ یہ برابر میں ہندوستان نامی ملک ہے، 77برس پہلے ہم اُس کا حصہ تھے، وہاں جمہوریت چل رہی ہے،حالانکہ اُن کی اسمبلیوں میں ہم سے کہیں زیادہ نالائق اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ارکان منتخب ہو کربیٹھے ہیں ، مگر اِس کے باوجود جمہوریت نتائج دے رہی ہے، اور ہم یہاں کہتے ہیں کہ یہ نظام ہمارے لیے نہیں بنا، چہ خوب! دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ’پروفیشنل حضرات‘ کی کابینہ والا تجربہ بھی ہوچکا ہے، اور یہ تجربہ ڈکٹیٹرز کی زیر نگرانی کئی برسوں تک کیا گیا مگر نتیجہ صفر بٹا صفر۔ ایک سے ایک پڑھا لکھا وزیر ہوتا تھا آمروں کی کابینہ میں جو یہ مشورے دیا کرتا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کیسے لگانی ہے اور عوام کے بنیادی حقوق کیسے سلب کرنے ہیں!
دراصل یہ مسئلہ اب جمہوریت، بادشاہت، خیر اندیش آمر اور ہائبرڈ نظام کی بحث سے آگے نکل چکا ہے۔ دنیا میں بادشاہتیں بھی ہیں جو کامیابی سے چل رہی ہیں، یہ اور بات ہے کہ اگر اِس کامیابی میں سے تیل اور امپورٹ کیے ہوئے غلام نکال دیں تو باقی فقط صحرا ہی بچتا ہے، اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں ڈکٹیٹر شپ بھی فراٹے بھر رہی ہے، اور مغربی ممالک تو خیر اپنی جمہوریت کے بل بوتے پر ہی دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں، مگر مسئلہ ہمارا ہے کہ یہاں کوئی بھی نظام جڑ نہیں پکڑ سکا اور اِس کی بنیادی وجہ یہ خادم کئی مرتبہ بیان کر چکا ہے کہ آپ کتنی ہی مکمل دستاویز کیوں نہ بنا لیں اور حکمرانوں کے حلف نامے کتنے ہی جامع کیوں نہ کر دیں ، جب تک لوگوں کے دلوں میں آئین اور جمہوریت کا تقدس پیدا نہیں ہوگا اُس وقت تک یہ حلف نامے، میثاق اور دستاویزات بیکار رہیں گی۔ اور اگر لوگوں کے دلوں میں آئین کی حرمت ہوگی تو پھر چاہے زبانی قانون کیوں نہ جاری کردیں، لوگ اُس پر عمل کریں گے، یہی میگنا کارٹا تھا۔ لہٰذا ہمیں ایک میگنا کارٹا کی ضرورت ہے، جمہوریت کے خلاف ٹویٹ کی نہیں

25/10/2024

آئین کے بنیادی ڈھانچے کی منطق

محمد بلال غوری

جب بھی پاکستان میں کوئی آئینی ترمیم ہوتی ہے تو عدلیہ اور فوج کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنے والے آئین کے ’’بنیادی ڈھانچے‘‘ کی جگالی کرتے ہوئے یہ نرالی منطق پیش کرتے نظر آتے ہیںکہ یہ آئین سازی بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے، لہٰذا عدالتیں مداخلت کر کے اسے کالعدم قرار دیں۔ بھارت میں کیساوندا بھارتی برخلاف ریاست کیرالہ مقدمہ میں یہ تاویل پیش کی گئی جبکہ پاکستان میں عاصمہ جیلانی برخلاف حکومت پنجاب کیس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کی اختراع سامنے آئی اور کہا گیا کہ قرارداد مقاصد پاکستان کے دستور کی اساس ہے۔ بعد ازاں آٹھویں ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں سمیت کئی آئینی مقدمات میں یہ استدلال اختیار کیا گیا۔ ماضی قریب میں جب راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کی طرف سے 18ویں اور 21ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو 17میں سے 13جج صاحبان نے قرار دیا کہ اگر کسی آئینی ترمیم میں دستور کے بنیادی خدوخال جیسا کہ جمہوریت ،پارلیمانی طرز حکومت یا پھر عدلیہ کی آزادی کے خلاف قانون سازی کی گئی تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک بنچ نے نیب قوانین میں ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رُکنی بنچ نے اس فیصلے کو اٹھا کر تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان پارلیمنٹ کے چوکیدار نہیں ہیں۔ لیکن بعض لوگ عدلیہ کو پارلیمنٹ کا دربان بنانے پر مصر ہیں اور ان کے پاس دلیل یہی ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔
کیا کوئی ماہر قانون اس طالب علم کی رہنمائی کر سکتا ہے کہ آئین کی کس شق میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ بنیادی حقوق کا باب اور شخصی آزادیوں سے متعلق حصے کو بنیادی ڈھانچے کی حیثیت حاصل ہے؟کیا پاکستان کے دستور میں کہیں یہ قدغن لگائی گئی ہے کہ پارلیمنٹ ان معاملات پر آئین سازی نہیں کر سکتی؟ مجھے تعجب ہوتا ہے جب نامور وکیل اور ماہرین آئین و قانون دستور کے آرٹیکل 239کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 239کی ذیلی شق پانچ میں بہت واضح اور غیر مبہم انداز میں لکھا ہوا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو کسی بھی بنیاد پر کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ میں انگریزی الفاظ بھی یہاں نقل کردیتا ہوں تاکہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔’’no amendment of the constitution shall be called in question in any court on any ground whatsoever‘‘
اسی آرٹیکل کی ذیلی شق چھ میں واضح کیا گیا ہے کہ آئین سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اختیارات لامحدود ہیں، کوئی سدرۃ المنتہٰی نہیں، کسی قسم کی کوئی روک ٹوک اور قدغن نہیں۔ انگریزی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے ’’for the removal of doubt, it is hereby declared that there is no limitation whatever on the power of the majlis-e-shoora (parliament) to amend any of the provisions of the constitution.‘‘یعنی شکوک و شبہات رفع کرنے کیلئے واضح کیا جاتا ہے کہ دستور کی کسی بھی شق میں ترمیم کرنے کیلئے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کے اختیارات کی کوئی حد نہیں۔ ’’دستور کی کسی بھی شق‘‘کے بعد کیا بنیادی آئینی ڈھانچے کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے۔ آئین سازوں نے اپنی غرض و غایت بہت واضح ،سادہ اور آسان الفاظ میں بیان کر دی ہے۔ اس کے بعد کسی آئینی بنچ ،ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کی طرف سے تشریح و تعبیر بیان کرنے کی حاجت بھی باقی نہیں رہتی ۔اگر جج صاحبان منصف کے منصب پر ہی براجمان رہیں، خود کو مسیحا اور نجات دہندہ نہ سمجھنے لگ پڑیں،جرنیلوں کی طرح سیاست کرنے کے مرض لادوا میں مبتلا نہ ہوں تو آئینی ترمیم کے خلاف دائر ہونے والی درخواستیں رجسٹرار آفس سے ہی بھاری جرمانہ عائد کرکے خارج کردی جائیں ۔مگر یہ عالی مرتبت جج صاحبان متفق علیہ معاملات پر ایسی گوہر افشانیاں کرتے ہیں کہ مجھ ایسے طالب علم حیران رہ جاتے ہیں۔ کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں عوام سے مینڈیٹ لیکر آئین سازی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی سیاسی جماعت پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانا چاہتی ہے ،کسی کو شریعت نافذ کرنے کا شوق ہے، کوئی لبرل اِزم، سیکولر اِزم یا کسی بھی اور اِزم کا دعویدار ہے تو وہ انتخابی مہم کے دوران اس ایجنڈے کو اپنے منشور کا حصہ بنائے،اگر اسے دوتہائی اکثریت حاصل ہوجائے تو پارلیمنٹ میںآئینی ترمیم لا کر اپنی مرضی کا نظام نافذ کرلے ،کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔تو کیا کسی آئینی ترمیم کو کسی بنیاد پر کسی عدالت کے روبرو چیلنج نہیں کیا جا سکتا؟ ہرگز نہیں۔ میری دانست میں صرف ایک صورت میں ایسا ممکن ہے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکے اور وہ ہے طے شدہ طریقہ کار میںگڑ بڑ۔ ایک سیاسی جماعت نے یہ کہہ کر ووٹ لئے کہ ہم قومی احتساب بیورو کو مضبوط بنائیں گے، لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے مگر وہ اقتدار میں آکراس کے برخلاف قانون سازی کرتی ہے اور احتساب کرنے والے اداروں کو یکسر ختم کر دیا جاتا ہے تو اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ جب عدم اعتماد کی قرار داد آجائے تو اس پر ووٹنگ ہو گی لیکن ووٹنگ کروائے بغیر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا جاتا ہے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ ایوان میں 39ارکان والی پارٹی جیت جاتی ہے اور 66ارکان والی جماعت کو ہرا دیا جاتا ہے تو انصاف کی دہائی دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی آئینی ترمیم کے دوران یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مطلوبہ اکثریت میسر نہیں تھی یا پھر ارکان پارلیمنٹ سے دھونس، دھاندلی اور جبر کی بنیاد پر زبردستی ووٹ ڈلوائے گئے ہیں تو ایسی صورت میں بھی عدالت کا دائرہ اختیار بنتا ہے مگر یہ بنیادی آئینی ڈھانچے والا ڈھکوسلہ اب بہت پرانا ہو چکا ہے۔ لہٰذا کسی نے 26ویں آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہے تو کم ازکم استدلال اور منطق ہی بدل لی جائے

24/10/2024

۔
۔
عدالت میں ہر کیس میںں فریقین میں سے ایک فریق ظالم اور دوسرا مظلوم ہوتا ہے۔ لیکن دونوں فریق اور دونوں فریقین کے تمام گواہ کلمہ پڑھ کر سچ بولنے کا حلف دیتےہیں
جھوٹ بولنے والوں کے ماتھے پر جھوٹ بولتے وقت ایک شکن تک نہیں ہوتی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عظیم مملکت پاکستان کے مسلمان اپنی ذاتی اور عملی زندگی میں کتنے ایماندار ہیں ۔
۔
۔

23/10/2024

پدرسری سوچ کی ادب کے ذریعے ترویج کرنے والی بانو قدسیہ فرماتی ہیں کہ 'جب گیزر آ گیا اور بیوی نے شوہر کے لیے پانی کی بالٹی گرم کر کے باتھ روم میں نہیں رکھی تو یہاں ایک رابطہ ٹُوٹ گیا'۔۔۔
حالانکہ دیکھا جائے تو گیزر کی سہولت سے تو شوہر اور بیوی بیک وقت گرم پانی سے ساتھ نہا کر 'رابطہ' بھی مضبوط کر سکتے ہیں اور پانی کی بچت بھی۔۔۔
ہے کہ نہیں؟؟ 🤪😆

بشکریہ انعم قریشی

03/10/2024

آپ کیا چاہتے ہیں کہ اب نفس پر قابو بھی نہ رکھیں؟ ہیں؟🥰🤫🤭🤣

02/10/2024

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں؟

محمد بلال غوری

یوں تو وطن عزیز میں چار سو جبر و استبداد کا ماحول ہے مگر خدائی فوجداروں کے ظلم سے خدا ہی بچائے۔ جب کبھی کسی شخص پر کوئی الزام لگتا ہے تو مقدمہ یعنی فرسٹ انویسٹی گیشن رپورٹ درج ہوتی ہے۔متعلقہ حکام معاملے کی جانچ پڑتال کے بعد عدالت میں چالان پیش کرتے ہیں، گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی جاتی ہیں، وکلا کے دلائل سننے اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جج صاحب فیصلہ سناتے ہیں۔ اس فیصلے کیخلاف اپیل کا حق ہوتا ہے لیکن اگر کسی بدقسمت شخص پر توہین مذہب کا الزام لگ جائے تو سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی، معاملہ کچہری تک نہیں پہنچتا، مشتعل ہجوم عدالت لگاتا ہے اور ملزم کو دردناک موت کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ سوات میں ایک بے گناہ شخص کو زندہ جلا دیئے جانے کے بعد’’روزنامہ جنگ‘‘میں رفیق مانگٹ کی ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد اس طرح کے واقعات میں 103افراد ہجوم کے ہاتھوں قتل کئے جا چکے ہیں۔ قابل ذکر بات مگر یہ تھی کہ 1947ء سے 1991ء تک صرف تین افراد ہجوم کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے مگر 1992ء سے 2024ء تک 100افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کوئٹہ میں عبد العلی نامی ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہوئی جسکے بعد تھانہ خروٹ آباد میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ملزم گرفتار ہوا مگر اہل ایمان نے دھاوا بول دیا ۔ان کا اصرار تھا کہ یہ مقدمہ ہجوم کی عدالت میں پیش کردیا جائے۔خدشات کے پیش نظر ملزم کو حفاظت کے پیش نظر کوئٹہ کینٹ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ۔وہاں ایک پولیس اہلکار نے حوالات میں ملزم کو قتل کردیا تو اسے ہیرو بنا دیا گیا ۔اسی طرح کا ایک واقعہ سندھ میں پیش آیا جہاں ڈاکٹر شاہ نواز کو پولیس نے نہایت بے دردی سے قتل کر دیا ۔اس کی لاش چھین کر جلا دی گئی۔بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس معاملے کا آغاز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کی گئی ایک پوسٹ سے شروع ہوا۔ڈاکٹر شاہ نواز نے وضاحتی ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اب وہ یہ اکائونٹ استعمال نہیں کرتے ان کا اس پوسٹ سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اس ویڈیو کے ذریعے انہیں تلاش کرکے گرفتار کیا گیا اور پھر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔یہاں بھی ستم بالائے ستم یہی ہوا کہ وہ پولیس اہلکار جن کا کام ملزم کی حفاظت کرنا اور اسے دفاع کا حق فراہم کرنا تھا انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی کے بجائے قانون ہاتھ میں لیکر ڈاکٹر شاہ نواز کو قتل کردیا اور اس گھنائونے جرم کے ارتکاب پر انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے ۔ہیرو کی طرح پذیرائی دی گئی۔آپ کو جنید حفیظ یاد ہے ؟ راجن پور سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ نے پری میڈیکل میں ٹاپ کیا اور کنگ ایڈروڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ لیکن ایم بی بی ایس کے پہلے ہی سال کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ یہاں اپنا وقت ضائع کررہے ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ادب کی طرف مائل ہے۔ چنانچہ میڈیکل کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اس پرکشش مستقبل کو خدا حافظ کہہ دیا جس کا خواب ہر بچہ دیکھتا ہے۔جنید حفیظ نے بہائو الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ ادب میں داخلہ لے لیا اور پھر فل برائٹ اسکالرشپ پر امریکہ کا رخ کرلیا ۔حصول علم کے بعد ملتان کی اسی مادر علمی میں بطور لیکچرر ملازمت اختیار کرلی۔2013میں جنید حفیظ پر توہین مذہب کا الزام لگا ۔الزام یہ تھا کہ جنید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک پیج بنایا جس پر’’ملا منافق‘‘نام کی آئی ڈی سے کوئی نازیبا کمنٹ کیا گیا۔الزام یہ نہیں تھا کہ توہین پر مبنی پوسٹ جنید حفیظ نے کی بلکہ خدائی فوجدار اس بات پر سیخ پا ہوگئے کہ جنید حفیظ نے اس کمنٹ کو ڈیلیٹ نہیں کیا بلکہ اسے لائیک کیا۔بہر حال پولیس ملزم کو بپھرے ہوئے منتشر ہجوم کے غیظ و غضب سے بچانے میں تو کامیاب رہی مگر ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ اب اسے مجرم قرار دیکر قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔پہلے تو بدقسمت ملزم کو کوئی وکیل میسر نہیں آرہا تھا کہ شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا تھا۔آخر کار راشد رحمان ایڈووکیٹ نے یہ بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی۔مقدمہ کی سماعت کے دوران ہی وکیل کو جج کی موجودگی میں دھمکی دی گئی کہ آپ اگلی سماعت کے موقع پر پیش نہیں ہو سکیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ایک ماہ بعد راشد رحمان کو قتل کردیا گیا۔جج صاحب بھی شدید دبائو کا شکار تھے ۔مقدمہ کی سماعت کے دوران چھ جج تبدیل ہوئے آخر کار 2019میں جنید حفیظ کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی مگر ابھی تک یہ مقدمہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوسکا۔جنید حفیظ کے بوڑھے والد بیٹے سے ملاقات کیلئے جیل جاتے ہیں تو ملاقات نہیں ہوپاتی۔قید تنہائی کی اذیت جھیلتا ،ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتا جنید کسی کال کوٹھڑی میں سانس لے رہا ہے بس یہ اطلاع مل جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اپنے بیان کی وضاحت،اس سے رجوع کرنے یا معافی تلافی کا حق محض مفتیان کرام اور مشائخ عظام کو حاصل ہے؟ کیا کسی عام آدمی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا؟ کسی شخص کا جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو ، اسے دفاع کا حق نہیں ملنا چاہئے ؟ مذہب کی کند چھری سے بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جارہا ہےاور علمائے کرام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ کیا روز قیامت ان سے بازپرس نہیں ہوگی ؟زبانوں پہ آبلے کیوں پڑ گئے؟بولتے کیوں نہیں،یک زبان ہوکر برملا یہ کیوں نہیں کہتے کہ کسی ملزم کو صفائی کا موقع دیئے بغیر قتل کردینے والے بدترین گستاخ ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؟

Address

Roshan Town Kot Addu
Kot Addu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Ishaq Gurmani ASi Panjab police posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to M Ishaq Gurmani ASi Panjab police:

Share

Category