Pakistan Peoples Party District Kot Addu

Pakistan Peoples Party District Kot Addu انشاءاللّٰہ ایم این اے بانی ضلع کوٹ ادو
سردار اشرف خان رند (رہنما پاکستان پیپلز پارٹی)

18/05/2026

Welcome To Kot Addu
SDPO Circle Kot Addu
Waseem Akbar Khan

17/05/2026

پارٹی تبدیل کرنا یا پھر پارٹی پالیسی سے مختلف اپنی ایک پالیسی بنانا یہ پرانی عادت ہے
میرا محسن پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاست شروع کر چکا تھا کہ 1990 کے الیکشن کا اعلان ہوگیا سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی پاکستان پیپلز پارٹی یہ الیکشن پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے لڑ رہی تھی (PDA)
میرے محسن نے بھی اپنی پارٹی کو صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کیلئے درخواست دی اور اپنی سیاسی ایکٹیوٹیز شروع کردی بہت امید تھی کہ پارٹی ٹکٹ میرے محسن کو ہی دے گی مگر پارٹی نے ٹکٹ کا فیصلہ ایک بنیادی کارکن جیالے اور سابق ٹکٹ ہولڈر ملک بشیر کامریڈ کو دے دیا ملک بشیر کامریڈ پیپلزپارٹی کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی کارکن ہیں بانی پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور بھٹو صاحب نے بھی انیس سو ستتر کے الیکشن میں ٹکٹ ملک بشیر کامریڈ کو ہی دیا تھا پیپلز پارٹی کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس میں ملک بشیر کامریڈ پر ایک جان لیوا حملہ ہوا تھا وہ شدید زخمی ہوگئے تھے انکے گھر کو بلوائیوں نے آگ لگادی تھی مطلب ملک بشیر کامریڈ نے پیپلز پارٹی کیلئے بہت تکالیف اٹھائی تھی
ملک بشیر کامریڈ کو ٹکٹ ملنے پر میرا محسن بہت ناراض ہوا اور آذاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ ہوا پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی ایک دھڑا میرے محسن کے ساتھ چلا گیا جسکی وجہ سے الیکشن کے وقت پارٹی گروپنگ کا شکار ہوگئی اور دونوں ہی یہ الیکشن ہار گئے اور مخالف جماعت کا امیدوار الیکشن جیت گیا
میرا محسن پھر سے پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگیا اور اپنا دھڑا مظبوط کرنے میں لگ گیا اس وقت الیکشن جلد جلد آ رہے تھے کوئی بھی اسمبلی اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر رہی تھی
انیس سو ستانوے کا الیکشن آگیا میرے محسن نے پھر اپنی پارٹی کو الیکشن لڑنے کیلئے درخواست دی اس وقت تک میرا محسن ایک مظبوط دھڑا اپنے ساتھ شامل کرچکا تھا جیالوں میں مقبولیت بھی تھی مگر اس بار بھی پارٹی نے ٹکٹ اپنے پرانے کارکن ملک بشیر احمد کامریڈ کو ہی دیا ۔میرے محسن نے ایک بار پھر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور بطور آذاد امیدوار الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا میرے محسن کے آذاد الیکشن لڑنے کی پالیسی نے پارٹی امیدوار کو مایوس کیا اسکو یہ بات سمجھ آگئی کہ اگر ہم دونوں الیکشن لڑیں گے تو کبھی نہیں جیت پائیں گے اس لیے ملک بشیر کامریڈ پارٹی نے ٹکٹ ہولڈر ہونے کے باوجود الیکشن سے دوری اختیار کرلی اور خاموش ہوکر گھر بیٹھ گئے الیکشن ہوا میرے محسن نے آذاد حثیت میں الیکشن لڑا اور ایک بار پھر الیکشن ہار گیا
اب چلتے ہیں یں اگلے الیکشن کی طرف جو کہ دو ہزار دو میں ہوا یہ الیکشن ایک فوجی ڈکٹیٹر کرا رہا تھا اس الیکشن میں امیدوار کیلئے گریجویٹ ہونے کی شرط تھی میرا محسن اس وقت ضلعی سطح پر پارٹی مختیار کل تھا کیونکہ وہ ضلعی صدر تھا
اس بار میرے محسن نے اپنی پڑھی لکھی زوجہ محترمہ کو الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا شاید پورے حلقہ میں کوئی پارٹی کارکن گریجویٹ نہ تھا یا پھر پارٹیاں موروثی سیاست کا سفر شروع کرچکی تھیں
میرے محسن کی زوجہ کو قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں سیٹوں کے ٹکٹ جاری کر دیے گئے میرے ضلعی صدر نے کسی جیالے کو صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑانے کی بجائے ایک ٹکٹ کو جیب میں رکھنے اور قومی الیکشن کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ الیکشن جیت گئے مگر صوبائی سیٹ پر الیکشن ہار گئے
اب چلتے ہیں الیکشن 2008 کی طرف شہید رانی پاکستان آگئی تھی مظفر گڑھ جلسے میں محترمہ بینظیر بھٹو نے ضلع مظفر گڑھ کے تمام امیدوار ان کو عوام کے سامنے لائن میں کھڑا کرکے کے حلف لیا جس کے مختلف نقاط تھے جس میں ایک یہ بھی تھا کہ کوئی امیدوار قومی اسمبلی اپنے امیدوار صوبائی اسمبلی کو چھوڑ کر اور کوئی امیدوار صوبائی اسمبلی اپنے امیدوار قومی اسمبلی کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ پینل نہیں بناۓ گا اپنے امیدوار کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ نہیں کرے گا
میرے محسن نے بھی دیگر امیدوار ان کے ساتھ عوام کو حلف دیا
اسکے بعد میرے محسن جو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری ہوگیا اور صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ بیرسٹر یوسف ہنجرا کو دے دیا گیا
میرے محسن نے اپنی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر بیرسٹر یوسف ہنجرا نجرا کو بے وارث چھوڑ کر ایم ایم اے کے امیدوار صوبائی اسمبلی سے اتحاد بنا لیا اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے ساتھ ملکر الیکشن لڑا پیپلزپارٹی کے صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کیلئے ووٹ مانگے
کہنا بس اتنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ بے وفائی صرف 2013 میں اولاد کی طرف سے ہی نہیں ہوئی پیپلز پارٹی پر اس سے پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں

09/05/2026

عظیم دھرتی کوٹ ادو❤️

بانی کا لقب کسی تختی یا نعرے سے نہیں ملتا بلکہ وہ مسلسل جدوجہد،عملی اقدامات اور عوامی خدمت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے کوٹ ادو...
03/05/2026

بانی کا لقب کسی تختی یا نعرے سے نہیں ملتا بلکہ وہ مسلسل جدوجہد،عملی اقدامات اور عوامی خدمت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے کوٹ ادو کو ضلع کا درجہ دلوانا ایک طویل اور کٹھن عمل تھا جس میں صرف دعوے نہیں بلکہ حقیقی نمائندگی اور مؤثر آواز کی ضرورت تھی وہی شخص بانی کہلانے کا حق رکھتا ہے جس نے ایوانِ اقتدار میں کھڑے ہو کر اس مطالبے کو بار بار اٹھایا جس کی جدوجہد کے شواہد آج بھی پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہیں

سابق ایم پی اے سردار اشرف خان رند نے نہ صرف اپنے حلقے کی بلکہ پورے کوٹ ادو کی نمائندگی کا حق ادا کیا انہوں نے ترقیاتی کاموں کی بنیاد رکھی،عوامی مسائل کو اجاگر کیا اور ضلع کے قیام کے لیے عملی کردار ادا کیا یہی وہ فرق ہے جو ایک حقیقی رہنما اور محض دعویدار میں واضح لکیر کھینچ دیتا ہے

سنانواں کو تحصیل بنانے کی بات ہو تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مطالبے کو سب سے پہلے سردار اشرف خان رند نے پیش کیا حالانکہ یہ علاقہ ان کے حلقے میں شامل نہیں تھا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سیاست ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی خدمت کے گرد گھومتی ہے

وقت گزرنے کے ساتھ جب سنانواں کو تحصیل کا درجہ ملے گا تو یقیناً کچھ نام نہاد نمائندے سامنے آ کر کریڈٹ لینے کی کوشش کریں گے مگر باشعور عوام جانتی ہے کہ بنیاد کس نے رکھی،آواز کس نے اٹھائی اور جدوجہد کس نے کی

سیاست محض نعروں اور دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عملی خدمت،دیانتداری اور عوامی فلاح کا دوسرا نام ہے اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو بانی ضلع کوٹ ادو اور بانی تحصیل سنانواں کے طور پر ایک ہی نام نمایاں ہوگا
سردار اشرف خان رند جنہوں نے سیاست کو واقعی "سیاست برائے کام" بنا کر دکھایا

Address

District Kot Addu
Kot Addu
34050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Peoples Party District Kot Addu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share