Misbah Ud Din Utmani

Misbah Ud Din Utmani Citizen Journalist & Human Rights Activist working for marginalized communities

"بھائی کا تعزیت ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ شوہر کا جنازہ اٹھ گیا!"چند دن قبل باجوڑ کے معروف ڈاکٹر غلام فاروق صاحب کے اکلوت...
08/09/2026

"بھائی کا تعزیت ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ شوہر کا جنازہ اٹھ گیا!"
چند دن قبل باجوڑ کے معروف ڈاکٹر غلام فاروق صاحب کے اکلوتے بیٹے برہان اللہ کو نامعلوم افراد نے انتہائی بے دردی سے شہید کیا اب ڈاکٹر صاحب کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس کا ایک ایک لفظ مظلومیت اور ریاست کی بے حسی پر رو رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے مطابق شہید برہان اللہ کے بہنوئی محمد رحمان کو بھی کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے شہید کر دیا تھا۔ بھائی کی شہادت کے غم میں نڈھال بہن (برہان کی اہلیہ) اپنے میکے تحصیل سلارزئی گئی ہوئی تھی۔ وقوعہ کے روز ڈاکٹر غلام فاروق صاحب اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ کے ساتھ اپنی بہو کو چند دن کے لیے اپنے گھر لانے گئے تھے تاکہ اس کا غم کچھ ہلکا ہو سکے اور پڑوس کی خواتین جو اس سے بھائی کی تعزیت کے لیے آنے کا انتظار کر رہی تھیں ان کی خاطر مدارات کی جا سکے۔
ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا برہان اللہ اس دن بے حد خوش تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے مہمانوں کی تواضع کے لیے پانچ کلو مٹھائی خریدی، جمعہ کے مبارک دن سفید لباس پہنا، نماز ادا کی اور گھر سے باہر نکلا۔ لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ ان کے زندگی کے آخری چند لمحے ہیں۔ عصر کا وقت ہوتے ہوتے قیامت ٹوٹ پڑی اور برہان اللہ کی خون میں لت پت لاش گھر پہنچی۔
ذرا اس بدقسمت بہن کی تکلیف کا تصور کریں جس کے بھائی کا ماتم ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی شوہر کو اس سے چھینا گیا اور اس پانچ ماہ کی ناسمجھ بچی شفق کا کیا قصور تھا؟ جو باپ کی شفقت کو پہچاننے سے پہلے ہی یتیم ہو گئی۔ جب ڈاکٹر غلام فاروق اپنی پانچ ماہ کی پوتی شفق کی معصوم آنکھوں میں دیکھیں گے تو ان کے بوڑھے اور زخمی دل پر کیا گزرے گی؟ اس کرب کا اندازہ دنیا کا کوئی انسان نہیں لگا سکتا۔
ایک طرف اکلوتے جوان بیٹے کی شہادت کا ناگفتہ بہ صدمہ ہے تو دوسری طرف سیکیورٹی اداروں، منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت کی شرمناک بے حسی! ڈاکٹر غلام فاروق صاحب شکوہ کرتے ہیں کہ اس قیامت کے گھڑی میں نہ ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر نے ان کا حال پوچھا نہ سیکیورٹی حکام نے دلاسا دیا اور نہ ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا صوبائی وزیرِ صحت نے ایک فون کال تک کرنے کی زحمت کی۔
یہ صرف ڈاکٹر غلام فاروق کی داستان نہیں ہے یہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص قبائلی اضلاع کے ہر دوسرے گھر کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ یہاں کی ہر بہن یوں ہی اجڑتی ہے اور شفق کی طرح ہزاروں یتیم بچے روزانہ اپنے باپ کا راستہ دیکھتے ہیں۔ نامعلوم افراد آتے ہیں، ہنستی بستیاں اجاڑتے ہیں اور ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی پکڑا جاتا ہے نہ کوئی جواب دہ ہے۔
اور اس جلتے ہوئے زخم پر نمک پاشی تب ہوتی ہے جب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جیسے حکمران یہ بیان دیتے ہیں کہ "ہمیں انڈیا سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسی صوبے سے ہے۔"
محترمہ مریم نواز صاحبہ! اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے تمام پالیسی سازو! ذرا ڈاکٹر غلام فاروق کے بہتے آنسوؤں، اس بیوہ کے اجڑے سہاگ اور پانچ ماہ کی شفق کی یتیمی کو غور سے دیکھیں۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم دہائیوں سے چلی آنے والی اس دہشت گردی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شکار ہیں!
خدا را ہمارے حل پر رحم کریں۔۔۔ 😭
مصباح الدین اتمانی

‏پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا عدالت نے...
07/09/2026

‏پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا عدالت نے ان کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
یعنی 27 ستمبر تک حماد اظہار ان کے تحویل میں ہوں گے، آپ اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

گزشتہ شب باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں بم دھماکہ کے زریعے "رحمان ہیئر ڈریسر" کی دکان کو تباہ کیا گیا جس نے وہاں  قائم انوکھ...
06/09/2026

گزشتہ شب باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں بم دھماکہ کے زریعے "رحمان ہیئر ڈریسر" کی دکان کو تباہ کیا گیا جس نے وہاں قائم انوکھی لائبریری اور علم و کتاب کے اکلوتے آشیانے کو بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ بی اے کے طالب علم رحمان سلارزئی نے اپنے حلال روزگار کے ساتھ دکان کے اندر پشتو و اردو ادب، تاریخ اور اسلامی کتب پر مشتمل ایک خوبصورت لائبریری بنا رکھی تھی جہاں آنے والے گاہکوں کو باری کے انتظار کے دوران موبائل پر وقت ضائع کرنے یا بے مقصد سیاسی بحثوں میں الجھنے کے بجائے کتب بینی کی ترغیب دی جاتی تھی۔
مطالعے کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے پڑھنے والوں کے لیے بال کٹوانے کی اجرت پر تیس فیصد رعایت کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔ رحمان کا یہ انوکھا حمام صرف ایک دکان نہیں بلکہ ایک تعلیمی اور اصلاحی مرکز بن چکا تھا جہاں روزانہ علمی اور ادبی گفتگو ہوتی تھی۔
لیکن گزشتہ رات تقریبان ساڑھے گیارہ بجے چند سیکنڈز کے اندر ایک محنت کش، خوش اخلاق اور امن پسند نوجوان کی برسوں کی محنت اور روزگار کا ذریعہ ظالموں نے چھین لیا۔ رحمان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ایک پسماندہ علاقے میں جہالت اور تاریکی کے خلاف علم اور کتاب کا شمع روشن کیا تھا۔ باجوڑ میں خوف اور بدامنی کی ان حالات کی نشان دہی شہید مولانا خانزیب نے پہلے سے کی تھی اور اسی جدوجہد کی پاداش میں انہیں بھی دن دیہاڑے ہیڈکواٹر میں شہید کر دیا گیا تھا۔ جب بھی قبائل پر امن نہ چاہنے کا الزام لگایا جاتا ہے تو رحمان جیسے باہمت نوجوان اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ قوم امن اور تعلیم کی پیاسی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس خطے میں علم اور امن کی بات کرنے والی ہر آواز کو دہشت کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بارود سے کتابیں اور اینٹیں تو جلا دیں لیکن وہ رحمان سلارزئی کے جذبے اور ان کے پھیلائے ہوئے شعور کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔ یہ حملے دراصل باجوڑ کے روشن مستقبل پر وار ہیں اور اس تاریکی کا مقابلہ ہم سب کو مل کر اس علم اور امن کے راستے پر قائم رہ کر کرنا ہوگا۔

کالی چادر میں لپٹا بیٹے کی قبر پر پڑا یہ شخص باجوڑ کے پہلے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر غلام فاروق ہیں جو ہزاروں دھڑکتے دلوں کو زند...
04/09/2026

کالی چادر میں لپٹا بیٹے کی قبر پر پڑا یہ شخص باجوڑ کے پہلے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر غلام فاروق ہیں جو ہزاروں دھڑکتے دلوں کو زندگی کی نوید دیتے تھے مگر آج ان کا اپنا دل اکلوتے بیٹے کی تازہ مٹی کے نیچے دفن ہو چکا ہے۔
چند دن پہلے باجوڑ کی تحصیل ماموند میں نامعلوم افراد نے ڈاکٹر غلام فاروق کے نورِ نظر، اکلوتے لختِ جگر برہان اللہ کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ جس باپ نے اپنے بیٹے کے لیے رنگین خواب بُنے تھے، جس نے اسے اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھایا تھا، اس کے سامنے جب اس کا جنازہ اٹھا تو دنیا کی تمام تر خوشیاں، شہرت اور کامیابیاں اس باپ کے لیے بے معنی ہو کر رہ گئیں۔
آج صبح جب بارش تھمی تو تعزیت کے لیے آنے والا ایک عزیز بوجھل دل کے ساتھ شہید برہان اللہ کے مزار پر پہنچے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ غم سے نڈھال والد کو تسلی دیں گے لیکن وہاں پہنچ کر منظر ایسا تھا کہ تسلی دینا تو دور ڈاکٹر صاحب کے سامنے کھڑے ہونے اور بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔
فجر سے لے کر عصر تک بارش کی نمی اور مٹی کی ٹھنڈک کے باوجود ڈاکٹر غلام فاروق صاحب اپنے بیٹے کی قبر پر ہی پڑے رہے۔ چہرے پر کالی چادر تانے بیٹے کی قبر کے تازہ مٹی پر اس طرح ساکت رہے جیسے وہ اس کی آغوش میں سکون تلاش کر رہے ہوں۔ وہ عصر تک وہاں سے اٹھنے کو تیار ہی نہ تھے تاہم مولانا محمد لائق صاحب کے بار بار اسرار اور زبردستی کرنے پر وہ وہاں سے روانہ ہوئے۔
یہ صرف ایک تصویر یا خبر نہیں یہ باجوڑ کے ہر اس باپ کا حال ہے جس کا جوان بیٹا اس بدامنی کی بھیٹ چڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر غلام فاروق وہ شفیق انسان ہیں جو دلوں کے دورے سے انسانوں کی جانیں بچاتے ہیں مگر ان کے اپنے بوڑھے دل پر جو زائل نہ ہونے والا زخم لگا ہے اس کا مرہم اب دنیا کے کسی طبیب کے پاس نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید برہان اللہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور غم زدہ ڈاکٹر غلام فاروق صاحب اور ان کے گھر والوں کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ باجوڑ کی اس مظلوم اور بھیگی مٹی کو اللہ اب مزید کسی باپ کا یہ کربناک امتحان نہ دکھائے۔ آمین یا رب العالمین!

"ہمارا ہتھکڑیوں میں جکڑا بیمار بیٹا کیسے پولیس سے بھاگ سکتا ہے؟"بڈھ بیر پولیس کی حراست سے 17 سالہ عمیر کے مبینہ فرار پر ...
03/09/2026

"ہمارا ہتھکڑیوں میں جکڑا بیمار بیٹا کیسے پولیس سے بھاگ سکتا ہے؟"
بڈھ بیر پولیس کی حراست سے 17 سالہ عمیر کے مبینہ فرار پر والدین پشاور پریس کلب پہنچ گئے، انہیں خدشہ ہے کہ ان کے بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا جائے گا۔
پشاور کے علاقے ماما خیل سے تعلق رکھنے والے ایک غریب اور مظلوم خاندان کے بوڑھے والد ملنگ خان اور ان کی اہلیہ مسمات گلسمہ بی بی اپنے سترہ سالہ بیمار بیٹے عمیر خان کی زندگی کی بھیک مانگنے کے لیے پشاور پریس کلب پہنچ گئے۔ ان کی آنکھوں کے آنسو اور کانپتے ہوئے الفاظ پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
والدین کے مطابق 22 روز قبل ایس ایچ او بڈھ بیر واجد خان ان کے گھر آئے اور بیمار بیٹے عمیر خان کو صرف ایک دن کی تفتیش کا کہہ کر ساتھ لے گئے۔ عمیر خان، جو پیشے کے اعتبار سے پنکچر کی دکان پر کام کرتا تھا اور کچھ عرصہ قبل جائداد کے تنازعے میں چچا کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے کے باعث گھر پر ہی مقید تھا نے خود تفتیش کے لیے پولیس کا ساتھ دیا۔
مگر ایک دن کی بات 22 روز میں بدل گئی۔ والدین روزانہ تھانے کے چکر کاٹتے رہے لیکن انہیں بیٹے سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ جب مظلوم خاندان نے عدالت سے رجوع کیا تو پولیس نے عدالتی بیلف کو بھی عمیر سے ملنے نہ دیا اور نوجوان کی موجودگی سے صاف انکار کر دیا۔
لیکن گزشتہ روز اچانک مذکورہ ایس ایچ او واجد خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، گھر کا سامان اور چارپائیاں تک اٹھا کر لے گئے اور دعویٰ کیا کہ "آپ کا بیٹا پولیس پر حملہ کر کے اسلحہ سمیت فرار ہو گیا۔
والد ملنگ خان نے روتے ہوئے سوال کیا کہ "جو بیٹا پہلے سے زخمی، بیمار اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا وہ مسلح پولیس والوں کو زخمی کر کے اسلحہ چھین کر کیسے بھاگ سکتا ہے؟" ان کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے بیٹے کا کوئی سابقہ کرائم ریکارڈ نہ ہونے کے باوجود اسے سنیچر ثابت کرنا چاہتی ہے تاکہ اسے کسی نام نہاد پولیس مقابلے میں قتل کر دیا جائے۔
غم سے نڈھال والدین کا کہنا ہے کہ ان کا گھر ویران کر دیا گیا ہے اور ان کی آخری امید اب صرف انصاف کے اعلیٰ ایوانوں سے ہے۔ انہوں نے آئی جی پی خیبر پختونخوا اور سی سی پی او پشاور سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس سارے واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
ان کے بیمار بیٹے کو پولیس کی غیر قانونی تحویل سے بازیاب کرا کے ممکنہ مبینہ پولیس مقابلے سے بچایا جائے۔
اربابِ اختیار کو اس سے پہلے حرکت میں آنا ہوگا کہ ایک اور بوڑھے باپ کے کندھوں پر اس کے نوجوان بیٹے کا جنازہ آ جائے۔

خیبر پختونخوا میں مبینہ پولیس مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں چارسدہ کے علاقے عمرزئی میں پولیس کارروائی کے دوران متعدد سن...
02/09/2026

خیبر پختونخوا میں مبینہ پولیس مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں چارسدہ کے علاقے عمرزئی میں پولیس کارروائی کے دوران متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزم انعام عرف انعامے مارا گیا ہے۔
بدھ کی شام عمرزئی پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ ڈکیتی، سنیچنگ اور لفٹنگ کی متعدد وارداتوں میں مطلوب ملزم انعامے ولد امیر نواز سکنہ شیرپاؤ جنازہ گاہ کے قریب موجود ہے۔ پولیس ٹیم نے فوری طور پر علاقے کی گھیرا بندی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر ملزم نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس اور ملزم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ حکام کے مطابق ملزم کو بارہا سرنڈر کرنے کی ہدایت کی گئی تاہم اس نے پیش قدمی جاری رکھی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔فائرنگ کے دوران ایس ایچ او عمرزئی موسیٰ خان کی بلٹ پروف جیکٹ پر گولیاں لگیں تاہم وہ محفوظ رہے۔
ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ ضلع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

چارسدہ میں میٹر ریڈر  کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور ...
02/09/2026

چارسدہ میں میٹر ریڈر کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔
آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور حسن چارسدہ میں واقع پیسکو کے سنسان دفتر میں کرسی پر ٹڑپتا رہا اور عملہ انسانیت کو بھلا کر دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
محکمہ تعلیم کے اس سابق ملازم کے گھر جب پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا تو ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سولر پینل لگایا تھا تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے مگر پیسکو اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے پچاس ہزار کا بل تھوپ دیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا جس کی ادائیگی بابا کی استطاعت سے باہر تھی۔
بدھ کی صبح بابا نور حسنجب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا اور وہ 15 منٹ تک وہیں فرش پر تڑپتے رہے۔ جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی۔
واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔
حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔
مصباح الدین اتمانی

ممتاز کی قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک آڈیو  پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں اور نو...
01/09/2026

ممتاز کی قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک آڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ کسی کی موت پر خوشی نہ منائی جائے اور دشمنی، انتقام اور اسلحہ کلچر سے دور رہا جائے۔

ملک عمیر خان کے مطابق ایک ماہ بعد ان کے شہید بھائی ملک آدم خان کی موت کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ گزشتہ سال ان کے خاندان کے لیے یہ دن انتہائی قیامت خیز تھے جب ان کے گھر سے تین جنازے اٹھے۔ اس وقت کچھ لوگ ان کے غم میں شریک ہوئے جبکہ بعض لوگوں نے خوشی بھی منائی۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز زندگی میں ان کا دشمن تھا لیکن اب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی کہ ممتاز کی موت پر جشن، ہوائی فائرنگ یا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سے گریز کیا جائے۔

ملک عمیر خان نے کہا کہ ممتاز کی موت سے سب سے زیادہ دکھ اس کی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو ہوگا کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ اپنے بھائی کی موت کا دکھ اور دوسروں کو اس غم پر خوشیاں مناتے دیکھنے کا زخم کتنا گہرا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمنی نے دونوں خاندانوں کو تباہ کیا اور دونوں طرف بیس سے زائد لوگ مارے گئے۔ یہ لوگ کسی ماں نے اس لیے پیدا نہیں کیے تھے کہ وہ دشمنی اور انتقام کی آگ میں جان سے جائیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کے ویوز، بندوق کے ساتھ ویڈیوز اور بدمعاشی کسی کو عزت نہیں دیتے۔ دشمنی کا انجام صرف پولیس، خوف، اجڑے ہوئے گھر اور جنازے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے والد اور بھائی بھی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے، اس لیے وہ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ نفرت اور انتقام کے بجائے امن اور زندگی کا راستہ اختیار کریں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کا شکریہ آدا کرتے ہوئیں کہا کہ انہوں نے انصاف کیا، آج کے بعد نہ کوئی ہمارا دشمن ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ ہمارا کوئی کام

پشاور ہائیکورٹ نے والدہ کی درخواست پر حکم دیا ہے کہ مقتول ممتاز کی لاش اصل وارثین کے حوالے کی جائے، جسٹس سید ارشد علی او...
01/09/2026

پشاور ہائیکورٹ نے والدہ کی درخواست پر حکم دیا ہے کہ مقتول ممتاز کی لاش اصل وارثین کے حوالے کی جائے، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نادرن بائی پاس حملے میں ہلاک ہونے والے مطلوب اشتہاری ملزم ممتاز خان عرف ممتازے کی ڈیڈ باڈی کی حوالگی سے متعلق درخواست کو آج نمٹا دیا۔
سماعت کے دوران اضافی ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس لاش صرف اور صرف اصل وارثین کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ مقتول کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے حکم دیا کہ مقتول کی والدہ اور بھائی لاش تحویل میں لیں گے اور تدفین و قبر کشائی کے عمل میں پولیس کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ ضابطے اور ریکارڈ کی بہتری کے لیے ہسپتال انتظامیہ کو لاش کی حوالگی کے وقت ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Telephone

+923065676854

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misbah Ud Din Utmani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Misbah Ud Din Utmani:

Shortcuts

Share