08/09/2026
"بھائی کا تعزیت ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ شوہر کا جنازہ اٹھ گیا!"
چند دن قبل باجوڑ کے معروف ڈاکٹر غلام فاروق صاحب کے اکلوتے بیٹے برہان اللہ کو نامعلوم افراد نے انتہائی بے دردی سے شہید کیا اب ڈاکٹر صاحب کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس کا ایک ایک لفظ مظلومیت اور ریاست کی بے حسی پر رو رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے مطابق شہید برہان اللہ کے بہنوئی محمد رحمان کو بھی کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے شہید کر دیا تھا۔ بھائی کی شہادت کے غم میں نڈھال بہن (برہان کی اہلیہ) اپنے میکے تحصیل سلارزئی گئی ہوئی تھی۔ وقوعہ کے روز ڈاکٹر غلام فاروق صاحب اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ کے ساتھ اپنی بہو کو چند دن کے لیے اپنے گھر لانے گئے تھے تاکہ اس کا غم کچھ ہلکا ہو سکے اور پڑوس کی خواتین جو اس سے بھائی کی تعزیت کے لیے آنے کا انتظار کر رہی تھیں ان کی خاطر مدارات کی جا سکے۔
ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا برہان اللہ اس دن بے حد خوش تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے مہمانوں کی تواضع کے لیے پانچ کلو مٹھائی خریدی، جمعہ کے مبارک دن سفید لباس پہنا، نماز ادا کی اور گھر سے باہر نکلا۔ لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ ان کے زندگی کے آخری چند لمحے ہیں۔ عصر کا وقت ہوتے ہوتے قیامت ٹوٹ پڑی اور برہان اللہ کی خون میں لت پت لاش گھر پہنچی۔
ذرا اس بدقسمت بہن کی تکلیف کا تصور کریں جس کے بھائی کا ماتم ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی شوہر کو اس سے چھینا گیا اور اس پانچ ماہ کی ناسمجھ بچی شفق کا کیا قصور تھا؟ جو باپ کی شفقت کو پہچاننے سے پہلے ہی یتیم ہو گئی۔ جب ڈاکٹر غلام فاروق اپنی پانچ ماہ کی پوتی شفق کی معصوم آنکھوں میں دیکھیں گے تو ان کے بوڑھے اور زخمی دل پر کیا گزرے گی؟ اس کرب کا اندازہ دنیا کا کوئی انسان نہیں لگا سکتا۔
ایک طرف اکلوتے جوان بیٹے کی شہادت کا ناگفتہ بہ صدمہ ہے تو دوسری طرف سیکیورٹی اداروں، منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت کی شرمناک بے حسی! ڈاکٹر غلام فاروق صاحب شکوہ کرتے ہیں کہ اس قیامت کے گھڑی میں نہ ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر نے ان کا حال پوچھا نہ سیکیورٹی حکام نے دلاسا دیا اور نہ ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا صوبائی وزیرِ صحت نے ایک فون کال تک کرنے کی زحمت کی۔
یہ صرف ڈاکٹر غلام فاروق کی داستان نہیں ہے یہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص قبائلی اضلاع کے ہر دوسرے گھر کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ یہاں کی ہر بہن یوں ہی اجڑتی ہے اور شفق کی طرح ہزاروں یتیم بچے روزانہ اپنے باپ کا راستہ دیکھتے ہیں۔ نامعلوم افراد آتے ہیں، ہنستی بستیاں اجاڑتے ہیں اور ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی پکڑا جاتا ہے نہ کوئی جواب دہ ہے۔
اور اس جلتے ہوئے زخم پر نمک پاشی تب ہوتی ہے جب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز جیسے حکمران یہ بیان دیتے ہیں کہ "ہمیں انڈیا سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسی صوبے سے ہے۔"
محترمہ مریم نواز صاحبہ! اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے تمام پالیسی سازو! ذرا ڈاکٹر غلام فاروق کے بہتے آنسوؤں، اس بیوہ کے اجڑے سہاگ اور پانچ ماہ کی شفق کی یتیمی کو غور سے دیکھیں۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم دہائیوں سے چلی آنے والی اس دہشت گردی کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا شکار ہیں!
خدا را ہمارے حل پر رحم کریں۔۔۔ 😭
مصباح الدین اتمانی