17/04/2026
مسجد کی ڈیجیٹل گھڑی ایک خاموش قاتل
پہلے مساجد میں سادہ گھڑیاں ہوتی تھیں اگر امام صاحب ایک دو منٹ دیر سے آجاتے تو کسی کو زیادہ فکر نہیں ہوتی تھی لوگ خاموشی سے ذکر و اذکار میں مشغول رہتے، تلاوت کرتے یا درود شریف پڑھتے رہتے تھے۔ مسجد کا ماحول سکون اور برداشت سے بھرا ہوتا تھا لیکن جب سے مساجد میں ڈیجیٹل گھڑیاں اور ان کی مخصوص "ٹِنگ" والی آواز آئی ہے، حالات کچھ بدل سے گئے ہیں۔ جیسے ہی گھڑی کی آواز آتی ہے، کچھ لوگ فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں اور اگر امام صاحب کسی وجہ سے چند سیکنڈ بھی تاخیر سے آجائیں چاہے وضو کر رہے ہوں یا کسی مجبوری میں ہوں تو فوراً بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ امام صاحب بھی انسان ہیں کبھی کبھی ایک آدھ منٹ کی تاخیر ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہونی چاہئے۔ مگر افسوس کہ بعض جگہوں پر یہی معمولی سی بات اختلاف اور بحث کا سبب بن جاتی ہے نماز یقیناً وقت پر ادا کرنا فرض ہے، اور امام صاحب کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمیشہ وقت کی پابندی کریں لیکن اگر کبھی کبھار ایک منٹ کی تاخیر ہو جائے تو ہمیں برداشت اور صبر سے کام لینا چاہئے مسجد تو وہ جگہ ہے جہاں دلوں کو جوڑنا چاہئے، نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دلوں میں فاصلے پیدا ہوں آئیے ہم سب مل کر مسجد کے ماحول کو محبت، صبر اور احترام سے بھر دیں۔ گھڑی کی آواز سے زیادہ اہم ہمارے دلوں کا سکون اور آپس کی بھائی چارہ ہے ۔