05/06/2026
مولانا صاحب کے دو جملے اور اس کی مطلب۔۔۔؟👇
"جس طرح اسمبلیاں بنائی جا سکتی ہیں، پھر اسی طرح کے اسمبلیوں میں جس طرح وزیراعظم بنائے جا سکتے ہیں، تو اس مخلوق سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، مجعول سے تعبیر کیا جاتا ہے"
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا یہ جملہ سیاسی فلسفے کی گہری بات ہے، اگر ہم سمجھیں۔
تشریح 👇
"دیکھیں مولانا صاحب نے دو لفظ ذکر کیا ہے ایک"مخلوق "
"اور دوسرا"مجعول"
مخلوق" سے مراد اللہ کی پیدا کی ہوئی، فطری، حقیقی چیز"
مجعول" سے مراد انسانوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی، مصنوعی، جعلی چیز۔
اب مولانا صاحب کا پوائنٹ 3 حصوں میں ہے:
پہلا حصہ: "اسمبلیاں بنائی جا سکتی ہیں"
دیکھیں اسمبلی، پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن - یہ سب انسانوں کے بنائے ہوئے ادارے ہیں۔ آئین کے مطابق بنتے ہیں، قانون سے چلتے ہیں۔ یہ کوئی قدرتی چیز نہیں۔
دوسرا حصہ: "اسی اسمبلی میں وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے"
وزیراعظم بھی ووٹ، اکثریت، سودے بازی سے بنتا ہے۔ یہ بھی ایک "پروسس" ہے، ایک "سیٹ اپ" ہے۔
تیسرا حصہ: "تو اسے مخلوق نہیں، مجعول کہو گے"
مولانا صاحب کہنا چاہ رہے ہیں کہ جو چیز انسان خود بنائے، خود بگاڑے، خود مقرر کرے - وہ "مخلوق" نہیں ہو سکتی۔ "مخلوق" وہ ہوتی ہے جو اللہ نے پیدا کی، جیسے سورج، چاند، انسان کی فطرت۔
لیکن جو اسمبلی اور وزیراعظم ہم بناتے ہیں، وہ "مجعول" ہے - یعنی 'مجعول" چیز اس کی کوئی تقدس، کوئی دائمی حیثیت نہیں, کل اسمبلی ٹوٹ سکتی ہے، وزیراعظم گھر جا سکتا ہے۔
مولانا صاحب کا اصل پیغام کیا ہے ؟
1."سیاسی تنقید" یہ بتانا کہ موجودہ سیاسی نظام مصنوعی ہے۔ اسمبلیاں اور وزیراعظم "مقدس" نہیں ہیں۔ اگر یہ غلط فیصلے کریں تو ان پر تنقید بالکل جائز ہے۔
2."اسلامی نقطہ نظر" اسلام میں اصل طور پر"مخلوق" اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو کہا جاتا ہیں۔ انسان کے بنائے ہوئے نظام کو "مخلوق" کا درجہ دینا شرک کے قریب ہے۔ یعنی اسمبلی کو خدا نہ سمجھو۔
3."اخلاقی سبق" چونکہ یہ "مجعول" ہے، اس لیے اسے بہتر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر اسمبلی بک سکتی ہے، وزیراعظم خریدا جا سکتا ہے، تو نظام میں خرابی ہے۔
آسان مثال دیکھیئے👇
کہ جیسے کرسی انسان بناتا ہے۔ کرسی کو "مخلوق" نہیں"مکسوب" کہا جاسکتا ہے۔ اگر کرسی ٹوٹ جائے تو روتے نہیں، نئی بنا لیتے ہیں۔ مولانا صاحب کہہ رہے ہیں اسمبلی اور وزیراعظم بھی "کرسی" کی طرح ہیں - انسان کے بنائے ہوئے، اور بدلنے والے چیزیں ہیں۔
مولانا صاحب کے اکثر باتیں کمال کی ہوتے ہیں اگر ہم سنیں سمجھے اور غور فکر کرے۔
ہم اندهی سیاسی تنقید کرتے لیکن کسی کو سنتے سمجھتے نہیں۔
اسلئے جس سے بھی اختلاف ہو اس کو پورا سننا سمجھنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
✍️۔ "شفیع اللّٰہ حمدانی"
Shafi Ullah Hamdani official
Maulana Fazl ur Rehman
M***i Fazli Ghafoor
゚viralシ