11/11/2025
آصف علی زرداری بھٹو مخالف کا تختہ مشق اور زرداری کا قلندرانہ کردار قسط نمبر 1
تحریر اطہر شریف
آصف علی زرداری اسی دن ملزم بن گیا تھا۔ جب 18 دسمپر 1987 کو متحرمہ بے نظیر بھٹو سے شادی ہوہی تھی۔ - محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی اگر کسی فرشتے سے بھی ہوتی تو اس کی کردار کشی اسی طرح ہی ہوتی جس طرح آصف علی زرداری کی جھوٹی کردار کشی کی گئی -بلاول ہاوس 21 ستمبر 1988 کو بلاول بھٹو کے پیدا ہونے کے فورا بعد آصف علی زرداری نے خرید لیا تھا۔ جب ابھی الیکشن نہیں ہوہے تھے۔ لیکن آصف علی زرداری کے اوپر الزامات اقتدار میں آنے سے پہلے 2 دسمبر 1988سے پہلے ہی لگنا شروع ہو گے تھے۔ یہ ایک سوچا سمجھے منصوبے کے تحت نواز شریف نے شروع کیے تھے ۔ چینی کہاوت ہے سچ کےآنے تک جھوٹ پورے گاوں میں پھیل جاتاہے ۔ ہٹلر کے دست راز گوبیلز کے مطابق جھوٹ اتنا بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہو ۔ یہی کچھ نواز شریف نے کیا تھا۔ یہ کچھ عمران نیازی اینڈ کو کر رہےتھے اور آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد پہلی دفعہ 10 اکتوبر 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا -اور فروری 1993 کورہائی ملی ۔ دوسری دفعہ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
زرداری کے ایک اور وکیل فاروق نائیک کے مطابق ان کے خلاف مختلف حکومتوں نے سترہ، قتل، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تمام مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں مقدمات میں با عزت بری ہوہے ۔
ایک اہم مقدمے کی روداد کا ذکر اس کیس جو کہ آخری تھا ساڑے 8 سال بعد 21 نومبر 2004 کو رہاہی ملی۔ مسلسل قید آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ کچھ مقدمات میں وہ رہا ہوچکے ہیں جبکہ باقی مقدمات میں عدالتوں نے ان کی ضمانت منظور کی ہے۔
بی ایم ڈبلیو کار کیس کے نام سے مشہور مقدمے میں آصف علی زرداری کی ضمانت نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں اپیل دائر کی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کسی اور کے نام پر کار درآمد کی اور اس پر کم کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے کلیئرنس حاصل کی۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں قائم فل
بینچ نے جس میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس شاکراللہ جان بھی شامل تھے پیر کے روز سماعت کے بعد دس لاکھ روپوں کے مچلکے داخل کرنے کے عوض
ان کی ضمانت منظور کرلی۔
آصف علی زرداری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک اور ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کی جبکہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ایڈووکیٹ ابراہیم ستی پیش ہوئے۔ دوران سماعت جب استغاثہ کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ’ جب گاڑی درآمد کرنے والے شخص اور بعد میں خریدنے والے شخص سمیت کسی پر مقدمہ نہیں بنا تو کیا صرف زرداری پر مقدمہ بنانا بدنیتی پر مبنی نہیں ہے؟
استغاثہ کے مطابق دوسروں کے نام پر یہ گاڑی زرداری نے درآمد کی اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ ’بلٹ پروف، گاڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف پچپن لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی جبکہ اس سے ایک کروڑ روپوں کا قومی خزانے کو نقصان ہوا۔
استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ اس وقت کیوں داخل ہوا جب درخواست گذار کی ضمانت منظور ہوئی؟ استغاثہ نے کہا کہ یہ محض اتفاق ہے۔
وکیل صفائی اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کا موکل آٹھ سال سے مسلسل قید میں ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مختصر حکم سناتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔
زرداری کے وکیل بابر اعوان کے مطابق ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ جب بھی آصف زرادی کسی مقدمے میں ضمانت حاصل کرتے تو حکومت اسی روز نئے مقدمے میں ان کی گرفتاری ظاہر کردیتی اور وہ رہا نہیں ہوتے۔
بے نظیر بھٹو صاحبہ سے شادی سے قبل آصف علی زرداری پر شاید کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ اِن کی ذات پر الزامات اور مقدمات کا آغاز شادی کے بعد ہوا۔
10 اکتوبر 1990 میں آصف زرداری پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے اور فروری 1993 میں رہا ہوئے۔ ان پر مالی بدعنوانی، اغوا، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے الزامات تھے۔
زرداری نومبر 1996 میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور لگ بھگ آٹھ سال قید گزارنے کے بعد نومبر 2004 میں رہا ہوئے۔ اس دوران ان پر قتل، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات تھے۔ 10 جون سنہ 2019 میں زرداری نیب کی حراست میں چلے گئے لیکن نوے کی دہائی سے لمحہ موجود تک کرپشن کے الزامات کی زَد میں رہنے والے آصف علی زرداری کا پانامہ اور پینڈورا سیکنڈل میں نام نہیں آیا تھا۔
جب سنہ 1996 میں آصف علی زرداری لگ بھگ آٹھ برس کے لیے جیل گئے تو اُس وقت اِن کی عمر تقریباً چالیس برس تھی لیکن سنہ 2004 میں رہائی کے بعد جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دورِ حکومت سنہ 2019 میں جیل گئے تو یہ 66 برس کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔
10 جون سنہ 2019 میں جب مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد ہوئی تو نیب ٹیم نے انھیں ان کی رہائشگاہ سے تحویل میں لے لیا۔ اِن کی چھوٹی بیٹی آصفہ نے انھیں گلے لگایا اور آصف علی زرداری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے گاڑی میں بیٹھ گئے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے
تمام مقدمات میں وہ بے گناہ باعزت بھری ہوئے
وہ بھی اپنے بدترین مخالف حکومتوں میں-اسی طرح انھوں نے جیل اس بہادری سے کاٹی کہ نظریاتی مخالف مجید نظامی نے انھیں مرد حر کا خطاب دے دیا۔
وہ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مرد کی یہ شان نہیں کہ وہ تکلیف میں اف تک کہے یہ بھی کئی بار کہا کہ الزامات کی وجہ سے میرے گناہ جھڑتے ہیں۔ یہ سب مزاحمتی سیاست دان جیسا نقطۂ نظر ہے