I Love Baltistan

I Love Baltistan Love for our Homeland Great Baltistan

Baltistan (Urdu: بلتستان, Balti: ), also known as بلتیول (Baltiyul) in the Balti language, is a region in northern Pakistan which forms Gilgit-Baltistan, bordering the Xinjiang Autonomous Region of China. In addition, a part of Baltistan also falls into Jammu and Kashmir of India.[1][2][3][4][5] It is situated in the Karakoram mountains just to the south of K2, the world's second highest mountain.

It is inhabited principally by the Balti people of Tibetan descent. Baltistan consisted of small independent valley states that were connected to each other through blood relationships of the rulers, called rajas, trade, common beliefs and strong cultural and language bonds. These states were subjugated by force by the Dogra rulers of Kashmir in the nineteenth century. In 1947 when India and Pakistan gained independence, Baltistan was still part of Kashmir. The people of Baltistan being predominantly Muslims revolted against the Dogra rulers and after a struggle lasting a year became independent. Along with Gilgit, it is now claimed by Pakistan as the region of Gilgit-Baltistan (formerly Northern Areas). Its links with Kashmir as a subjugated people today continue to be an impediment in granting its population citizenship of Pakistan. The Kargil district of this region is located in the north of Indian-administered Kashmir, while the districts of Skardu and Ganche, whose main town is Skardu, are located in the Pakistan-administered Gilgit-Baltistan region. The region has the highest peaks of the Karakoram, including K2.

05/01/2025
بلتی اور تبتی کا اختلافتحریر: نذیر بیسپابلتستان میں جو زبان "بلتی" بولی جاتی ہے وہ تبتی زبان کی سب سے قدیمی شاخ ہے جو آج...
06/05/2023

بلتی اور تبتی کا اختلاف
تحریر: نذیر بیسپا
بلتستان میں جو زبان "بلتی" بولی جاتی ہے وہ تبتی زبان کی سب سے قدیمی شاخ ہے جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اگر چہ بلتی میں دیگر غیر تبتی زبانوں کے الفاظ بہ کثرت شامل ہو گئے ہیں اور درجن بھر نئی آوازوں کا اضافہ ہوا ہے لیکن جہاں تک تبت الاصل یا بلتی الاصل الفاظ کی بات ہیں، ان کی اکثریت اب بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں لیکن رسم الخط کے تبدیل ہونے کے سبب ہر علاقے میں الگ الگ طریقوں سے مستعمل ہیں۔ بد قسمتی سے "یگے" یا "ایگے" رسم الخط متروک ہو چکا ہے اور مروجہ اردو-فارسی خط بھی پوری طرح بلتی کی آوازوں کو بیان کی صلاحیت نہیں رکھتا اسی لیے مختلف الفاظ مختلف شکل میں لکھے جا رہے ہیں۔ خط کے تبدیل ہونے اور لوگوں کے پاس لسانی شعور نہ ہونے کے سبب لفظوں کی بناوٹ اور جملوں کی تشکیل و ترتیب میں جو خامیاں موجود ہیں ان کو صرف اور صرف اس صورت میں حل کیا جا سکتا ہے کہ بین اللسانیات تقابلی جائزہ لیں اور مستند لغت کتابوں کی کتابوں سے لفظوں کی بناوٹ، تلفظ اور املا کی تصحیح کریں تاکہ ہماری زبان جنگل میں بچھڑ جانے والے بچے کی طرح اپنے حسب نسب سے دور نہ چلی جائے۔
جب ہم طرز تحریر کی اصالت کی بات کرتے ہیں تو بہت سے دوست احباب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں بلتستان میں رائج لہجے کو اپنانا چاہیے اور تبت کے بدھسٹ کی زبان سے اثر نہیں لینا چاہیے لیکن یہ کرم فرما شاید نہیں جانتے کہ بلتی اپنے اصل تلفظ کے زیادہ قریب ہے جب کہ اہل تبت لفظ کو مختصر یا توڑ کر بولتے ہیں جو تحریری صورت سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ جب کہ بلتستان کے لوگ جو زبان بولتے ہیں وہ اصل کے زیادہ قریب ہے لیکن اردو طرز تحریر میں غلط لکھتے ہیں اور اب "یگے" میں اسی غلط املا کو لکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
آئیں میں آپ کو 1 سے 10 کے اعداد کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ان اعداد کو بلتستان کے لوگ کیا بولتے ہیں اور تبتی کیا بولتے ہیں اور اصل "یگے" خط میں کیا لکھا ہوا ہے ۔ یہ بھی غور کریں کہ کس کا تلفظ تحریری صورت کے زیادہ قریب ہے۔ صرف دو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں باقی مثالوں کے لیے جدول ملاحظہ کریں۔
عدد ایک کو بلتی میں "چگ" کہتے ہیں جب کہ اہل تبت "چی" کہتے ہیں۔ یہ لفظ اصل "یگے" خط میں "གཅིག་ " لکھا جاتا ہے یعنی (G-Ch-I-G)۔ اہل بلتستان اور تبت دونوں شروع کے "گ" کو بولتے نہیں ہیں لیکن اہل تبت اس "گ" کو لکھتے ہیں جب کہ اہل بلتستان لکھتے نہیں ہیں۔ آخری "گ" کو اہل تبت بولتے نہیں ہیں پھر بھی لکھتے ہیں (وہ یہ اعتراض نہیں کرتے کہ چوں کہ ہم بولتے نہیں ہیں اس لیے لکھنا بھی نہیں چاہيے)، ہم اہل بلتستان آخری "گ" کو بعض اوقات "ک " کی آواز کے ساتھ تلفظ کرتے ہیں لیکن لکھنا اسی "گ" کے ساتھ چاہیے کیوں کہ یہی اصول ہے۔ واضح رہے کہ سابقہ حروف "گ" اور "ب" بعض حالتوں میں "ک یا ق" اور "ف" میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسے "بدون" اور "فچو" دونوں میں سابقہ حرف "ب" ہے لیکن دونوں جگہ تلفظ مختلف ہے ۔ ایک اور نکتے کی بات یہ ہے شروع میں جو "گ" ہے اسے مفرد اعداد کی صورت میں پڑھتے نہیں ہیں لیکن مرکب اعداد میں تلفظ کرتے ہیں جیسے نیشو-رژا-گچک۔ یہ مرکب عدد "یگے میں" اس طرح لکھا جاتا ہے (ཉི་ཤུ་རྩ་གཅིག་) یعنی (Nyi-Shu-Rtsa-Gchig) اسی طرح عدد تین تک شروع میں ایک "گ" ہے جو بولتے نہیں ہیں لکھتے ہیں لیکن جب مرکب حروف میں آئے تو اس حرف کی آواز واضح ہوجاتی ہے۔ نمونے کے طور پر آپ صرف عدد دس تک کی تحریری صورت اور بلتی اور تبتی تلفظ کے فرق پر غور کریں۔ ہم تحریری نظام کے زیادہ قریب ہیں لیکن غلط لکھنے پر اصرار کرتے ہیں جب کہ اہل تبت بالکل مختلف انداز میں تلفظ کرنے کے باوجود اسی طرز تحریر پر عمل پیرا ہے تاکہ اس خاندان کی تمام زبانوں میں نزدیکیاں بڑھیں نہ کہ دوریاں۔
ہم اردو میں درست لکھتے ہیں نہ "یگے" میں اور نہ ہم لغت کی کتابوں کا مطالعہ کرتے اور نہ ہی نظام تحریر کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

Congrats🎉🎊
18/04/2023

Congrats🎉🎊

Proud Daughter of Gilgit Baltistan

Congrats🎉🎊 batool
hailing from Kharmang Baltistan

She has completed her MBBS from DOW Medical College
One of the brightest students throughout her educational career board topper

Keep shining champ
Best of luck Doctor Sahiba

Just wow!!!!Messi is writing and holding Balti/Tibetan Alphabets, thus underscoring the importance of the Himalayan nati...
20/12/2022

Just wow!!!!

Messi is writing and holding Balti/Tibetan Alphabets, thus underscoring the importance of the Himalayan native language (which is in extinction zone acc to UNESCO) and giving a clear message for Baltis:

Learn your script and save your language.


མི་སྙིང་ཅན་སྦལ་ཏི་ཕྲུ་གུ་གཅིག།
03/12/2022

མི་སྙིང་ཅན་སྦལ་ཏི་ཕྲུ་གུ་གཅིག།

بلتستان کے علاقے روندو میں زلزلے کے باعث سکردو روڑ پر کام کرنے والے مزدوروں سمیت کئی افراد زخمی ھوگئے ہیں اور جگلوٹ سکرد...
19/09/2022

بلتستان کے علاقے روندو میں زلزلے کے باعث سکردو روڑ پر کام کرنے والے مزدوروں سمیت کئی افراد زخمی ھوگئے ہیں اور جگلوٹ سکردو روڑ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ھے۔
پروردگار سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

06/09/2022

عباس ابدال کی آواز میں نیا ملی نغمہ رلیز
A blind singer from Skardu Baltistan

Address

Khapalu
5555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I Love Baltistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share