30/04/2026
حکومتِ پنجاب کی جانب سے گندم پالیسی 2026 کے متعلق بعض حلقوں کی طرف سے پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے ۔ یہ مہم حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے مطابق گندم خریداری کسان کے معاشی اور مالی استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے جس سے کسانوں اور کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل رہا ہے۔
پنجاب حکومت کے سٹریٹجک ریزرو کیلئے گندم کسانوں سے ڈائریکٹ خریدی جا رہی ہے
گندم 3500 روپے فی من پر خریدی جا رہی ہے ۔
35 کمپنیاں صاف و شفاف طریقے سے باقاعدہ پیپرا قوانین کے تحت پری کوالیفائی ہوئیں۔
اس وقت 13 کمپنیاں پیپرا کے قواعد کو فالو کرتے ہوئے فائنل سلیکٹ ہو کر service level agreements اور forward contracting کے guaranteed return mechanism کے تحت پنجاب حکومت کے سٹریٹجک ریزرو کیلئے خریداری کر رہی ہیں ۔
تمام کمپنیاں اپنا سرمایہ خود لا رہی ہیں ۔ گندم کی خریداری ، حفاظت ، کوالٹی وغیرہ کی تمام ذمہ داری کے رہی ہیں ۔
حکومت پنجاب کو ایک روپے upfront نہیں لگانا پڑ رہا ۔
حکومت کے خالی گوداموں میں یہ گندم رکھوائی جا رہی تاکہ نگرانی بھی حکومت کی رہے اور کوالٹی اور مقدار کی مانیٹرنگ کی جا سکے ۔
اس گندم کی خریداری سے لیکر اس کی سنبھالنے پر تمام اخراجات یہ کمپنیاں کریں گی۔
جبکہ کسان سے 3500 روپے من پر خریدی گئ یہ گندم حکومت ستمبر میں 3850 میں فلور ملوں کو دے گی ۔۔ جبکہ مارچ 2027 میں 4060 روپے پر دے گی ۔۔۔ یاد رہے کہ اس 380 روپے سے لیکر 560 روپے کے مارجن میں ان کمپنیوں کی ہر طرح کی کاسٹ بھی شامل ہے ۔
یعنی حکومت نے اپنی جیب سے 262 ارب روپے لگانے کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر کو کسان سے گندم لیکر حکومت کے ذخائر کیلئے رکھنے پر یہ ماڈل بنایا ہے ۔ اور guaranteed offtake اور guaranteed return کا یقین دلایا ہے ۔۔
کسان کو بہترین ریٹ مل رہا ہے۔
ایک ایک کسان کا مکمل ڈیٹا موجود ہے ۔
کسان کے بیک اکاؤنٹ میں PSID کے ذریعے QRcoded slips based ٹرانزیکشن سے پیسے ٹرانسفر ہو رہے ۔
ان کمپنیوں میں وفاقی حکومت کی Green Corporate Initiative بھی حکومت پنجاب کیلئے direct contracting کے ذریعے دس لاکھ ٹن گندم خرید رہی ہے ۔۔