اہلِ بیتِ اطہارؑ کے فضائل و مناقب

اہلِ بیتِ اطہارؑ کے فضائل و مناقب علماء اہل سنت کے نزدیک حضرات اہل بیت اظہار کے فضائل و مناقب (مستند حوالہ جات کی روشنی میں )

اہلبیت اطہار کی سیرت میں حج کی عبادت کا بہت ہی زیادہ اہتمام نظر آتا ہے، سیدنا امام حسن مجتبیٰ ؑ بھی حج کا بہت اہتمام فر...
23/08/2026

اہلبیت اطہار کی سیرت میں حج کی عبادت کا بہت ہی زیادہ اہتمام نظر آتا ہے، سیدنا امام حسن مجتبیٰ ؑ بھی حج کا بہت اہتمام فرمایا کرتے تھے، آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں ۲۵ حج کئے، آپ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ مدینہ سے مکہ مکرمہ پیدل سفرِ حج کیا کرتے تھے، جناب عبداللہ بن عباس فرماتے تھے کہ مجھے اپنی جوانی میں کسی عمل کے چھوٹ جانے پر کوئی افسوس نہیں، ہاں صرف اس بات کا افسوس ہے کہ میں نے کبھی اپنی جوانی میں پیدل حج نہیں کیا پھر فرماتے امام حسن نے ۲۵ حج پیدل چل کر کئے ہیں ( سیر اعلام النبلاء)

تشبیہہ دوں کسی سے مری کیا مجال ہے؟
بس اتنا کہہ رہا ہوں، حسنؑ بے مثال ہے

شھادت امام حسنؓ۔۔۔۔۔۔۔سیدنا امام حسن المجتبیٰؓ کے یوم شھادت کے حوالے سے مورخین نے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ 28 صفر کا بھی...
11/08/2026

شھادت امام حسنؓ
۔۔۔۔۔۔۔
سیدنا امام حسن المجتبیٰؓ کے یوم شھادت کے حوالے سے مورخین نے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ 28 صفر کا بھی ایک قول ہے البتہ مشہور 5 ربیع الاول کا ہے سیدنا امام کی شھادت ماہِ ربیع الاول سن 47 ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

سیدنا حسنین کریمینؓ کے متعلق آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث ہے هما ريحانتي من الدنيا. کہ یہ دونوں (حسنؑ و حسینؑ رضی اللہ عنھما) ہی تو میرے گلشن دُنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘(بخاری، ترمذی) یہ حدیث اور حضرات حسنین کریمینؓ کی شھادت کے واقعات پڑھ کر یوں محسوس ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے ان دو پھولوں کو بہت بے دردی سے روندھا گیا ہے۔

سیدنا امام حسنؓ جیسی صلح جَو شخصیت جو باوجود قوت و طاقت کے فقط امت کو آپسی انتشار و افتراق سے بچانے کے لئے خلافت سے دستبردار ہوجاتے ہیں ۔ ایسی صلح جَو شخصیت کو بھی زہر دیکر شھید کیا گیا۔ سیدنا امام حسنؓ کی شھادت زہر خوارنی سے ہوئی تھی آپ کو کہی بار زہر دیا گیا آخری بار اس قدر زہر دیا گیا کہ امام خود فرماتے تھے کہ مجھے میرا جگر کٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ (اسدالغابة)

پھر نبیﷺ کے اس فرزند سے ال مروان کو کس قدر بغض تھا اس کا اندازہ امام کے جنازہ سے لگائیے، علامہ ابن اثیرؒ امام حسن المجتبیؓ کے جنازے کے متعلق لکھتے ہیں "ولم يشهده أحد من بني أمية إلا سعيد بن العاص، كان أميرا على المدينة، فقدمه الحسين للصلاة عليه، وقال: لولا أنها السنة لما قدمتك."

یعنی سیدنا امام حسنؓ کے جنازے میں بنوامیہ کے کسی فرد نے شرکت نہیں کی ہاں البتہ سعید بن عاص جو مدینہ میں اموی گورنر تھا امام حسینؓ نے اسی گورنر مدینہ سعید بن عاص کو جنازہ کے لئے آگے کیا اور فرمایا کہ اگر یہ عمل سنت نا ہوتا تو میں کبھی تجھے نماز جنازے کے لئے آگے نا کرتا۔

ؓ

آپ نے سنا ہوگا کہ بہت سے مشائخ اور علماء کدو کو کدو شریف کہتے ہیں اس حوالے سے ایک حدیث مشہور ہے کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں ...
11/07/2026

آپ نے سنا ہوگا کہ بہت سے مشائخ اور علماء کدو کو کدو شریف کہتے ہیں اس حوالے سے ایک حدیث مشہور ہے کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے آنحضرت ﷺ کی دعوت فرمائی اور کھانے میں گوشت اور کدو کا شوربہ رکھا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ پیالے میں کدو تلاش کرکے انہیں تناول فرمارہے تھے پس اس دن کے بعد کدو میری بھی مرغوب غذا بن گئی (سبحان اللہ)

حضرت انسؓ کا عشق دیکھیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کو کدو رغبت سے تناول کرتے دیکھا تو خود بھی پسند کرنے لگے۔ امت کے مشائخ و صوفیاء کا عشق دیکھیں کہ آج 14 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی محض کدو کی طرف آنحضرت ﷺ کی طبعی رغبت کو دیکھ کر اس سبزی کا بھی احترام کرتے ہیں۔

لیکن پتہ نہیں اس امت کو کیا ہوا تھا کہ حضور ﷺ کی رحلت کے محض پچاس برس بعد ہی اُس حسینؑ کے سر کو نیزے پر چڑھا دیا کہ جس حسین کے لبوں کے رسول خدا بوسے لیا کرتے تھے ۔ ہم 14 سو سال بعد آج تک آنحضرت ﷺ کی طبعی مرغوب غذا کا احترام کرتے ہیں انہوں نے محض پچاس برس بعد ہی حضور ﷺ کی محبوب ہستی کہ جن کی محبت کو آپ نے دین قرار دیا اس ہستی اور اس کے پورے خانوادے کو زیر و زبر کردیا۔ جو حسینؓ پشتِ رسالت پر سوار ہوجائیں تو رسول خدا ﷺ کی جماعت کی نماز کا سجدہ تک طویل تر ہوجاتا تھا۔ آخر پچاس سال میں ہی یہ بات کیونکر اور کیسے فراموش کردی گئی۔

آپ واقعہ کربلا پڑھیں کہی سے بھی نہیں لگتا کہ یہ کوئی سیاسی اختلاف ہے، ایسا جبر ستم تشدد اور بریریت سیاسی مخالفین سے روا نہیں رکھی جاتی، سیاسی مخالفین کے بچوں کو ذبح نہیں کیا جاتا ، ان کی لاشوں کا مثلیٰ اور ان پر گھوڑے نہیں دوڑائے جاتے، ان کے سروں کو نوک ِ نیزا پر شہر شہر گھومایا نہیں جاتا ، ان کی قبروں کے نشانات مٹائے نہیں جاتے، لکھنے والے تو لکھ گئے کہ بدر و احد کا انتقام تھا جو کربلا میں لیا گیا۔

لوگ کہتے ہیں کہ سید السادات امام حسین علیہ السلام کی پوری زندگی چھوڑ کر محض کربلا کو کیوں ذکر کیا جاتا ہے؟ بات وہی ہے کہ جو سلوک حسینؑ کے ساتھ کربلاء میں کیا گیا یہ ایسا قیامت خیز ظلم ہے کہ گر حیات حسینی کے اسی پہلو پر غور کیا جائے تو تاریخ کو سمجھ لینا آسان تر ہوجاتا ہے۔ وہ جو کاٹ کھانے والی ملوکیت کی بات احادیث میں وارد ہوئی ہے اس ملوکیت کے جبر و استحصال کو کربلاء میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ خلافت محض ملک گیری کا نام نہیں حسینؑ نے شھادت پیش کرکے بتادیا کہ تخت خلافت پر مکیں ہر شخص مقدس نہیں آپ کا یہ اقدام نہ ہوتا تو آج یزید پلید جیسے بھی ہمارے مقتدیٰ ہوتے۔

یہ بجا تُوہی ہدف تھا سرِ مقتل، لیکن
دُشمنی اصل میں تھی احمدِ مُختارﷺ کے ساتھ

سید وجاہت عفی عنہ

24/06/2026

شہادت حسینؓ کے بعد یزید کو بھی ایک دن چین نصیب نہ ہوا۔ تمام اسلامی ممالک میں خون شہدا کا مطالبہ اور بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ اس کی زندگی اس کے بعد تین سال آٹھ ماہ سے زائد نہیں رہی۔ دنیا میں بھی اللّٰہ نے اس کو ذلیل کیا اور اسی ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔

(شہیدِ کربلا از مفتی محمد شفیع رحمہ )

یزیدیوں کو یہ وہم کیوں ہے، کہ صرف اک دن حساب ہوگا
حسین سے جو جہاں بھی الجھے وہیں پہ خانہ خراب ہوگا

حضرت حر بن یزید ریاحیؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واقعہ کربلا  کے مطالعہ کے دوران حضرت حر بن یزید ...
20/06/2026

حضرت حر بن یزید ریاحیؓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعہ کربلا کے مطالعہ کے دوران حضرت حر بن یزید ؓ کا کردار بھی بغور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کی روداد جو یزیدی لشکر سے نکل کر لشکر حسینی میں آگئے تھے۔ جو مال و متاع عہدے و منصب کو قربان کرکے دائمی جنت اور تاقیامت مومنین کے دلوں میں اپنی عزت بٹھا گئے ۔

حر ابن یزیدؓ امام عالی مقام سیدنا حسینؓ کو روکنے انہیں گھیرنے کی خدمت پر لعین ابن زیاد کی طرف سے مامور تھے۔ یہ حر بن یزید ہی تھے جنہوں نے امام کو مدینہ واپسی سے روکا یہ ابتداء کشمکش میں مبتلا تھے نا یہ حسینؓ سے ٹکراو چاہتے تھے اور نا ہی یہ ابن زیاد کے حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہتے تھے کبھی یہ حسین کا راستہ روکتے تو دوسری طرف حسینؓ ہی کے پیچھے نمازیں ادا کرتے۔ کبھی ابن زیاد کے حکم پر حسین و ان کے رفقاء کو میدان جنگ کی جانب دھکیل دیتے۔ ہاں لیکن جن کے مقدر میں ھدایت لکھی ہو تو پھر وہ ھدایت پاکر ہی رہتے ہیں۔ عین اس وقت جب حق و باطل آمنے سامنے آچکے تھے۔ جب صفیں آراستہ کی جارہی تھیں جب اسباب کے درجے میں موت لشکر حسینی کے قریب آچکی تھی عین اسی لمحے ایک شحض حر سے حضرت حر بننے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ حر کہ جس کے ماتحت ایک ہزار سپائیوں کا دستہ تھا عین معرکہ کے وقت وہ لشکر یزید سے نکل کر حسینی لشکر میں شامل ہوجاتے ہیں اور اپنی ندامت کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اپنی جان حسینؓ پر قربان کردیتے ہیں۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے۔ حضرت حر کے معاملہ کو دیکھیے یزید و ابن زیاد کی چاکری کرنے والے کمانڈر کا اختتام کس قدر مبارک و بلند و بالا درجہ پر ہوا کہ اپنی جان کو حسین پر قربان کردیا اور اس حال میں اللہ سے ملاقات نصیب ہوئی کہ سیدالسادات ان سے راضی تھے حضرت حر بن یزید لشکر حسینی کے پہلے شھید تھے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة

یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

سید وجاہت عفی عنہ

السلام علی الراس المرفوع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واقعہ کربلا کے ہولناک واقعہ کے بعد شھدا اھل بیت اور ...
19/06/2026

السلام علی الراس المرفوع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعہ کربلا کے ہولناک واقعہ کے بعد شھدا اھل بیت اور جانثاران حسین علیہ السلام کے سروں کو نیزوں پر بلند کرکے کربلا سے شام لیجایا گیا تھا۔ سیدنا حسینؑ کے مبارک و مکرم سر کے متعلق تاریخی روایات مختلف ہیں۔

ایک روایت کے مطابق آپ کا سر اقدس یزید نے پھر مدینہ بھیج دیا تھا جہاں پھر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے پہلو میں اس کی تدفین کی گئی۔
ابن عساکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ یزید پلید کا زمانہ گزرنے کے بعد اس سر کی تدفین شام ایک عام قبرستان میں کی گئی۔
ابن ابی دنیا کے مطابق سیدنا امام عالی مقام کا سر مبارک یزید نے اپنے خزانہ میں محفوظ کررکھا تھا پھر بعد مرگ یزید سر اقدس کی تدفین دمشق کے شہر "فرادلیس" کے دروازہ کے قریب کی گئی۔

بعض حضرات کے مطابق فاطمیوں کی حکومت میں سر اقدس کو مصر لیجایاگیا اور وہی اس کی تدفین کی گئی۔ مصر کے بعض علماء اھل سنت بھی یہی دعوی کرتے ہیں۔

البتہ ایک بات اہل تشیع کے ہاں معروف ہے کہ چالیس روز بعد امام عالی مقام کا سر دوبارہ کربلا لایا گیا اور پھر یہی کربلامعلی میں آپ کے روضہ کے ساتھ اس کی تدفین کی گئی۔ بہرحال اس حوالے سے تاریخی روایات مختلف ہیں۔ کسی ایک کو بھی ترجیح دینا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے امام ابن تیمیہؒ نے مستقل ایک رسالہ بھی تصنیف فرمایا ہے۔

بہرحال یہ اختلاف صرف جائے تدفین میں ہے اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ یزیدی لاو لشکر، ظلم و جور، اپنوں کی غداری دغابازیوں کے باوجود بھی سر حسین علیہ السلام کو کوئی جھکا نہ سکا۔ وہ سر بلند تھا اور بلند ہی رہا ؛

وہ سر نہ جھکا خنجر و تلوار کے آگے
سر ظلم کا خم ہے تیرے انکار کے آگے۔

دیکھو معاملہ یہ ہمارا علیؑ کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنحضرت ﷺ نے ہمیں اہلِ بیتؑ سے محبت و عقیدت رکھنے کا حکم فرمایا اور خود عملاً ہم...
11/06/2026

دیکھو معاملہ یہ ہمارا علیؑ کا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنحضرت ﷺ نے ہمیں اہلِ بیتؑ سے محبت و عقیدت رکھنے کا حکم فرمایا اور خود عملاً ہمیں یہ محبت سکھائی ہے۔ نماز اور خطبہ جیسی عظیم عبادت کے دوران حسنین کریمینؑ کی خاطر سجدے کو طویل کر دینا یا خطبہ ترک کرکے انہیں تھام لینا، انہیں اپنا بیٹا قرار دینا ، احکام کا مکلف ہونے سے قبل انہیں جنت کی نہیں بلکہ جنت کی سرداری کی نوید سنانا ۔۔

جناب سیدہ فاطمہ الزہراءؑ کا ذکر ہو تو محبت کا انداز ہی الگ نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ کا سیدہ کے تشریف لانے پر ازراہِ محبت و شفقت بنفسِ نفیس کھڑے ہو کر اُنہیں اپنی نشست پر بٹھانا، سفر سے واپسی پر سب سے پہلے اُن کے گھر تشریف لے جانا۔ انہیں اپنا جگر گوشہ قرار دینا۔۔اسی طرح جناب علیؑ کے ساتھ بھی آپ ﷺ کس قدر محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے تھے، یہ حدیث کے کسی طالب علم پر کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے؟ کسی نے مولاؑ کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے اُس شخص سے منہ موڑ لیا۔ کسی کے دل میں جناب علیؑ کے بارے میں کدورت پیدا ہو جائے تو پورے لشکر کو جمع کر کے ان کا ہاتھ پکڑ کر اعلان فرمایا:
"یہ علیؑ تمام مومنین کے مولا ہیں، بلکہ جس جس کا میں مولا ہوں، یہ علیؑ بھی اُس کے مولا ہیں"۔

وصال سے قبل آنحضرت ﷺ نے پوری امت کو قرآن پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ اہلِ بیت اطہارؑ کے بارے میں خاص طور پر وصیت فرمائی اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا:
"أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي"۔ صحیح مسلم

کیا یہ سب رسمی باتیں ہیں؟ ہرگز نہیں! اہلِ بیت اطہارؑ کے فضائل کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشاجرات کے وقوع سے بہت پہلے ہی آنحضرت ﷺ نے انتہائی اہتمام اور تاکید کے ساتھ ان حضرات سے محبت و عقیدت رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ارشادات کو فراموش کر کے اہلِ بیت اطہارؑ کی محبت و عقیدت کو پسِ پشت ڈال دیں اور محض "غیر جانبداری" کے نام پر تاریخ کا مطالعہ کریں؟ ہمارا منہج تو یہی ہے کہ مکمل جانبداری کے ساتھ، اہلِ بیت اطہارؑ کے پہلو میں کھڑے ہو کر ہی تاریخ کو دیکھیں۔ اگر کسی کو اس میں شیعت نظر آتی ہے یا یہ جذباتیت لگتی ہے تو یہ اُس کی رائے ہے۔ بہرحال ہمارا سوچھا سمجھا انتخاب اور راستہ ان انفاس قدسیہ سے محبت و عقیدت ہی کا ہے۔ باقی آپ کا منھج آپ کو مبارک ۔۔

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

مباہلہ کا واقعہ اور اہل بیت اطہار کی خاص فضیلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سن  ٩ ہج...
10/06/2026

مباہلہ کا واقعہ اور اہل بیت اطہار کی خاص فضیلت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن ٩ ہجری کا واقعہ ہے نجران کے ساٹھ افراد پر مشتمل نصاری کا ایک وفد شان و شوکت کے ساتھ مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا۔ یہ حضرات اپنے مذہبی معاملات کی بابت بحث و مناظرہ کی غرض سے مدینہ حاضر ہوئے تھے۔ الوھیت سیدنا عیسی علیہ السلام کے متعلق ان حضرات نے آپ علیہ السلام سے انتہائی بحث و تکرار کی یہاں تک کے روشن دلائل سن لینے کے باوجود بھی ضد و عناد سے باز نا آئے جس پر آیت مباہلہ نازل ہوئی

فَمَنۡ حَآجَّكَ فِيۡهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:
تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ :“ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب ملکر اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے نجران کے وفد کو مباہلہ کی عام دعوت دی اور آپ ﷺ حضرت امام حسین ؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت امام حسن ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے نکلے اور حضرت سیدہ کائنات فاطمہ اور جناب علی ؓ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے اور آپ فرما رہے جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا نصاری کے سردار اسقف نے کہا اے نصاری کی جماعت میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ وہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے تو اللہ ان کی دعا قبول کرکے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے گا سو تم ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ تم ہلاک ہوجاؤ گے اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں بچے گا ‘ پھر انہوں نے جزیہ دینا قبول کرلیا اور اپنے علاقہ میں واپس چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اللہ کا عذاب اہل نجران کے نزدیک آچکا تھا اور اگر یہ مباہلہ کرتے تو انہیں بندر اور خنزیر بنادیا جاتا اور ان کی وادی میں آگ بھڑکتی رہتی اور اہل نجران کو ملیا میٹ کردیا جاتا حتی کہ درختوں پر پرندے بھی ہلاک ہوجاتے اور سال ختم ہونے سے پہلے تمام عیسائی فنا کے گھاٹ اتر جاتے۔

تعجب ہوتا ہے کہ یہود و نصاری خاندان رسالت کی عظمت کو سمجھ گئے تھے اور ان کے مبارک چہرے دیکھ کر مباہلہ سے فرار ہوگئے تھے لیکن کلمہ گو امت خانوادہ نبوت کے مقام کو نا سمجھ سکی اس امت کے لوگ نا صرف ان کے مقابلے میں بلکہ ان کے قتل عام سے بھی باز نا آئے۔

سید وجاہت عفی عنہ

اہل الکساء حضرات اہلبیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لگانا یہ صرف ایک دو کتابوں کی حد تک کا مسئلہ نہیں، حضرات علماء اہلس...
08/06/2026

اہل الکساء حضرات اہلبیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لگانا یہ صرف ایک دو کتابوں کی حد تک کا مسئلہ نہیں، حضرات علماء اہلسنت کی بے شمار کتابوں میں حضرات اہل بیت اطہار علیھم السلام کے لئے یہی کلمات استعمال ہوئے ہیں۔ بالخصوص متقدمین کی کتابوں میں یہ عام مشاہدہ ہے کہ وہ حضرات اکثر وبیشتر اہلبیت اطہار کے ساتھ یہی صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ فقط صحاح ستہ کی بات کی جائے تو 70 سے 80 مقامات ایسے ہیں جہاں حضرات ائمہ حدیث نے اہلبیت اطہار کے لئے علیہ السلام کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں
متقدمین میں اہل بیت رسول(ع) اور ازواج پر سلام کہنا متعارف تھا اور مشائخ اہل سنت کی پرانی کتابوں میں اہل بیت(ع) پر سلام لکھا ہوا پایا جاتا ہے اور متاخرین میں اس کا چھوڑ دینا مروج ہو گیا ہے"۔(اشعۃ اللمعات)

معلوم ہوا علیہ السلام کا استعمال روافض سے مشاہھت نہیں بلکہ حضرات اہلسنت کے یہاں بھی اس کا تعامل پایا جاتا ہے۔ خود ہمارے حضرت حجة الاسلام مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمة نے اپنی بعض کتب میں حضرات اہلبیت کے لئے علیہ السلام کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔

خلاصہ یہ ھیکہ حضرات اہلبیت اطہار کے لئے صیغہ ترضی و تسلیم دونوں کا استعمال ہمارے ہاں مروج رہا ہے ۔ کسی ایک پر اصرار یا علیہ السلام کو تشیع سے تشیبہ دینا غلط روش ہے۔ یہ تشیع سے تشبیہ میں ہمارے ہاں اس قدر غلو سے کام لیا جاتا ہے کہ بسا اوقات اپنے ائمہ و مشائخ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔

سید وجاہت عفی عنہ

اسد الغابۃ میں علامہ ابن اثیر سیدنا امام حسینؓ  کے تذکرے اور ان کے فضائل کے ضمن میں  ایک روایت امام اوزاعیؒ کے واسطے سے ...
05/06/2026

اسد الغابۃ میں علامہ ابن اثیر سیدنا امام حسینؓ کے تذکرے اور ان کے فضائل کے ضمن میں ایک روایت امام اوزاعیؒ کے واسطے سے ذکر کرتے ہیں روایت نقل کرنے کے بعد علامہ ابن اثیرؒ ایک عجیب تبصرہ کرتے ہیں

يقال إن الأوزاعي لم يرو في الفضائل حديثا غير هذا، والله أعلم. قال: وكذلك الزهري لم يرو فيها إلا حديثا واحدا، كانا يخافان بني أمية.
کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے فضائل امام حسین سے متعلق صرف یہی ایک روایت منقول ہے، اسی طرح امام زہری رحمہ اللہ سے بھی فضائلِ امام میں ففط ایک ہی روایت منقول ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ابن اثیر لکھتے ہیں کہ "كانا يخافان بني أمية" یعنی یہ حضرات بنو امیہ کے خوف سے فضائل امام میں روایت بیان کرنے سے ڈرتے تھے۔

امام اوزعیؒ کوئی معمولی درجے کے عام آدمی نہیں، بلکہ آپ ائمہ اربعہ کی طرح ملکِ شام کے ایک جلیل القدر مقتدیٰ امام گزرے ہیں، اس درجے کے امام گزرے ہیں کہ بعض مسائل
میں امام اوزاعی کی رائے پر امام مالک نے فتوے دیئے ہیں ۔

علامہ ذہبی سیر اعلام النبلاء میں امام اوزاعی کے تعارف میں لکھتے ہیں :

عبد الرحمن بن عمرو بن يحمد ، شيخ الإسلام ، وعالم أهل الشام ، أبو عمرو الأوزاعي ۔ اور امام زہریؒ کے متعلق کیا بیان کیا جائے کہ صحاح کے مشہور و معروف راوی ہیں۔

لیکن اس قدر جلالت شان کے باوجود یہ حضرات فضائل اہل بیت سے متعلق حدیث بیان کرنے سے بنو امیہ کے خوف کے باعث کتراتے تھے، ہمہ شمہ اور عام لوگوں کی اس وقت کیا حالت رہی ہوگی علامہ ابن اثیر کے اس تبصرے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اہل بیت اطہار علیھم السلام کی سیرت اور ان کے حالات کے مطالعہ کے دوران یکطرفہ طور پر فقط یہ نہیں دیکھا کریں کہ ان حضرات نے کس خاندان میں رشتے داریاں کی، بلکہ اس طرح کی روایات کو بھی خاطر میں لایا کریں تاکہ تصویر کے دونوں رخ صحیح طور پر سامنے آجائیں۔

رشتے داریوں کی بات ہمارے ہاں بہت کی جاتی ہے البتہ منبروں سے سب و شتم، حضرات اہل بیت کے قتل و مظالم نیز ان سے اخذِ روایت پر اور ان کے فضائل سے متعلق احادیث بیان کرنے پر پابندی پر بات نہیں ہوتی ، حالانکہ یہ تمام باتیں بھی صحاح ستہ سمیت تمام معتبرات میں مذکور ہیں۔لہذا یکطرفہ نہیں مکمل تاریخ پڑھیں۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اہلِ بیتِ اطہارؑ کے فضائل و مناقب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category