28/07/2026
”جاؤ، پہلے گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر آؤ!”
پاکستان میں شاید فوٹوکاپی کی سچائی کا انحصار مشین، ریکارڈ یا QR کوڈ پر نہیں… بلکہ ایک لمبے سے دستخط پر ہوتا ہے۔
نادرا کے پاس ریکارڈ بھی موجود، بورڈ کے پاس اصل ریکارڈ بھی موجود، یونیورسٹی کے پاس ڈیٹا بھی موجود… مگر پھر بھی نتیجہ ایک ہی:
“گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر آؤ۔”
یعنی جس ادارے نے ڈگری جاری کی، وہ بھی اپنی ہی ڈگری کی فوٹوکاپی پر یقین نہیں کرتا جب تک کسی تیسرے شخص کا دستخط نہ آجائے!
اور مزے کی بات؟
وہ گریڈ 17 کا آفیسر نہ کوئی فرانزک ماہر ہوتا ہے، نہ اس کے پاس کوئی جادوئی مشین ہوتی ہے۔ وہ صرف دستخط کرتا ہے، اور سسٹم مطمئن ہو جاتا ہے۔
ادھر غریب آدمی اپنے بچے کو لے کر دفتر دفتر دستخط ڈھونڈتا پھرتا ہے، اور اُدھر ڈیجیٹل پاکستان کے دعوے فائلوں میں آرام فرما رہے ہوتے ہیں۔
اگر آخرکار اصل اسناد بھی چیک ہونی ہیں، یونیورسٹی سے ویریفیکیشن بھی ہونی ہے، اور انٹرویو میں اصل دستاویزات بھی دکھانی ہیں، تو پھر یہ “گریڈ 17 کی برکت” آخر کس مسئلے کا حل ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ دستخطوں پر نہیں، ڈیجیٹل ویریفیکیشن پر اعتماد کیا جائے۔ عوام کو سہولت دی جائے، غیر ضروری چکر ختم کیے جائیں، اور اس فرسودہ روایت کو تاریخ کے حوالے کر دیا جائے۔
Baldia Updates
Sindh Government
Sindh Police
BALDIA TOWN
DHA Karachi
Daily Pakistan