پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن

پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن, Political organisation, بلدیہ ٹاؤن کراچی, Karachi.

“ہم بلدیہ ٹاؤن کے پیاسے شہری ہیں —
پانی، صفائی، بجلی اور بنیادی حقوق کے لیے خاموشی توڑ چکے ہیں۔
یہ آواز عوام کی ہے — اور یہ آواز اب دبنے والی نہیں!”


”جاؤ، پہلے گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر آؤ!”پاکستان میں شاید فوٹوکاپی کی سچائی کا انحصار مشین، ریکارڈ یا QR کوڈ پر ...
28/07/2026

”جاؤ، پہلے گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر آؤ!”

پاکستان میں شاید فوٹوکاپی کی سچائی کا انحصار مشین، ریکارڈ یا QR کوڈ پر نہیں… بلکہ ایک لمبے سے دستخط پر ہوتا ہے۔

نادرا کے پاس ریکارڈ بھی موجود، بورڈ کے پاس اصل ریکارڈ بھی موجود، یونیورسٹی کے پاس ڈیٹا بھی موجود… مگر پھر بھی نتیجہ ایک ہی:

“گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر آؤ۔”

یعنی جس ادارے نے ڈگری جاری کی، وہ بھی اپنی ہی ڈگری کی فوٹوکاپی پر یقین نہیں کرتا جب تک کسی تیسرے شخص کا دستخط نہ آجائے!

اور مزے کی بات؟
وہ گریڈ 17 کا آفیسر نہ کوئی فرانزک ماہر ہوتا ہے، نہ اس کے پاس کوئی جادوئی مشین ہوتی ہے۔ وہ صرف دستخط کرتا ہے، اور سسٹم مطمئن ہو جاتا ہے۔

ادھر غریب آدمی اپنے بچے کو لے کر دفتر دفتر دستخط ڈھونڈتا پھرتا ہے، اور اُدھر ڈیجیٹل پاکستان کے دعوے فائلوں میں آرام فرما رہے ہوتے ہیں۔

اگر آخرکار اصل اسناد بھی چیک ہونی ہیں، یونیورسٹی سے ویریفیکیشن بھی ہونی ہے، اور انٹرویو میں اصل دستاویزات بھی دکھانی ہیں، تو پھر یہ “گریڈ 17 کی برکت” آخر کس مسئلے کا حل ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ دستخطوں پر نہیں، ڈیجیٹل ویریفیکیشن پر اعتماد کیا جائے۔ عوام کو سہولت دی جائے، غیر ضروری چکر ختم کیے جائیں، اور اس فرسودہ روایت کو تاریخ کے حوالے کر دیا جائے۔
Baldia Updates
Sindh Government
Sindh Police
BALDIA TOWN
DHA Karachi
Daily Pakistan

10/07/2026

ضلع کیماڑی پولیس کچھ اسطرح تفتیش کرتےہے۔
Sindh Government Sindh Police Baldia Updates BALDIA TOWN

12/10/2025

سعیدآباد، بلدیہ ٹاؤن کراچی میں واقع رانا فٹبال اسٹیڈیم میں ایک معمولی سی اسنوکر کی دکان اب ایک خطرناک اور غیر قانونی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دکان پر چرس اور دیگر منشیات کی کھلے عام فروخت جاری ہے، اور رات کے اوقات میں مختلف علاقوں سے نوجوان یہاں آ کر جمع ہوتے ہیں۔

یہ مسئلہ محض منشیات فروشی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور عوامی خطرات بھی واضح ہیں:
1. علاقائی نوجوانوں پر منفی اثرات: یہاں آنے والے نوجوان نہ صرف خود منشیات کے استعمال کے خطرے سے دوچار ہیں بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی اس برائی کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔
2. جرائم میں اضافہ: منشیات کی دستیابی اکثر چھوٹے اور بڑے جرائم جیسے چوری، لڑائی جھگڑا، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف لے جاتی ہے، جس سے علاقے میں امن و امان بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
3. عوامی خوف اور بے چینی: ایسے غیر قانونی مراکز کی موجودگی سے عام شہری خوفزدہ ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں آزادی کے ساتھ حرکت نہیں کر پاتے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس صورتحال میں پولیس اور متعلقہ حکام کا کردار بھی قابل غور ہے۔ ایس ایچ او سعیدآباد اور پولیس اسٹیشن کی ٹیم کی موجودگی یا تو غیر موثر ہے یا پھر کسی قسم کی سرپرستی یا چشم پوشی کی علامات ظاہر کرتی ہے۔ دونوں صورتیں برابر تشویشناک ہیں کیونکہ:
• اگر پولیس بے بس ہے تو یہ علاقے میں قانون کی عملداری کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
• اگر پولیس کی سرپرستی موجود ہے تو یہ ایک سنگین بدعنوانی اور عوام کے تحفظ کی خلاف ورزی ہے۔

نتیجہ:
یہ دکان صرف ایک کاروباری جگہ نہیں بلکہ ایک خطرناک مرکز بن چکی ہے جو نوجوانوں کو منشیات کی لت میں مبتلا کر رہی ہے اور علاقے کی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہاں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف علاقے کے شہری بلکہ پورا بلدیہ ٹاؤن متاثر ہو سکتاہے

Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
MPA Liaquat Ali Askani Page
VOICE OF BALDIA TOWN
Sindh Chief Minister House
Baldia Updates
Sindh Police
Karachi Traffic Police
Barrister Murtaza Wahab
Karachi, Pakistan
Baldia Town Karachi

محترم ایم پی اے صاحب!بلدیہ ٹاؤن کے عوام آپ سے یہ شکوہ نہیں کرتے کہ آپ نے ہمارے لئے ترقی کے پل نہیں بنائے، یا سڑکوں کو سن...
27/08/2025

محترم ایم پی اے صاحب!
بلدیہ ٹاؤن کے عوام آپ سے یہ شکوہ نہیں کرتے کہ آپ نے ہمارے لئے ترقی کے پل نہیں بنائے، یا سڑکوں کو سنوارا نہیں۔ ہم تو صرف پانی مانگتے ہیں، وہ بھی پینے کے لئے، جینے کے لئے۔ لیکن افسوس کہ بلدیہ ٹاؤن کے نلکوں سے برسوں سے صرف وعدے اور دعوے بہہ رہے ہیں، پانی نہیں۔

یہاں عوام اپنی تنخواہوں کا آدھا حصہ ٹینکر مافیا کی جیب میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ مزدور اپنی روٹی چھوڑ کر پانی خریدنے نکلتے ہیں، بچے کتابیں چھوڑ کر بالٹی بھرنے کی لائن میں لگتے ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے جہاں شہریوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت خریدنی پڑے؟

ایم پی اے صاحب! اگر پانی کے بغیر زندگی گزارنا اتنا آسان ہے تو ذرا آپ بھی اپنے گھروں کے نلکے بند کر کے دکھا دیں۔ اگر ہم انسان ہیں تو ہمیں بھی وہی حق چاہیے جو ڈیفنس اور کلفٹن والوں کو ملا ہے۔ کیا بلدیہ ٹاؤن پاکستان کا حصہ نہیں
VOICE OF BALDIA TOWN
MPA Liaquat Ali Askani Page
Baldia Updates
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Sindh Police
Karachi, Pakistan

25/08/2025

بلدیہ ٹاؤن سیکٹر ۱۲ کراچی آج کچڑ اور گندگی کا گڑھ بن چکا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسے جان بوجھ کر تباہی کے سپرد کر دیا گیا ہے، شاید اس لیے کہ یہاں زیادہ تر محنت کش اور مزدور طبقہ آباد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ انسان نہیں؟ کیا ان کا یہ حق نہیں کہ وہ بھی صاف ستھری سڑکوں پر چل سکیں، کچرے کے ڈھیروں اور بدبو سے آزاد زندگی گزار سکیں؟ کیا وہ پاکستانی شہری نہیں کہ انہیں بھی ڈیفنس اور کلفٹن جیسی سہولتیں میسر ہوں؟ یا پھر ریاست کے نزدیک بلدیہ ٹاؤن کوئی الگ دنیا ہے؟

یہاں کے رہائشی برسوں سے پانی کی بوند کو ترس رہے ہیں، گلیاں نالوں میں بدل گئی ہیں، سڑکیں کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہیں، اور اوپر سے جرائم کا بازار گرم ہے۔ عوام خوف میں جیتے ہیں، بیماریاں پھیل رہی ہیں، لیکن حکومتی نمائندوں کو بس اپنی تصویریں کھنچوانی ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر انہی حکومتی ارکان کا ایسا شور شرابہ ہے جیسے انہوں نے بلدیہ ٹاؤن کو لندن، پیرس یا نیویارک بنا دیا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی یہاں آ جائے تو شاید یہی سمجھے کہ یہ کسی بڑے کچرا کنڈی کے بیچ میں آباد بستی ہے۔

سچ یہی ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کے عوام کو سہولتیں نہیں، بلکہ دکھ، دھوکہ اور محرومی ملی ہیں۔ حکومت اور ادارے بس وعدوں کے سوداگر ہیں، عمل کہیں نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے: کیا بلدیہ ٹاؤن پاکستان کا حصہ ہے یا صرف ووٹوں کی بھٹی ہے
VOICE OF BALDIA TOWN
پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن
MPA Liaquat Ali Askani Page
Baldia Updates
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Sindh Police
Karachi Traffic Police

کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے مسلسل واقعات نے شہریوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ عوام خوف کے سائے میں جی رہے ہیں لیکن حک...
25/08/2025

کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے مسلسل واقعات نے شہریوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ عوام خوف کے سائے میں جی رہے ہیں لیکن حکمران اور ادارے شاید کسی اور سیارے پر رہتے ہیں، جہاں نہ کتے ہیں اور نہ کاٹے جاتے ہیں۔ برسوں سے یہ مسئلہ حل نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ذمہ داران کے نزدیک عوام کی جان کی قیمت ایک کچرے کے ڈھیر سے بھی کم ہے۔

شہر کی سڑکوں، محلوں، پارکوں، کھیل کے میدانوں، تعلیمی اداروں، بس اسٹاپوں اور یہاں تک کہ ہسپتالوں کے اندر بھی آوارہ کتوں کے جُھنڈ دندناتے پھرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ شہر کراچی نہیں بلکہ “کتے کا راج” بن چکا ہو۔ خواتین، بچے اور بزرگ ان کا آسان شکار ہیں، مگر مجال ہے کہ حکمرانوں کے کان پر جوں رینگے۔

بلدیہ ٹاؤن میں تو صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کتا مار مہم کو جان بوجھ کر دفن کردیا گیا ہو۔ برسوں سے مہم صرف کاغذوں اور بیانات میں زندہ ہے، عملی طور پر نہیں۔ اس دوران آوارہ کتوں کی آبادی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے اور ان کے لئے کچرے کے پہاڑ پانچ ستارہ ہوٹل سے کم نہیں۔ گویا “کتے خوش ہیں، عوام مر رہے ہیں۔”

طنز یہ ہے کہ جس شہر میں انسانوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، وہاں کتوں کو کچرے کا بوفے اور کھلے میدان فراہم ہیں۔ حکومت کو اگر کوئی فکر ہے تو بس جلسوں، جھنڈوں اور کرسیوں کی—عوام کے جسم پر کتنے دانت پیوست ہوتے ہیں، یہ ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔

کراچی کے باسی بس یہی سوچتے ہیں:
“کتے بھونک رہے ہیں، کاٹ رہے ہیں… اور حکمران؟ وہ صرف تقریریں کر رہے ہیں۔
VOICE OF BALDIA TOWN
پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن
MPA Liaquat Ali Askani Page
Baldia Updates
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Sindh Police
Karachi Traffic Police
Karachi, Pakistan

کراچی والوں کو پانی کیوں نہیں ملتا؟ یہ سوال اتنا پرانا ہے کہ اب تو شاید یونیورسٹیوں میں “کراچی واٹر کرائسز” پر پی ایچ ڈی...
24/08/2025

کراچی والوں کو پانی کیوں نہیں ملتا؟

یہ سوال اتنا پرانا ہے کہ اب تو شاید یونیورسٹیوں میں “کراچی واٹر کرائسز” پر پی ایچ ڈی کروائی جائے۔ سندھ پر دہائیوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی انہی کا کمالی ادارہ ہے، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ڈیم بھرے پڑے ہیں، ٹینکر بھرے جا رہے ہیں، بس عوام کے نلکے ہی ہمیشہ کی طرح خالی ہیں۔

۱۔ انتظامی نااہلی یا کرپشن؟
واٹر بورڈ کی حالت کسی سرکس سے کم نہیں۔ یہاں نااہلی کو “پالیسی” اور کرپشن کو “قابلیت” سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری لائن کا پانی عوام کے گھروں تک پہنچنے کے بجائے سیدھا ٹینکر مافیا کے کھاتوں میں داخل ہوتا ہے۔ عوام کے نل خشک ہیں لیکن مافیا کی جیبیں لبالب بھری ہیں۔

۲۔ سیاسی مفادات کی سیاست
پانی کی کمی اصل میں ایک “کاروباری ماڈل” ہے۔ اگر ہر گھر کے نل میں پانی آ گیا تو ٹینکر مافیا بیروزگار ہو جائے گا، اور مافیا کی روزی روٹی کس کی پشت پناہی میں چلتی ہے، یہ کراچی کا ہر بچہ بھی بتا سکتا ہے۔ عوام کی پیاس اصل میں “منصوبہ بند پیاس” ہے۔

۳۔ آبادی بڑھی یا بہانے؟
کراچی کی آبادی تو واقعی بڑھ رہی ہے، لیکن “کے-4 منصوبہ” شاید کسی جادو کی طرح غائب ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے ہر وزیر اس پر فوٹو کھنچوا کر عوام کو سمجھاتا رہا کہ بس اب پانی دریا کی طرح بہنے والا ہے۔ حقیقت میں البتہ صرف تصویروں کا بہاؤ ہوا ہے۔

۴۔ ترجیح کا کھیل
پیپلز پارٹی کے نزدیک دیہی سندھ ہی اصل “سنٹرل لندن” ہے۔ کراچی چونکہ ان کا مستقل ووٹ بینک نہیں، اس لیے یہاں کے مسائل کو صرف “قدرتی حادثہ” قرار دے دیا جاتا ہے۔ صاف پیغام یہ ہے: “جہاں ووٹ وہاں خدمت، جہاں خدمت نہیں وہاں صرف وعدے۔”

۵۔ پانی کی غلط تقسیم
کراچی کا پانی عوام کو کم، بااثر لوگوں کو زیادہ ملتا ہے۔ عام شہری کے نل خشک ہیں لیکن سیاستدانوں کے لان ہرے بھرے، فارم ہاؤسز پر چھڑکاؤ جاری، اور بڑے بڑے بنگلوں کے سوئمنگ پول ٹھنڈے ٹھار۔ عوام کے حصے میں آتا ہے صرف خالی ڈبہ، خشک صابن اور ٹینکر والے کی گالی۔

آخر میں بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کراچی میں مسئلہ “پانی کی کمی” نہیں بلکہ “ضمیر کی کمی” ہے۔

پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن
VOICE OF BALDIA TOWN
MPA Liaquat Ali Askani Page
Baldia Updates
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Pakistan Peoples Party Punjab

24/08/2025

کراچی پولیس کی تاریخ اگر لکھی جائے تو اسے افسانۂ جرائم کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو عوام کی حفاظت کے بجائے منشیات فروشوں کا سیکورٹی گارڈ بنا بیٹھا ہے۔ کئی دہائیوں سے پولیس اور جرائم پیشہ افراد کی “شادیِ مباک” چل رہی ہے اور طلاق کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

اصل کھیل کروڑوں روپوں کا ہے، اس لیے پولیس افسران اپنی تعیناتی کے لئے سفارشیں ڈھونڈتے ہیں جیسے کوئی طالب علم اچھی نوکری کے لئے سفارش تلاش کرتا ہے۔ پھر جب یہ “بخت سے نوازے گئے افسران” کسی علاقے میں پہنچتے ہیں تو عوام کو تو امن نصیب نہیں ہوتا لیکن ان کے ساتھ علاقے کے چور، ڈاکو اور منشیات فروش ضرور خوشی کا جشن مناتے ہیں۔

زیادہ تر افسران اور اہلکار غیر مقامی ہوتے ہیں تاکہ ان کے دل میں عوام کے لئے ہمدردی نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ ان کے نزدیک کراچی صرف ایک ATM مشین ہے جہاں سے پیسے نکالنے ہیں، چاہے جرائم کے ذریعے، چاہے رشوت کے ذریعے۔

یوں لگتا ہے جیسے پولیس اور جرائم پیشہ افراد میں کوئی Joint Venture ہو، جس کا مقصد عوام کو لوٹنا اور شہر کو برباد کرنا ہے۔ عوام بیچاری سوچتی رہتی ہے کہ دشمن کون ہے؟ پولیس یا چور؟ لیکن پھر حقیقت سامنے آتی ہے کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، فرق صرف وردی کا ہے۔

پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن
VOICE OF BALDIA TOWN
MPA Liaquat Ali Askani Page
Baldia Updates
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Karachi Traffic Police
Sindh Police
Karachi, Pakistan

24/08/2025

بلدیہ ٹاؤن کراچی آج ایک ایسا علاقہ بن چکا ہے جہاں دن ہو یا رات، گلی ہو یا بازار، وارداتوں کا بازار ہر وقت گرم رہتا ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی کا موبائل فون، پرس یا موٹرسائیکل گن پوائنٹ پر چھین لیا جاتا ہے۔ ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں اسلحہ ہے اور عوام کے پاس صرف بے بسی۔ پولیس؟ وہ تو ایسے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے جیسے اس کا ان وارداتوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو دل میں یہ سوچ لیے کہ “پتہ نہیں آج باری میری ہے یا پڑوسی کی۔” یہ کیسا نظام ہے جہاں شہری اپنی باری کے انتظار میں جی رہے ہیں، اور ریاستی ادارے صرف تنخواہ لینے کے ماہر ہو گئے ہیں؟

بلدیہ ٹاؤن کے عوام آج سوال کر رہے ہیں کہ یہاں کے نمائندے اور افسران کہاں ہیں؟ کیا یہ شہر کا حصہ نہیں؟ کیا یہاں بسنے والے انسان نہیں؟ یا پھر بلدیہ ٹاؤن کو جان بوجھ کر جرائم کے گڑ میں بدل دیا گیا ہے تاکہ لوگ خاموش رہیں اور مجرم دندناتے پھریں؟

یہ علاقہ، جو کبھی محنت کشوں کا گڑھ کہلاتا تھا، آج ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ گلیوں میں گندگی کے ڈھیر، سڑکوں پر کھڈے، پانی کی بوند کو ترستی عوام اور اوپر سے جرائم کا سیلاب… کیا بلدیہ ٹاؤن کے عوام صرف قربانی کا بکرا ہیں؟

سچ یہی ہے کہ بلدیہ ٹاؤن ایک “بے بس شہر” بنتا جا رہا ہے، جہاں

عوام خاموش، پولیس تماشائی، اور مجرم بادشاہ ہیں
پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن
VOICE OF BALDIA TOWN
MPA Liaquat Ali Askani Page
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Barrister Murtaza Wahab
Sindh Police
Karachi Traffic Police
Sindh Chief Minister House
Baldia Updates
Karachi, Pakistan

ایم پی اے صاحب!اپنے حلقے والوں کو ذرا کھلم کھلا بتا ہی دیں کہ آخر بلدیہ ٹاؤن کو پینے کا پانی کیوں نہیں مل رہا؟کیا یہ کوئ...
14/08/2025

ایم پی اے صاحب!
اپنے حلقے والوں کو ذرا کھلم کھلا بتا ہی دیں کہ آخر بلدیہ ٹاؤن کو پینے کا پانی کیوں نہیں مل رہا؟

کیا یہ کوئی آسمانی آفت ہے؟
یا پھر کوئی غیر ملکی سازش؟
یا پھر یہ آپ کی اپنی نااہلی اور بےحسی کا شاخسانہ ہے؟

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
• وفاق میں آپ کی ہی پارٹی کی حکومت ہے۔
• صوبہ سندھ بھی آپ ہی کی پارٹی کے قبضے میں ہے۔
• صدر بھی آپ ہی کے جھنڈے تلے بیٹھا ہے۔
• واٹر بورڈ کے افسران اور عملہ بھی آپ کے ہی دستخط سے تعینات ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے:
پانی کہاں ہے؟
کیا یہ سب ادارے بلدیہ ٹاؤن کے خلاف مل کر سازش کر رہے ہیں؟
یا پھر یہ سب آپ کی جیب بھرنے اور ٹینکر مافیا کو پالنے کا “سنہری فارمولا” ہے؟

ایم پی اے صاحب!
اسمبلی میں آپ نے پانی کے معاملے پر چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے،
اور حلقے میں صرف تصویریں، ریلیاں اور “سوشل میڈیا پوسٹیں” بانٹ رہے ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ عوام پیاسی مر رہی ہے،
مگر آپ اور آپ کی پارٹی والے جشن آزادی میں کیک کاٹ کر اور قومی نغموں پر ڈانس کر کے یہ باور کروا رہے ہیں
کہ پاکستان ترقی کی راہ پر ہے۔

سچ یہ ہے کہ آپ کی ترقی صرف ٹویٹر اور فیس بک کی پوسٹوں میں ہے،
بلدیہ ٹاؤن کے گلی محلوں میں نہیں
VOICE OF BALDIA TOWN
MPA Liaquat Ali Askani Page
Town Municipal Corporation Baldia, District-Keamari, Karachi
Sindh Chief Minister House
Barrister Murtaza Wahab
Baldia Updates
Asif Moosa Official
Sindh Police

Address

بلدیہ ٹاؤن کراچی
Karachi
75760

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پانی مانگتا بلدیہ ٹاؤن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share