Ayaz Hussain,Insafian

Ayaz Hussain,Insafian میں دھرتی کا سچا بیٹا دھرتی کی خوشحالی کا طلبگار ہوں

02/09/2026

جھتے پھسو مینو دسو 😂

01/09/2026

نام نہاد جماعت اسلامی کے منافقین کی جانب سے
عوامی مفاد کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش، جماعتِ اسلامی کی منافقت ایک بار پھر بے نقاب!

پی ٹی آئی رہنما و چیئرمین شاہ فیصل ٹاؤن گوہر علی خٹک کی جانب سے جاری کردہ خصوصی فنڈ کے تحت یوسی 02، شاہ فیصل کالونی نمبر 3، برائٹ سکسس کالج کے سامنے والی گلی میں پانی کی پائپ لائن کی تنصیب کا کام جاری ہے۔

عوام کو درپیش پانی کے مسئلے کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری اس عوامی فلاحی کام کو رکوانے کے لیے جماعتِ اسلامی یوسی 02 کے وائس چیئرمین عبدالباسط چند افراد کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

موقع پر وائس چیئرمین شاہ فیصل ٹاؤن طارق محمود بھی موجود ہیں اور تمام صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ بھی موقع پر موجود ہیں اور اپنی آنکھوں سے عوامی مفاد کے کام کو رکوانے کی کوشش کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

عوامی سوال یہ ہے کہ اگر کام عوام کے لیے ہو رہا ہے تو اسے رکوانے کی کوشش کیوں؟

شاہ فیصل ٹاؤن میں عوامی سہولیات کی فراہمی کا سفر کسی سیاسی مخالفت یا رکاوٹ سے نہیں رکے گا۔

عوام سب دیکھ رہی ہے اور فیصلہ بھی عوام ہی کرے گی۔

میرے ابو کو کال کردیں وہ مجھے آکر بچالیں گے یہ آخری الفاظ عریشہ طیب کے تھے یہ بچی جس کا نام عریشہ ہے نالے کے قریب سے گزر...
01/09/2026

میرے ابو کو کال کردیں وہ مجھے آکر بچالیں گے یہ آخری الفاظ عریشہ طیب کے تھے

یہ بچی جس کا نام عریشہ ہے نالے کے قریب سے گزر رہی تھی کہ اندر گر گئی لوگوں نے بچانے کی کوشش کی لیکن سپیڈ اتنی تیز تھی کہ 12 سالہ عریشہ طیب کا کچھ پتہ نہ چل سکا ۔

رات تک ریسکیو کرنے والے لگے رہے لیکن اب تک کوئی خبر نہ ملی

جبکہ شام پانچ بجے عریشہ کا دوپٹہ اور ایک چپل گلبرگ گرینز نالے کے قریب سے ملا تھا ۔

اس وقت امید تھی کہ شاید یہ شہزادی بچ گئی ہوگی لیکن اب تک کوئی سراغ نہیں ملا

اندھیرے کے سبب سرچ آپریشن روکنا پڑا جس پہ میڈیا والے اور حاضرین طیش میں آئے ہوئے تھے

ریسکیو والے کہتے ہیں کہ اب امید چھوڑ دیں سوشل میڈیا پہ بچی کی تصاویر وائرل کریں تاکہ

اگر بچی کہیں پہ زندہ ہو یا کسی کو بہتی ہوئی ملی ہو تو والدین کو مل جائے

جبکہ والدین اور عوام کہہ رہی ہے کہ بچی بہت بہادر اور سمجھدار ہے اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے

ایک آخری امید کے طور پر بچی کی تصویر لگائی جا رہی ہے کہ شاید گلزار قائد تا دریائے سواں کسی نے اس کا وجود محسوس کیا ہو ، کیا معلوم کوئی اسے ہسپتال لے گیا ہو کسی نے بھی اسے کہیں دیکھا ہو تو ہمیں آگاہ کریں

بچی کی مزید تصاویر اور ریسکیو آپریشن پہلے کومنٹ میں ہے بچی کی والدہ کہتی ہیں کہ معجزہ ہوسکتا ہے میرا دل کہتا ہے کہ میری بیٹی زندہ ہے ۔

😪😥😪😥😥

جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان ...
01/09/2026

جب تقریباً دو ہفتے کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی سپانٹک چوٹی کی برف سے نکال لیا گیا تو ان کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے اپریشن کے رضاکاروں کو معاوضہ دینے کی پیشکش کی۔ ان 6 نوجوانوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔ جس کام کے لیے مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔

ماجرا کیا تھا؟

34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انھیں کوہ پیمائی، سفر اور ٹریول ولاگنگ سے خاص دلچسپی تھی۔

وہ پانچ رکنی پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انھیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی ماؤنٹین گائیڈز کی بھرپور کوشش کے باوجود 21 اگست کو کیمپ تھری پر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

لا۔۔ش دو ہفتے تک برف میں دبی رہی

مو۔ت کے بعد باقی ٹیم نیچے اتر آئی جبکہ ان کی میت سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب گئی۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں نے کام مزید مشکل بنا دیا تھا۔ اسی دوران میت کی برآمدگی کے لیے خاندان سے مبینہ طور تیس لاکھ روپے تک مانگے جا رہے تھے۔ ان کے شوہر بھی بیرون ملک سے واپس آگئے تھے۔

6 رضاکاروں کا کارنامہ

بالآخر مبینہ طور پر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز سپانٹک روانہ ہوئے۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔ سخت موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار میت تلاش کر لی۔ ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق ٹیم میت کے ہمراہ کیمپ ٹو پہنچ گئی اور برفباری میں رکاوٹ نہ آئی تو اگلا مرحلہ بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ جب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت برآمد ہوئی تو خاندان والوں نے ان رضاکاروں کو ان کی محنت کا صلہ دینا چاہا تاہم انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھوں نے یہ کام فقط اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔۔

محبوب علی ارندو۔۔ ایک سماجی کارکن بھی

محبوب علی ارندو اپنے گاؤں کی تعلیمی بہتری کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کی ٹیم کی اس بے لوث خدمت کو بہت سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین نے ایسے نوجوان پیدا کر کے دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق دیا ہے۔



01/09/2026

سندھ پولیس کے سامنے نہتے شہریوں کو دن دہاڑے گولیاں ماری گئیں ,
عوام پاگلوں کی طرح سندھ پولیس کے نعرے مارتی رہی ائی جی صاحب اپ کی سندھ پولیس بھاگ گئی,
تھانے آپ کے بک گئے ابھی تک نہ ملزمان گرفتار ہوئے نہ کوئی ایکشن لیا گیا ہے ،
آخر کیوں الفلاح تھانے میں ایف ائی ار بھی کٹوائی گئی،
ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگیں لیکن منشیات فروش اور قبضہ مافیا نے تھانے میں پیسے کھلا کر دہشت گردی کی دفعات ہٹوا دیں،
آئی جی صاحب کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے ؟؟
دن دھاڑے نہتے لوگوں کو گولیاں مارنا وہ بھی پولیس کے سامنے اگر یہ دہشت گردی نہیں تو پھر کیا ہے ؟؟؟

نہ ان پولیس والوں کا کچھ ہوا نہ ان دہشت گردوں کا کچھ ہوا ہمیں انصاف کب ملے گا کیا کوئی بتا سکتا ہے؟؟؟

بی آر ٹی پاکستان کا کامیاب ترین ٹرانسپورٹ سروس ہے، یہ اندازہ آپکو تب ہوگا جب آپ بی آر ٹی اور باقی بسوں میں سفر کریں گے، ...
01/09/2026

بی آر ٹی پاکستان کا کامیاب ترین ٹرانسپورٹ سروس ہے، یہ اندازہ آپکو تب ہوگا جب آپ بی آر ٹی اور باقی بسوں میں سفر کریں گے، اس لیے ہر کوئی مطالبہ کرتا ہے کہ اسے مزید بڑھاؤ، اب مزید 52 بس شامل کرلئے گئے ہیں جس سے تعداد بڑھ کر 296 ہو جائے گی۔
پاکستان کے تمام میٹروز کو اکھٹا کر کے بھی 296 بسوں کی تعداد نہیں بنتی جو اکیلے بی آر ٹی کی ہے، وزیر اعلیٰ اپنے لیے 11 ارب کا جہاز بھی خرید سکتا تھا مگر اس نے عوام کو سہولت دینا مناسب سمجھا 🌸

شجاع آباد میں غربت سے تنگ آکر ایک ہی روز میں 3 افراد کی خودکشی 😢
01/09/2026

شجاع آباد میں غربت سے تنگ آکر ایک ہی روز میں 3 افراد کی خودکشی 😢

01/09/2026

بھارہ کہو ۔۔۔😢

الحمداللہ پشاور بی آر ٹی پاکستان کا سب سے بہترین اور بڑا عوامی آمدرفت اور سہولت کا نظام بن چکا ہے 🌸خیبرپختونخوا حکومت نے...
01/09/2026

الحمداللہ پشاور بی آر ٹی پاکستان کا سب سے بہترین اور بڑا عوامی آمدرفت اور سہولت کا نظام بن چکا ہے 🌸

خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی پشاور کیلئے 2 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مزید 50 بسیں خرید لیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے خریدی گئی 50 نئی بسوں میں سے مزید 27 بسیں اگلے مرحلے میں پشاور پہنچیں گی جس میں سے 2 بسیں کمپنی کی جانب سے تحفے کے طور پر دی گئی ہیں۔

بی آر ٹی بسوں کی تعداد 244 سے بڑھ کر 269 ہوگئی ہے جبکہ تمام نئی بسیں پہنچنے کے بعد بی آر ٹی بسوں کی مجموعی تعداد 296 ہو جائے گی۔

ٹرانس پشاور کے مطابق بی آر ٹی کی موجودہ 244 بسوں میں سے 5 بسیں خواتین کیلئے مختص کی جائیں گی، ان پنک بسوں کے روٹس سے متعلق تفصیلات بھی جلد مکمل کرلی جائیں گی۔

ٹرانس پشاور کے مطابق بی آر ٹی بسوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو 100 بسیں خریدنے کی سفارش کی گئی تھی، جس میں 50 ڈیزل ہائبرڈ اور 50 الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔

صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد پہلے مرحلے میں 50 ڈیزل ہائبرڈ بسیں خریدی جانی تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 50 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی۔

ٹرانس پشاور کے مطابق بسوں کی خریداری پر مجموعی طور پر 3 ارب 20 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا

31/08/2026

پاکستان میں بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے کا تجربہ دکھا رہے تھے، گاڑی پولیس کی وین سے جا ٹکرائی، ڈز کی آواز آئی!!!🤣

Address

MC 1601 Azeem Pura Green Town Karachi
Karachi
75230

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ayaz Hussain,Insafian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ayaz Hussain,Insafian:

Shortcuts

Share