27/08/2025
پی ٹی آئی ضلع ملیر کے جنرل سیکریٹری و حقیقی ایم این اے فارم 45 خالد محمود علی ایڈووکیٹ کی نقاب پوش شر پسندوں اور جھوٹے مقدمے کے خلاف آج معزز عدالت ایڈیشنل سیشن جج 1 کی عدالت میں سماعت۔
ایڈووکیٹ خالد محمود علی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج 1 ملیر کی عدالت میں کرمنل پٹیشن دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس افسران نے سیاسی مخالفین کے ساتھ ملی بھگت کر کے 5 اگست 2025 کو 9 مئی جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش کی تاکہ پی ٹی آئی کو بدنام اور اس کے کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جا سکے۔
درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعات 22-اے اور 22-بی کے تحت عدالت سے استدعا کی ہے کہ نامعلوم نقاب پوش افراد اور ایس ایچ او ملیر سٹی اور دیگر پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے، اور ان، ان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی کارکنوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ایڈووکیٹ خالد محمود کا کہنا ہے کہ 5 اگست کو نیشنل ہائی وے پر پی ایس ملیر سٹی تھانے کے سامنے پی ٹی آئی کے ایک پر امن اجتماع کے دوران ایک مشکوک نقاب پوش شخص کو دیکھا گیا جس نے پی ٹی آئی کا جھنڈا نما مفلر اوڑھ رکھا تھا۔ بعد ازاں مذکورہ شخص پولیس کے مبینہ تحفظ میں تھانے کے اندر داخل ہو گیا۔ بارہا مطالبے کے باوجود پولیس نے نہ تو اس کو حراست میں لیا اور نہ ہی اس کی شناخت کے بارے میں کوئی وضاحت جاری کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ 9 مئی 2023 کی طرز پر رچایا گیا تاکہ پی ٹی آئی کارکنوں کو فسادات اور تخریب کاری میں جھوٹے طور پر ملوث کیا جا سکے۔ تاہم بروقت نشاندہی اور سوشل میڈیا پر انکشاف کے باعث منصوبہ ناکام ہوا، لیکن اس کے باوجود پولیس نے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 598/2025 درج کی جس میں نقاب پوش شخص یا پولیس کی مبینہ معاونت کا کوئی ذکر شامل نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ اس واقعے کے خلاف آئی جی سندھ پولیس، چیف سیکریٹری سندھ، ڈپٹی کمشنر ملیر اور ایس ایس پی ملیر سمیت اعلیٰ حکام کو تحریری درخواستیں
بھیجی گئیں لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نقاب پوش افراد اور معاون افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے، درج شدہ ایف آئی آر کو "بی کلاس" قرار دینے، ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور پی ٹی آئی ارکان کو تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
عدالت نے ایس ایچ او ملیر سٹی کو 28 اگست 2025 کو طلب کر لیا ہے۔