23/12/2025
گوادر: ایرانی پیٹرول پر پابندی سے عوامی زندگی مفلوج، 'معاشی قتل عام بند کیا جائے، میر عادل کلمتی
پسنی اپڈیٹ/ گوادر اور گردونواح میں ایرانی پیٹرول کی خرید و فروخت پر پابندی کے باعث شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس نے مقامی معیشت اور عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
معروف کاروباری شخصیت اور قانون دان ایڈووکیٹ میر عادل کلمتی نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کا "معاشی قتل عام" قرار دیا ہے۔
پیٹرول کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ماہی گیر ایندھن نہ ہونے کے باعث سمندر میں جانے سے قاصر ہیں، جس سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے۔
میر عادل کلمتی نے ڈپٹی کمشنر اور مقامی انتظامیہ کے فیصلے کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں فیکٹریاں یا صنعتیں موجود نہیں ہیں یہاں کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش پاک ایران سرحد سے ہونے والی چھوٹی تجارت اور پیٹرول ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت جیسے روایتی حریف کے ساتھ واہگہ بارڈر پر تجارت جاری رہ سکتی ہے، تو بلوچستان کی عوام کے لیے ایران بارڈر پر پابندیاں کیوں لگائی جا رہی ہیں؟
انہوں نے اسے پنجاب اور بلوچستان کے لیے الگ الگ قوانین کا مظہر قرار دیا۔
بیان میں انتباہ دیا گیا کہ عوام کو معاشی طور پر دیوار سے لگانے سے بدامنی اور مایوسی پھیلے گی، جو بالآخر لوگوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایڈووکیٹ میر عادل کلمتی نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر کے عوام کی حالتِ زار پر رحم کھاتے ہوئے پیٹرول کی دکانیں فوری طور پر کھولی جائیں تاکہ غریب طبقے کا چولہا جل سکے۔