18/06/2026
جسٹس فار لا گریجویٹ شفقت علی عمرانی سول سوسائٹی صحافی وکلا دوست احباب اور عمرانی برادری آج ایک ایسے بےگناہ انسان کے لیے آواز بلند کر رہی ہے جو گزشتہ ( 2018 ) سے ایک جھوٹے دہشت گردی اور قتل کے الزام میں قید میں انصاف کا منتظر ہے۔
خد اپنی گرفتاری انسداد دہشتگری عدالت میں پیش کرنے والے لا گریجویٹ قیدی شفقت خان عمرانی، جنہوں نے خود عدالت پر یقین رکھتے ہوئے وہ آج بھی سچ کی راہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
یہ وہ شخص ہے جس نے قانون پر یقین کیا، عدالت میں روسٹرم پر جا کر جج صاحب کو قرآنِ مجید پیش کر کے اپنی بےگناہی کی گواہی دی، اور جج صاحب سے اس قرآن پر حق سچ کے فیصلے کی اپیل کی مگر افسوس کہ آج تک اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔
9 سال کے عرصے میں تقریباً 450 پیشیاں بھگتنے کے باوجود، انصاف کا دروازہ اب تک بند ہے۔ جھوٹے گواہان اور بدنیت فریادیوں نے اس کیس کو بار بار التوا کا شکار بنایا، اور ایک بےگناہ انسان کو سندھ کی 5 مختلف عدالتوں اور جیلوں میں در بدر کیا جاتا رہا۔
جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ، کراچی اور حیدرآباد ہر شہر اس کی بےبسی کی داستان سناتا ہے۔
31 مئی 2018 — وہ دن جب اس پر جھوٹا الزام لگایا گیا حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھا، جہاں علاقے کے معزز مہمان مرشد سکندر سلطان باھو والے حاجی محمد مٹھل خان عمرانی میر صوبہ خان رند میر منظور خان بابو برکت خان عمرانی اور دیگر معززین افطار پارٹی میں شریک تھے۔ یہ سب لوگ اس کی بےگناہی کے چشمدید گواہ ہیں، مگر ان کی آوازیں بھی شاید انصاف کے ایوانوں تک نہیں پہنچ سکیں۔
2020 میں سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے دہشتگردی کی دفعات کو غیرقانونی قرار دے کر ختم کیا، اور کیس کو سیشن کورٹ منتقل کیا، مگر اس کے باوجود انصاف کی رفتار سست روی کا شکار رہی۔ 2022 سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے کیس کا جلد فیصلہ لینے پر 5 بار ڈائریکشن لینے کے باوجود آج تک انصاف نہیں مل سکا وہ احکامات بھی ہوا میں اڑا دی گئیں۔
یہ کیسا نظامِ انصاف ہے؟
قاتل آزاد گھوم رہے ہیں، جھوٹے فریادی اور جھوٹے گوہاں کے الزامات پر ایک بےگناہ شخص قید کی سلاخوں کے پیچھے اپنی جوانی گزار رہا ہے۔
آج دوست صحافی برادری ،وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، اور ہر طبقہ فکر کے لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج اور اپیل کر رہے ہیں —
اسلام آباد سے لے کر کراچی، جیکب آباد ، شکار پور، سکھر، شھداد کورٹ، دادو، آوستہ محمد، قمبر، حیدرآباد، ڈیرا مراد جمالی سیتان، مٹیاری،گڑھی خیرو، ٹنڈو محمد خان ، نصیر آباد ، ہوسڑی، جام شورو ، کندہ کوٹ، سے لاڑکانہ تک — ہر جگہ ایک ہی صدا گونج رہی ہے: ایک بےگناہ کو انصاف دو!"
ہم عدالتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس کیس کی شفاف اور فوری سماعت کی جائے، سچ کو سامنے لایا جائے، اور ایک بےگناہ کو اس کی آزادی واپس دی جائے
یہ صرف ایک انسان کی جنگ نہیں،
یہ انصاف اور سچ کی جنگ ہے۔
Justice for Shafqat Ali Khan Umrani