Bedil Library بیدل لائبریری

Bedil Library بیدل لائبریری Bedil Library

ادبی قافلہ اور بیدل لائبریریمیں گزاری ہوئی ایک شام!تحریر: حنیف سحر             ریحان خان ادبی قافلہ کے اراکین میں سب سے ...
06/09/2026

ادبی قافلہ اور بیدل لائبریری
میں گزاری ہوئی ایک شام!

تحریر: حنیف سحر
ریحان خان

ادبی قافلہ کے اراکین میں سب سے زیادہ سرگرم اور ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے، سوچنے، سوال کرنے اور ادبی منظروں کو عملی شکل دینے میں جو کردار ریحان خان کا ہے وہ کسی اور کا نہیں ہے۔ بھلے ہی وہ مجھے تکریم اور بزرگی کے خیال سے آگے رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ادبی قافلے کے میر کارواں ریحان خان ہی ہیں۔ یوں بھی جہان رنگ و بو میں ہمارے لئے کچھ باسی پھول اور کچھ دھول میں لپٹی پرانی کتابیں اور گزرے ہوئے سورجوں کی دھندلی روشنی کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ ہے۔انھی نئے جہانوں کو مسخر کرتے نئی روشنیوں کھوجتے ریحان خان جیسے علم کے رسیا اور ادب کے طالب علموں کی جستجو، آپ کو یہ بتانے کی ضرورت غالباً نہیں ہے کہ ریحان خان نے "الف سے اے آئی تک"ناول لکھ کر دنیائے ادب میں ایسا غلغلہ اٹھایا ہوا ہے کہ گزرے برس میں سب سے زیادہ جس ناول کا ذکر خیر سوشل میڈیا پر دیکھنے سننے کو ملا وہ یہی الف سے اے آئی تک ہے۔ جس کے کئی ایڈیشن اب تک ریکارڈ سیل کے تحت مارکیٹ کو فتح کرچکے ہیں۔
یہ ریحان خان کی ہی پیش قدمی تھی کہ انھوں نے بیدل لائبریری بہادر آباد کے وزٹ کا پروگرام بنایا اور لائبریری کے انچارج ،نہایت خلیق،ملنسار اپنے کام سے محبت کرنے والے اور لائبریری سائنس کے علم سے پوری طرح بہرہ مند محمد زبیر صاحب سے ملاقات کا انصرام کیا۔
میں ، محبوب الٰہی مخمور،ریحان خان اور علامہ اقبال رائٹرز ایسوسی ایشن کے اہم رکن سید رفیع الزماں صاحب۔ کتابوں کے محب اور دل کی سطحوں پر لکھے ہوئے کتابوں میں درج قصے اور کہانیوں اور دنیا جہان کے مختلف النوع علوم کے چمکتے لفظوں کی روشنی میں نہائے ہوئے احساس اور جذبات کے ساتھ ہم نے سپہر کے ان لمحوں میں بیدل لائبریری میں قدم رکھا۔ جب دھوپ سنہری اور سورج کا آتشیں گولہ مہربان ہونے لگتا ہے۔ ویسے لائبریری کے اوقات کار بھی سپہر چار بجے سے شام سات بجے تک کے ہیں۔ راستے میں ہم چاروں نے لائبریری کے قیام اور اس کی جملہ خوبیوں کے بارے میں دستیاب معلومات پر بڑھ چڑھ کر روشنی ڈالی۔ کچھ نہ کچھ ہمارے خیالوں کے رنگ ہمیں نظر بھی آئے۔ سب سے بڑی بات تو اس لائبریری کا قائم رہنا ہی ہے۔ کِھسکتے اور بدلتے وقت میں جب کتابوں کی چیخوں سے ایک عالم گونج رہا ہے۔ جاتے ہوئے بے حساب دلربا اور بنی نوع انسان کی تاریخ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والی یہ مخلوق "کتابیں" اب دھیرے دھیرے رخصت ہورہی ہیں۔ جو لائبریریاں قائم ہیں وہاں بھی ان کی سالخوردہ بے ثباتی قابل افسوس ہے۔ ایسے میں زبیر صاحب کی ہمت ہے کہ انھوں نے پچھلے اکتیس برسوں سے مذکورہ لائبریری پر منڈلاتے ان گدھوں کا راستا روک رکھا ہے۔ جو چن چن کر کتابوں کو نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ ان کے نام ونشان مٹارہے ہیں۔بیدل لائبریری کے باقی رہنے کی ایک اور وجہ اس کا کمیونٹی کے دیکھ ریکھ میں ہونا بھی ہے۔ ورنہ پاکستان میں سرکاریں ہر اس شعبے کا گلہ گھونٹنے پر کم بستہ ہیں، جس شعبے سے عوام کو ایک نقطہ برابر بھی فائدہ پہنچتا ہو۔ سب سے زیادہ یہاں پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ریسرچ کرنے والوں کی مدد کی جاتی ہے۔۔زبیر صاحب نے انگنت ڈاکٹرز اور ریسچرز اور تھیسیس لکھنے والوں کی رہنمائی کی ہے۔ وہ ہر روز نارتھ کراچی سے بہادر آباد تک اسی والہانہ جذبے اور بے کراں خلوص کے ساتھ لائبریری پہنچتے ہیں، جو ان کے دل و دماغ میں پہلے دن تھا۔ تین دہائیاں بیت گئیں۔ تین سو سے کتابیں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوگئیں۔مگر ان کے کام کرنے کا جذبہ وہ ہی ہے جو کبھی تھا۔
بیدل لائبریری کی بنیاد 1974ء میں ڈاکٹر محمد ظفیر الحسن نے رکھی۔ تقریباً 300 کتابوں سے شروع ہونے والی یہ لائبریری آج ایک لاکھ سے زائد کتابوں کا ذخیرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جن میں مختلف موضوعات پر کتابوں کے علاوہ رسائل اور اخبارات بھی شامل ہیں۔

لائبریری کے انچارج زبیر صاحب ایک پڑھے لکھے اور علم و کتاب سے محبت رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے اسسٹنٹ امان صاحب نے بھی ہمیں لائبریری کا تفصیلی دورہ کرایا اور مختلف سیکشنز کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

بیدل لائبریری میں 100 سے زائد پی ایچ ڈی اور 400 سے زائد ایم فل کے تحقیقی مقالے بھی محفوظ ہیں، جو پاکستان کے علاوہ مختلف ممالک کی جامعات سے کیے گئے ہیں۔
یہاں بے شمار نایاب کتابیں اور قدیم رسائل بھی موجود ہیں۔ بعض رسائل سو سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ ان میں سر سید احمد خان کا معروف اصلاحی اور ادبی رسالہ تہذیب الاخلاق بھی شامل ہے، جو برصغیر کی فکری اور ادبی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
اس دورے کے دوران معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر جاوید منظر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ دس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے ملاقات اور گفتگو بھی اس یادگار دورے کا ایک خوب صورت حصہ رہی۔
بیدل لائبریری محض کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ادب کا ایک قیمتی مرکز ہے، جہاں ماضی کا علمی ورثہ آج بھی اپنی تابناکی کے ساتھ محفوظ ہے۔
ہماری تواضع کے لئے زبیر صاحب نے جو اہتمام کیا وہ خوشگوار حیرت کا دلنشیں حصہ تھا۔ بعد ازاں ہم سب نے اپنی اپنی کتابیں لائبریری کو عطیہ کیں۔ سب سے زیادہ گفتگوؤں کے بیش قیمت سلسلے محبوب الٰہی مخمور نے دراز کئے۔ زبیر صاحب محبوب کی شہرت و مقبولیت سے واقف بھی تھے۔ دیر تک محبوب نے انھیں پاکستان کی لائبریریوں اور دیگر ادبی تاریخی واقعات کے حوالے سے محظوظ کیا۔ خاص طور پر بچوں کے ادب کے حوالے سے۔ محبوب نے انوکھی کہانیاں کے تحت جتنی اور جیسی ادبی سرگرمیاں اب تک منعقد ہوچکی ہیں، ان کے بارے میں بتایا اور پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالوں کی جملہ معلومات بھی فراہم کیں۔ جتنی کتابیں ممکن ہوسکتی تھیں، جو محبوب اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔وہ سب لائبریری کو عطیہ کیں۔ ریحان خان نے اپنا ناول الف سے اے آئی تک پیش کیا۔ رفیع الزماں صاحب نے بھی اپنی علمی دلچسپیوں کے ایسے حصوں ہر ڈاکٹر منظر اور زبیر صاحب سے گفت و شنید کی جو ہمارے لئے بھی نئی معلومات تھیں۔ جیسے کراچی میں "ڈی لٹ" (D.Litt.) Doctor of Letters کتنے ہیں۔ ڈاکٹر منظر نے بتایا کہ اب غالباً ایک ہی ہے۔
حکومت کے لائبریریوں کی طرف رحجان کو کیسے بہتر کیا جائے۔نئی نسل کو کتابوں کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟ ایسے سوالات بھی ریحان خان نے کئے۔
محفل کیا تھی ایک مجلس علم و ادب تھی۔ جو چاروں طرف سے کتابوں کے جمگھٹے میں برپا ہوئی۔ دو ڈھائی گھنٹے کیسے ہوا ہوگئے پتا ہی نہیں چلا۔
فرانسس کے بیکن نے کہا تھا (غالباً )

"مطالعہ انسان کو صاحبِ علم اور مکمل بناتا ہے، گفتگو اسے حاضر جواب بناتی ہے، اور تحریر اسے دقیق اور منظم بناتی ہے۔"

جارج لوئیس بورخیس کا ایک نہایت خوب صورت تصور ہے کہ
"میں نے ہمیشہ یہ تصور کیا ہے کہ جنت شاید ایک کتب خانے ہی کی کوئی صورت ہوگی۔"

شام کے سائے گہرے اور دراز ہوئے تو ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ کون بتاسکتا ہے کہ علم کے بحر بیکراں سے گزرنے پرکس کے دل نے کون کونسی دنیاؤں کے دروازے پر دستک دی!

بچوں کے ادب کے معروف ادیب اور رسالہ ’’انوکھی کہانیاں‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ، محترم جناب محبوب الٰہی مخمور صاحب، اپنے معزز رفقا...
06/09/2026

بچوں کے ادب کے معروف ادیب اور رسالہ ’’انوکھی کہانیاں‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ، محترم جناب محبوب الٰہی مخمور صاحب، اپنے معزز رفقا محترم جناب رفیع الزماں، محترم جناب ریحان خان، محترم جناب حنیف سحر اور محترم جناب ڈاکٹر جاوید منظر کے ہمراہ بیدل لائبریری تشریف لائے۔

لائبریری آمد پر معزز ادبی شخصیات کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ مسرت و اعزاز ہے۔ (۵ ستمبر ۲۰۲۶)

बच्चों के अदब के मारूफ़ अदीब और रिसाला ‘‘अनूठी कहानियाँ’’ के मुदीर-ए-आला, मोहतरम जनाब महबूब इलाही मख़मूर साहब, अपने मुअज़्ज़ज़ रफ़क़ा मोहतरम जनाब रफ़ीउज़्ज़माँ, मोहतरम जनाब रेहान ख़ान, मोहतरम जनाब हनीफ़ सहर और मोहतरम जनाब डॉक्टर जावेद मंज़र के हमराह बेदिल लाइब्रेरी तशरीफ़ लाए।

लाइब्रेरी आमद पर मुअज़्ज़ज़ अदबी शख़्सियात की तशरीफ़-आवरी हमारे लिए बाइस-ए-मसर्रत व एज़ाज़ है। (५ सितम्बर २०२६)

Renowned children’s literature writer and Editor-in-Chief of the literary magazine “Anokhi Kahaniyan,” Mr. Mehboob Ilahi Makhmoor, along with distinguished literary figures Mr. Rafi-uz-Zaman, Mr. Rehan Khan, Mr. Hanif Sahar, and Dr. Javed Manzar, visited Bedil Library.

We are delighted and honoured by the visit of these distinguished literary personalities to the library. (5 September 2026)

مشہور و معروف شاعرہ محترمہ یاسمین یاس صاحبہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مقالے ”کراچی کی ادبی فضا میں مشاعروں کا کردار (قیامِ پ...
06/09/2026

مشہور و معروف شاعرہ محترمہ یاسمین یاس صاحبہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مقالے ”کراچی کی ادبی فضا میں مشاعروں کا کردار (قیامِ پاکستان سے تاحال)” کے سلسلے میں بیدل لائبریری میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے۔ (6 جولائی 2026ء)

کراچی کی ادبی فضا میں مشاعروں کا کردار
(قیامِ پاکستان سے تا حال)
برائے ایم۔فل اردو ۲۰۲۵ء

مقالہ نگار : یاسمین سلطان
زیرِ نگرانی : صدر شعبہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ، شعبہ اردو
انرولمنٹ نمبر : AH/5/04371/M/Urd/2023-1
ایریا آف ریسرچ : کراچی اور اس میں ہونے والے مشاعروں کی تاریخ اور کردار

وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی، کراچی

मशहूर-ओ-मारूफ़ शाइरा मोहतरमा यासमीन यास साहिबा अपने एम.फ़िल के तहक़ीक़ी मक़ाले "कराची की अदबी फ़िज़ा में मुशायरों का किरदार (क़ियाम-ए-पाकिस्तान से ता-हाल)" के सिलसिले में बेदिल लाइब्रेरी में अपना मक़ाला पेश करते हुए। (6 जुलाई 2026 ई.)

कराची की अदबी फ़िज़ा में मुशायरों का किरदार
(क़ियाम-ए-पाकिस्तान से ता-हाल)
बराए एम.फ़िल उर्दू 2025 ई.

मक़ाला निगार: यासमीन सुल्तान
ज़ेर-ए-निगरानी: सदर-ए-शोबा, एसोसिएट प्रोफ़ेसर डॉक्टर यासमीन सुल्ताना, शोबा-ए-उर्दू
एनरोलमेंट नंबर: AH/5/04371/M/Urd/2023-1
एरिया ऑफ़ रिसर्च: कराची और इस में होने वाले मुशायरों की तारीख़ और किरदार

विफ़ाक़ी उर्दू यूनिवर्सिटी बराए फ़ुनून, साइंस-ओ-टेक्नोलॉजी, कराची

The renowned poet, Ms. Yasmin Yaas, presenting her M.Phil research thesis, “The Role of Mushairas in the Literary Environment of Karachi (From the Establishment of Pakistan to the Present)”, at Bedil Library. (6 July 2026)

The Role of Mushairas in the Literary Environment of Karachi
(From the Establishment of Pakistan to the Present)
For M.Phil in Urdu, 2025

Researcher: Yasmeen Sultan
Under the Supervision of: Head of the Department, Associate Professor Dr. Yasmeen Sultana, Department of Urdu
Enrollment Number: AH/5/04371/M/Urd/2023-1
Area of Research: The history and role of Mushairas held in Karachi

Federal Urdu University of Arts, Science and Technology, Karachi

The Fedral Urdu University Of Arts,Science And Technology-fuuast2

محترم جناب ڈاکٹر جاوید منظر بیدل لائبریری میں اپنی مرتب کردہ کتاب "کلیاتِ نظیر" پیش کرتے ہوئے۔یہ کتاب معروف شاعر مرحوم س...
03/09/2026

محترم جناب ڈاکٹر جاوید منظر بیدل لائبریری میں اپنی مرتب کردہ کتاب "کلیاتِ نظیر" پیش کرتے ہوئے۔

یہ کتاب معروف شاعر مرحوم سید نظیر الحسن رضوی، المعروف نظیر نرسنگھپوری کے کلام پر مشتمل ہے۔

یادوں کے دریچوں سےڈاکٹر یاسمین سلطانہ صاحبہ | ۱۵ جولائی ۲۰۱۹ | بیدل لائبریریڈاکٹر یاسمین سلطانہ اردو زبان و ادب کی استاد...
30/08/2026

یادوں کے دریچوں سے
ڈاکٹر یاسمین سلطانہ صاحبہ | ۱۵ جولائی ۲۰۱۹ | بیدل لائبریری

ڈاکٹر یاسمین سلطانہ اردو زبان و ادب کی استاد، محققہ اور مصنفہ ہیں۔ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، کراچی کے شعبۂ اردو کی سربراہ ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی دلچسپیوں میں اردو ادب، ادبی تحقیق، تنقید اور علمِ ترجمہ نمایاں ہیں۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات علمی و ادبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

Yasmeen Sultana | 15 July 2019 | Bedil Library

Dr. Yasmeen Sultana is an Urdu academic, researcher, and writer. She serves as the Head of the Department of Urdu at the Federal Urdu University of Arts, Science & Technology, Karachi. Her academic interests include Urdu literature, literary research, criticism, and translation studies. She has published several research papers in academic and literary journals

کراچی کی بیدل لائبریری — بہاریوں کی علم دوستی کی ایک تاریخی داستانکراچی کی گلیوں، محلوں اور بستیوں میں بہاریوں کی ہجرت ا...
27/08/2026

کراچی کی بیدل لائبریری — بہاریوں کی علم دوستی کی ایک تاریخی داستان

کراچی کی گلیوں، محلوں اور بستیوں میں بہاریوں کی ہجرت اور آبادکاری کی بہت سی کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ کچھ کہانیاں محنت، روزگار اور کاروبار کی ہیں، کچھ تعلیم اور ادب کی، اور کچھ ایسی ہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے علم کے چراغ روشن کیے۔

بیدل لائبریری بھی اسی علمی روایت کی ایک خوبصورت اور تاریخی علامت ہے۔

یہ محض کتابوں کی ایک لائبریری نہیں بلکہ کراچی کے علمی و ادبی منظرنامے میں ایک ایسا خاموش مرکز ہے جہاں گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے کتابیں، رسائل، اخبارات، نایاب مواد اور تحقیق کا سرمایہ محفوظ ہے۔

ایک کمرے سے شروع ہونے والی داستان

بیدل لائبریری کی باقاعدہ بنیاد جولائی 1974ء میں ڈاکٹر محمد ظفیرالحسن نے رکھی۔ ابتدا میں نہ کوئی وسیع عمارت تھی، نہ ہزاروں کتابوں کے شیلف۔ صرف ایک کمرہ تھا اور تقریباً 300 کتابیں اور رسائل۔

یہ کتابیں بھی کسی بڑے سرکاری منصوبے کے تحت جمع نہیں ہوئیں بلکہ دوستوں اور اہلِ علم کے تعاون اور عطیات سے یہ علمی سفر شروع ہوا۔ بعد کے برسوں میں کتابوں کے عطیات کا یہ سلسلہ جاری رہا اور یوں ایک چھوٹا سا ذاتی و اجتماعی علمی خواب ایک بڑے کتب خانے میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔

نام ’’بیدل‘‘ کیوں رکھا گیا؟

اس لائبریری کا نام فارسی کے عظیم شاعر مرزا عبدالقادر بیدل کے نام پر رکھا گیا جنکا تعلق بہار سے تھا۔

بیدل برصغیر کی فارسی شاعری کے ان بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں جن کے اثرات اردو ادب تک پہنچے۔ غالب سمیت متعدد اردو شعرا نے بیدل کے فکر و فن سے اثر قبول کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیدل کی شاعری اور شخصیت سے بہاری و اردو داں حلقوں میں بھی خاص شغف پایا جاتا تھا۔ اسی ادبی ماحول اور بہاری ڈائسپورا میں بیدل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے لائبریری کے بانی نے اسے ’’بیدل لائبریری‘‘ کا نام دیا۔

شرف آباد میں علم کا ایک خاموش گھر

بیدل لائبریری کراچی کے شرف آباد، بہادرآباد کے قریب واقع ہے اور شرف آباد کلب کی دوسری منزل سے اس کا علمی سفر آگے بڑھتا رہا۔

آج کے شور شرابے، موبائل فون اور سوشل میڈیا کے زمانے میں شاید کسی لائبریری کا خاموش ماحول عجیب محسوس ہو، لیکن ایک وقت تھا جب کسی طالب علم، استاد، ادیب یا محقق کے لیے لائبریری ہی دنیا سے رابطے کا سب سے معتبر ذریعہ ہوا کرتی تھی۔

بیدل لائبریری بھی اسی دور کی ایک یادگار ہے۔

یہاں اردو ادب، شاعری، افسانہ، تنقید، تاریخ، سیاست، مذہب، ثقافت اور مختلف موضوعات پر کتابوں کا وسیع ذخیرہ جمع ہوتا گیا۔

300 کتابوں سے 85 ہزار کتابوں تک

بیدل لائبریری کی سب سے حیرت انگیز داستان اس کا پھیلتا ہوا علمی ذخیرہ ہے۔

جس لائبریری نے 1974ء میں صرف تقریباً 300 کتابوں اور رسائل سے سفر شروع کیا تھا، وہ وقت کے ساتھ تقریباً 85 ہزار کتابوں اور رسائل کے ذخیرے کی امین بن گئی۔ یہاں اردو اور فارسی کے تقریباً 50 نایاب مخطوطات بھی محفوظ بتائے جاتے ہیں، جبکہ مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے گیارہ اخبارات کے ریکارڈ بھی اس کے ذخیرے کا حصہ ہیں۔

یہ اعداد صرف کتابوں کی تعداد نہیں؛ یہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کی علمی محنت، عطیات، تحفظ اور مطالعے کی روایت کا ثبوت ہیں۔

بہاریوں کی کتاب سے محبت کی ایک علامت

بہاری برادری کی تاریخ میں تعلیم اور مطالعے کو ہمیشہ خاص مقام حاصل رہا ہے۔ ہجرت کے مشکل حالات کے باوجود نئی نسل کو تعلیم دینے، اسکول قائم کرنے اور علمی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔

بیدل لائبریری اسی وسیع تر علمی روایت سے جڑی ہوئی ایک اہم مثال ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ لائبریری کے ابتدائی سفر میں کتابوں کے عطیات کا اہم کردار رہا اور عطیہ دینے والوں کی یہ روایت بعد میں بھی جاری رہی۔ بعض شیلفوں پر عطیہ کنندگان کے نام درج ہیں جبکہ کچھ افراد نے گمنام رہنا پسند کیا۔

یعنی یہ لائبریری صرف ایک شخص کی کوشش نہیں رہی بلکہ کتاب سے محبت رکھنے والے لوگوں کی اجتماعی علمی امانت بنتی چلی گئی۔

محققین کے لیے خزانہ

بیدل لائبریری کی اہمیت صرف عام قارئین تک محدود نہیں۔

اس کے نایاب رسائل اور پرانے اخبارات نے محققین اور طلبہ کے لیے اسے ایک اہم تحقیقی مرکز بنا دیا۔ ایک تحقیقی مضمون میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ لائبریری میں معروف اردو ادبی رسائل کے پرانے شماروں کے اشاریوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس سے تحقیق کرنے والے طلبہ اور اسکالرز کو خاص فائدہ پہنچا۔

یہی وجہ ہے کہ بیدل لائبریری کو کراچی کے نمایاں تحقیقی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ریختہ کے مطابق اس کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ اب ڈیجیٹل صورت میں بھی دنیا بھر کے قارئین تک پہنچ رہا ہے۔

ایک اور تاریخی پہلو

بیدل لائبریری کی علمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ معروف ادیب محمد حسن عسکری کی ذاتی لائبریری ان کی وفات کے بعد بیدل لائبریری کو عطیہ کی گئی۔

یوں بیدل لائبریری صرف نئی کتابیں جمع کرنے والی جگہ نہیں رہی بلکہ اس نے ایسے علمی و ادبی ذخائر کو بھی اپنے اندر محفوظ کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

1996ء سے ایک اور خاموش خدمت

بیدل لائبریری کی تاریخ میں محمد زبیر کا نام بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے 1996ء سے لائبریری کی دیکھ بھال اور قارئین و محققین کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء میں ڈان نے بھی انہیں لائبریری کے ذمہ دار فرد کے طور پر ذکر کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ خاموشی سے آنے والے قارئین اور محققین کی مدد کرتے رہے۔

یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو شہرت کے بغیر علم کی خدمت کرتے ہیں اور جن کی محنت کا اثر کئی نسلوں تک پہنچتا ہے۔

آج بیدل لائبریری ہمیں کیا بتاتی ہے؟

آج جب ایک موبائل فون میں ہزاروں کتابیں اور پوری دنیا کی معلومات دستیاب ہیں، لائبریری کی اہمیت شاید پہلے جیسی محسوس نہ ہو۔

لیکن بیدل لائبریری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ڈیجیٹل دور سے پہلے علم کو محفوظ کرنے کے لیے لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں، کتابیں جمع کیں اور انہیں نسلوں کے لیے محفوظ رکھا۔

یہ لائبریری اس بات کی بھی گواہی ہے کہ کراچی میں آباد بہاری برادری نے صرف گھر، بازار اور بستیاں نہیں بنائیں بلکہ علم اور ادب کے مراکز بھی قائم کیے۔

ایک چھوٹے سے کمرے میں 300 کتابوں سے شروع ہونے والا سفر آج ہزاروں نہیں بلکہ تقریباً 85 ہزار کتابوں اور رسائل کے ذخیرے تک پہنچ چکا ہے۔

یہ صرف ایک لائبریری کی ترقی نہیں؛
یہ کتاب سے محبت کی نصف صدی سے زیادہ پرانی داستان ہے۔

اور شاید بیدل لائبریری کے بارے میں سب سے خوبصورت بات یہی ہے کہ یہ آج بھی خاموش کھڑی ہے، مگر اس کی الماریوں میں رکھی کتابیں اپنے قارئین سے مسلسل کہہ رہی ہیں:

’’ہمیں پڑھو، کیونکہ جو قوم اپنی کتابیں محفوظ رکھتی ہے، وہ اپنی تاریخ بھی محفوظ رکھتی ہے۔‘‘

بیدل لائبریری کراچی کے بہاریوں کی علمی میراث ہی نہیں، کراچی کی ادبی اور تحقیقی تاریخ کا بھی ایک قیمتی باب ہے۔

شیئر کریں

Source: پاکستانی بہاری Pakistani Bihari https://www.facebook.com/share/1DKy3GCai6/

لائبریری کا زوال؟از رئیس فاطمہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب گلی محلوں میں ایک نہ ایک لائبریری ہوا کرتی تھی جہاں سے مطالعے کے ...
02/08/2026

لائبریری کا زوال؟
از رئیس فاطمہ

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب گلی محلوں میں ایک نہ ایک لائبریری ہوا کرتی تھی جہاں سے مطالعے کے شوقین اپنی من پسند کتابیں نہایت سستے کرائے پر لے جاتے تھے۔ کبھی چار آنے روزانہ پر کبھی آٹھ آنے پر۔ اس وقت ایک روپے میں چونسٹھ پیسے اور سولہ آنے ہوا کرتے تھے۔ میرے والد مختلف لائبریریوں سے کتابیں لایا کرتے تھے، کچھ کتابیں میری والدہ کے لیے کچھ میرے لیے۔ بعض لوگ بتاتے ہیں کہ ہر محلے میں ایک آنہ لائبریری ہوا کرتی، کراچی کے برنس روڈ پر فریسکو چوک کے قریب ایک سرتاج لائبریری ہوا کرتی تھی۔

سرتاج صاحب دلی کے رہنے والے تھے، دلی میں بھی ان کی لائبریری تھی۔ بٹوارے کے بعد وہ صرف اپنی کتابیں بچا کر لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ والد صاحب ایک بار مجھے بھی وہاں لے گئے، ان کے پاس لاتعداد کتابیں تھیں۔ میرے والد لائبریری کی کتابوں پر پیلے براؤن کاغذ کا کور چڑھاتے تھے تاکہ کتاب کا سرورق خراب نہ ہو۔ یہ میری بھی عادت بن گئی، لائبریری کی کتابوں پر میں بھی کور چڑھا کر پڑھتی تھی، یہ عادت آج تک قائم ہے۔

1980 کی دہائی تک لائبریریاں قائم تھیں، ویسے تو کراچی میں بہت سی لائبریریاں تھیں لیکن بطور خاص انجمن ترقی اردو کی لائبریری اور مرزا ظفر الحسن کی کوششوں سے قائم کی گئی ’’غالب لائبریری‘‘ آج بھی قائم ہے۔ انجمن ترقی اردو کا کتب خانہ پہلے چاند بی بی روڈ پر کتب خانہ عام تھا اور اوپر کی منزل میں کتب خانہ خاص۔ کتب خانہ عام میں کتابیں گھر لے جانے کی اجازت تھی، لیکن کتب خانہ خاص سے کتابیں ایشو نہیں ہوتی تھیں۔ انجمن کا کتب خانہ اب یونیورسٹی روڈ پر بہت دور چلا گیا ہے، اس لیے اس سے استفادہ اب ممکن نہیں رہا۔ غالب لائبریری شہر کے بیچ میں ہے، لیکن وہ صرف شام کو کھلتی ہے۔

اس لیے وہاں جانے کا اتفاق اب بہت کم ہوتا ہے۔ انجمن ترقی اردو کے پاس بڑی نایاب کتابیں ہیں، لائبریری سارا دن کھلی رہتی ہے۔ اس کا وقت صبح نو بجے سے پانچ بجے تک ہے۔ 1968 میں جب میں کراچی کالج فار ویمن کی طالبہ تھی، اس وقت میں تقریباً روز ہی لائبریری جاتی تھی۔ وہاں ایک صاحب تھے محفوظ صاحب، جو کتب خانے کے انچارج تھے، بڑی محبت کرنے والے انسان تھے۔

ایک اور صاحب بھی تھے جن کا نام حاجی نعیم ہے، وہ کچھ ماہ پہلے انجمن ترقی اردو سے وابستہ تھے۔ میں جو بھی کتاب لے کر جاتی تھی اس پر کور چڑھا کر اور نام لکھ کر واپس کرتی تھی۔ محفوظ صاحب مجھے ہر کتاب گھر لے جانے کے لیے دیتے تھے۔ ایک بار غالب پر ایک کتاب ایشو کروا کر لے گئی، مجھے غالب کے خطوط پر ایک اسائنمنٹ بنانا تھا۔ جب کھولی تو پورے پندرہ صفحے غائب تھے، یہی صفحات مجھے درکار تھے۔ دوسرے دن میں وہ کتاب لے جا کر اردو کالج میں قائم انجمن ترقی اردو کے دفتر میں محفوظ صاحب کے سامنے رکھی اور مسئلہ بتایا۔ انھوں نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ کس کی حرکت ہے سو انھوں نے ان صاحب کو بلایا جو مجھ سے پہلے کتاب ایشو کروا کے لے گئے تھے۔

1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ آ گیا اور یہ غضب ہوا کہ آہستہ آہستہ کتب بینی کا زوال ہوا۔ آہستہ آہستہ لائبریریاں ختم ہونے لگیں۔ پہلے محلوں میں لائبریریاں قائم تھیں لیکن اب جو صورت حال ہے وہ بقول گلزار:

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں

لیکن اب بھی چند سر پھروں کا تعلق کتابوں اور لائبریریوں سے ہے۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا چسکا بچپن ہی سے تھا، میری ایک کالج فیلو سمیعہ نے مجھے ایک دن بتایا کہ ہمارے گھر سے قریب ایک جعفر لائبریری ہے۔ ہمارا گھر پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ہل پارک کے نزدیک تھا۔ مجھے لائبریری دیکھنے کا شوق چرایا ، کیونکہ اب والد صاحب پندرہ دن میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی لائبریری جاتے تھے جہاں سے وہ اپنے اور میرے لیے کتابیں لاتے تھے، لیکن جعفر لائبریری چونکہ گھر کے قریب تھی، جعفر لائبریری سوسائٹی قبرستان کے مقابل پروین منزل پر تھی۔ جب میں اپنی دوست کے ساتھ جعفر لائبریری پہنچی تو وہاں ایک بہت بڑا کمرہ تھا، ایک صاحب کرسی پر بیٹھے تھے، سر گنجا تھا، سفید کرتا اور پاجامہ پہنے تھے۔ عمر ہوگی یہی کوئی چالیس سال۔ ان کے دونوں ہاتھ اندر کی طرف مڑے ہوئے تھے۔

جعفر صاحب کو کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق تھا، چونکہ ان کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اندر کی طرف مڑی ہوئی تھیں۔ اس لیے وہ اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے۔ انھیں ایک شخص اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا۔ مزاج کے ذرا ٹیڑھے تھے۔ میں نے والد صاحب کو بھی جعفر لائبریری کے بارے میں بتایا، وہ بھی وہاں سے کتابیں ایشو کروانے لگے۔ جعفر لائبریری کا کرایہ آٹھ آنے روزانہ تھا۔ میرے والد کے پاس کافی کتابیں تھیں، انھیں جعفر پر بہت رحم آیا اور انھوں نے اپنی بیشتر کتابیں جعفر لائبریری کو عطیہ کر دیں۔

کراچی میں اب بھی لائبریریاں ہیں لیکن ان تک پہنچنا ذرا مشکل ہے۔ سب سے پہلے میں ’’بیدل لائبریری‘‘ کا ذکر کروں گی جس کے کرتا دھرتا زبیر صاحب ہیں۔ اس علمی کتب خانے کی بنیاد ڈاکٹر محمد ظفر الحسن عظیم آبادی نے رکھی تھی۔ 1974 میں اس لائبریری کا آغاز محض ایک کمرے اور تین سو کتابوں سے ہوا تھا۔ یہ لائبریری شرف آباد میں قائم ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار سے زائد کتب اور رسائل موجود ہیں۔ یہاں اخباروں کا ریکارڈ 1978 سے لے کر اب تک کے بڑے اخبارات جیسے ایکسپریس، جنگ، ڈان اور نوائے وقت کی فائلیں موجود ہیں۔ یہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے حضرات و خواتین آتے ہیں۔ یہاں کا عملہ خاص طور سے زبیر صاحب بڑا تعاون کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اور بھی لائبریریاں ہیں جن سے طلبا و طالبات استفادہ کرتے ہیں۔ جیسے کراچی یونیورسٹی کی لائبریری ڈاکٹر جمیل جالبی لائبریری جو کراچی یونیورسٹی ہی میں قائم ہے۔ ان کے علاوہ لیاقت نیشنل لائبریری اسٹیڈیم روڈ پر قائم ہے۔ اس کے علاوہ فریئر ہال لائبریری۔ عباسی کتب خانہ کھارادر میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ ایک بہت اہم لائبریری نارتھ کراچی میں قائم ہے۔

یہ مشفق خواجہ صاحب کا کتب خانہ ہے جو پہلے ناظم آباد میں ان کے گھر میں قائم تھا۔ مشفق خواجہ صاحب نے یہ وصیت اپنی زندگی میں کر دی تھی کہ یہ کتب خانہ کراچی سے باہر نہیں جائے گا۔ ان کے علاوہ نارتھ ناظم آباد میں بھی ایک لائبریری ہے جہاں بہت کتابیں ہیں۔ میں اس لائبریری کا نام بھول گئی ہوں۔ اس لائبریری میں کتابوں کی الماریوں میں رکھی کتابوں پر مٹی جمی رہتی ہے۔ صفائی کا انتظام مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں بھی ایک بہت اچھی لائبریری ہے۔ یہاں خواتین کے لیے الگ پورشن بھی ہے۔ اس لائبریری کا نام ہے ناصر عارف حسین میموریل لائبریری۔ یہ ریسرچ سینٹر بھی ہے۔ تین منزلہ عمارت میں یہ لائبریری قائم ہے۔ یہ لائبریریاں علم کی پیاس بجھانے کے کام آتی ہیں۔ لائبریریوں کا زوال ایک بڑا سانحہ ہے، اب نہ لوگ لائبریری جاتے ہیں نہ اخبار پڑھتے ہیں۔ ماحول بہت خراب ہو چکا ہے۔

پہلے طلبا و طالبات کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہوتی تھی، کبھی کسی شاعر کا مجموعہ یا کوئی تنقیدی کتاب۔ لیکن اب مہنگا موبائل شناخت کا ذریعہ ہے۔ لوگ کتابوں اور لائبریریوں سے دور ہو گئے ہیں۔ لائبریریوں کا بہت بڑا احسان ہے۔ لائبریریوں کے ذریعے انسان اپنی تہذیب اور معاشرے سے جڑا رہتا ہے۔ لائبریریاں علم کا خزانہ ہوتی ہیں، انسان کو اپنے ذوق کے مطابق کتابیں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ یہ لائبریریاں علم کا خزانہ ہوتی ہیں۔

لائبریریاں روشنی کا مینار اور علم کا سمندر ہیں۔ لائبریری کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ہر طبقے کے لیے علم کے دروازے کھولتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کی نوجوان نسل کے مطالعے کے شوق میں چھپا ہوتا ہے۔ لائبریری مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہاں کا پرسکون ماحول انسان کو ذہنی یکسوئی فراہم کرتا ہے جس سے ناصرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ غور و فکر کے نئے دریچے بھی کھلتے ہیں۔

حوالہ: ایکسپریس نیوز

ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت: اردو غزل کا ایک عہد ساز سورج غروب ہو گیاانا للہ وانا الیہ راجعوناردو ادب اور دنیائے سخن سے وابست...
28/05/2026

ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت: اردو غزل کا ایک عہد ساز سورج غروب ہو گیا
انا للہ وانا الیہ راجعون

اردو ادب اور دنیائے سخن سے وابستہ تمام قارئین کے لیے انتہائی رنج و ملال کی خبر ہے کہ جدید اردو غزل کے سب سے مقبول، معتبر اور عوامی دلوں کی دھڑکن، پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر اب ہم میں نہیں رہے۔ ۹۱ برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انہوں نے بھوپال میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر کے ادبی حلقوں، شاعروں، دانشوروں اور کروڑوں چاہنے والوں کو سوگوار کر دیا ہے۔

ڈاکٹر بشیر بدر (سید محمد بشیر) ۱۵ فروری ۱۹۳۵ء کو ایودھیا میں پیدا ہوئے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور طویل عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ۱۹۸۷ء کے میرٹھ فسادات میں اپنا سب کچھ جل جانے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام شدید گوشہ نشینی اور یادداشت کی کمزوری کے عارضے میں گزارے۔ ان کا جانا صرف ایک جسم کا رخصت ہونا نہیں، بلکہ اردو غزل کے ایک سنہرے عہد کا خاتمہ ہے۔

خراجِ عقیدت (قصیدہِ مدح و سوگ)
ڈاکٹر بشیر بدر کی شخصیت اور ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ تحریر پیشِ خدمت ہے، جس میں غالب جیسا ادبی معیار، آج کی سلیس زبان اور دل کو چھو لینے والا انداز سمویا گیا ہے:

غزل کا جادوگر، دلوں کا ہمسفر
کچھ لوگ تاریخ کے صفحات میں صرف ایک نام بن کر رہ جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جو خود ایک تاریخ لکھتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر اردو شاعری کا وہ روشن ستارہ تھے جنہوں نے غزل کو بھاری بھرکم الفاظ اور مشکل تراکیب کے قید خانے سے آزاد کر کے عام انسان کی سانسوں سے جوڑ دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ دل کو چھو لینے کے لیے بڑے الفاظ کی نہیں، بلکہ سچے جذبات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی شاعری کی سادگی میں ایک ایسا جادو تھا کہ جب وہ بولتے تھے، تو لگتا تھا جیسے ہمارے اپنے دل کی کوئی دبی ہوئی کسک زبان پا گئی ہو۔

ملاحظہ کیجیے ان کی زندگی اور فن کا احاطہ کرتی ہوئی یہ مدحیہ تحریر:

عام فہم زبان کا معجزہ: جہاں روایتی شعرا فارسی اور عربی کے ادق الفاظ میں الجھے رہے، وہاں بشیر بدر نے روزمرہ کی بول چال کو غزل کا لباس پہنایا۔ ان کی غزل 'سچی کتاب' کی طرح تھی، جسے ہر شخص نے 'چپکے چپکے' پڑھا اور اپنے دل میں بسا لیا۔

درد اور حوصلے کی داستان: ۱۹۸۷ء کے میرٹھ فسادات میں جب ان کا گھر، ان کا قیمتی ادبی سرمایہ اور کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں، تو وہ ٹوٹے نہیں۔ انہوں نے اس خاکستر سے اپنی شاعری کی نئی عمارت کھڑی کی۔ ان کا یہ شعر انسانی سنگ دلی پر اب تک کا سب سے بڑا نوحہ ہے:

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

سیاست سے فلم تک کا سفر: ان کا شعری معیار اتنا بلند تھا کہ ہند-پاک کے تاریخی 'شملہ معاہدے' کے دوران ان کے اشعار پڑھے گئے، تو دوسری طرف فلمی دنیا میں ان کے لکھے گیت (جیسے "ہوش والوں کو خبر کیا" اور "تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے") نے کروڑوں دلوں کو محبت کا سلیقہ سکھایا۔

عالمگیر شناخت اور اعزازات: حکومتِ ہند نے انہیں 'پدم شری' سے نوازا، اور دنیا بھر کی اکیڈمیوں نے ان کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز کسی ایوان کا تمغہ نہیں، بلکہ وہ محبت ہے جو آج ہر اس آنکھ میں آنسو بن کر تیر رہی ہے جو شعر فہم ہے۔

آخری سفر اور ابدی یادیں
زندگی کی بساط پر شہرت، تنہائی، المیے اور بیماری کے تمام رنگ دیکھنے کے بعد، اجالوں کا یہ مسافر وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے یادداشت کھو چکے تھے، اپنی ہی غزلیں بھول چکے تھے، لیکن جب کوئی ان کے سامنے ان کا کلام پڑھتا، تو ان کے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔ یہ مسکراہٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ جسم بھلے ہی تھک چکا تھا، مگر ان کی روح آخری لمحے تک 'شعر' ہی تھی۔

آج ان کی زندگی کی شام ہو گئی ہے، مگر ان کی یادوں کے اجالے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ وہ دنیا سے رخصت ہو کر بھی اپنے اس شعر کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے:

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اردو دنیا کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ (آمین)

डॉ. बशीर बद्र का निधन: उर्दू ग़ज़ल का एक युगप्रवर्तक सूरज अस्त हो गया
इन्ना लिल्लाही व इन्ना इलैही राजिऊन

उर्दू अदब और शायरी की दुनिया से जुड़े तमाम पाठकों के लिए यह अत्यंत दुखद और शोकपूर्ण समाचार है कि आधुनिक उर्दू ग़ज़ल के सबसे लोकप्रिय, प्रामाणिक और आम दिलों की धड़कन, पद्मश्री डॉ. बशीर बद्र अब हमारे बीच नहीं रहे। 91 वर्ष की आयु में लंबी बीमारी के बाद उन्होंने भोपाल में अंतिम सांस ली। उनके निधन की खबर ने दुनिया भर के साहित्यिक हलकों, शायरों, बुद्धिजीवियों और करोड़ों प्रशंसकों को शोक में डुबो दिया है।

डॉ. बशीर बद्र (सैयद मोहम्मद बशीर) 15 फरवरी 1935 को अयोध्या में पैदा हुए, अलीगढ़ मुस्लिम यूनिवर्सिटी से पीएच.डी. की डिग्री हासिल की और लंबे समय तक अध्यापन के क्षेत्र से जुड़े रहे। 1987 के मेरठ दंगों में अपना सब कुछ जल जाने के बाद वे भोपाल चले गए थे, जहाँ उन्होंने अपनी ज़िन्दगी के आखिरी दिन अत्यधिक गुमनामी और याददाश्त की कमज़ोरी की बीमारी में गुज़ारे। उनका जाना सिर्फ एक शरीर का विदा होना नहीं है, बल्कि उर्दू ग़ज़ल के एक सुनहरे युग का अंत है।

श्रद्धांजलि (प्रशंसा और शोक की अभिव्यक्ति)
ग़ज़ल का जादूगर, दिलों का हमसफ़र

कुछ लोग इतिहास के पन्नों में सिर्फ एक नाम बनकर रह जाते हैं, लेकिन कुछ ऐसे होते हैं जो खुद एक इतिहास लिखते हैं। डॉ. बशीर बद्र उर्दू शायरी का वह रोशन सितारा थे जिन्होंने ग़ज़ल को भारी-भरकम शब्दों और मुश्किल बनावट के कैदखाने से आज़ाद करके आम इंसान की सांसों से जोड़ दिया। उन्होंने साबित किया कि दिल को छू लेने के लिए बड़े शब्दों की नहीं, बल्कि सच्चे जज़्बात की ज़रूरत होती है। उनकी शायरी की सादगी में एक ऐसा जादू था कि जब वे बोलते थे, तो लगता था जैसे हमारे अपने दिल की कोई दबी हुई टीस को ज़ुबान मिल गई हो।

आम बोलचाल की भाषा का मोज़िला (चमत्कार): जहाँ पारंपरिक शायर फारसी और अरबी के कठिन शब्दों में उलझे रहे, वहीं बशीर बद्र ने रोज़मर्रा की बोलचाल को ग़ज़ल का लिबास पहनाया। उनकी ग़ज़ल 'सच्ची किताब' की तरह थी, जिसे हर शख्स ने 'चुपके-चुपके' पढ़ा और अपने दिल में बसा लिया।

दर्द और हौसले की दास्तान: 1987 के मेरठ दंगों में जब उनका घर, उनकी कीमती साहित्यिक संपत्ति और किताबें जलकर राख हो गईं, तो वे टूटे नहीं। उन्होंने उस राख से अपनी शायरी की नई इमारत खड़ी की। उनका यह शेर इंसानी बेदर्दी पर अब तक का सबसे बड़ा विलाप है:

लोग टूट जाते हैं एक घर बनाने में
तुम तरस नहीं खाते बस्तियाँ जलाने में

राजनीति से फ़िल्म तक का सफ़र: उनका साहित्यिक स्तर इतना ऊँचा था कि भारत-पाक के ऐतिहासिक 'शिमला समझौते' के दौरान उनके शेर पढ़े गए, तो दूसरी तरफ फ़िल्मी दुनिया में उनके लिखे गीत (जैसे "होश वालों को खबर क्या" और "तू इस तरह से मेरी ज़िंदगी में शामिल है") ने करोड़ों दिलों को मोहब्बत का सलीका सिखाया।

वैश्विक पहचान और सम्मान: भारत सरकार ने उन्हें 'पदमश्री' से नवाज़ा, और दुनिया भर की अकादमियों ने उनके आगे घुटने टेके। लेकिन उनका सबसे बड़ा सम्मान किसी दरबार का तमगा नहीं, बल्कि वह मोहब्बत है जो आज हर उस आँख में आँसू बनकर तैर रही है जो शायरी को समझती है।

आखिरी सफ़र और अमर यादें
ज़िंदगी की बिसात पर शोहरत, तन्हाई, त्रासदी और बीमारी के तमाम रंग देखने के बाद, उजालों का यह मुसाफ़िर वहाँ चला गया जहाँ से कोई लौटकर नहीं आता। वे पिछले कई सालों से अपनी याददाश्त खो चुके थे, अपनी ही ग़ज़लें भूल चुके थे, लेकिन जब कोई उनके सामने उनका कलाम पढ़ता, तो उनके चेहरे पर एक धीमी सी मुस्कान फैल जाती थी। यह मुस्कान इस बात का सबूत थी कि जिस्म भले ही थक चुका था, मगर उनकी रूह आखिरी लम्हे तक 'शायरी' ही थी।

आज उनकी ज़िंदगी की शाम हो गई है, मगर उनकी यादों के उजाले हमेशा हमारे साथ रहेंगे। वे दुनिया से रुखसत होकर भी अपने इस शेर के रूप में हमेशा ज़िंदा रहेंगे:

कुछ तो मजबूरियाँ रही होंगी
यूँ कोई बेवफ़ा नहीं होता

ईश्वर डॉ. बशीर बद्र साहब की आत्मा को शांति दे, उन्हें जन्नत-उल-फ़िरदौस में आला मक़ाम अता फरमाए और उनके चाहने वालों को यह गहरा सदमा बर्दाश्त करने का हौसला दे। (आमीन)

The Passing of Dr. Bashir Badr: An Epoch-Making Sun of the Urdu Ghazal Sets
"Inna Lillahi Wa Inna Ilayhi Raji'oon"

(To God we belong, and to Him we shall return)

It is with profound grief and deep sorrow that we share the news of the passing of Padma Shri Dr. Bashir Badr—the pioneer of modern Urdu poetry and the heartbeat of millions. He was 91. After a prolonged illness, he breathed his last in Bhopal. The news of his demise has sent a wave of mourning through literary circles, poets, intellectuals, and millions of admirers worldwide.

Dr. Bashir Badr (born Syed Mohammad Bashir) was born in Ayodhya on February 15, 1935. He earned his Ph.D. from Aligarh Muslim University and spent a significant part of his life in academia. After losing everything he owned, including his life's literary work, during the 1987 Meerut riots, he relocated to Bhopal, where he spent his final years in quiet seclusion, battling a memory-related ailment. His departure is not merely the passing of a person, but the end of a golden era in Urdu poetry.

A Eulogy of Remembrance and Praise
The Magician of Ghazal, The Companion of Hearts

Some people remain mere names in the pages of history, while others write history themselves. Dr. Bashir Badr was that luminous star of Urdu poetry who liberated the Ghazal from the confines of heavy, complex Persianized vocabulary and intertwined it with the everyday breath of the common person. He proved that to touch a soul, one does not need grand words, but true emotions. There was such magic in the simplicity of his poetry that whenever his verses were read, it felt as though the silent aches of our own hearts had finally found a voice.

The Miracle of Conversational Elegance: While traditional poets remained entangled in intricate metaphors, Bashir Badr dressed the ghazal in the language of everyday conversation. His poetry was like a "true book," which every reader opened "secretly" and kept close to their heart.

A Saga of Pain and Resilience: During the Meerut riots of 1987, when his home, his rare books, and years of unpublished literary treasure were reduced to ashes, he did not break. From those very ashes, he rebuilt his world. His famous couplet remains the most powerful lament against human cruelty:

"People break themselves just to build a single home;

Yet you show no mercy when burning down entire settlements."

From Statecraft to the Silver Screen: His literary stature was so immense that his couplets were quoted by world leaders during the historic Indo-Pak 'Shimla Agreement' to bridge diplomatic gaps. Simultaneously, on the silver screen, his iconic lyrics (such as "Hosh Waalon Ko Khabar Kya" and "Tu Is Tarah Se Meri Zindagi Mein Shamil Hai") taught generations the true language of love.

Global Recognition: The Government of India honored him with the prestigious 'Padma Shri' award, and literary academies worldwide paid homage to his genius. Yet, his greatest honor was never a medal from a court; it is the love that today swims as tears in the eyes of everyone who understands poetry.

The Final Journey and Eternal Echoes
After witnessing all the shades of fame, solitude, tragedy, and illness on the canvas of life, this traveler of light has departed for the eternal realm. In his final years, he had lost his memory and even forgot his own ghazals. Yet, his close companions note that whenever someone read his verses to him, a faint, beautiful smile would grace his face. That smile was proof that though the body had grown weary, his soul remained pure poetry until the very last breath.

The evening of his life has set, but the light of his memories will remain with us forever. He has departed from this world, but he will live on eternally through the truth of his words:

"There must have been some helpless compulsions;

No one turns unfaithful just for the sake of it."

May the Almighty grant peace to Dr. Bashir Badr Sahab's soul, elevate his ranks in Paradise (Jannat-ul-Firdaus), and give his family and admirers the strength to bear this monumental loss. (Ameen)

Address

Sharfabad Club, Bihar Muslim Society BMCHS Sharafabad
Karachi
74800

Opening Hours

Monday 16:00 - 19:00
Tuesday 16:00 - 19:00
Wednesday 16:00 - 19:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 16:00 - 19:00

Telephone

+923332374725

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bedil Library بیدل لائبریری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Bedil Library بیدل لائبریری:

Shortcuts

Share

Category