06/09/2026
ادبی قافلہ اور بیدل لائبریری
میں گزاری ہوئی ایک شام!
تحریر: حنیف سحر
ریحان خان
ادبی قافلہ کے اراکین میں سب سے زیادہ سرگرم اور ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے، سوچنے، سوال کرنے اور ادبی منظروں کو عملی شکل دینے میں جو کردار ریحان خان کا ہے وہ کسی اور کا نہیں ہے۔ بھلے ہی وہ مجھے تکریم اور بزرگی کے خیال سے آگے رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ادبی قافلے کے میر کارواں ریحان خان ہی ہیں۔ یوں بھی جہان رنگ و بو میں ہمارے لئے کچھ باسی پھول اور کچھ دھول میں لپٹی پرانی کتابیں اور گزرے ہوئے سورجوں کی دھندلی روشنی کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ ہے۔انھی نئے جہانوں کو مسخر کرتے نئی روشنیوں کھوجتے ریحان خان جیسے علم کے رسیا اور ادب کے طالب علموں کی جستجو، آپ کو یہ بتانے کی ضرورت غالباً نہیں ہے کہ ریحان خان نے "الف سے اے آئی تک"ناول لکھ کر دنیائے ادب میں ایسا غلغلہ اٹھایا ہوا ہے کہ گزرے برس میں سب سے زیادہ جس ناول کا ذکر خیر سوشل میڈیا پر دیکھنے سننے کو ملا وہ یہی الف سے اے آئی تک ہے۔ جس کے کئی ایڈیشن اب تک ریکارڈ سیل کے تحت مارکیٹ کو فتح کرچکے ہیں۔
یہ ریحان خان کی ہی پیش قدمی تھی کہ انھوں نے بیدل لائبریری بہادر آباد کے وزٹ کا پروگرام بنایا اور لائبریری کے انچارج ،نہایت خلیق،ملنسار اپنے کام سے محبت کرنے والے اور لائبریری سائنس کے علم سے پوری طرح بہرہ مند محمد زبیر صاحب سے ملاقات کا انصرام کیا۔
میں ، محبوب الٰہی مخمور،ریحان خان اور علامہ اقبال رائٹرز ایسوسی ایشن کے اہم رکن سید رفیع الزماں صاحب۔ کتابوں کے محب اور دل کی سطحوں پر لکھے ہوئے کتابوں میں درج قصے اور کہانیوں اور دنیا جہان کے مختلف النوع علوم کے چمکتے لفظوں کی روشنی میں نہائے ہوئے احساس اور جذبات کے ساتھ ہم نے سپہر کے ان لمحوں میں بیدل لائبریری میں قدم رکھا۔ جب دھوپ سنہری اور سورج کا آتشیں گولہ مہربان ہونے لگتا ہے۔ ویسے لائبریری کے اوقات کار بھی سپہر چار بجے سے شام سات بجے تک کے ہیں۔ راستے میں ہم چاروں نے لائبریری کے قیام اور اس کی جملہ خوبیوں کے بارے میں دستیاب معلومات پر بڑھ چڑھ کر روشنی ڈالی۔ کچھ نہ کچھ ہمارے خیالوں کے رنگ ہمیں نظر بھی آئے۔ سب سے بڑی بات تو اس لائبریری کا قائم رہنا ہی ہے۔ کِھسکتے اور بدلتے وقت میں جب کتابوں کی چیخوں سے ایک عالم گونج رہا ہے۔ جاتے ہوئے بے حساب دلربا اور بنی نوع انسان کی تاریخ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والی یہ مخلوق "کتابیں" اب دھیرے دھیرے رخصت ہورہی ہیں۔ جو لائبریریاں قائم ہیں وہاں بھی ان کی سالخوردہ بے ثباتی قابل افسوس ہے۔ ایسے میں زبیر صاحب کی ہمت ہے کہ انھوں نے پچھلے اکتیس برسوں سے مذکورہ لائبریری پر منڈلاتے ان گدھوں کا راستا روک رکھا ہے۔ جو چن چن کر کتابوں کو نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ ان کے نام ونشان مٹارہے ہیں۔بیدل لائبریری کے باقی رہنے کی ایک اور وجہ اس کا کمیونٹی کے دیکھ ریکھ میں ہونا بھی ہے۔ ورنہ پاکستان میں سرکاریں ہر اس شعبے کا گلہ گھونٹنے پر کم بستہ ہیں، جس شعبے سے عوام کو ایک نقطہ برابر بھی فائدہ پہنچتا ہو۔ سب سے زیادہ یہاں پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ریسرچ کرنے والوں کی مدد کی جاتی ہے۔۔زبیر صاحب نے انگنت ڈاکٹرز اور ریسچرز اور تھیسیس لکھنے والوں کی رہنمائی کی ہے۔ وہ ہر روز نارتھ کراچی سے بہادر آباد تک اسی والہانہ جذبے اور بے کراں خلوص کے ساتھ لائبریری پہنچتے ہیں، جو ان کے دل و دماغ میں پہلے دن تھا۔ تین دہائیاں بیت گئیں۔ تین سو سے کتابیں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوگئیں۔مگر ان کے کام کرنے کا جذبہ وہ ہی ہے جو کبھی تھا۔
بیدل لائبریری کی بنیاد 1974ء میں ڈاکٹر محمد ظفیر الحسن نے رکھی۔ تقریباً 300 کتابوں سے شروع ہونے والی یہ لائبریری آج ایک لاکھ سے زائد کتابوں کا ذخیرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جن میں مختلف موضوعات پر کتابوں کے علاوہ رسائل اور اخبارات بھی شامل ہیں۔
لائبریری کے انچارج زبیر صاحب ایک پڑھے لکھے اور علم و کتاب سے محبت رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے اسسٹنٹ امان صاحب نے بھی ہمیں لائبریری کا تفصیلی دورہ کرایا اور مختلف سیکشنز کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
بیدل لائبریری میں 100 سے زائد پی ایچ ڈی اور 400 سے زائد ایم فل کے تحقیقی مقالے بھی محفوظ ہیں، جو پاکستان کے علاوہ مختلف ممالک کی جامعات سے کیے گئے ہیں۔
یہاں بے شمار نایاب کتابیں اور قدیم رسائل بھی موجود ہیں۔ بعض رسائل سو سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ ان میں سر سید احمد خان کا معروف اصلاحی اور ادبی رسالہ تہذیب الاخلاق بھی شامل ہے، جو برصغیر کی فکری اور ادبی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
اس دورے کے دوران معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر جاوید منظر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ دس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے ملاقات اور گفتگو بھی اس یادگار دورے کا ایک خوب صورت حصہ رہی۔
بیدل لائبریری محض کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ادب کا ایک قیمتی مرکز ہے، جہاں ماضی کا علمی ورثہ آج بھی اپنی تابناکی کے ساتھ محفوظ ہے۔
ہماری تواضع کے لئے زبیر صاحب نے جو اہتمام کیا وہ خوشگوار حیرت کا دلنشیں حصہ تھا۔ بعد ازاں ہم سب نے اپنی اپنی کتابیں لائبریری کو عطیہ کیں۔ سب سے زیادہ گفتگوؤں کے بیش قیمت سلسلے محبوب الٰہی مخمور نے دراز کئے۔ زبیر صاحب محبوب کی شہرت و مقبولیت سے واقف بھی تھے۔ دیر تک محبوب نے انھیں پاکستان کی لائبریریوں اور دیگر ادبی تاریخی واقعات کے حوالے سے محظوظ کیا۔ خاص طور پر بچوں کے ادب کے حوالے سے۔ محبوب نے انوکھی کہانیاں کے تحت جتنی اور جیسی ادبی سرگرمیاں اب تک منعقد ہوچکی ہیں، ان کے بارے میں بتایا اور پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالوں کی جملہ معلومات بھی فراہم کیں۔ جتنی کتابیں ممکن ہوسکتی تھیں، جو محبوب اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔وہ سب لائبریری کو عطیہ کیں۔ ریحان خان نے اپنا ناول الف سے اے آئی تک پیش کیا۔ رفیع الزماں صاحب نے بھی اپنی علمی دلچسپیوں کے ایسے حصوں ہر ڈاکٹر منظر اور زبیر صاحب سے گفت و شنید کی جو ہمارے لئے بھی نئی معلومات تھیں۔ جیسے کراچی میں "ڈی لٹ" (D.Litt.) Doctor of Letters کتنے ہیں۔ ڈاکٹر منظر نے بتایا کہ اب غالباً ایک ہی ہے۔
حکومت کے لائبریریوں کی طرف رحجان کو کیسے بہتر کیا جائے۔نئی نسل کو کتابوں کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟ ایسے سوالات بھی ریحان خان نے کئے۔
محفل کیا تھی ایک مجلس علم و ادب تھی۔ جو چاروں طرف سے کتابوں کے جمگھٹے میں برپا ہوئی۔ دو ڈھائی گھنٹے کیسے ہوا ہوگئے پتا ہی نہیں چلا۔
فرانسس کے بیکن نے کہا تھا (غالباً )
"مطالعہ انسان کو صاحبِ علم اور مکمل بناتا ہے، گفتگو اسے حاضر جواب بناتی ہے، اور تحریر اسے دقیق اور منظم بناتی ہے۔"
جارج لوئیس بورخیس کا ایک نہایت خوب صورت تصور ہے کہ
"میں نے ہمیشہ یہ تصور کیا ہے کہ جنت شاید ایک کتب خانے ہی کی کوئی صورت ہوگی۔"
شام کے سائے گہرے اور دراز ہوئے تو ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ کون بتاسکتا ہے کہ علم کے بحر بیکراں سے گزرنے پرکس کے دل نے کون کونسی دنیاؤں کے دروازے پر دستک دی!