انجمنِ ساداتِ سرسی کراچی پاکستان

انجمنِ ساداتِ سرسی کراچی پاکستان history of sadat e sirsi

17/08/2026
خبر غم انا للہ وانا الیہ راجعون سابق امام جمعہ شیعہ جامع مسجد خانہ حق سرسی سادات ضلع سنبھل مغربی اتر پردیش  بھارت  حضرت ...
04/08/2026

خبر غم
انا للہ وانا الیہ راجعون
سابق امام جمعہ شیعہ جامع مسجد خانہ حق سرسی سادات ضلع سنبھل مغربی اتر پردیش بھارت
حضرت مولانا قاضی سید حسین رضا نقوی سرسوی انتقال فرما گئے
اپ مرحوم قاضی سید نوشہ رضا نقوی المعروف رضا سرسوی کے کزن تھے سرسی کے بزرگوں میں اہم مقام حاصل تھا خاص کر سرسی کی سادات نقویہ کی تاریخ پر عبور حاصل تھا مرحوم ماہر انساب تھے یقینا سادات سرسی ایک علمی اور بزرگ شخصیت سے محروم ہو گئی اللہ مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے مرحوم نے ایک صاحبزادے مولانا ناظم حسین نقوی اور صاحبزادیاں سوگوار چھوڑی ہیں

سرسی سادات ہندوستان کی مختصر تاریخ سرسی سادات ریاست یوپی میں ضلع سنبھل سے 10 کلومیٹر پر واقع ہے سرسی سادات ایک قدیم بستی...
11/05/2026

سرسی سادات ہندوستان کی مختصر تاریخ

سرسی سادات ریاست یوپی میں ضلع سنبھل سے 10 کلومیٹر پر واقع ہے سرسی سادات ایک قدیم بستی ہے جس کی تاریخ تقریبا 800 سال سے زیادہ پرانی ہے
سرسی دو بڑے محلوں شرقی اور غربی میں تقسیم ہے یہ دونوں محلے بھی کئی چھوٹے چھوٹے محلوں میں منقسم ہیں
سرسی سادات کی شاندار تاریخ بنیادی طور پر دو اہم تاریخی شخصیات کے گرد گھومتی ہے جن میں حضرت دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ۵۸۸ھجری آپ کا سلسلہ نسب اٹھارویں پشت میں امام زین العابدینؑ سے جا ملتا ہے اور سید علی نقی نقوی عرف سید علی عرب نقویؒ نیشاپوری شہید آپ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں امام علی نقیؑ تک جا پہنچتا ہے
حضرت دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ کے دو فرزند سید غلام حیدر عرف سید حیدر اور سید اسماعیل اور ایک دختر مسماة ودودة النساء تھیں بڑے بیٹے سید غلام حیدر موضع كرنال تشریف لے گئے اور ان کی اولاد وہاں آباد ہے، سید اسماعیل لاولد تھے ان کی قبر سرسی ہی میں ہے
اسی زمانے میں سید علی نقی نقوی المعروف سید علی عرب نقوی اپنے فرزند سید زید اور برادر سید اسماعیل اور سید گیا عرف میر گندن ابن اسماعیل کے ساتھ نیشاپور خراسان سے 632 ہجری میں ہندوستان وارد ہوئے ان کے ساتھ قوم مغل کا ایک شخص ملک شہ خراسانی بھی تھا جو موتراشی کا پیشہ کرتا تھا
اور سنبھل کے قریب واقع ایک موضع پُل سنگھا میں سکونت اختیار کی اور اس موضع کا نام تبدیل کرکے اپنے نام پر علی پور رکھا کچھ عرصے بعد سنبھل میں مقیم عباسی خاندان کے ایک فرد نے بر بنائے تعصبِ مذہب ان کو 21 رمضان 635 ہجری میں شہید کر دیا ان کا مزار علی پور پنوکھا میں ہے
سید علی عرب نقویؒ کے شہید ہونے کے بعد سید اسماعیل اپنے فرزند میر گندن کے ساتھ مشرق کی طرف چلے گئے ان کی اولاد قصبہ موہان میں ہے اور وہ رضوی سادات کہلاتی ہے
ملک شہ خراسانی نے سید علی عرب نقویؒ کے فرزند سید زید کلاں کے ہمراہ موضع علی پور سے ہجرت کی اور دوران سفر وہ اس مقام پر پہنچا جہاں دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطی مقیم تھے دادا مخدوم صاحب کو پہلے ہی ایک روحانی خواب کے ذریعے اطلاع مل چکی تھی جس میں ایک شخص ایک بچہ لے کر آیا اور بتایا کہ اس کے معصوم باپ کو قتل کر دیا گیا ہے دادا مخدوم صاحب نے فیصلہ کیا کہ سید زید کلاں کی دیکھ بھال اور پرورش کریں گے اور جب سید زید سن بلوغ کو پہنچے تو دادا مخدوم صاحب نے ان کا عقد اپنی بیٹی وہ ودودة النساء سے کر دیا 651 ہجری بمطابق 1253 عیسوی میں دادا مخدوم صاحب کا انتقال ہوگیا قبر مبارک سرسی میں ہے آپ کے مقبرے کی تعمیر آپ کے نواسے حسن عارف ابن سید زید کلاں بن سید علی عرب نے 697 ہجری 1298 عیسوی میں کرائی یہ مزار دادا مخدوم صاحب کے اوصاف اور کرامات کی بنا پر آج تلک بلا تفریق مذہب و ملت مرجع خاص و عام نظر آتا ہے آپ کی یہ کرامت آج تلک باقی ہے کہ مزار کی چار دیواری میں پائے جانے والے بچھو کو جو شخص بھی چاہے ہاتھ میں لے کر حدودِ سرسی میں کہیں چلا جائے وہ بچھو اُس کو کاٹے گا نہیں
دادا مخدوم صاحب کے مزار سے ملحق ہی ایک امام بارگاہ بھی آج تک موجود ہے جس کی تعمیر بھی مخدوم صاحب کے نواسے سید حسن عارف نے 734 ہجری میں کرائی اس امام بارگاہ کا تاریخی نام "عزاخانہ" ہے
سرسی کے نام اور اس کی آباد کاری کے سلسلے میں کئی روایتیں ہیں ان میں سب سے مشہور اور صحیح یہ روایت ہے کہ اس کی آباد کاری کا کام سید زید نے کیا اور اس مقام کا تاریخی نام سرائے شیعہ (656ھ) رکھا دہقانوں اور جہلا نے ابتدا میں اس کو سراسِیُّ کہنا شروع کر دیا اور بعد میں ہوتے ہوتے یہ لفظ "سرسی" کے نام سے پکارا جانے لگا سید زید نے ہی یہاں ایک مسجد تعمیر کرائی جس کا تاریخی نام "کعبہ ثانی" ہے سید زید کلاں کا انتقال 721 ہجری بمطابق 1302 عیسوی میں ہوا
دادا مخدوم صاحب کے ہمراہ ایک شخص درویش محمد نامی بھی آیا تھا جس نے بعد انتقال دادا مخدوم صاحب موصوف سادات کی نسبت خوانی کا پیشہ اختیار کیا اسی طرح ملک شہ خراسانی کی اولاد بھی سرسی میں مقیم ہے اور کار موتراشی کرتی ہے یہ دونوں خاندان مذہب حق سے ہی تعلق رکھتے ہیں
تاریخ محلہ سرسی شرقی
سرسی دو بڑے محلوں پر مشتمل ہے غربی اور شرقی دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی کےنواسے اور سید علی عرب نقوی شہید کے پوتے سید حسن عارف نقوی نیشا پوری بادشاہ علاؤ الدین خلجی کے دور میں دہلی تشریف لے گئے وہاں اپ کی ملاقات دو سید برادران سے ہوئی جن کا تعلق سادات بہارہ سے تھا سید بہاؤ الدین زیدی اور سید بڑھاؤ دونوں برادران کسی مشکل میں وارد دہلی تھی اس مسئلے کا حل سید حسن عارف نقوی نے بادشاہ سے کہہ کر کروایا
اور درخواست کی دونوں برادران سے کہ اپ ہمارے ساتھ سرسی چلے جس پر دونوں برادران نے کہا جہاں اپ ہمیں لے جانا چاہتے ہیں وہاں ہمارا کوئی معاش نہیں جس پر سید حسن عارف نقوی نے سرسی کا مشرقی حصہ سید بہاؤالدین زیدی اور سید بڑھؤ کے نام کر دیا جو اج تک نسل در نسل اپ کی اولاد کے حصے میں ہے یاد رہے کہ سید حسن عارف نقوی کی شادی سید بڑھاؤ کی دختر نیک اختر سے ہوئی سرسی کے قدیم شجرے میں سید حسن عارف کے چاروں فرزندوں کے ساتھ نواسے سید بڑھاو تحریر ہے بعد میں سرسی میں اور بھی زیدی وجعفری سادات شرقی اور غربی میں ا کے اباد ہوئے جن میں کئی نامور علماء اور معتبر شخصیات گزری ہیں ۔
بحوالہ تاریخ سادات سرسی
کتاب زین المتقین اور دیگر کتب تاریخ سادات سرسی

( ان سب تاریخی مقامات جن کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تصویر نیچے ساتھ دی جا رہی ہیں )

*تاریخ سرسی سادات**🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ ے رہیں ۔*🌴*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ/علی عر...
04/02/2026

*تاریخ سرسی سادات*

*🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ ے رہیں ۔*🌴

*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ/علی عرب نقوی نیشاپوری*

مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ
*اپیسوڈ - 8*

*سید علی عرب نقوی نیشاپوریؒ — ہجرت، تاریخ اور ہندوستان کی سرزمین*

*تاریخ کا ہولناک موڑ*

632ہجری کے بعد
چھٹی صدی ہجری کے شروع پر،
ایشیا کی سرزمین پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔
چنگیز خان کی تلوار نے خراسان، ماوراءالنہر اور اطراف کو خون میں نہلا دیا۔
شہر اجڑ گئے، مدارس ویران ہو گئے،
علم، نسل اور ایمان خطرے میں پڑ گیا۔

*سبز قدم نیشاپور سےہجرت کا فیصلہ*

تقریباً632ھ
انہی حالات میں
ایک باوقار، باعلم اور ساداتِ نقویہ کے جلیل القدر بزرگ
سید علی نقی بن سید محمود بن سید داؤد بن سید حمزہ بن سید علی شرف الدین نیشاپوری بن سید احمد ابو یوسف بن سید عبداللہ بن سید علی اشقر بن سید جعفر ثانی بن حضرت امام نقی علیہ السلام۔
جو تاریخ میں
سید علی عرب نقوی نیشاپوریؒ کے نام سے معروف ہوئے،
نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔
یہ ہجرت دنیا کے لیے نہیں تھی،
یہ دین، نسل اور علم کو بچانے کی ہجرت تھی۔

*قافلہ تیار ہوتا ہے631ھ کے بعد*

یہ کوئی اکیلے کا سفر نہ تھا۔
اس قافلے میں شامل تھے
ان کے صاحبزادے (پسر)
👉 سید زید کلا نقوی
ان کے بھائی (برادر)
👉 سید اسماعیل نیشاپوری
ان کے بھتیجے (برادرزاد)
👉 سید میر گدان
(سید اسماعیل کے صاحبزادے)
اور ایک وفادار خادم
👉 ملک شاہ خراسانی

*وطن سے جدائی*

تقریباً632ھ
نشاپور… خراسان…
وہ گلیاں جہاں علم بستا تھا،
وہ گھر جہاں نسلیں پلی تھیں،
سب پیچھے رہ گیا۔
آنکھوں میں آنسو تھے،
دل میں یقین تھا
کہ اللہ کی زمین وسیع ہے۔
*سفرِ ہجرت*
تاریخ632ھ تا 635ھ (تقریباً)
یہ سفر آسان نہ تھا۔
راستے غیر محفوظ،
ہر طرف خوف،
مگر قافلہ ثابت قدم رہا۔
یہ صرف جسموں کا سفر نہ تھا،
یہ تہذیب اور روحانیت کی منتقلی تھی۔

*ہندوستان کی سمت*

تاریخ 631ھ کے بعد
آخرکار قافلے نے
ہندوستان کا رخ کیا
وہ سرزمین جو اس وقت
علماء، سادات اور مشائخ کے لیے
پناہ گاہ بن چکی تھی۔

*دہلی کا دور*

تاریخ 632ھ
(دورِ سلطان شمس الدین التمشؒ)
یہ وہ زمانہ تھا
جب دہلی
علم و فضل کا مرکز بن رہا تھا۔
سلطان التمشؒ
علماء اور سادات کا احترام کرنے والا حکمران تھا۔
*ورودِ ہندوستان*

تاریخ تقریباً 632ھ
اسی دور میں
سید علی عرب نقوی نیشاپوریؒ
اپنے صاحبزادے، بھائی، بھتیجے
اور خادم کے ہمراہ
ہندوستان وارد ہوئے۔
یہ محض آمد نہ تھی،
یہ ایک نئی تاریخ کی ابتدا تھی۔

*نسل کی بنیاد*
تاریخ 632ھ کے بعد
یہیں سے
ساداتِ عرب نقویہ کی بنیاد پڑی۔
یہ خاندان
علم، تقویٰ اور خدمتِ دین میں
پہچانا جانے لگا۔
اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھی گئی کہ
یہ سادات
عرب النسل تھے،
نہ کہ پورب یا کسی اور خطے سے۔

*تاریخ کی گواہی*

وقت گزر گیا،
سلطنتیں بدل گئیں،
مگر تاریخ نے گواہی دی
کہ
سید علی عرب نقوی نیشاپوریؒ
اور ان کے ہمراہ آنے والے
ہندوستان میں
علم و نسلِ سادات کے امین بنے۔

یہ ہجرت خوف سے نہیں، یقین سے ہوئی تھی
اور یہی یقین آنے والی نسلوں کی پہچان بن گیا۔
فریز۔۔۔
(جاری ہے۔۔۔ )
✍️ تحریر :-
سید محمد علی زیدی

*تاریخ سرسی سادات**🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ ے رہیں ۔*🌴*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*مستند ...
02/02/2026

*تاریخ سرسی سادات*

*🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ ے رہیں ۔*🌴

*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*

مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ
*ایپیسوڈ نمبر – 7*

*درویشِ خاص “ڈھیاڑی” خدمت، نسبت اور روحانی پہچان*

جب سرسی میں
دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ
کا قیام مستحکم ہو چکا،
اور لوگ آپ کو
صاحبِ کرامت اور مرجعِ خلائق کے طور پر پہچاننے لگے،
اسی دور میں
آپ کے گرد
چند ایسے لوگ جمع ہوئے
جن کا ذکر تاریخ میں
شور سے نہیں
بلکہ خاموش خدمت سے محفوظ ہوا۔
انہی میں ایک نام
درویش ڈھیاڑی کا آتا ہے۔

🕊️ *درویش ڈھیاڑی - کون تھے؟*
ڈھیاڑی
دادا مخدومؒ کے
قریبی خادم اور درویش تھے۔
وہ
نہ عالمِ ظاہر تھے
نہ کسی منصب کے خواہش مند
مگر
اپنے مرشد کی خدمت میں
ہمہ وقت حاضر رہتے۔
ان کی زندگی
سادگی
قناعت
اور اطاعت
کا نمونہ تھی۔

🌿 *خدمت کا مقام*
درویش ڈھیاڑی
مہمانوں کے لیے پانی
قیام کے انتظام
اور روزمرہ ضروریات
خاموشی سے انجام دیتے۔
کتاب میں یہ بھی ملتا ہے کہ
وہ اکثر
راتوں کو جاگ کر
ذکر میں مشغول رہتے
اور
دن کو
خدمت کو عبادت سمجھتے۔
دادا مخدومؒ
ایسے خدام کو
اپنے قریب رکھتے
اور فرمایا کرتے
“اللہ کے راستے میں
جو خدمت سے جُڑ جائے
وہ خود راستہ بن جاتا ہے”

🌙 *روحانی نسبت*
درویش ڈھیاری کی پہچان
ان کا نام نہیں
بلکہ
دادا مخدومؒ سے ان کی نسبت تھی۔
لوگ جانتے تھے
اگر یہ شخص یہاں ہے
تو
دادا مخدومؒ کی نظر اس پر ہے۔
یہی نسبت
انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔

📜 *تاریخی تسلسل*
یہ تمام واقعات
ابتدائی ساتویں صدی ہجری
(تقریباً 600ھ کے بعد)
کے ہیں،
جب سرسی
روحانی مرکز کی شکل اختیار کر رہی تھی
اور
دادا مخدومؒ کے گرد
ایک باوقار، خاموش حلقہ
تشکیل پا چکا تھا۔
یہی وہ مرحلہ ہے
جہاں سے آگے چل کر
سلسلے کا دائرہ
صرف سرسی تک محدود نہ رہا
بلکہ
قریبی علاقوں تک پھیلنے لگا۔

🌾 *نتیجہ - خاموش لوگ، زندہ تاریخ*
درویش ڈھیاڑی
کو تاریخ نے
شہرت نہیں دی
مگر
نسبت عطا کی۔
اور یہی نسبت
دادا مخدومؒ کے سلسلے کی اصل طاقت بنی۔
یہاں سے
اگلا باب کھلتا ہے
*سید علی عرب نیشاپوری* کے تعلق،
ان کی جدوجہد
اور پھر
ان کی شہادت کی طرف…
فریز…
(جاری ہے…)
✍️ تحریر:-
*سید محمد علی زیدی سرسوی*

تاریخ سرسی سادات🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔🌴دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒمستند ایپیسوڈ...
01/02/2026

تاریخ سرسی سادات

🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔🌴

دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ

مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ

ایپیسوڈ نمبر - 6

*دادا مخدومؒ کے اہلِ خانہ - اولاد، تربیت اور سلسلے کی حقیقی بنیاد*

سرسی میں قیام کے بعد

دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ کی زندگی

صرف ایک درویش یا صاحبِ کرامت کی نہ رہی

بلکہ

ایک خاندانِ ہدایت کی صورت اختیار کر گئی۔

یہ وہ مرحلہ تھا

جہاں

روحانیت صرف ذات تک محدود نہ رہی

بلکہ

نسلوں میں منتقل ہونے لگی۔

👨‍👩‍👧‍👦 اولادِ دادا مخدومؒ - مستند نام

تاریخی و خاندانی روایات

دادا مخدومؒ کے اہلِ خانہ میں

سید غلام حیدر المعروف سید حیدر

سید اسماعیل

اور ایک دختر سیدہ ودودةالنساء

شامل تھیں۔

یہ اولاد

صرف نسب کی وارث نہ تھی

بلکہ

سلسلے کی امانت دار تھی۔

🌿 غلام حیدر المعروف سید حیدر

دادا مخدومؒ کے قریب ترین تھے

اور

طبعاً سنجیدہ، خاموش اور خدمت گزار تھے۔

ان کی تربیت میں

ذکر کی پابندی

عوام کے ساتھ حلم

اور بڑوں کا ادب

نمایاں تھا۔

دادا مخدومؒ

اہم معاملات میں

اکثر سید حیدر کو ساتھ رکھتے

تاکہ

مہمانوں کے امور

روزمرہ انتظام

اور سادات کے داخلی معاملات

خاموشی سے سنبھالے جائیں۔

🌙 سید اسماعیل -علم اور وقار

سید اسماعیل

اپنے مزاج میں

نرم، متین اور علم دوست تھے۔

وہ

بزرگوں کی مجالس میں بیٹھتے

آنے والوں کی بات غور سے سنتے

اور اختلاف میں بھی

ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے

دادا مخدومؒ

انہیں اکثر فرمایا کرتے

“ہماری پہچان

بحث نہیں

برداشت ہے”

اسی تربیت نے

سلسلے کو انتشار سے محفوظ رکھا۔

🌸 سیدہ ودودة النساء — وقار اور نسبت کی امین

سیدہ ودودة النساء

دادا مخدومؒ کی واحد دختر تھیں۔

ان کی تربیت

پردہ

صبر

اور اہلِ بیتؑ کی محبت

پر ہوئی۔

وہ

خواتین کے لیے

خاموش رہنمائی کا ذریعہ تھیں

اور

خدمت میں

ہمیشہ پیش پیش رہتیں۔

ان کا کردار

شور میں نہیں

عمل میں ظاہر ہوا۔

🕊️ دادا مخدومؒ کی تربیتی سوچ

دادا مخدومؒ

نے اپنی اولاد کو

کبھی یہ احساس نہ دلایا

کہ وہ کسی خاص مرتبے پر ہیں۔

وہ فرمایا کرتے

“نسب

ذمہ داری ہے

سہولت نہیں”

اسی لیے

اولاد عام لوگوں کے ساتھ بیٹھی

خدمت میں شریک رہی

اور سلسلے کو

نام نہیں

وقار کے ساتھ آگے بڑھایا۔

🌳 نتیجہ — خاندان نہیں، امانت

یوں سرسی میں

دادا مخدومؒ کے اہلِ خانہ

ایک خاندان نہیں

بلکہ

ایک روحانی امانت بن گئے۔

یہی وہ بنیاد تھی

جس پر آگے چل کر

سلسلہ مضبوط ہوا

اور

سرسی سادات کی تاریخ

واضح، مستند اور زندہ رہی۔

فریز…

(جاری ہے…)

✍️ تحریر:

سید محمد علی زیدی سرسوی

*تاریخ سرسی سادات**🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔*🌴*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*مستند ا...
30/01/2026

*تاریخ سرسی سادات*

*🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔*🌴

*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*

مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ
*ایپیسوڈ نمبر - 5*

*مرشد کی نشانی، کرامت کا ظہور، اور سرسی میں قیام کا فیصلہ*

دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ
جب دنیاوی ہنگاموں سے کنارہ کش ہو کر
راہِ تصوف پر گامزن ہوئے،
تو یہ سفر بغیر رہبر کے نہیں تھا۔

🌿 *مرشد کی خاص ہدایت*

تاریخی کتب کے مطابق
دادا مخدومؒ کے مرشدِ کامل
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ
نے رخصت کے وقت ایک خاص نشانی عطا فرمائی۔
وہ نشانی
ایک آسیہ (عصا / لکڑی) تھی
اور اس کے ساتھ یہ مختصر مگر گہری ہدایت
“جہاں یہ آسیہ زمین میں گاڑو،
اگر وہ سبز ہو جائے،
وہیں اپنا بسیرا بنا لینا”
یہ کوئی عام بات نہ تھی،
یہ روحانی اجازت تھی۔

🌱 *آسیہ کا سبز ہونا — فیصلہ کن لمحہ*

جب دادا مخدومؒ
اپنے قریبی ساتھیوں اور خادمین کے ساتھ
لق و دوق صحرا پہنچے،
تو انہوں نے وہ آسیہ زمین میں گاڑ دی۔
تاریخی کتب کے مطابق
کچھ ہی عرصے میں
وہ خشک لکڑی سبز ہو گئی
اور وقت کے ساتھ
ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر گئی
یہ منظر دیکھ کر
ساتھی سادات خاموش ہو گئے
خادمین کی آنکھوں میں یقین اتر آیا
اور دادا مخدومؒ نے فرمایا
“بس…
یہی وہ جگہ ہے”
یوں: سرسی میں قیام کا فیصلہ
کرامت کے ذریعے ثابت ہوا،
دعویٰ کے ذریعے نہیں۔

🤝 *دادا مخدومؒ کے ساتھی اور خادمین*

چند قریبی سادات
اور کچھ مخلص خادمین تھے
جو
سفر کا انتظام
قیام کی ترتیب
آنے والوں کی خدمت
اور روزمرہ امور
سنبھالتے تھے
یہ لوگ
نام کے طالب نہیں تھے
مگر ہر کام میں
دادا مخدومؒ کے ساتھ تھے
اور سب جانتے تھے
اصل مرکز
یہی بزرگ ہیں

🌊 *پانی پر گزرنے کی کرامت*

تاریخی کتب میں ایک اور واقعہ بھی مذکور ہے
جو اہلِ دل کے لیے یقین کا باب ہے۔
ایک موقع پر
دریا راستے میں حائل تھا
کشتی میسر نہ تھی
واپسی مشکل دکھائی دیتی تھی
دادا مخدومؒ
ذکر کی حالت میں تھے
دل اللہ کی طرف متوجہ تھا
کتاب کے بیان کے مطابق
آپ پانی پر گزر گئے
جیسے زمین پر چل رہے ہوں
یہ منظر
ساتھ موجود لوگوں نے دیکھا
اور کسی نے زبان سے کچھ نہ کہا
کیونکہ
جہاں یقین بولتا ہے
وہاں لفظ خاموش ہو جاتے ہیں

🌙 *نتیجہ — کرامت نہیں، نسبت*

یہ تمام واقعات
نہ کسی اعلان کے لیے تھے
نہ کسی برتری کے اظہار کے لیے
بلکہ
مرشد کی اجازت
اللہ کی مدد
اور ایک ولی کی نسبت
کا ظہور تھے۔
اور یہی کرامات
سرسی میں قیام کی بنیاد بنیں
عوام کے دلوں میں یقین کا سبب بنیں
اور دادا مخدومؒ کو
ایک روحانی مرکز بنا گئیں۔
*فریز۔۔۔*
(جاری ہے۔۔۔)
*تحریر:-*
*سید محمد علی زیدی سرسوی*

*تاریخ سرسی سادات**🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔*🌴*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*مستند ا...
29/01/2026

*تاریخ سرسی سادات*

*🌴مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑے رہیں ۔*🌴

*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*

مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ

📖 *ایپیسوڈ نمبر 4*

*راہِ تصوف کا انتخاب، سادات کا قافلہ اور آزمائشوں کی داستان*

جب سیاسی ہنگامے کچھ تھمے
اور تلواروں کی آوازیں وقتی طور پر خاموش ہوئیں،
تو بہت سے لوگ فتح کے ثمرات سمیٹنے میں لگ گئے۔
لیکن
دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ
اور ان کے ہم خیال سادات کے لیے
یہ وقت حساب کا تھا، انعام کا نہیں۔

🌿 *دنیا سے کنارہ — ایک اجتماعی فیصلہ*

یہ فیصلہ صرف دادا مخدومؒ کا نہیں تھا،
بلکہ ان کے ساتھ رہنے والے
اہلِ دل، اہلِ تقویٰ اور اہلِ نسب کا مشترکہ رجحان تھا۔
ان میں وہ سادات شامل تھے
جو اقتدار کے قریب جا سکتے تھے
مگر انہوں نے قربتِ الٰہی کو ترجیح دی
جن کے لیے اصل کامیابی
لوگوں کے دل جیتنا تھی، زمین نہیں
یہ قافلہ
خاموشی سے آگے بڑھا
شہرت سے دور
اور اپنی اصل پہچان
خدمتِ دین اور اصلاحِ خلق کو بنایا۔

🕯️ *مرشد کی جستجو — باطن کی پیاس*

دادا مخدومؒ اور ان کے ساتھی جانتے تھے
بغیر رہبر کے سفر،
منزل نہیں دکھاتا
اسی جستجو نے انہیں
شیخ شہاب الدین سہروردیؒ
کے روحانی سلسلے تک پہنچایا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں
ظاہری طاقت بے معنی ہو گئی
نسب کے ساتھ تزکیۂ نفس لازم ٹھہرا
اور سادات نے خود کو
عام بندوں سے زیادہ جواب دہ سمجھا۔

🌑 *آزمائشیں — عزت بھی، مخالفت بھی*

سلسلہ آگے بڑھا تو
ہر جگہ یکساں حالات نہ ملے۔
تاریخی کتب کے مطابق
کہیں سادات کا استقبال ہوا
کہیں حسد جاگا
کہیں سوال اٹھے
اور کہیں کھلی مخالفت سامنے آئی
کچھ علاقوں میں
ان کی تبلیغ کو خطرہ سمجھا گیا
ان کے اثر سے طاقتور لوگ خائف ہوئے
اور ان پر دباؤ ڈالا گیا
کہ وہ یہاں قیام نہ کریں
یہی وہ لمحے تھے جہاں
کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے
مگر دادا مخدومؒ اور ان کے قریبی ساتھی
ڈٹے رہے

🤝 *ساتھی کون تھے؟*

تاریخی کتب واضح کرتی ہے کہ
دادا مخدومؒ تنہا نہیں تھے۔
ان کے گرد
اہلِ علم
اہلِ عبادت
اور وہ سادات
جنہوں نے اپنی زندگیاں
اس سلسلے کے لیے وقف کر دیں
یہ لوگ
نئے علاقوں میں جاتے
مساجد اور خانقاہوں کی بنیاد رکھتے
لوگوں کے جھگڑے سلجھاتے
اور ظلم کے مقابلے میں
اخلاق اور صبر کو ہتھیار بناتے۔

🌾 *عوام کو فائدہ — خاموش انقلاب*

اس سلسلے کی برکت سے
بے آباد علاقے آباد ہوئے
لوگ اسلام سے مانوس ہوئے
جھوٹ، ظلم اور جاہلیت میں کمی آئی
اور سادات
عوام کے لیے سہارا بنے
یہ سب
بغیر اعلان
بغیر جھنڈے
بغیر تخت کے ہوا
یہی وجہ ہے کہ
ان کا نام کم لکھا گیا،
مگر اثر صدیوں تک قائم رہا

🌙 *آگے کا راستہ*

اب وقت آ رہا تھا
ایک مستقل مرکز کا…
ایک ایسی جگہ کا جہاں
عبادت ہو
تعلیم ہو
اور سلسلہ جڑ پکڑے
یہی سفر
دادا مخدومؒ اور ان کے ساتھیوں کو
سرسی کی طرف لے جا رہا تھا…
*فریز،۔۔*
(جاری ہے۔۔۔)
*تحریر:-*
*سید محمد علی زیدی سرسوی*

فرضی تصویر لگائی گئ ہے۔*تاریخ سرسی سادات**🌴مطالعہ کریں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ جائیں۔*🌴*دادا مخدوم سید جمال الدین زید...
28/01/2026

فرضی تصویر لگائی گئ ہے۔
*تاریخ سرسی سادات*

*🌴مطالعہ کریں اور اپنی قدیم تاریخ سے جوڑ جائیں۔*🌴

*دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ*
مستند ایپیسوڈ وائز سلسلہ

📖 *ایپیسوڈ (مرکزی)*

*دادا مخدومؒ — فتنوں کا دور، سادات کی آزمائش، اور حق کے ساتھ کھڑے چند لوگ*

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کی زمین
صرف اقتدار کی جنگ نہیں دیکھ رہی تھی،
بلکہ عقیدے، نسب اور شناخت کی جنگ بھی جاری تھی۔
اس زمانے میں
ساداتِ *رسول ﷺ* ہونا
صرف شرف نہیں تھا،
بلکہ ایک بھاری ذمہ داری اور خطرہ بھی تھا۔

🌑 *خطرناک زمانہ سادات پر کڑا وقت*

کتاب کے مطابق یہ وہ دور تھا جب
مختلف سلطنتیں برسرِ پیکار تھیں
مقامی راجے، سردار اور طاقتور گروہ
ہر اس آواز سے خائف تھے جو دلوں پر اثر رکھتی ہو
اور سادات چونکہ
نسبِ *رسول ﷺ* کے امین تھے
عوام میں عزت رکھتے تھے
اور حق بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے
اس لیے کئی مقامات پر
ان پر نظر رکھی جاتی
ان کی حرکت محدود کی جاتی
اور بعض اوقات جان تک خطرے میں پڑ جاتی
یہی وہ ماحول تھا جس میں
دادا مخدوم سید جمال الدین زیدی واسطیؒ
نے آنکھ کھولی اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔

🌿 *دادا مخدومؒ — تلوار کے نہیں، کردار کے مجاہد*

تاریخی کتب صاف بتاتی ہیں کہ دادا مخدومؒ نہ صرف نسب کے اعتبار سے ممتاز تھے،
بلکہ
علم
حلم
وقار
اور روحانی اثر
میں بھی اپنے وقت کے سادات میں نمایاں تھے۔
جب سیاسی کشمکش اپنے عروج پر تھی،
تو ساداتِ زیدیہ کے بعض افراد
مجبوری اور مصلحت کے تحت
ایک ایسے لشکر کے ساتھ آئے
جہاں ان کا مقصد
اقتدار حاصل کرنا نہیں
بلکہ امت کا وجود محفوظ رکھنا تھا۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے
دادا مخدومؒ اور ان کے ساتھی
کسی سلطنت کے نمائندے نہیں تھے،
وہ اپنے نسب، دین اور عوام کے محافظ تھے۔

🤝 *دادا مخدومؒ کے ہمراہ کون تھے؟*

تاریخی کتب کے مطابق، اس دور میں دادا مخدومؒ کے ساتھ
ساداتِ زیدیہ کے چند معزز افراد
اہلِ تقویٰ
اور وہ لوگ شامل تھے
جن کا جھکاؤ طاقت نہیں، حق کی طرف تھا
یہ لوگ
لشکر میں رہ کر بھی
دنیاوی لالچ سے الگ رہے
اور ہر موقع پر
دادا مخدومؒ کو اپنا روحانی مرکز مانتے تھے۔

🕊️ *جنگ کے شور میں ایک خاموش فیصلہ*

جب حالات کچھ سنبھلے
اور فتنہ وقتی طور پر تھما،
تو دادا مخدومؒ نے ایک ایسا فیصلہ کیا
جو صرف اولیاء ہی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے
اقتدار سے کنارہ کیا
شہرت سے دوری اختیار کی
اور خود کو
*اللہ،* عبادت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیا
یہیں سے
دادا مخدومؒ کی زندگی کا
نیا باب شروع ہوتا ہے…

🌙 *ایک نئی سمت*

یہ وہ لمحہ تھا جب-
ایک مجبوری کا ساتھ ختم ہوا
اور ایک اختیاری روحانی سفر شروع ہوا
آگے-
نہ لشکر تھا
نہ جنگ
نہ سیاسی دباؤ
بلکہ،
مرشد کی تلاش
باطن کی اصلاح
اور وہ راستہ
جو آگے چل کر سرسی کو مرکز بناتا ہے۔
*فریز۔۔۔*
(جاری ہے۔۔۔)
*تحریر:-*
*سید محمد علی زیدی سرسوی*

Address

Karachi
632

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمنِ ساداتِ سرسی کراچی پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share