21/02/2026
آخری معرکہ اور گونگا درخت
سب کی تیاریاں مکمل ہیں..
ہم کہاں ہیں ؟
سیو غرقد ٹری ( Save gharqad tree ) مگ قیمت 10 پاؤنڈ، سیو غرقد ٹی شرٹس 37 پاؤنڈز ، سیو غرقد پی کیپ 10 پاؤنڈز، سیو غرقد کچن ایپرن ،سیو غرقد ھینڈ بیگ، سیو غرقد شرٹ بٹن سیو غرقد اسٹیشنری، سیو غرقد ملبوسات پرفیومز، کچن کراکری، اور سیو غرقد کی ان گنت اشیاء کی فروخت ۔۔۔۔ سیو غرقد کے لئے فنڈ ریزنگ ، غرقد کے لئے چندہ مہمیں اور غرقد کی کاشت کا اسرائیلی مشن۔۔۔ ان تمام اشیاء کی فروخت کی کمائی سے حاصل ھونے والی رقم کو غرقد کی کاشت کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
یہ غرقد کیا ھے؟۔ اس کی کاشت کے لئے یہ لوگ کیوں باؤلے ھوئے پھر رھے ھیں؟
ان تمام اشیا پر ایک درخت کی تصویر بنی ھوئی ہے اس تصویر کو توجہ سے دیکھئیے۔ اس میں ایک مرد اور ایک عورت ایک درخت کے پیچھے چھپتے ھوئے دیکھے جا سکتے ھیں۔ یہی درخت غرقد ھے۔ پورے اسرائیل میں اس درخت کو انتہائی تیزرفتاری سے کاشت کیا جا رھا ھے غرقد کی کاشت کی مہم اسرائیلی ریاست کی سطح پر چلائی جا رھی ھے۔ خود اسرائیلی وزیراعظم اس تصویر میں ایک جگہ یہی درخت لگاتا ھوا نظر آ رھا ھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے انڈیا سے بھی کہا ھے کہ وہ اپنے ملک کی تمام بنجر اراضی پر غرقد کی کاشت کرے جس کا تمام تر معاوضہ اسرائیل برداشت کرے گا۔ کیا یہ سب پاگل ھوچکے ھیں؟؟؟ نہیں دنیا کے تمام وسائل پر قابض یہودی پاگل نہیں ھیں یہ بہت ذھین قوم ھے ۔ یہ قوم اپنے مذھب سے زیادہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتی ھے۔ ان لوگوں نے احادیث کی تمام کتابیں پڑھ رکھی ھین۔ غرقد کی کاشت کی مہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک کی وجہ سے چلائی جا رھی ھے۔ صحیح مسلم کی وہ حدیث مندرجہ ذیل ھے۔۔۔۔
[صحيح مسلم » كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ » بَاب " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ ... رقم الحديث: 5207]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یخودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہ پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ شخص میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ ان کے درختوں میں سے ہے۔
[صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2838 / 14635حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 6
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The last hour would not come unless the Muslims will fight against the and the Muslims would kill them until the would hide themselves behind a stone or a tree and a stone or a tree would say: Muslim, or the servant of Allah, there is a behind me; come and kill him; but the tree Gharqad would not say, for it is the tree of the Je.
یہ لوگ جانتے ھیں کہ آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والا ھر لفظ سچا ھے اور ھر قیمت پر پورا ھونے والا ھے۔ چنانچہ یہ اس حدیث کی روشنی میں غرقد کی کاشت میں لگے ھوئے ھیں تاکہ مسلمانوں سے جنگ کے دوران جب اس زمیں کی ھر چیز پکار پکار کر کہے گی کہ اے مسلمانون میرے پیچھے یہ چھپا ھوا ھے اسے قتل کر دو تو اس وقت یہی درخت گونگا بن کر اس چھپے ھوئے کی پناہ گاہ بن جائے گا۔ وہ جانتے ھیں ایسا ھی ھوگا۔ یہ معرکہ ھوکر رھے گا ۔۔۔۔۔ اس معرکے میں انشاللہ اس دنیا سے یہودیت کا مکمل خاتمہ ھوجائے گا اور اس دنیا کے انسان ھزاروں سال بعد اس زمین کو ان کی ساشوں سے محفوظ ایک جنت کا نمونہ پائیں گے۔
ھمارے لئے اس میں سبق کی بات یہ ھے کہ ان جیسے بدترین بھی ھمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ھر بات کو سچ مانتے ھیں تو کیا ھم ان سے بھی بدتر نہیں جو آپ ؐ کے احکامات کے منکر ھوچکے ھیں؟ ذرا سوچئیے گا۔۔۔۔
یہاں ایک اور بات نہایت حیران کن ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان مبارک سے یہ الفاظ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت دور دور تک اسرائیل کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دنیا میں کسی بھی جگہ ان کی کوئی چھوٹی سی بھی ریاست نہ تھی بلکہ یہ قوم چھوٹے چھوٹے گروھوں میں منتشر ھوکر حقیر سی تعداد میں دنیا میں ادھر ادھر دھکے کھاتی پھر رھی تھی۔ چودہ سو سال تک مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر رھے کہ کہاں یہ اور کہاں غرقد کے درخت کی اتنی بڑی تعداد میں کاشت !!!! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب ھوتا اپنی آنکھوں سے اس زمانے میں دیکھ رھے تھے ۔۔۔
یہ لوگ تو ھمارے نبی ﷺ کی باتیں پڑھ کر جاگ گئے معلوم نہیں ھم کب جاگیں گے؟؟؟؟
مجنوں