Qazi Tariq - Writes

Qazi Tariq - Writes Awami Raaj Tehreek Pakistan, Spokesperson' Media Cell

14/08/2026

یہود کو پاکستان سے تکلیف ہے، خوارج کو پاکستان سے تکلیف ہے، BJP اور RSS کو پاکستان سے تکلیف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام کے دشمنوں کے دلوں میں جس طرح اسلام کے لیے بغض، عداوت اور دشمنی ہے، اسی طرح پاکستان کے وجود سے بھی نفرت اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔

اس سے بڑی علمی خیانت اور جہالت کیا ہوگی کہ کوئی پاکستان کو ایک قدرتی ریاست کے بجائے ’’مصنوعی ریاست‘‘ قرار دے؟ امریکہ، برطانیہ، بھارت، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر وفاقی ریاستوں کے شہریوں سے پوچھ لیجیے؛ ان کے دلوں میں اپنے وطن کے لیے عقیدت، محبت اور ضرورت پڑنے پر جان و مال قربان کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں کچھ نام نہاد دانشوروں اور پاکستان مخالف نظریات رکھنے والوں نے علمی جہالت کو فروغ دینے کو اپنا فریضہ بنا لیا ہے۔

دنیا کی ہر ریاست مسائل اور بحرانوں سے گزرتی ہے۔ کہیں عدلیہ پر سوال اٹھتے ہیں، کہیں اسٹیبلشمنٹ پر، کہیں سیاست دانوں پر، کہیں مافیاز، سنڈیکیٹس، سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں اور اشرافیائی اولیگارکی کے اثر و رسوخ پر۔ مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں؛ مگر کیا ان مسائل کی وجہ سے ہم ریاست کے وجود کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیں؟

ایک سادہ سی مثال سے سمجھاتا ہوں: اگر کسی مسجد کا امام گناہ گار ہو جائے، شرابی یا زانی ہو، تو کیا اس کی سزا کے طور پر ہم مسجد کو شہید کر دیں گے؟

اور اگر وہ امام طاقتور ہو، اس کے پیچھے اس کی جماعت اور حامی بھی کھڑے ہوں، تو کیا ہم مسجد کو ختم کر دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہم ہر ممکن طریقے سے امام کو اس منصب سے ہٹانے اور مسجد کو اس کے شر سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے۔

کیونکہ مسئلے کا حل وجود کا انکار نہیں، بلکہ اصلاح اور تطہیر ہے۔

پاکستان بھی اسی اصول کے تحت قائم ہوا تھا اور آج بھی قائم ہے۔ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی عہد اور ایک ذمہ داری ہے—ایسی ذمہ داری جس کا مقصد نہ صرف مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کرنا بلکہ دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کے حق میں بھی آوازِ حق بلند کرنا ہے۔

پاکستان میں اگر مسائل ہیں تو ان کا حل پاکستان کو مٹانا نہیں، پاکستان کو بہتر بنانا ہے۔ اگر اداروں میں خرابیاں ہیں تو اداروں کی اصلاح کیجیے؛ اگر سیاست میں خرابی ہے تو سیاست کی اصلاح کیجیے؛ اگر مافیا اور اشرافیہ طاقتور ہیں تو ان کے خلاف جدوجہد کیجیے۔

مگر پاکستان کے وجود کو نشانہ بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔

میں ہر محاذ پر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا رہوں گا، کیونکہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر پاکستان کے وجود اور نظریاتی اساس سے دستبرداری میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔

12 اگست 1947 ہماری آزادی کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھا—اسی روز ریاستِ جوناگڑھ کے پاکستان سے الحاق کا اعلان اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سرکاری لقب کا فیصلہ ہوا۔

تمام عزیز ہم وطنوں کو 12 اگست کی تاریخی یاد کے ساتھ ساتھ آنے والے یومِ آزادی، 14 اگست، کی بھی پیشگی دلی مبارکباد۔

آئیے اپنے ان تاریخی ایام کو یاد رکھیں، پاکستان کی آزادی کی قدر کریں اور وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کریں۔

اسلام سربلند باد!
پاکستان زندہ باد!
سندھ پائندہ باد!

از طرف
قاضی طارق محمود

پاکستان ہم نے صرف حاصل نہیں کیا تھا، پاکستان ہم نے مانگا تھا۔ ایک ایسی غلام قوم نے، جو صدیوں تک ایک بڑی سلطنت کا حصہ رہن...
13/08/2026

پاکستان ہم نے صرف حاصل نہیں کیا تھا، پاکستان ہم نے مانگا تھا۔ ایک ایسی غلام قوم نے، جو صدیوں تک ایک بڑی سلطنت کا حصہ رہنے کے بعد برطانوی اقتدار کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہی تھی، اپنے رب کے سامنے آزادی کی خواہش رکھی، اس کے لیے جدوجہد کی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 14 اگست 1947ء کو ایک ایسی ریاست وجود میں آگئی جس کے قیام کو کچھ ہی عرصہ پہلے تک بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔ آج 14 اگست پر سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کب بنا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا؟ اور جس مقصد کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا، کیا ہم آج بھی اسی مقصد پر قائم ہیں؟

قرآن بنی اسرائیل کی داستان میں ہمیں ایک ایسا آئینہ دکھاتا ہے جس میں قوموں کا عروج و زوال دیکھا جاسکتا ہے۔ فرعون کے ظلم سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمت یاد دلائی: “اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی۔” (البقرہ 2:47)۔ یعنی آزادی صرف غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے کا نام نہیں؛ آزادی کے بعد نعمت دینے والے رب کو یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ قوم اگر مصیبت میں اللہ کو پکارے، آزادی ملنے پر اسی رب کے احکام، عہد اور ذمہ داریوں کو بھول جائے تو آزادی اس کے لیے نعمت کے ساتھ ساتھ امتحان بھی بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے قیام کی پوری تاریخ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہے: کیا ہم نے بھی آزادی سے پہلے کیا ہوا اپنا عہد بھلا دیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے بھی حکمران اور رعایا کے تعلق کو محض سیاسی معاملہ نہیں رہنے دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں۔” (صحیح مسلم، 1855)۔ یہ حدیث ہمیں ایک تلخ حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: قوموں کے حکمران ان کے اجتماعی کردار اور حالات سے الگ نہیں ہوتے۔ ہم ظالم حکمرانوں کا شکوہ تو کرتے ہیں، لیکن کیا کبھی یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ہماری اجتماعی زندگی میں عدل، امانت، دیانت اور حق کی کتنی قدر باقی رہ گئی ہے؟ اگر ہم نے اپنے مقصد کو بھلا دیا ہے تو صرف حکمران بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ قوم کو اپنا کردار بھی بدلنا ہوگا۔

پاکستان کا مطالبہ کسی زمین، زبان یا نسل کی بنیاد پر محض ایک انتظامی تقسیم کا مطالبہ نہیں تھا۔ علامہ اقبال نے 28 مئی 1937ء کو قائداعظم کے نام اپنے خط میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کے عملی نفاذ کی ضرورت بیان کرتے ہوئے ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو اپنی دینی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سیاسی آزادی ضروری تھی۔ یوں تحریکِ پاکستان کے فکری پس منظر میں سوال صرف یہ نہیں تھا کہ مسلمان کہاں رہیں گے؛ سوال یہ بھی تھا کہ وہ کس نظریے اور کن اصولوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ (علامہ اقبال، قائداعظم کے نام خط، 28 مئی 1937ء)

اور ذرا اس زمانے کا نقشہ ذہن میں لائیے۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت، برطانوی سلطنت؛ دوسری طرف کانگریس اور متحدہ ہندوستان کا سیاسی تصور؛ اور تیسری طرف برصغیر کے مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ وہ اپنے لیے ایک الگ وطن چاہتے ہیں۔ دنیا کے سیاسی حساب کتاب میں یہ مطالبہ آسانی سے قابلِ عمل نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جس چیز کو سیاسی طور پر ناممکن سمجھا جا رہا تھا، وہ 14 اگست 1947ء کو حقیقت بن گئی۔ پاکستان بن گیا۔

لیکن شاید پاکستان کے قیام سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اسے زندہ کیسے رکھا گیا؟ ایک نوزائیدہ ریاست کے پاس نہ مکمل انتظامی ڈھانچہ تھا، نہ وسائل، نہ مستحکم دفاعی نظام۔ لاکھوں مہاجرین سرحد پار کرکے پاکستان پہنچ رہے تھے، نئے ادارے تشکیل پا رہے تھے، معاشی بحران موجود تھا اور کشمیر کا مسئلہ سامنے آچکا تھا۔ تقسیمِ اثاثہ جات پر بھی شدید تنازع پیدا ہوا۔ پاکستان کے حصے کے مالی وسائل کی ادائیگی روکنے کا معاملہ اسی ابتدائی بحران کا حصہ تھا۔ نومولود ریاست کو اپنے قیام کے فوراً بعد ایسے مسائل کا سامنا تھا جو کسی بھی نئی مملکت کی کمر توڑ سکتے تھے۔

کشمیر کے ابتدائی بحران نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کردیا۔ 1947ء میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ کمان میں اب بھی برطانوی افسران موجود تھے اور قائداعظم کو اپنی ہی فوج کے حوالے سے ایسے عملی اور کمانڈ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جو کسی مکمل خودمختار ریاست کے لیے ناقابلِ تصور معلوم ہوتے ہیں۔ جنرل ڈگلس گریسی اور قائداعظم کے درمیان کشمیر کے حوالے سے احکامات کا واقعہ اسی پیچیدہ عبوری صورتحال کی علامت ہے۔ پاکستان آزاد ہوچکا تھا، مگر اسے اپنی مکمل خودمختاری کے عملی ڈھانچے تک پہنچنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا تھا۔

ایک مسلمان کے لیے پاکستان کی تاریخ صرف سیاسی تاریخ نہیں رہتی۔ وہ اس میں اللہ کی قدرت کے آثار بھی دیکھتا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے بننے کی مخالفت ہوئی، جس کے قیام کو ناممکن سمجھا گیا، جس کے وجود کے فوراً بعد اس کے زندہ رہنے پر سوال اٹھے، جس نے مالی، انتظامی، دفاعی اور سیاسی بحرانوں کے درمیان اپنا سفر شروع کیا—وہ آج بھی دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے پاکستان کا قیام کسی غیر معمولی تاریخی معجزے سے کم نہیں۔

مگر یہاں ایک بنیادی سوال پھر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: آخر اس ملک کا مقصد کیا تھا؟

ہمارا نمونہ خلافتِ راشدہ کا تصور تھا؛ ایسا نظام جس میں حاکم خود کو مالک نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہ امانت دار سمجھے، اقتدار ذاتی مفاد نہیں بلکہ ذمہ داری ہو، قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو اور ریاست کا بنیادی مقصد عدل ہو۔ قائداعظم نے بھی اسلامی تاریخ اور خلافتِ راشدہ کے اصولوں کو ایک قابلِ غور نمونہ قرار دیا۔ چنانچہ پاکستان کو صرف “مسلمانوں کے لیے ایک زمین” سمجھ لینا اس کے بڑے نظریاتی مقصد کو بہت محدود کردینا ہے۔ زمین مقصد نہیں تھی؛ زمین مقصد کے حصول کا وسیلہ تھی۔

یہاں ایک اور غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ مقامی قومیت اپنی جگہ محبت اور شناخت کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔ سندھی اپنی سندھ سے محبت کرے، پنجابی پنجاب سے، بلوچی بلوچستان سے، پختون اپنے خطے سے—یہ سب فطری جذبات ہیں۔ مگر اسلام نے انسان کو جغرافیے کی قید میں بند نہیں کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ فارس کے رہنے والے تھے، لیکن اسلام نے انہیں عرب یا فارس کی حد تک محدود نہیں کیا۔ وہ ایسی امت کا حصہ بنے جس کی بنیاد نسل اور سرزمین نہیں بلکہ ایمان اور عدل تھا۔

رسول اللہ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ آپ ﷺ کا وطن تھا، آپ ﷺ کی جائے پیدائش تھی۔ مگر جب اللہ کا حکم آیا تو آپ ﷺ نے مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرمائی۔ مدینہ کو مرکز بنایا، پھر مکہ فتح کیا، لیکن فتح کے بعد بھی اسلام کا مقصد مکہ کو عربی قوم پرستی کا مرکز بنانا نہیں تھا۔ اصل مسئلہ مکہ یا مدینہ نہیں تھا؛ اصل مسئلہ اللہ کی بندگی، حق، عدل اور اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اجتماعی زندگی قائم کرنا تھا۔

یہی پاکستان کے لیے بھی اصل سبق ہے۔ اگر ہمیں سندھ سے محبت ہے تو اس محبت کا سب سے بلند اظہار یہ ہونا چاہیے کہ سندھ میں عدل ہو۔ اگر پاکستان سے محبت ہے تو اس محبت کا سب سے بلند اظہار یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان میں انصاف ہو۔ اگر اسلام سے محبت ہے تو اس محبت کا ثبوت یہ ہونا چاہیے کہ طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہو، کمزور بھی باعزت ہو، حاکم بھی امانت دار ہو اور مظلوم بھی تنہا نہ ہو۔ اللہ کی حاکمیت کا مطلب یہی ہے کہ انسانوں پر انسانوں کی من مانی کے بجائے اللہ کے دیے ہوئے عدل کے اصول غالب ہوں۔

افسوس یہ ہے کہ آج ہم پاکستان کے مقصدِ حیات سے بہت دور دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے اسلام کو کبھی نعرہ بنا دیا، کبھی سیاست کا ہتھیار اور کبھی صرف شناخت کی علامت؛ مگر اسلام کے سب سے بڑے عملی تقاضے—عدل، امانت، دیانت، رحم، مساوات اور انسانی وقار—ہماری اجتماعی زندگی میں وہ مقام حاصل نہ کرسکے جو انہیں ملنا چاہیے تھا۔ ہم ظالم حکمرانوں کا شکوہ کرتے ہیں، لیکن اپنے معاشرے میں جھوٹ، سفارش، خیانت، ناانصافی اور طاقت کے غلط استعمال کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کیوں ختم نہیں ہوتے۔

شاید ہمیں یہ سوال حکومت سے پہلے اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا: ہم نے پاکستان سے کیا چاہا تھا، اور پاکستان کو ہم نے کیا دیا؟ ہم نے آزادی مانگی تھی، مگر کیا ہم نے ذمہ داری قبول کی؟ ہم نے اسلام کے نام پر ایک ریاست چاہی تھی، مگر کیا ہم نے اسلام کے عدل کو اپنی زندگیوں میں جگہ دی؟ ہم نے اللہ سے مدد مانگی تھی، مگر کیا نعمت ملنے کے بعد ہم نے اپنے رب کو یاد رکھا؟

قوموں پر آزمائشیں آتی ہیں، مگر ہر آزمائش کو عذاب کہنا درست نہیں۔ قرآن ہمیں البتہ یہ اصول ضرور دیتا ہے کہ قوموں کی حالت ان کے اعمال سے جڑی ہوتی ہے: “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (الرعد 13:11)۔ اس لیے اگر ہم ظالم حکمرانوں، ناانصافی، بدعنوانی اور قومی زوال سے نجات چاہتے ہیں تو صرف حکمرانوں کو بدلنا کافی نہیں؛ ہمیں اپنی اجتماعی ترجیحات، اپنا کردار اور اپنے مقصد کو بھی بدلنا ہوگا۔

اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے مقصدِ حیات سے جتنا بھی دور ہوگیا ہو، وہ آج بھی ان قوتوں کی نظر میں اہم ہے جو ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے وجود کو اپنے لیے چیلنج سمجھتی ہیں۔ جنہوں نے اس کے قیام کو روکنے کی کوشش کی، جنہوں نے اس کے زندہ رہنے پر سوال اٹھائے، وہ پاکستان کے نظریاتی وجود کو آج بھی نظرانداز نہیں کرسکتے۔ مگر ہمیں بیرونی دشمنوں سے پہلے اپنے اندر کے دشمن کو پہچاننا ہوگا: مقصد سے دوری، ناانصافی، بدعنوانی، تعصب اور قومی خود فراموشی۔ کیونکہ باہر کا دشمن کسی قوم کو اتنا کمزور نہیں کرسکتا جتنا ایک قوم خود اپنے مقصد کو بھول کر ہوجاتی ہے۔

لہٰذا اس 14 اگست پر ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پاکستان زندہ باد۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ پاکستان کو زندہ رکھنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟ شاید اس پورے فلسفے کو ایک جملے میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: ریاست اپنے کام کا آغاز بسم اللہ سے کرے اور اپنے ہر فیصلے کا اختتام الحمدللہ پر؛ اقتدار کو اللہ کی امانت سمجھے، انسان کو اللہ کی مخلوق سمجھے، اور حکومت کو عدل و انصاف کا ذریعہ بنائے۔

پاکستان کا مقصد شاید اس سے زیادہ پیچیدہ کبھی تھا ہی نہیں۔ ہم نے ایک ایسی ریاست حاصل کی تھی جہاں مسلمان اپنی دینی و تہذیبی شناخت کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں اور جہاں اجتماعی زندگی عدل، امانت اور انسانی وقار کے اصولوں پر قائم ہو۔ اگر ہم آج بھی اس مقصد کو سمجھ لیں تو شاید پاکستان کو صرف بچایا ہی نہیں، اسے وہ پاکستان بھی بنایا جاسکتا ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی کی 79ویں سالگرہ پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت کی قدر، اس امانت کی حفاظت اور اپنے اس مقصد کو سمجھنے اور پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسلام سربلند باد!
پاکستان زندہ باد!
سندھ پائندہ باد!

از
قاضی طارق محمود

10/08/2026

سندھ کی پکار پر ہر رکاوٹ عبور کریں گے، لبیک یا سندھ: ترجمان عوامی راج تحریک

کراچی: عوامی راج تحریک پاکستان کے چیئرمین بیرسٹر سید خلیل احمد کے ترجمان قاضی طارق محمود نے سندھ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے:

**"دفعہ 144 ہو، کرفیو ہو یا مارشل لا، جب سندھ دھرتی پکارے گی تو سندھ کے پروانے ہر رکاوٹ کو ٹھوکر مارتے ہوئے دیوانہ وار آگے بڑھیں گے اور پکاریں گے:

لبیک یا سندھ! لبیک یا سندھ! لبیک یا سندھ!"**

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

مکہ معاہدے کے حوالے سے بہت پہلے ہی یہ خبریں اور تجزیے سامنے آ چکے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سکیورٹی فریم ورک یا علا...
09/08/2026

مکہ معاہدے کے حوالے سے بہت پہلے ہی یہ خبریں اور تجزیے سامنے آ چکے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سکیورٹی فریم ورک یا علاقائی دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ اس لیے جو لوگ آج اسے صرف امریکا اور ایران کی جنگ کے بعد کی کوئی نئی پیش رفت سمجھ رہے ہیں، میرے خیال میں وہ شاید اس پوری صورتحال کو صرف ایک محدود زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ معاملہ اس سے کہیں پہلے شروع ہو چکا تھا۔

سب سے مضبوط حوالہ Al Jazeera Centre for Studies کا ہے۔ 14 مئی 2026 کو وہاں Ismail Numan Telci کا ایک تفصیلی تجزیہ شائع ہوا، جس کا عنوان تھا: “The Emergence of a Regional Security Framework: Türkiye, Pakistan, Saudi Arabia and Egypt”۔ اس میں واضح طور پر ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک ابھرتے ہوئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی بات کی گئی تھی۔ مضمون میں 19 مارچ 2026 کو ریاض میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا بھی حوالہ موجود تھا، جہاں مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کے تحت اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے امکانات زیرِ بحث آئے تھے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ہی یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ آیا یہ ابھرتا ہوا تعاون مستقبل میں ایک مستقل علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے یا یہ صرف موجودہ بحران کا عارضی ردِعمل ہے۔ یعنی یہ تصور مکہ معاہدے کے سامنے آنے کے بعد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا؛ اس کے خدوخال پہلے ہی عالمی اور علاقائی سطح پر زیرِ بحث آ چکے تھے۔

اس کے بعد 25 اپریل 2026 کو South China Morning Post میں Tom Hussain کا مضمون شائع ہوا: “The Middle East's new power brokers? Pakistan, Turkey, Saudi Arabia, Egypt unite”۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون کا حوالہ خود الجزیرہ کے مذکورہ تحقیقی تجزیے میں بھی موجود ہے۔ یعنی اپریل میں ہی ان چاروں ممالک کو ایک ابھرتے ہوئے تزویراتی اتحاد کے طور پر دیکھا اور شناخت کیا جا رہا تھا۔

اور اس سے بھی پہلے، 14 جنوری 2026 کو The Times of Israel Blogs میں ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا: “Saudi–Pakistan–Turkey–Egypt Defense Pact, crisis in West Asia”۔ اس میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر پر مشتمل ایک ممکنہ مربوط دفاعی معاہدے کا تصور براہِ راست زیرِ بحث آیا تھا۔ شاید یہ اس سوال کا سب سے براہِ راست جواب ہے کہ کیا اس طرح کے کسی اتحاد کا تصور پہلے سے زیرِ بحث تھا، کیونکہ مضمون کے عنوان ہی میں چاروں ممالک اور دفاعی معاہدے کا ذکر موجود ہے۔

تو پھر اصل سوال یہ نہیں کہ یہ خیال اچانک کہاں سے آیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کس بڑے تزویراتی منظرنامے کا حصہ ہے؟

میرا تجزیہ یہ ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ کا سکیورٹی کنٹرول بتدریج کثیر قطبی ہونے جا رہا ہے۔ یعنی خطے کی سکیورٹی صرف امریکا یا کسی ایک بڑی طاقت کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان تقسیم، شراکت اور توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا امریکا واقعی مشرقِ وسطیٰ سے پیچھے ہٹنا چاہ رہا ہے؟

میرے خیال میں معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ اگر امریکا کچھ ذمہ داریاں علاقائی طاقتوں کو منتقل کر رہا ہے یا اپنی براہِ راست موجودگی میں کمی لا رہا ہے تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ امریکا خطے سے اپنی دلچسپی ختم کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی طویل المدت ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہو اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی کچھ ذمہ داری علاقائی اتحادیوں اور طاقتوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہو۔

اب جو لوگ اسے صرف امریکا اور ایران کی جنگ کے بعد ہونے والی پیش رفت سمجھ رہے ہیں، میرے خیال میں وہ ایک اہم نکتہ نظر انداز کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ موجودہ واقعات نے اس عمل کو تیز کیا ہو، لیکن اس کے بنیادی خدوخال پہلے ہی بننا شروع ہو چکے تھے۔

پھر سوال یہ ہے کہ امریکا آخر پیچھے کی طرف کیوں مڑ رہا ہے؟

اس کا ایک ممکنہ جواب طویل المدت عالمی سکیورٹی ترجیحات میں چھپا ہو سکتا ہے۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ شاید امریکا اور اس کے اتحادی مستقبل میں کسی بڑی جغرافیائی و سیاسی کشمکش کے لیے اپنی ترجیحات تبدیل کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آنے والے کسی بڑے عالمی تنازع میں ایک بار پھر امریکا اور یورپ مل کر پیش قدمی کر سکتے ہیں، نیٹو کا کردار اہم ہو سکتا ہے اور اسرائیل کو بھی مغربی سکیورٹی نظام میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اور اس کے لیے امریکا صرف اپنی عسکری صلاحیتوں پر انحصار نہیں کرے گا، بلکہ یورپ اور اپنے دوسرے اتحادیوں کو بھی دفاعی طور پر مضبوط ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔ خطرات اور خدشات کو عوام کے سامنے زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے، تاکہ دفاعی اخراجات بڑھانے، فوجی صلاحیتیں بہتر بنانے اور نئی عسکری تیاریوں کے لیے سیاسی جواز پیدا کیا جا سکے۔

آپ آنے والے چند سالوں میں دیکھیں گے کہ یورپ دفاع کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرے گا، اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھائے گا اور خود کو ایک مرتبہ پھر زیادہ مضبوط دفاعی طاقت کے طور پر تیار کرے گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ جب یہ تیاری مکمل ہوگی تو یہ طاقت آخر کس کے خلاف استعمال ہوگی؟

یہ آج کہنا مشکل ہے کہ مستقبل کا اصل مخالف کون ہوگا، کون سا ملک ہوگا یا کون سا خطہ اس نئی صف بندی کے سامنے کھڑا ہوگا۔ ممکن ہے آج ہمیں اس کا اندازہ بھی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اتحادوں کو صرف آج کے واقعات کے تناظر میں دیکھنا شاید کافی نہیں۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو مکہ معاہدے کی اپنی جگہ شاید اتنی بڑی تزویراتی اہمیت نہ ہو جتنی آج اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن کبھی کبھی سیاست میں وہ نہیں ہوتا جو دنیا سوچتی، سمجھتی اور دیکھتی ہے۔ جو کچھ ہمیں سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ اصل کھیل بھی وہیں ہو رہا ہو۔

کبھی دشمن کچھ اور چاہتا ہے، طاقتیں کچھ اور منصوبہ بناتی ہیں، حالات کسی اور طرف جاتے ہیں اور نتیجہ بالکل مختلف نکلتا ہے۔

اور یہی عالمی سیاست کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔

انسان اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے، طاقتیں اپنی حکمتِ عملی بناتی ہیں، ریاستیں اپنے مفادات کے لیے اتحاد بناتی ہیں، لیکن کبھی کبھی گیم قدرت بھی کھیلتی ہے۔

قدرت کی بھی اپنی پلاننگ ہوتی ہے۔

Regards،
قاضی طارق محمود

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qazi Tariq - Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share