14/08/2026
یہود کو پاکستان سے تکلیف ہے، خوارج کو پاکستان سے تکلیف ہے، BJP اور RSS کو پاکستان سے تکلیف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام کے دشمنوں کے دلوں میں جس طرح اسلام کے لیے بغض، عداوت اور دشمنی ہے، اسی طرح پاکستان کے وجود سے بھی نفرت اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔
اس سے بڑی علمی خیانت اور جہالت کیا ہوگی کہ کوئی پاکستان کو ایک قدرتی ریاست کے بجائے ’’مصنوعی ریاست‘‘ قرار دے؟ امریکہ، برطانیہ، بھارت، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر وفاقی ریاستوں کے شہریوں سے پوچھ لیجیے؛ ان کے دلوں میں اپنے وطن کے لیے عقیدت، محبت اور ضرورت پڑنے پر جان و مال قربان کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں کچھ نام نہاد دانشوروں اور پاکستان مخالف نظریات رکھنے والوں نے علمی جہالت کو فروغ دینے کو اپنا فریضہ بنا لیا ہے۔
دنیا کی ہر ریاست مسائل اور بحرانوں سے گزرتی ہے۔ کہیں عدلیہ پر سوال اٹھتے ہیں، کہیں اسٹیبلشمنٹ پر، کہیں سیاست دانوں پر، کہیں مافیاز، سنڈیکیٹس، سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں اور اشرافیائی اولیگارکی کے اثر و رسوخ پر۔ مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں؛ مگر کیا ان مسائل کی وجہ سے ہم ریاست کے وجود کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیں؟
ایک سادہ سی مثال سے سمجھاتا ہوں: اگر کسی مسجد کا امام گناہ گار ہو جائے، شرابی یا زانی ہو، تو کیا اس کی سزا کے طور پر ہم مسجد کو شہید کر دیں گے؟
اور اگر وہ امام طاقتور ہو، اس کے پیچھے اس کی جماعت اور حامی بھی کھڑے ہوں، تو کیا ہم مسجد کو ختم کر دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہم ہر ممکن طریقے سے امام کو اس منصب سے ہٹانے اور مسجد کو اس کے شر سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے۔
کیونکہ مسئلے کا حل وجود کا انکار نہیں، بلکہ اصلاح اور تطہیر ہے۔
پاکستان بھی اسی اصول کے تحت قائم ہوا تھا اور آج بھی قائم ہے۔ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی عہد اور ایک ذمہ داری ہے—ایسی ذمہ داری جس کا مقصد نہ صرف مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کرنا بلکہ دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کے حق میں بھی آوازِ حق بلند کرنا ہے۔
پاکستان میں اگر مسائل ہیں تو ان کا حل پاکستان کو مٹانا نہیں، پاکستان کو بہتر بنانا ہے۔ اگر اداروں میں خرابیاں ہیں تو اداروں کی اصلاح کیجیے؛ اگر سیاست میں خرابی ہے تو سیاست کی اصلاح کیجیے؛ اگر مافیا اور اشرافیہ طاقتور ہیں تو ان کے خلاف جدوجہد کیجیے۔
مگر پاکستان کے وجود کو نشانہ بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
میں ہر محاذ پر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتا رہوں گا، کیونکہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر پاکستان کے وجود اور نظریاتی اساس سے دستبرداری میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔
12 اگست 1947 ہماری آزادی کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھا—اسی روز ریاستِ جوناگڑھ کے پاکستان سے الحاق کا اعلان اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سرکاری لقب کا فیصلہ ہوا۔
تمام عزیز ہم وطنوں کو 12 اگست کی تاریخی یاد کے ساتھ ساتھ آنے والے یومِ آزادی، 14 اگست، کی بھی پیشگی دلی مبارکباد۔
آئیے اپنے ان تاریخی ایام کو یاد رکھیں، پاکستان کی آزادی کی قدر کریں اور وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کریں۔
اسلام سربلند باد!
پاکستان زندہ باد!
سندھ پائندہ باد!
از طرف
قاضی طارق محمود