01/09/2026
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کے شہر ڈیلس میں جیو نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے، جس کے اہم نکات اور تفصیلات درج ذیل ہیں:
نئے صوبوں اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق مؤقف
ملک میں آبادی کے اضافے کے ساتھ نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ جس طرح نئے اضلاع اور ڈویژن بنائے جاتے ہیں، اسی طرح انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
موجودہ چار صوبائی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لسانی بنیادوں پر قائم تقسیم نے ملک میں پولرائزیشن اور فاصلے بڑھائے ہیں۔
پاکستان کو مضبوط بنانے اور اختیارات نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک مؤثر تیسرے درجے (تھرڈ ٹیر) کے بلدیاتی نظام اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت ہے۔
کراچی کی حیثیت اور سندھ حکومت پر تنقید
کراچی کو سندھ میں شامل کرنے کے طریقۂ کار پر تاریخی اور آئینی سوالات موجود ہیں، جنہیں جمہوری طریقے اور عوامی رائے کے تحت زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پیپلز پارٹی نہ جمہوریت کی "ٹھیکیدار" ہے اور نہ ہی "سندھ کی مالک" ہے۔
صوبے کے موجودہ سیاسی نظام کو جاگیردارانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ معیشت میں کراچی بنیادی کردار ادا کرتا ہے ("کراچی چلتا ہے تو پورا ملک پلتا ہے")، اس لیے کراچی کے خلاف سازش دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
ایم کیو ایم کی سیاست، ووٹ بینک اور تقسیم
اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایم کیو ایم کا ووٹ بینک تقسیم ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند رہنماؤں کے الگ ہونے سے سیاسی جماعتیں تقسیم نہیں ہوتیں جب تک کارکن اور عوام ساتھ ہوں۔
ان کے مطابق ایم کیو ایم کے 80 سے 90 فیصد کارکن اب بھی متحد ہیں، اور جو لوگ جبر کے باعث الگ ہوئے تھے، حالات بدلنے پر وہ بھی واپس آ سکتے ہیں۔
2018 کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور زبردستی نشستیں چھینی گئیں۔
"مائنس الطاف حسین" کے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کسی سیاسی خاندان کی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے جسے اس کے کارکن چلا رہے ہیں۔
ان پر لگنے والے "فارم 47" کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چار دہائیوں سے کراچی میں انتخابات جیتتی آ رہی ہے، ان کی پہچان فارم 47 نہیں بلکہ 1947 ہے۔