Awamki Nishandahi

Awamki Nishandahi - Social Activist
- Public Awareness

03/09/2026

💧 صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک نیک اقدام

نگرپارکر، تھرپارکر سندھ کے گاؤں کیریو دھل میں عرصہ دراز سے خستہ حال ہینڈ پمپ موجود ہے۔ اہلِ علاقہ کو صاف اور آسانی سے دستیاب پانی فراہم کرنے کے لیے اس ہینڈ پمپ کو جدید سولر سبمر پمپ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔

🤝 جو مخیر حضرات اور دوست اس نیک مقصد میں تعاون کرتے ہوئے یہ منصوبہ مکمل کروانے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ
Team Awamki Nishandahi Social Activist
سے 📞 رابطہ کریں۔

+92 302 216 2216
+92 300 220 8531

آپ کا تعاون، کسی بستی کے لیے پانی کی مستقل سہولت بن سکتا ہے۔ 💧

https://youtu.be/FZN-KUMIkd0
ہمارا حوصلہ بڑھانے کے لیے چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیے گا۔

کراچی کا پر سکون شہریکراچی کی عوام اپنے تاثرات کمینٹ میں دیںہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر نئی آنے والی اپڈ...
03/09/2026

کراچی کا پر سکون شہری
کراچی کی عوام اپنے تاثرات کمینٹ میں دیں

ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری ہر نئی آنے والی اپڈیٹ ملتی رہے۔

🚨 تلاشِ گمشدہ 🚨نام: عفان احمدوالد کا نام: شکیل احمدعمر: 19 سالعفان احمد گھر سے ناراض ہو کر چلا گیا ہے، جس کے باعث اہلِ خ...
02/09/2026

🚨 تلاشِ گمشدہ 🚨

نام: عفان احمد
والد کا نام: شکیل احمد
عمر: 19 سال

عفان احمد گھر سے ناراض ہو کر چلا گیا ہے، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔

اگر کسی بھی شخص کو عفان احمد کے بارے میں کوئی معلومات ملیں یا وہ کہیں نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر درج ذیل نمبر پر اطلاع دیں:

📞 0336-0300800

عفان احمد سے خصوصی اپیل

اگر یہ پیغام عفان احمد تک پہنچے تو براہِ کرم گھر واپس آ جائیں۔
آپ کے والدین آپ کی واپسی کے منتظر ہیں۔ آپ کی جدائی اور پریشانی کے باعث والدین کی طبیعت بھی ناساز ہے۔

آپ کی ایک کال یا گھر واپسی آپ کے والدین کے لیے سب سے بڑی خوشی ہوگی۔

🤲 خدارا، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ عفان احمد تک یہ پیغام پہنچ سکے۔

01/09/2026

کراچی: مولوی تمیز الدین خان روڈ کے یوٹرن پر حادثات کا خطرہ، ٹریفک پولیس کی مستقل تعیناتی کا مطالبہ

مولوی تمیز الدین خان روڈ کے ایک اہم یوٹرن پر ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

موٹر سائیکل سوار اور کار ڈرائیور بڑی تعداد میں یوٹرن کے مقام سے رانگ سائیڈ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث مخالف سمت سے آنے والی ٹریفک کے ساتھ تصادم کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

بعض اوقات ٹریفک پولیس اہلکار موقع پر موجود ہوتے ہیں، جس سے صورتحال کافی حد تک قابو میں رہتی ہے، تاہم اہلکاروں کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث رانگ سائیڈ ٹریفک کا مسئلہ دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔

عوام کی نشاندھی سوشل ایکٹیوسٹ نے ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ مولوی تمیز الدین خان روڈ کے اس یوٹرن پر ٹریفک پولیس اہلکار کی مستقل ڈیوٹی لگائی جائے، رانگ سائیڈ سے آنے والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ممکنہ حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

عوام کی نشاندھی عوامی مسائل کی آواز

سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات، کئی مراکز میں الارم اور اسپرنکلرز موجود نہیںکراچی: سندھ ک...
31/08/2026

سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات، کئی مراکز میں الارم اور اسپرنکلرز موجود نہیں

کراچی: سندھ کے 22 سرکاری اسپتالوں کی جانب سے حکومت کو جمع کرائی گئی فائر سیفٹی رپورٹس میں متعدد بڑے طبی مراکز میں فائر الارم، واٹر اسپرنکلرز اور دیگر حفاظتی سہولیات کی عدم دستیابی یا ناکافی انتظامات کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سول اسپتال کراچی میں 180 فائر ایکسٹنگوشرز فعال ہیں، تاہم فائر الارم اور واٹر اسپرنکلرز موجود نہیں، جبکہ اسپتال کی الیکٹرک وائرنگ بھی مرمت طلب قرار دی گئی ہے۔

جناح اسپتال کراچی میں 208 فائر ایکسٹنگوشرز فعال ہونے کے باوجود فائر الارم اور اسپرنکلرز دستیاب نہیں۔ 2,208 بستروں پر مشتمل اسپتال کی بجلی کی وائرنگ کو بھی مرمت کی ضرورت ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق یہاں فائر ڈرلز باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔

این آئی سی ایچ میں 135 فائر ایکسٹنگوشرز میں سے 40 خراب پائے گئے، جبکہ فائر الارم موجود نہیں اور فائر ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔ رپورٹ میں اسپتال کی الیکٹرک وائرنگ کی بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

لیاری جنرل اسپتال میں صرف 20 فائر ایکسٹنگوشرز فعال اور ایک فائر الارم موجود ہے، جبکہ واٹر اسپرنکلرز دستیاب نہیں اور فائر ڈرلز کا باقاعدہ نظام بھی موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق قطر اسپتال اورنگی میں 25 جبکہ سعود آباد اسپتال میں 18 فائر ایکسٹنگوشرز فعال ہیں، تاہم دونوں مراکز میں فائر سیفٹی کے حوالے سے اہم سہولیات اور باقاعدہ ڈرلز کا فقدان سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر اور کورنگی چلڈرن انسٹیٹیوٹ کے فائر سیفٹی انتظامات کو رپورٹ میں تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر میں 180 ایکسٹنگوشرز، 45 الارمز اور 39 فائر ہائیڈرنٹس فعال ہیں، جبکہ کورنگی چلڈرن انسٹیٹیوٹ میں 39 ایکسٹنگوشرز، 39 فائر بالز اور فعال فائر الارم موجود ہیں اور باقاعدہ فائر ڈرلز بھی کی جاتی ہیں۔

سکھر کے جی ایم ایم سی اسپتال میں بچوں کے وارڈ کا سیفٹی ایگزٹ کلیئر نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ اسپتال میں صرف 20 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں اور فائر الارم و اسپرنکلرز دستیاب نہیں۔

شہدادپور کے سمس اسپتال میں صرف پانچ فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں اور فائر الارم بھی دستیاب نہیں۔ اسی طرح لمس حیدرآباد اور لمس جامشورو میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہونے کے باوجود فائر الارم اور واٹر اسپرنکلرز کی سہولت موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیہون انسٹیٹیوٹ میں 45 فائر ایکسٹنگوشرز اور چار فعال فائر الارمز موجود ہیں جبکہ فائر ڈرلز باقاعدگی سے ہوتی ہیں۔ سی ایم سی لاڑکانہ کے مختلف بلاکس میں مجموعی طور پر 77 فائر ایکسٹنگوشرز جبکہ جیکب آباد انسٹیٹیوٹ میں 52 فعال فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں اور وہاں فائر سیفٹی انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق NICVD، SIUT کراچی و سکھر، PUHMS، خیرپور میڈیکل کالج اور گمبٹ سمیت بعض طبی اداروں کا فائر سیفٹی ڈیٹا مکمل نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سندھ کے متعدد بڑے طبی اداروں کا مکمل فائر سیفٹی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

گجرات: چار سالہ نور فاطمہ کی لاش دو روز بعد برساتی نالے سے برآمد، کزن گرفتارگجرات: پنجاب کے شہر گجرات کے علاقے جلال پور ...
31/08/2026

گجرات: چار سالہ نور فاطمہ کی لاش دو روز بعد برساتی نالے سے برآمد، کزن گرفتار

گجرات: پنجاب کے شہر گجرات کے علاقے جلال پور جٹاں میں دو روز قبل لاپتہ ہونے والی چار سالہ بچی نور فاطمہ کی لاش مبینہ ملزم کی نشاندھی پر برساتی نالے سے برآمد کرلی گئی۔

پولیس کے مطابق بچی کے مبینہ اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں اس کے 16 سالہ کزن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ اس کا ڈی این اے نمونہ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

مقدمے کی ابتدائی ایف آئی آر کے مطابق نور فاطمہ گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی کہ اس دوران ملزم اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود بچی واپس نہ آئی تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد اس کی نشاندھی پر برساتی نالے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ دو روز کی تلاش کے بعد بچی کی لاش جائے وقوعہ سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور سے برآمد ہوئی۔

پولیس ترجمان راحیل عارف کے مطابق بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردی گئی ہے اور طبی و فرانزک رپورٹ کے بعد واقعے کے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

بچی کے والد ذیشان کا کہنا ہے کہ ملزم ان کے سگے بھائی کا بیٹا ہے اور خاندان کے درمیان کسی قسم کی رنجش نہیں تھی۔ ان کے مطابق پولیس اس وقت واقعے کی تفتیش گرفتار ملزم کے بیان اور دیگر شواہد کی روشنی میں آگے بڑھا رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اغوا کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کی دفعات بھی شامل کرلی گئی ہیں، جبکہ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

اہم: واقعے سے متعلق حتمی حقائق تفتیش، پوسٹ مارٹم اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہےمعاشرے کو عملی کردار ادا کرنا ہوگابچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہ...
31/08/2026

بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے
معاشرے کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے محفوظ، پُرامن اور بہتر ماحول میں پرورش کے لیے والدین، اساتذہ، اداروں اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بچوں کو تشدد، جنسی زیادتی، استحصال، ہراسانی اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنا صرف والدین کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بچوں کو اپنے حقوق، اچھے اور برے رویوں اور خطرے کی صورت میں قابلِ اعتماد افراد سے مدد لینے کے حوالے سے آگاہی دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم بچوں کی آواز سنیں گے، ان کے تحفظ کو ترجیح دیں گے اور کسی بھی قسم کے ظلم یا زیادتی کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔

بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں سنگین انتظامی و حفاظتی کوتاہیوں کا انکشافکراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے ایم اے جناح ر...
30/08/2026

سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں سنگین انتظامی و حفاظتی کوتاہیوں کا انکشاف

کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں عمارت کی انتظامیہ، متعلقہ سرکاری اداروں اور ریسکیو نظام سمیت مختلف فریقین کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے مطابق گل پلازہ خطرناک حالت میں ہونے کے باوجود تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا، جبکہ انتظامیہ نے پہلے سے معلوم حفاظتی نقائص دور نہیں کیے۔ 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس رپورٹس میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی، خارجی راستوں کی خامیوں اور عمارت میں آتش گیر سامان کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان نقائص کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کے ریگولرائزڈ پلان میں 1,102 دکانیں درج تھیں، جبکہ عملی طور پر 1,153 دکانیں موجود تھیں۔ دکانوں میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان بھی موجود تھا، جس سے آگ کے پھیلاؤ اور جانی نقصان کے خطرات میں اضافہ ہوا۔

کمیشن کے مطابق فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع دینے میں غیر دانشمندانہ تاخیر ہوئی، جبکہ بجلی منقطع کیے جانے کے بعد عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور بالائی منزلوں سے لوگوں کے انخلا کے امکانات مزید محدود ہوگئے۔ عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے بروقت استعمال نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں فائر بریگیڈ کے رسپانس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مؤثر فائر فائٹنگ تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد شروع ہوئی۔ پانی کی کمی اور ری فلنگ کے عمل نے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن کو متاثر کیا، جبکہ فائر اسٹیشنز پر پانی کی دستیابی کے دعووں کے باوجود ابتدائی مرحلے میں مؤثر فراہمی نہ ہونا اہم انتظامی سوال ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے مطابق 2024 اور 2025 میں نشاندہی کیے گئے نقائص کے باوجود ان کے خاتمے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سول ڈیفنس کی ناکامی خطرے سے لاعلمی نہیں بلکہ نشاندہی کیے گئے خطرات پر عملدرآمد نہ کروانے کی ناکامی قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ میں ایس بی سی اے کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارہ صرف شکایت کی بنیاد پر معائنہ کرنے کے مؤقف سے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد بھی ریسکیو کے لیے ایک اہم موقع موجود تھا۔ رات 11:15 سے 11:20 بجے تک کچھ متاثرین نظر آ رہے تھے اور ساڑھے 11 بجے تک ریمپ کے ذریعے عمارت تک رسائی بھی ممکن تھی، تاہم ریسکیو 1122 دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے مؤثر آپریشن میں تبدیل نہ کرسکا۔

کمیشن نے قرار دیا کہ جانی نقصان صرف آگ کے باعث نہیں ہوا بلکہ ریسکیو میں تاخیر، اندھیرے، بند راستوں، غیر فعال حفاظتی نظام، غیر مؤثر آڈٹ اور مختلف اداروں کے درمیان بکھری ہوئی ذمہ داریوں نے بھی صورتحال کو سنگین بنایا۔

رپورٹ میں بجلی کے نظام کی نگرانی پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانون کے تحت بجلی کی تنصیبات اور آلات کا باقاعدہ معائنہ ضروری تھا، تاہم الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا کوئی باقاعدہ برقی معائنہ نہیں کیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا کہ سانحے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا حکومت تک محدود نہیں کی جاسکتی۔ مختلف ادوار میں بلڈنگ کنٹرول، فائر سیفٹی، آڈٹ، فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود تھا، تاہم یہ تمام نظام مجموعی طور پر مؤثر انداز میں کام کرنے میں ناکام رہے۔

واضح رہے کہ 17 جنوری 2026 کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی، جو کئی روز تک جاری رہی۔ اس سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گل پلازہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگیا تھا۔

بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں ضرور سکھائیںبچوں کو بتائیں کہ ہر لمس اچھا نہیں ہوتا۔🟢 گڈ ٹچ:وہ لمس جس سے بچہ محفوظ،...
29/08/2026

بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں ضرور سکھائیں

بچوں کو بتائیں کہ ہر لمس اچھا نہیں ہوتا۔

🟢 گڈ ٹچ:
وہ لمس جس سے بچہ محفوظ، خوش اور مطمئن محسوس کرے، جیسے والدین کی محبت بھری گلے لگانا یا ہاتھ ملانا۔

🔴 بیڈ ٹچ:
ایسا لمس جس سے بچہ خوف، شرمندگی یا بے آرامی محسوس کرے، خاص طور پر جسم کے نجی حصوں کو بلاوجہ چھونا۔

بچوں کو سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ایسا چھوئے، کچھ دکھائے یا ایسی بات کرے جس سے وہ پریشان ہوں تو:

فوراً "نہیں!" کہیں، وہاں سے دور جائیں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے کو ضرور بتائیں۔

⚠️ بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ اگر کوئی انہیں ڈرائے یا راز رکھنے کا کہے، تب بھی خاموش نہ رہیں۔

بچے کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خاموشی نہیں، آگاہی ضروری ہے!

ہمارے فیس بُک پیج کو فالو کریں تاکہ ہماری
ہر نئی آنے والی اپڈیٹ ملتی رہے

Address

Karachi
75660

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awamki Nishandahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Awamki Nishandahi:

Share

Category