30/08/2026
سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں سنگین انتظامی و حفاظتی کوتاہیوں کا انکشاف
کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں عمارت کی انتظامیہ، متعلقہ سرکاری اداروں اور ریسکیو نظام سمیت مختلف فریقین کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق گل پلازہ خطرناک حالت میں ہونے کے باوجود تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا، جبکہ انتظامیہ نے پہلے سے معلوم حفاظتی نقائص دور نہیں کیے۔ 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس رپورٹس میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی، خارجی راستوں کی خامیوں اور عمارت میں آتش گیر سامان کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان نقائص کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کے ریگولرائزڈ پلان میں 1,102 دکانیں درج تھیں، جبکہ عملی طور پر 1,153 دکانیں موجود تھیں۔ دکانوں میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان بھی موجود تھا، جس سے آگ کے پھیلاؤ اور جانی نقصان کے خطرات میں اضافہ ہوا۔
کمیشن کے مطابق فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع دینے میں غیر دانشمندانہ تاخیر ہوئی، جبکہ بجلی منقطع کیے جانے کے بعد عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور بالائی منزلوں سے لوگوں کے انخلا کے امکانات مزید محدود ہوگئے۔ عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود اسے بروقت استعمال نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں فائر بریگیڈ کے رسپانس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مؤثر فائر فائٹنگ تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد شروع ہوئی۔ پانی کی کمی اور ری فلنگ کے عمل نے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن کو متاثر کیا، جبکہ فائر اسٹیشنز پر پانی کی دستیابی کے دعووں کے باوجود ابتدائی مرحلے میں مؤثر فراہمی نہ ہونا اہم انتظامی سوال ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق 2024 اور 2025 میں نشاندہی کیے گئے نقائص کے باوجود ان کے خاتمے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سول ڈیفنس کی ناکامی خطرے سے لاعلمی نہیں بلکہ نشاندہی کیے گئے خطرات پر عملدرآمد نہ کروانے کی ناکامی قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ میں ایس بی سی اے کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارہ صرف شکایت کی بنیاد پر معائنہ کرنے کے مؤقف سے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد بھی ریسکیو کے لیے ایک اہم موقع موجود تھا۔ رات 11:15 سے 11:20 بجے تک کچھ متاثرین نظر آ رہے تھے اور ساڑھے 11 بجے تک ریمپ کے ذریعے عمارت تک رسائی بھی ممکن تھی، تاہم ریسکیو 1122 دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے مؤثر آپریشن میں تبدیل نہ کرسکا۔
کمیشن نے قرار دیا کہ جانی نقصان صرف آگ کے باعث نہیں ہوا بلکہ ریسکیو میں تاخیر، اندھیرے، بند راستوں، غیر فعال حفاظتی نظام، غیر مؤثر آڈٹ اور مختلف اداروں کے درمیان بکھری ہوئی ذمہ داریوں نے بھی صورتحال کو سنگین بنایا۔
رپورٹ میں بجلی کے نظام کی نگرانی پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانون کے تحت بجلی کی تنصیبات اور آلات کا باقاعدہ معائنہ ضروری تھا، تاہم الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا کوئی باقاعدہ برقی معائنہ نہیں کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا کہ سانحے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا حکومت تک محدود نہیں کی جاسکتی۔ مختلف ادوار میں بلڈنگ کنٹرول، فائر سیفٹی، آڈٹ، فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود تھا، تاہم یہ تمام نظام مجموعی طور پر مؤثر انداز میں کام کرنے میں ناکام رہے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری 2026 کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی، جو کئی روز تک جاری رہی۔ اس سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گل پلازہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگیا تھا۔