01/02/2022
ریکوڈک پر کام شروع ہونے کا سن کر عالمی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ، دجال دوم فضل رحمان شیطانی کے لیے بلوچستان پہنچ گیا تاکہ بلوچستان کی عوام کو ایک نئے فساد پر اکسایا جاسکے کہ وفاق ریکوڈک کے خزانے لوٹے گا اس پہ صرف بلوچوں کا حق ہے.
دوسری طرف یہ ملعون سندھ کے جزائر کی بات کر رہا ہے کہ سندھ کی عوام کے حققوق تسلیم کیے جائیں مگر بےنظیر کی جوتیاں اٹھانے اور زردآری کی گود میں پلنے والا یہ بیرونی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ کیا پی پی پی کے ہاتھوں سندھ کی بربادی اور سندھ کی عوام کے حققوق کی استحصالی پر بات کرنے کی جرات کرے گا؟ کیا یہ بھیڑیا تھر میں بھوک اور پیاس سے بلکتے سندھیوں کے حققوق کی بات کرے گا؟ کیا یہ بھیڑیا سندھ میں تعلیم، صحت اور بیروزگاری کی تباہ حالی پر سندھ حکومت سے سوال کرنے کی جرات کرے گا؟
بلوچستان اور سندھ کی عوام یہ بات ذہن نشین کرلے کہ ہم پاکستانی اپنے بلوچستان اور سندھ کے بہن بھائیوں کو پرامن اور خوشحال زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان/ سندھ کی عوام تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی تمام تر سہولیات سے مالا مال ہو، بلوچستان میں گوادر ہو یا ریکوڈک کا منصوبہ، سندھ میں کراچی کی خوشحالی اور سندھ میں جزائر کی تعمیروترقی اس کا سب سے پہلا اور بڑا فائدہ بلوچستان اور سندھ کی عوام کو ہی ہوگا.
کچھ ناہنجار بلوچستان/سندھ کی اب تک کی انہی کے ہاتھوں دی گئی محرومیوں اور اب جاری ترقیاتی منصوبوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں، بلوچستان/سندھ کی عوام اب کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اور ایسے تمام ملک دشمن عناصر کو مسترد کریں جو بلوچستان/ سندھ پر گندی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں.
بلوچستان کی عوام کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ آج موجودہ وقت کے بھیڑیا صفت فضل رحمان کو بلوچستان یاد آگیا ہے لیکن نواز شریف، بےنظیر اور زردآری کے دور میں ریکوڈک اور سیندک جیسے اہم منصوبوں پر کک بیکس لینے اور منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے افتخار چوہدری جیسے چھوٹے دجالوں کے استعمال پر فضل رحمان خاموش تھا اگر اسے بلوچوں سے ہمدردی ہوتی تو یہ بھیڑیا اس وقت ضرور بلوچ عوام کے حق کی بات کرتا.
فضل رحمان جو بلوچستان میں شہید ہوتے فوجی جوانوں اور شہریوں کی شہادت پر خاموش رہا، جو سندھ میں پی پی اور ایم کیو ایم کی بدترین دہشتگردی پر خاموش رہا.
سوچئے ۔۔۔۔