12/08/2026
تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو دوبارہ کسی خطرے کا سامنا ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی کے نظام اور انٹرنیٹ سے منسلک عالمی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ رمضان میں ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد اب خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جنگی بحری جہاز موجود نہیں۔
تاہم پاسداران انقلاب نے ایران کی ناکہ بندی کرنے والے مبینہ امریکی بحری جہازوں کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پر مسلط جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی بحری جہاز موجود تھے، جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے خلیج فارس میں 100 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے تھے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں۔
جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کے ردعمل کے نتیجے میں دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ایران نے امریکا، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایسے حملے کیے کہ امریکا کے لیے جنگ کو اسی شدت کے ساتھ جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔