17/11/2024
عدالت عزازیل کی سماعت برائے ٹرافک پولیس کراچی،
آج میں کہتا ہوں کے میں جان بوجھ کر اپنے بھائی کا کام نہیں کروں گا کیونکہ میرے بھائی فرحان کا کہنا تھا کے اس پولیس والے کو گولی نہیں مارنا ہے بلکہ گولی مارنے کے بدلے اس پولیس والے کو بغیر چپل کے گھر میں خود شناختی کارڈ دینا ہے، اور اس سے بھی بڑی سزا میرا بھائی کہتا ہے کے اگر اس سے بھی بڑی سزا اور مذید لگانا ہے تو تین مہینے کے لیے معطل بھی کردیا جائے،
بس مجھے ایسے سمجھاتا ہے کے جیسے مجھے خوش کردے، لیکن اسے یہ نہیں پتا کے میں اپنے ذاتی معاملے پر جان سے مار دینے پر ہی اتفاق کرتا ہوں،
بس میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا کیونکہ مسئلہ بھی میرے بھائی کا ہے، اور میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے دیکھتا ہوں کیونکہ میرا بھائی مجھے بھی دیکھتا ہے،
ابھی کچھ عرصے پہلے میرے اسی بھائی کا اک لڑکی کیساتھ رشتہ ہوگیا، بات بھی کنفرم ہوگئی، لڑکی اور لڑکا دونوں اور دونوں کے گھر والے بھی مان گئے،
بس سب خوش تھے لیکن بس صرف میں خوش نہیں تھا،
کیونکہ اس لڑکی نے میرے بھائی کو پہلے اپنی محبت پیار میں خوب ملایا اور جب اس لڑکی کو یقین ہوگیا کے اب میرا بھائی اس لڑکی کو نہیں چھوڑے گا تو پھر اس لڑکی نے میرے بھائی کو میرے خلاف کر دیا،
بس وہ لڑکی میرے آگے بہت خوش اور پھیل رہی تھی کے اس لڑکی نے اپنے پیار محبت کے ذریعے میرے بھائی کو میرے خلاف کردیا،
اس لڑکی کو اتنا یقین تھا کے میرا بھائی اس لڑکی کے لیے میرے خلاف ہو جائے گا،
بس میں نے اس شادی پر اعتراض تو نہیں کیا کیونکہ لڑکی اور لڑکا کا ذاتی معاملہ ہے اور میں ذاتی معاملے پر دخل اندازی نہیں دیتا ہوں، اور جو میرا سوال ہے کے جو لڑکی میرے بھائی کو میرے خلاف کر رہی ہے تو اس معاملے پر میں نے فیصلہ کرلیا کے اگر میرے بھائی نے اسی لڑکی سے شادی کرلیا تو پھر میں اپنے اس بھائی فرحان کو بھی نہیں دیکھوں گا اور اس لڑکی کو اک ذرا بھی اپنی طرف سے فائدہ ہونے نہیں دونگا،
اگرچہ وہ لڑکی میرے بھائی کی بیوی بن جائے، کیونکہ جب وہ میرے بھائی کو میرے خلاف کرے گی تو پھر اس لڑکی سے ذیادہ میرے بھائی کا غلطی ہوگا کے میرا بھائی اس لڑکی کیساتھ ملا کیسے۔
بس میں نے اپنے بھائی کو اس لڑکی سے شادی کرنے پر منع نہیں کیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کے جب وہ لڑکی میرے خلاف میرے بھائی کو کچھ بھی کہے سکتی ہے اور میرے بھائی کو میرے خلاف کرسکتی ہے تو پھر مجھے کچھ ضرورت نہیں کے میں اپنے بھائی کو سمجھاؤں،
بس وہ لڑکی اور اس کی امی بہت خوش ہو رہے تھے کے انہوں نے میرے بھائی کو میرے خلاف کردیا اور میں انکا تماشہ اور اپنے بھائی کا ری ایکشن دیکھ رہا تھا،
بس وہ لوگ میرے آگے چوڑے ہوکر پھیل گئے اور خوش ہوگئے،
میں نے اپنے بھائی کو اس لڑکی کیساتھ شادی کرنے سے منع بھی نہیں کیا اور بس میں نے اپنے آپ کہا کے میرے بھائی کی مرضی ہے کے مجھے چنے یا اس لڑکی کو،
اور بس میں نے اپنے بھائی سے یہ بھی نہیں کہا کے وہ لڑکی اور اسکی امی میرے آگے پھیل جاتے ہیں،
بس میں نے اپنے بھائی کو اپنی مرضی پر چھوڑ دیا،
اور میرے بھائی نے جس لڑکی سے اتنی محبت بڑھ رہی تھی اور پیار میں اضافہ ہو رہا تھا تو بس میرے بھائی نے اس لڑکی کو اچانک سے شادی کرنے سے منع کردیا تو بس اس لڑکی کا اور اسکی امی کا ہوش فاختہ ہوگیا کے لڑکا کو اتنا پیار محبت میں رکھنے کے بعد بھی لڑکا نے شادی سے منع کردیا،
بس میرے بھائی نے اس لڑکی سے شادی کرنے سے منع کردیا تو پھر میں خوش ہوگیا،
بمعنی جو مجھسے مقابلہ لگا رہے تھے اور وہ میرے بھائی کو ہی اپنی محبت میں گرفتار کر رہے تھے اور میرے بھائی نے شادی کی بات پکی ہونے کے بعد بھی منع کردیا،
تو بس میں بہت خوش ہوا کے میرے بھائی نے میرے لیے کیا اور پھر میں نے جھٹک کر اس لڑکی کو رد کردیا،
بمعنی اب جا اور جو کرسکتی ہے تو وہ کرلے۔
بس میرے بھائی نے میرے لیے اس لڑکی کو قربان کردیا کے جو لڑکی میرے اور میرے بھائی میں اختلاف کر رہی تھی،
اور میرے بھائی نے یہ فیصلہ خود اپنی مرضی سے لیا اور تبھی اسی وجہ سے میں اپنے بھائی سے خوش ہوگیا کے ہاں یہ بھائی مجھے بھائی سمجھتا ہے۔
بس میں اسی وجہ سے اپنے اس بھائی کو کچھ الگ اہمیت دیتا ہوں،
اور اہمیت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کے میں ہر معاملے پر اہمیت دیتا ہوں بلکہ میں اپنے بھائی کو اپنے ذاتی معاملے پر اہمیت دیتا ہوں،
بس جیسے یہ ٹرافک کا معاملہ مسئلہ ہے تو یہ میرے بھائی کا شناختی کارڈ گیا ہے، اور میرے بھائی کا کہنا ہے کے پولیس کو گولی نہیں مارنا ہے بس جیسے میرے بھائی کو اس پولیس کے جان کا فکر ہو، مگر میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے توں اس پولیس والے کے مرنے کو برا سمجھتا ہے مگر یہ بتا کے جیسے تجھے اس پولیس والے کا خیال ہے تو کیا اس پولیس والے کو ہمارا خیال آیا تھا کے ہم مریض ہیں اور دوا لینے جا رہے ہیں،
بس میرا کہنے کا مطلب ہے کے میں نے اپنے بھائی کو سمجھایا کے دوسروں کے جانوں کا فکر نہ کرو کے جو تمہارے ہی جانوں کے نقصاندہ بن جائیں۔
میرے بھائی نے مجھے خوش کرنے کے لیے کچھ الگ طریقہ مختص کرلیا اور مجھے کہا کے گولی مارنے سے بہتر ہے کے وہ ننگے پاؤں ہمارے گھر میں آکر شناختی کارڈ دے اور معافی مانگے اور اس سے بھی ذیادہ سزا بڑھانا ہو تو تین مہینوں کے لیے معطل کردو ،
بس مجھے سمجھ تو آ رہا تھا کے میرا بھائی مجھے بھی خوش کرنا چاہ رہا ہے اور اس پولیس والے کے لیے بھی مرنا قبول نہیں کر رہا ہے۔
بہرحال میں نے اپنے بھائی کو اس معاملے تجویز کا قصوروار نہیں ٹھہرایا کیونکہ شناختی کارڈ بھی میرے بھائی کا گیا ہے،
میں نے اپنے بھائی کو بتایا کے یہ نہ سمجھ کے یہ میرا کہنا مان لیں گے۔
کیونکہ انکو منانے کا طریقہ ہی مار دینا ہے،
میں نے اپنے بھائی کو بتایا کے ترکیے کا رجب طیب اردوغان بھی میرا کہنا جھٹک کر نہیں مانتا ہے تو میں بھی اس کا کہنا نہیں مانتا ہوں اور سپیشل نہیں مانتا ہوں،
میرے بھائی نے غزہ فلسطین کا معاملہ مجھسے شیئر کیا تو میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے میں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اسرائیل کو جنگ کرنے سے منع کیا تو وہ مان گیا، اور میں نے فلسطین کے صدر محمود خان کو جنگ کرنے منع کیا کے جنگ نہیں کرنا ہے،
بس میں نے دونوں کو ہمدردی سے سمجھایا مگر اسرائیل میرا کہنا مان گیا اور فلسطین کا صدر میرے آگے غصے سے اکڑ گیا کے فلسطین کے صدر کو میری ضرورت نہیں ہے اور فلسطین کا صدر میرا کہنا بھی نہیں مانے گا کیونکہ فلسطین کے صدر نے چائنا سے دوستی کرلیا ہے۔
بس میں فلسطین کے صدر کا غصہ دیکھ کر چونک گیا کے یہ میرے آگے غصہ اور اکڑ دکھاتا ہے اور بھرم بھی اس چائنا کا مارتا ہے کے جو چائنا میرے مالک کا خوب احترام کرتا ہے۔
بس میں نے بھی فلسطین کے صدر کو کہے دیا کے تم جس کا بھی نام لیتے ہو اور تم مجھسے الجھتے ہو تو سمجھ لینا کے تمہارے کام کوئی نہیں آئے گا، تو بس فلسطین کا صدر کو چائنا پر اتنا یقین اعتماد تھا کے بس چائنا آئے گا،
تو بس جب فلسطین کے صدر کو چائنا پر اتنا یقین اور اعتماد تھا تو پھر میں نے کہے دیا کے تم شرارت کروگے تو پھر میں اسرائیل کیساتھ ہونگا کیونکہ اسرائیل نے میرا کہنا مانا ہے اور اسرائیل میرے آگے قابل عزت ہے۔
بس پھر میں نے اپنے مالک سے کہا کے دیکھ یہ اسرائیل سے شرارت کرنے کا بھی کرتے ہیں اور چائنا کو اپنا مسیحا اور دوست بھی سمجھتے ہیں اور چائنا کے نام پر مجھسے بھی الجھتے ہیں کے بس چائنا ہی کافی ہے۔
بمعنی جیسے انہوں نے چائنا سے دوستی کر کے بہت بڑا تیر مار دیا ہو،
اور میں نے اپنے بھائی سے کہا کے جب آج سے ایک سال پہلے حماس نے اسرائیل سے چھیڑ کیا اور اسرائیل کا سنگسار کیا تو جب اسرائیل نے حماس سے بدلہ لینا چاہا تو فوراً نہیں لیا بلکہ دو دن گزارنے کے بعد غزہ پر پرچیاں پھینکیں کے جگہ کو خالی کر دو اور اسرائیل نے آپریشن کرنا ہے۔
اسرائیل نے تقریباً ایک ہفتے کا موقع دیا کے سب لوگ باہر نکل جائیں اور غزہ کو چھوڑ دیں،
اور پھر میں نے اسرائیل سے کہا کے ایک ہفتے میں ہوسکتا ہے کے کوئی کمزور اور معذور انسان فوراً غزہ سے نہیں نکل سکتے ہو اور کیا لوگ اس طریقے سے غزہ سے نکلیں گے کے آپس میں ٹکر لگے اور گر جائیں،
بمعنی ہجوم کا دوڑ میں دیکھنا نہیں چاہتا ہوں۔
بس ایک ہفتے سے پندرہ دن کا موقع دو تاکے لوگ آرام سے نکل سکیں، بمعنی پھر بھی لوگ تیزی سے نکلیں گے مگر انہیں اپنا سامان سمیٹنے اور آرام سے نکل جانے کا موقع ملے گا اور ہجوم سے کوئی گرے گا بھی نہیں،
اور اسرائیل میرا کہنا پھر بھی مان گیا، جبکہ اسرائیل چاہتا تو میرے کہنے کو رد کر دیتا کیونکہ اسرائیل کے پاس موقع اور بہانہ ہے کے ہم ابھی حملہ کریں گے اور اسرائیل حملہ کرسکتا تھا مگر پھر بھی اسرائیل نے میرے کہنے کو رد نہیں کیا،
تو بس پھر اس جنگ میں میں اسرائیل کیساتھ ہوں،
اور جو لوگ غزہ میں مرتے ہیں تو وہ اپنی مرضی سے مرتے ہیں اور انہوں نے سنایا کے ہم نہیں نکلیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کے اسرائیل حملہ کرتا ہے۔
بس یہ انکا نظریہ ہے دنیا کو دکھانے کا مگر میں نے انہیں نکل جانے کا ذیادہ موقع دیا،
بمعنی جتنا اسرائیل نے موقع دیا تو میں نے ان لوگوں کے استطاعت کے مطابق انہیں موقع دیا اور پھر بھی وہ لوگ الجھیں تو پھر میرا کچھ قصور نہیں اور میں اسرائیل کو آپریشن کرنے سے منع نہیں کرسکتا ہوں کیونکہ یہ اسرائیل کا ذاتی معاملہ ہے۔
تو بس میرے بھائی نے مجھے ہی صحیح ٹہرایا اور میرے بھائی نے فلسطین کے صدر کو قصوروار ٹھہرایا کے اک تو اسے لڑنے جھگڑنے سے منع کرتے ہیں تو وہ چائنا کے نام سے مجھسے ہی الجھ جاتا ہے۔
میرے مقابل رجب طیب اردوغان کو بھی قصوروار ٹھہرایا ،
مگر میرے مقابل اس پولیس والے کے لیے کہتا ہے کے اسے گولی نہیں مارنا چاہیے، اور اس پولیس والے کے لیے دوسری سزا مختص کرتا ہے کے جیسے میرا بھائی بہت اچھا فیصلہ کر رہا ہو،
تو بس میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا تاکے میرا بھائی مجھسے خوش ہو جائے کے میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا، مگر میں اپنے بھائی کا کام نہیں کروں گا۔
اور جب میرا بھائی مجھے پھر دوبارہ کہے گا کے شناختی کارڈ کا کیا ہوا اور ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہوا،
تب میں اپنے بھائی سے کہوں گا کے دیکھ جیسے فلسطین کا صدر ہے، ترکیے کا صدر رجب طیب اردوغان ہے ویسے ہی پاکستان کی پولیس اور آرمی ہے۔
بس میں نے تیرے کہنے پر پولیس اداروں اور سندھ گورنمنٹ سے کہے دیا کے شناختی کارڈ وہی پولیس والا ہمارے گھر لیکر آئے اور ننگے پاؤں کھڑے ہوکر معافی مانگے مگر میرا کہنا ایسے پولیس اور پاکستان کی گورنمنٹ نہیں مانتی ہے کیونکہ توں نے منع کیا ہے کے گولی نہیں مارنا ہے۔
اور میں اپنے بھائی کے لیے ہی گولی مارنے کا نہیں کہتا ہوں کیونکہ بھکتے گا تو میرا بھائی ہی بھکتے گا اور پھر میرا بھائی مجھے قصوروار نہیں سمجھے گا کے میں گولی مارنے کا کہتا ہوں،
اور میں شناختی کارڈ کے معاملے پر کہتا ہوں کے شناختی کارڈ میرے بھائی کا ہے اور اس نے گولی مارنے سے منع کیا ہے تو مجھے شناختی کارڈ کی فکر نہیں ہے۔ کیونکہ شناختی کارڈ بھی میرے بھائی کا ہے۔
اور یہاں تک کے میرا بھائی ہمیشہ کے لیے میری حمایت کرے گا اگرچہ میں کچھ بھی کروں،
بس میں اپنے بھائی کا شناختی کارڈ کا فکر نہیں کرتا ہوں کیونکہ یہ میرے بھائی کا کہنا ہے کے پولیس والے ننگے پاؤں معافی مانگیں گے،
اور میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے ایسی سزائیں پاکستان اور بنگلہ دیش اور ترکیے ، انڈونیشیا ، نائیجریا وغیرہ پر نہیں لگا سکتے ہیں کیونکہ انکی سزا ہی موت ہے۔ اور اگر تجھے لگتا ہے کے یہ ایسی سزاؤں سے سدھر جائیں گے تو پھر میں تیرے لیے کہے دیتا ہوں،
اور یہ سدھریں یا نہیں سدھریں تو یہ انکا اپنا معاملہ ہے،
اور میرے نظریے یہ موت کے علاوہ کسی سزا سے بھی نہیں سدھریں گے،
اور ایسی سزائیں بھارت، افغانستان ، سعودی عرب، اور یو این وغیرہ کو دیا جاسکتا ہے کیونکہ انکے لیے یہی سزائیں بہت بڑی ہیں۔
اور پاکستان کے لیے ننگے پاؤں معافی مانگنا کوئی سزا نہیں ہے بلکہ یہ اپنا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
کیونکہ توں نے سنا تھا کے پولیس والے نے مجھے کہا تھا کے اپنے تعلقات لگاؤ،
تو بتا کے انکے لیے ننگے پاؤں معافی مانگنا کیا کافی ہے ؟
تو بس میرے بھائی نے مذید تین مہینوں کا معطل سسٹم بھی رکھ دیا تو بس میں مان گیا کیونکہ میں سمجھ گیا کے میرے بھائی کو ایسے سمجھ میں نہیں آئے گا۔
بس میرا بھائی اپنے شناختی کارڈ پر خود انتظار کرتا رہے،
بس میں اپنے بھائی کے لیے شناختی کارڈ کی فکر نہیں کرتا ہوں کیونکہ جیسا میرے بھائی نے مجھے کہا تھا تو میں نے ویسے ہی کہے دیا، کے گولی نہیں مارنا ہے اور گولی کے بدلے ننگے پاؤں معافی مانگے،
تو بس میں نے کہا کے یہ توں کیا کہے رہا ہے کے اگر میں نے ایسی سزا دینے کو اہمیت دیا تو پھر سارے پولیس والے بدمعاش مجھسے لڑیں گے اور بعد میں چپل اتار کر معافی مانگ لیں،
تو بس میرے بھائی نے پھر تین مہینوں کا معطل سسٹم بھی رکھ دیا تو میں سمجھ گیا کے میرا بھائی مجھے خوش کر رہا ہے مگر انہیں بھی بچا رہا ہے تو بس پھر میں چپ ہوگیا۔
میں کہتا ہوں کے مجھے اپنے بھائی کا شناختی کارڈ کا فکر نہیں ہے کیونکہ اس نے ایسی سزا چنا ہے تو بھکتے گا بھی وہ خود ہی،
اور یہاں تک کے میرا بھائی میری حمایت کرے گا تو بس پھر میں اپنے بھائی سے خوش ہو جاؤں گا،
اور پھر میرا بھائی کبھی بھی مجھے غلط نہیں سمجھے گا کے میں گولی مارنے کو کہتا ہوں،
بس میں چائنا سے کہتا ہوں کے میں اک طریقے سے اپنے بھائی کو سدھار رہا ہوں تاکے میرا بھائی کبھی بھی مجھے غلط نہیں سمجھے کے میں گولی مارنے کو اہمیت دیتا ہوں کیونکہ میرا بھائی خود بھی اپنے معاملے پر تجربہ کرچکا ہوگا،
اور میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے سدھار رہا ہوں کیونکہ میرا بھائی میرا بھی خیال کرتا ہے۔
لیکن میں کہتا ہوں کے جس پولیس والے نے مجھے روکا، اور میرا نام اور میرا تعارف سن کر مجھے کہنے لگا کے تم اپنے تعلقات لگاؤ تو بس مجھے اس وقت اتنا برا لگا کے میں بتا نہیں سکتا ہوں،
اور میں نے اس پولیس والے سے کہے دیا کے ابھی تم میرے ساتھ ایسا کر رہے ہو تو سمجھ لینا کے بعد میں میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا اور تم نے معافی بھی مانگا تب بھی نہیں چھوڑوں گا،
بمعنی میں نے بالکل کلیئر سی بات کردیا کے تم نے میرے عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اور پھر مجھے کہتے ہو کے اپنا تعلقات لگاؤ،
تو بس پھر اس پولیس والے نے اپنے ہوش و حواس میں مجھے کہے دیا کے ٹھیک ہے بعد میں نہیں چھوڑنا اور تم اپنے تعلقات لگاؤ،
تو بس پھر میں نے اس پولیس والے سے کہے دیا کے تیرے لیے میں کوئی تعلقات نہیں لگاؤں گا اور تیرے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں، اور میں خود کرسکتا ہوں،
اور میں تیرے لیے بمعنی تیری حیثیت پر اپنے تعلقات لگاؤں تو میرے ذات کی بیستی ہے۔
بس پھر میں نے سوچ لیا کے اگر یہ میری حیثیت کو دیکھنا چاہتا ہے اور میرے ساتھ الجھتا ہے تو پھر اس کو گولی مار کر پھینک دینا چاہیے۔
بمعنی اس کی کیسے غلطی ہوئی کے مجھے پکڑے اور مجھے کہے کے اپنے تعلقات لگاؤ تو پھر میں نے ڈن کنفرم کردیا کے بس اب اس پولیس والے کو مار دینا چاہیے۔
میں چائنا سے کہتا ہوں کے کراچی ناظم آباد پولیس سٹیشن میں پایا جانے والا اک ٹرافک پولیس مجھے ایسا کہتا ہے تو اس پولیس والے کے منہ میں گولی مارو۔
بمعنی منہ کھول کر منہ کے اندر گولی مارنا ہے کے اس نے مجھے کس منہ سے کہا کے اپنے تعلقات لگاؤ،
اور میرے آگے اکڑ گیا،
بس یہ میں شناختی کارڈ لینے کا بدلہ نہیں لے رہا ہوں کیونکہ شناختی کارڈ کے معاملے پر میرے بھائی نے دوسری سزا مختص کردیا ہے۔
بلکہ یہ میں اپنے ذات کے لیے کہے رہا ہوں کے مجھے کیسے کہا کے اپنے تعلقات لگاؤ، بس میرے ذات کا بہت بیستی ہوا ہے کے میں اس حیثیت کے پولیس کی بات مانوں کے میں تعلقات لگاؤں اور بعد میں معاملہ سلجھ جائے ، بلکہ مجھے تو ایسے پولیس والے کو گولی مار کر ختم کر دینا چاہیے۔
بس میرے عزت کا معاملہ ہے، اور تبھی میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس پولیس والے کے منہ کے اندر گولی مار دینا ۔ کیونکہ اس نے اپنے منہ سے ہی کہا تھا اور اس کے منہ میں اتنا ہمت تھا کے میرے آگے کہے رہا ہے۔
عرصے پہلے میں جس کا نائب ہوں اسی نے عرصے پہلے مجھے کہا تھا کے اب چائنا تیرا کہنا مانا کرے گا اور میں چائنا کو خاص نہیں کہتا کیونکہ میرے لیے وہی کافی ہے کے جس کا میں نائب ہوں،
مگر اب میرے عزت کا معاملہ آگیا ہے اور تبھی میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس پولیس والے کے منہ کے اندر ایک ہی گولی مار دینا، تاکے اس پولیس والے کو پتا چل سکے کے میری کیا حیثیت ہے اور اس نے میرے آگے رسک لگایا،
اور باقی بات رہی میرے بھائی کا تو میں اپنے بھائی سے کہے دونگا کے دیکھ تیرے تجویز کردہ طریقے پر میں نے عمل کیا تھا مگر دوسرے نہیں مانتے ہیں تو اس معاملے پر میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
تو بس میرا بھائی میرے ساتھ ملنا ہوگا تو مل جائے گا اور مذید صبر کرے گا تو صبر کرتا رہے۔
مگر میں اپنے ذات کا پورا حساب لونگا کے مجھے کیسے کہے دیا کے تعلقات لگاؤ،
اور میرا بھائی مجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا ہے کے اگر میرے بھائی کو پتا چل جائے کے میں نے گولی مارنے کو اہمیت دیا،
کیونکہ میرا بھائی سمجھ جائے گا کے دوسرے بھی تو نہیں مانتے ہیں تو میرا بھائی مجھے کس منہ سے منع کرے گا،
اور یہاں تک کے میرا بھائی جب گولی مارنے کے معاملے پر بھی میرے ساتھ ہوگا تو پھر میں اپنے بھائی کا شناختی کارڈ وصول کرنے کو اہمیت دونگا۔
اور پھر میرا بھائی گولی مارنے کے معاملے پر بھی مجھے کبھی بھی برا نہیں سمجھے گا،
بس میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے سدھارنا چاہتا ہوں کے میرا بھائی میرا ایسا خیال رکھے کے میرے مقابل اداروں وغیرہ کو اہمیت نہ دے،
بس اپنی زندگی جیئے اور مجھے اہمیت دے،
اگرچہ گھر والوں کیساتھ ہوتا ہے تو یہ میرے بھائی کا معاملہ ہے مگر میں جیسے اپنے اس بھائی کو سدھارنے کا کرتا ہوں ویسے دوسرے کسی بھائی کو بھی سدھارنے کا نہیں کرتا ہوں،
کیونکہ دوسرے مجھے ویسے اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں کے جس طریقے سے دینا چاہیے۔
میں جس کا نائب ہوں اس مالک نے مجھے شروع میں ہی کہے دیا تھا کے توں کسی کو بھی یہ نہیں کہنا کے میں اس سے کرواتا ہوں کے جس کا میں نائب ہوں،
اور یہ نہیں کہنا کے میں دوسروں سے کرواؤں گا، اور اگر توں نے کہا کے میں دوسروں سے کرواؤں گا تو پھر میں تیرا وہ کام نہیں کروں گا ،
اور توں کہنا کے میں خود کروں گا اور خود کرتا ہوں، تب میرا مالک میرا کام کرے گا،
بس یہ میں نے چائنا سے کہے دیا ہے اور بس میرا مالک اب یہ بھی کہتا ہے کے چائنا تیرا کہنا مانے گا اور بس میں نے چائنا کو کہے دیا کے اس پولیس والے کے منہ میں گولی مار دینا اور وہ ٹرافک پولیس ہے اور اس کا نام بھی آصف ہے۔
تصویر میں دکھا رہا ہوں کے وہ کس جگہ کا ہے۔
اور میں کہتا ہوں کے میرا برا نہیں منانا کے میں اس جوش و جذبے میں کھل کر کہتا ہوں،
کیونکہ میں جس کا نائب ہوں اس نے کہا ہے کے توں ایسے ہی کھل کر بیان کیا کر اور اپنا حکم چلایا کر تو چائنا برا نہیں مانے گا اور بڑی بات یہ ہے کے میرا مالک کہتا ہے کے چائنا کے سامنے بھی حکم چلایا کر،
بس میں چائنا کا قدر کرتا ہوں کیونکہ چائنا میرے مالک کا قدر کرتا ہے تو میرا حق ہے کے میں چائنا کا بھی قدر کروں۔
لیکن بس یہ بڑی بات ہے کے میں چائنا کے سامنے بھی دوسروں پر حکم چلاؤں،
بس یہ میں اپنے مالک کے سامنے کرسکتا ہوں اور کھل کر کرسکتا ہوں بمعنی مجھ میں کوئی شرم و حیاء نہیں ہے۔
دنیا کو نچا بھی سکتا ہوں مگر یہ میں اپنے مالک کے سامنے کرسکتا ہوں۔
اور دوسروں کے سامنے بھی کرسکتا ہوں اور صرف چائنا کے سامنے نہیں کرسکتا ہوں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کے اگر میں چائنا کے سامنے بھی کروں گا تو پھر چائنا کیا کہے گا بمعنی کیا سمجھے گا کے میرے مالک کا لاڈلہ میں ہوں یا چائنا،
بس تبھی میں چائنا کا خیال کرتا ہوں کے چائنا خود ہی خوش ہو جائے کے چائنا ہی میرے مالک کا لاڈلہ ہے۔
بس میں جو اپنے مالک کو اہمیت دیتا ہوں تو وہ میری ذات تک کے لیے ہے، بمعنی میں حکومت کی وجہ سے اہمیت نہیں دیتا ہوں کیونکہ حکومت میں دوسرے لوگ بھی ہیں، مگر میں اپنے مالک کو اس لیے اہمیت دیتا ہوں کیونکہ عزازیل نے میرے لیے میرا مالک صرف اپنی طرح رکھا ہے۔
بس میں اپنے مالک کو صرف اک عزازیل کی وجہ سے اہمیت دیتا ہوں،
اور چائنا کو میں اپنے مالک کی وجہ سے اہمیت دیتا ہوں کے چائنا میرے مالک کا بہت قدر کرتا ہے۔
اور مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کے چائنا کہے کے میں لاڈلہ ہوں یا چائنا،
اور میں اس بات پر چائنا کو دکھ اور شکایت بھی نہیں دینا چاہتا ہوں اور تبھی میں چائنا کے آگے کھل کر حکم نہیں چلاتا ہوں۔
میں نے یہاں تک اپنے مالک کو منع کیا ہے کے میں چائنا کو اپنا کام نہیں بول سکتا ہوں کیونکہ چائنا میرے کہنے اور احساسات اور کیفیت کو بچپن سے نہیں جانتا ہے تو میں چائنا کو اپنا کام نہیں بول سکتا ہوں،
اور طالبان کو کھل کر کہے دیتا ہوں اور خفیہ رپورٹ بھی پہنچا دیتا ہوں کیونکہ طالبان کو میں بچپن سے جانتا ہوں اور طالبان بھی مجھے بچپن سے جانتے ہیں۔
بس یہ بات الگ ہے کے طالبان اپنی مرضی بھی کرتے ہیں مگر جب بھی اپنی مرضی کیا ہے تب بھی مجھے نقصان نہیں پہنچاتے، اور میرے معاملے پر میرے خلاف والوں کا حمایت بھی نہیں کرتے ہیں، اگرچہ طالبان کا کسی سے بھی تعلق ہو مگر میرے معاملے پر طالبان اپنے تعلق داروں کا حمایت بھی نہیں کرتے ہیں تو اس وجہ پر میں طالبان کو غیروں کے مقابل اچھا سمجھتا ہوں، اگرچہ طالبان مجھسے تعلق نہیں بھی رکھیں تو میں طالبان سے پھر بھی خوش ہوں کیونکہ طالبان میرا بنیادی کہنا بھی مان لیتے ہیں۔
مگر دوسرے لوگ تو میرے خلاف ہوتے ہیں، مجھے تکلیف دیتے ہیں، مجھسے مقابلہ لگاتے ہیں، مجھے گولی مارتے ہیں، میرا نقصان چاہتے ہیں اور ایسے لوگوں سے بہت بہتر طالبان ہے۔
بس میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس ٹرافک پولیس والے کے منہ کے اندر ایک گولی مارو اور اس کا ستیاناس ہو جائے ۔
منجانب : نائب انسانی عزازیل آصف عزازیل انٹرنیشنل مجسٹریٹ۔