22/07/2021
کافکا کی یہ کہانی انسانی وجود کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک علامیہ ہے۔اپنی ہیئت کی تبدیلی یا وجود کو کسی سانچے میں ڈھالنے کے بعد انسان خود کو کس تناظر میں دیکھتا ہے اور اس کا گرد و پیش کا ماحول اس سے کس طرح پیش اتا ہے، اس کا ایک حساس تجزیہ اس کہانی کا بنیادی نکتہ ہے۔کافکا کی زاتی ،گھریلو،سماجی اور معاشی زندگی ناہمواریوں اور ازیتوں سےعبارت تھی،تاہم اس نےاپنی تخلیقات کو اپنی سپر بنا کرنہ صرف حوصلہ مندانہ زندگی بسر کی بلکہ اس کی تصانیف سے اج عالمی سطح پر انسان شناسی کے نئے زاویے اجاگر ہو رہے ہیں۔اس کہانی کا ہیروگریگور زمسہ کہانی میں جس طرح پیش کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ناقدین نے یہی اندازہ لگایا ہے کہ "کابوس" کا یہ تجربہ کافکا کی اپنی اپ بیتی ہی ہے۔
جنید صدیقی کا ترجمہ رواں اور شستہ ہے۔مجھے یقین ہے کہ ادبی حلقوں میں اسے پسند کیا جائے گا۔(پروفیسر سحر انصاری)
د