Muhajir - مہاجر

Muhajir - مہاجر Stay up to date in the latest News and updates.

Permanently closed.
گزشتہ روز کراچی بفر زون میں والدہ کے ساتھ پائے کا کاروبار شروع کرنے نکلے نوجوان کی گاڑی چوری ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر خبر کے...
04/10/2026

گزشتہ روز کراچی بفر زون میں والدہ کے ساتھ پائے کا کاروبار شروع کرنے نکلے نوجوان کی گاڑی چوری ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر خبر کے بعد سماجی رہنما جے ڈی سی ظفر عباس نے نئی گاڑی دینے کا اعلان کر دیا-

03/10/2026

پولیو کے تین قطرے نہ پلانے پر پورا انتظامہ DC پولیس حرکت میں اور آئس کے نشے سے قوم کے بچوں کی تباہی پر سب خاموش عجیب ہے🤫

01/10/2026

تھر پارکر کے اُن پانچ طلباء کا میڈیا پر لائیو بٹھا کر دوبارہ ٹیسٹ لے لیا جائے سائیں سرکار کا تعلیمی انقلاب دُھل کر سامنے آجائیگا

غریب، بھوکی اور مقروض عوام کے پیسوں پر سندھ کے وزیروں کی بھرم بازیاں ملاحضہ کریں۔
28/09/2026

غریب، بھوکی اور مقروض عوام کے پیسوں پر سندھ کے وزیروں کی بھرم بازیاں ملاحضہ کریں۔

اب ان چہروں کو وائرل کرنا ضروری ہے! ⚠️یہ مشکوک لڑکا کراچی کے علاقے اختر کالونی (سیکٹر سی اور ڈی) میں مسلسل وارداتیں کر ک...
27/09/2026

اب ان چہروں کو وائرل کرنا ضروری ہے! ⚠️
یہ مشکوک لڑکا کراچی کے علاقے اختر کالونی (سیکٹر سی اور ڈی) میں مسلسل وارداتیں کر کے فرار ہو جاتا ہے۔

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹک ٹاک ویڈیو میں (شلوار قمیض کے باوجود) ملزم کا چہرہ، سر کی کیپ، ہاتھ کی گھڑی اور پاؤں کے سینڈل سی سی ٹی وی فٹیج سے ہو بہو میچ کر رہے ہیں۔

شہری اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور کسی بھی معلومات کی صورت میں پولیس ہیلپ لائن 15 پر فوری اطلاع دیں۔

شہریوں کے لیے اہم ہدایت:
ہماری عام عوام سے گزارش ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں ہرگز نہ لیں۔ اگر آپ کو اس شخص کی لوکیشن، پتے یا شناخت کے بارے میں کوئی بھی مصدقہ معلومات حاصل ہوں، تو فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں تاکہ اس کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔

اپنے ارد گرد نظر رکھیں، جرائم کے خلاف شعور بیدار کرنے اور ان چہروں کو بے نقاب کرنے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہمارا شہر کراچی محفوظ بن سکے۔ جزاک اللہ!

27/09/2026

نئے انتظامی یونٹس کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے سندھی بھائیوں کو ہوگا۔انہیں علاج کیلئے 8 گھنٹے سفر کرکے کراچی آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ان کے اپنے شہر میں اسپتال موجود ہوگا۔❤️

اب اِن چہروں کو وائرل کرنا ضروری ہے یہ مشکوک لڑکا کراچی کے علاقے اختر کالونی سیکٹر C اور سیکٹر D میں واردات کر کے فرار ہ...
26/09/2026

اب اِن چہروں کو وائرل کرنا ضروری ہے یہ مشکوک لڑکا کراچی کے علاقے اختر کالونی سیکٹر C اور سیکٹر D میں واردات کر کے فرار ہو گیا ہے۔

تصویر میں موجود افراد کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

🤝 کراچی کو محفوظ بنانے میں ہمارا ساتھ دیں شیئر کریں تاکہ آگاہی پھیلے۔

24/09/2026

جن کا عقیدہ ہے کہ بےنظیر قیامت میں انکا گریبان پکڑے گی وہ بھی کہہ رہے اورنگزیب فاروقی نے دین سے غداری کرلی۔😆 انتظامی یونٹس تو بنیں گے🙌

23/09/2026

کراچی کے نوجوان جو میٹرک میں ہیں یا جن کے بچے میٹرک میں ہیں وہ آگے 'لاء' کی طرف جائیں کیونکہ صوبہ بننے کے بعد غیر مقامی بدمعاش وکیلوں کا صفایہ ہونے والا ہے۔ان شاء اللّه 🙌

وہ کراچی کی ان گلیوں کے نقشے بناتی تھیں جو سرکاری کاغذوں میں شاید موجود ہی نہیں تھیں ۔۔وہ پانی کی ان لائنوں کو نشان زد ک...
21/09/2026

وہ کراچی کی ان گلیوں کے نقشے بناتی تھیں جو سرکاری کاغذوں میں شاید موجود ہی نہیں تھیں ۔۔
وہ پانی کی ان لائنوں کو نشان زد کرتی تھیں جو شہریوں تک پہنچنے سے پہلے کہیں اور موڑ دی جاتی تھیں ۔۔ اور زمین کے ان ٹکڑوں کا ریکارڈ محفوظ کرتی تھیں جن پر طاقتور لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔
ان کا نام پروین رحمان تھا ۔۔
اور شاید وہ کراچی کے بارے میں اتنا کچھ جان گئی تھیں جتنا جاننا اس شہر میں محفوظ نہیں تھا۔
پروین رحمان 1957 میں ڈھاکا میں پیدا ہوئیں ۔۔ 1971 کے بعد ان کا خاندان کراچی آگیا۔ انہوں نے داؤد کالج سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی اور ایک نجی آرکیٹیکچر فرم میں کام شروع کردیا۔
وہ چاہتیں تو بڑے بنگلوں، کمرشل پلازوں اور امیر لوگوں کیلئے خوبصورت عمارتیں ڈیزائن کرسکتی تھیں ۔۔
مگر انہوں نے اپنی زندگی کراچی کے ان لوگوں کیلئے وقف کردی جن کے گھروں کے باہر سیوریج کا پانی کھڑا تھا ۔۔ جن کے پاس پانی کا قانونی کنکشن نہیں تھا ۔۔ اور جن کی پوری آبادی کو نقشے پر صرف “کچی آبادی” لکھ کر نظرانداز کردیا جاتا تھا۔
1980 کی دہائی میں وہ اختر حمید خان کے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ سے وابستہ ہوئیں۔
اورنگی میں حکومت سے کسی بڑے منصوبے کا انتظار کرنے کے بجائے مقامی آبادی کی مدد سے کم خرچ سیوریج نظام، رہائش، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں پر کام کیا گیا۔
پروین رحمان صرف دفتر میں بیٹھ کر منصوبے نہیں بناتی تھیں ۔۔ وہ گلیوں میں جاتیں، لوگوں سے ملتیں، پیمائش کرتیں اور ہر آبادی کا ریکارڈ تیار کرتیں۔
انہوں نے کراچی کی 334 کچی آبادیوں کا سروے کیا ۔۔ ان علاقوں، نالوں، پانی کی لائنوں اور زمینوں کو نقشوں پر لائیں جن کا کوئی قابلِ اعتماد سرکاری ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
یہ نقشے غریبوں کیلئے صرف لکیریں نہیں تھے ۔۔
یہ اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ یہاں رہتے ہیں ۔۔ ان کے گھر موجود ہیں ۔۔ ان کی گلیاں، حقوق اور تاریخ ہے۔
لیکن یہی نقشے طاقتور مفادات کیلئے خطرہ بھی بن سکتے تھے۔
جب زمین کا ریکارڈ واضح ہوجائے تو قبضہ چھپانا مشکل ہوجاتا ہے ۔۔ جب پانی کی لائن نقشے پر آجائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ شہریوں کا پانی کہاں جارہا ہے ۔۔ اور جب غریب اپنی زمین کی شناخت حاصل کرلے تو اسے بےدخل کرنا آسان نہیں رہتا۔
پروین رحمان زمینوں پر قبضے، پانی کی چوری اور بھتے کے نظام کے بارے میں کھل کر بات کرتی تھیں۔ انہیں دھمکیاں بھی ملتی رہیں ۔۔ ان کے دفتر میں مسلح افراد آنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
مگر انہوں نے کام نہیں چھوڑا۔
13 مارچ 2013 کی شام وہ اورنگی میں اپنے دفتر سے گھر واپس جارہی تھیں ۔۔ قصبہ موڑ کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
وہ عورت جو تیس برس تک کراچی کے غریبوں کے گھروں کو تحفظ دینے کی کوشش کرتی رہی ۔۔ اپنے ہی شہر کی سڑک پر قتل کردی گئی۔
اس کے بعد تفتیش شروع ہوئی ۔۔ مختلف ملزمان گرفتار ہوئے ۔۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بنیں اور مقدمہ برسوں عدالتوں میں چلتا رہا۔
2021 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چار ملزمان کو عمر قید جبکہ پانچویں کو سات سال قید کی سزا سنائی۔
لگا کہ آٹھ برس بعد شاید پروین رحمان کے قتل کا جواب مل گیا ہے۔
مگر نومبر 2022 میں سندھ ہائی کورٹ نے ناکافی شواہد اور قانونی خامیوں کی بنیاد پر پانچوں افراد کو بری کردیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ان افراد پر براہِ راست قتل کرنے کے بجائے منصوبہ بندی، اکسانے اور معاونت کے الزامات تھے ۔۔ مگر استغاثہ ان الزامات کو بھی شک سے بالاتر ثابت نہیں کرسکا۔
جرم کی جگہ سے ملنے والے خ*ل کسی برآمد شدہ ہتھیار سے نہیں ملائے جاسکے ۔۔ اہم بیانات قابلِ قبول ثبوت نہ بن سکے اور برسوں کی تفتیش عدالت میں قائم نہ رہ سکی۔
پروین رحمان کے خاندان نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ۔۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سوال اٹھائے۔
مگر بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے:
پروین رحمان کو کس نے قتل کیا؟
وہ شہر جس کی 334 کچی آبادیوں کا ریکارڈ پروین رحمان نے محفوظ کیا ۔۔ وہ شہر آج تک ان کے قاتل کا حتمی نام محفوظ نہیں کرسکا۔
یہ صرف ایک عورت کا قتل نہیں تھا ۔۔
یہ کراچی کو سمجھنے والی ایک آنکھ بند کردی گئی ۔۔ غریبوں کیلئے بولنے والی ایک آواز خاموش کردی گئی ۔۔ اور پھر ناقص تفتیش نے حقیقت تک پہنچنے کا راستہ بھی دھندلا کردیا۔
پروین رحمان نے ثابت کیا تھا کہ نقشہ صرف راستہ دکھانے کیلئے نہیں ہوتا ۔۔ نقشہ یہ بھی بتاتا ہے کہ شہر میں طاقت کس کے پاس ہے، زمین کس کی ہے اور پانی کہاں غائب ہوجاتا ہے۔
وہ کراچی کا نقشہ بناتے بناتے چلی گئیں ۔۔
مگر ان کے قتل کی فائل میں آج بھی ایک جگہ خالی ہے:
قاتل کا حتمی نام۔
اگر کراچی اپنے اصل محسنوں کو یاد رکھنا چاہتا ہے تو پروین رحمان کی کہانی آگے پہنچائیے ۔۔ کیونکہ جن لوگوں نے غریبوں کو شناخت دی، انہیں خود گمنامی میں نہیں جانا چاہیے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhajir - مہاجر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share