Maulana Abul Kalam Azad Lbrary

Maulana Abul Kalam Azad Lbrary Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maulana Abul Kalam Azad Lbrary, Library, Jam Noorullah, Karachi Lines.

تاریخ کے سینے میں محفوظ افریقہ کے پہاڑوں اور صحراؤں کی یہ کہاوت کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ حقیقت کا ایک واضح صحیفہ ہے کہ...
31/08/2026

تاریخ کے سینے میں محفوظ افریقہ کے پہاڑوں اور صحراؤں کی یہ کہاوت کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ حقیقت کا ایک واضح صحیفہ ہے کہ:
”کسی کے راستے میں کانٹے نہ بچھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل اسی مسافت پر تمہیں اپنی آرزوؤں کے قدم زخمی حالت میں اٹھانے پڑیں اور تمہیں اسی دروازے پر دستک دینا پڑے!“
سنو! اور اسے فکر کی ترازو میں تولو! دوسروں کے گلے میں تلخی کے وہ گھونٹ ہرگز نہ اتارو کہ اگر زمانے کی گردش تمہیں وہی پیالہ پینے پر مجبور کر دے تو تمہاری اپنی رگِ جاں پارہ پارہ ہو جائے۔
انسانیت کی دنیا کا ازلی اصول یہی ہے کہ خدا کی مخلوق کے ساتھ وہی رویہ اور سلوک اختیار کرو، جس کی تمنا تم اپنے لیے رکھتے ہو۔
یہ رنگ و بو کی دنیا محض ایک تماشا گاہ نہیں، بلکہ مکافاتِ عمل کا ایک مکمل نظام ہے۔ آج جو رویہ تم کسی کے ساتھ اختیار کرو گے، کل کا آئینہ وہی عکس تمہارے سامنے لا کھڑا کرے گا۔
یاد رکھو! مکافاتِ الٰہی کی چکی بظاہر بہت آہستہ گھومتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن جب پیستی ہے تو ذرے ذرے کو سرمہ بنا دیتی ہے۔
دبستانِ ابوالکلام آزاد، جام نوراللہ، کنڈیارو
تحریر: عبید آزاد سہتو

28/08/2026

پنجاب کی تاریخی تشکیل: ایک مختصر تاریخی و تحقیقی جائزہ
جامی وہی جگاڑی۔۔۔ اور دلشاد ضدی، جس کے پاس شورش کے دعوے کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں!
آئیے، جذبات اور تعصبات سے ہٹ کر پنجاب کی تاریخ کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ موجودہ پنجاب کی تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور قومی تشکیل کب اور کیسے ہوئی۔
حقیقی معنوں میں پنجاب کی قومی تشکیل بابا گرو نانک کے عہد میں، یعنی تقریباً چھ سو سال قبل، نمایاں صورت میں سامنے آتی ہے۔ اس سے قبل اس خطے کی سیاسی، تہذیبی اور جغرافیائی شناخت موجودہ مفہوم کے ’’پنجاب‘‘ سے مختلف تھی۔
موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے عظیم تہذیبی دور میں، جو کم از کم پانچ سے سات ہزار سال قبل کا زمانہ ہے، موجودہ پنجاب کا ایک بڑا حصہ قدیم سندھ کی تہذیبی اور جغرافیائی دنیا سے وابستہ تھا۔ اس اعتبار سے موجودہ پنجاب کو قدیم سندھ کی تہذیبی تاریخ سے الگ کرکے دیکھنا تاریخی تناظر کو محدود کر دیتا ہے۔
اس کے بعد تقریباً ساڑھے تین سے چار ہزار سال قبل ویدک دور کا آغاز ہوا۔ اس زمانے میں بھی موجودہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور افغانستان کے وسیع علاقے ایک ہی قدیم تہذیبی جغرافیے کا حصہ تھے۔ بعد ازاں گندھارا تہذیب کا دور آیا، جس میں مختلف مقامی حکمرانوں اور ریاستوں نے یہاں حکومت کی۔ اس کے بعد ہخامنشی فارسی سلطنت کا اثر قائم ہوا، لیکن اس دور میں بھی آج کے ’’پنجاب‘‘، خصوصاً مسلم یا سکھ پنجاب، جیسی قومی شناخت موجود نہیں تھی۔
اس کے بعد راجا پورس کی سلطنت کا ذکر ملتا ہے، جس کے ساتھ سکندرِ اعظم کی مشہور جنگ ہوئی۔ لیکن اس زمانے میں بھی ’’پنجاب‘‘ ایک باقاعدہ قومی ریاست یا قوم کے طور پر موجود نہیں تھا، اور نہ ہی ’’پنجابی قوم‘‘ یا ’’پنجابی زبان‘‘ کی موجودہ معنوں میں کوئی واضح شناخت تھی۔
پھر موریہ سلطنت کا دور آیا۔ چندرگپت موریہ اور اس کے بعد اشوک کا زمانہ اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ اشوک کے عہد میں موجودہ پنجاب سمیت وسیع خطہ بدھ مت کے گہرے اثرات میں تھا۔ سائیں عطا محمد بھنبھرو کے حوالے سے یہ رائے بھی بیان کی جاتی رہی ہے کہ اشوک کا تعلق کوٹری کبیر سے تھا یا وہ وہاں پیدا ہوا تھا۔
اس کے بعد کُشان سلطنت کا دور آیا۔ کُشان بادشاہ کنشک نے بدھ مت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس زمانے میں بھی پنجاب ایک واضح قومی اکائی کے طور پر موجود نہیں تھا۔
بعد ازاں کدار اور سفید ہنوں کا دور آیا اور پھر مقامی ہندو سناتنی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا۔ نویں سے گیارہویں صدی کے دوران جے پال، آنند پال اور تریلوچن پال جیسے حکمران اس خطے کی سیاسی تاریخ میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
712ء میں محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوا۔ تاہم اس کی فتوحات قدیم سندھ کے شمالی علاقوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکیں اور ملتان اس کی پیش قدمی کی ایک اہم حد بن گیا۔
اس کے بعد موجودہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں دوبارہ مقامی حکمرانوں کا اقتدار قائم ہوا۔ گیارہویں صدی میں محمود غزنوی نے اس خطے پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد غوری، مغل اور افغان ادوار آئے۔ لیکن ان تمام ادوار کو موجودہ معنوں میں پنجاب کی قومی تشکیل کا دور قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔
پنجاب کی سیاسی اور قومی تشکیل کا ایک اہم مرحلہ سکھ دور میں سامنے آیا، جس کے بعد رنجیت سنگھ نے ایک وسیع سکھ سلطنت قائم کی۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پنجاب کا وجود پہلی مرتبہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہوا۔ پنجاب کا نام اور اس خطے کی جغرافیائی شناخت اس سے پہلے بھی موجود تھی۔
اسی لیے یہ دعویٰ کہ ’’پنجاب 1818ء میں وجود میں آیا‘‘ تاریخی اعتبار سے قابلِ بحث اور ناقابلِ قبول ہے۔ پنجاب کی سیاسی تاریخ اور اس نام کی جغرافیائی شناخت اس تاریخ سے کہیں پہلے موجود تھی۔
جہاں تک پنجابی زبان کا تعلق ہے، اس کی تشکیل بھی صدیوں پر محیط ایک تدریجی تاریخی عمل کا نتیجہ ہے۔ بابا فرید گنج شکر کا زمانہ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے منسوب شاعری کو پنجابی زبان کی قدیم روایت میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
لہٰذا یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ پنجاب اور پنجابی زبان کی موجودہ شناخت ایک طویل تاریخی ارتقائی عمل کے نتیجے میں سامنے آئی۔ اسے سکندرِ اعظم کے دور میں موجودہ قومی تصور کے ساتھ جوڑنا تاریخی طور پر درست نہیں۔
راجا پورس اور سکندرِ اعظم کے درمیان جنگ تقریباً 2300 سال قبل ہوئی تھی۔ اس زمانے میں نہ موجودہ معنوں میں ’’پنجابی قوم‘‘ کا تصور تھا، نہ موجودہ ’’پنجاب‘‘ کی قومی شناخت اور نہ ہی پنجابی زبان اپنی موجودہ شکل میں موجود تھی۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ جس ’’کالاڻي‘‘ کی شورش کے حوالے سے دلشاد صاحب مسلسل اصرار اور وکالت کر رہے ہیں، اس دعوے کے لیے ان کے پاس کیا مستند تاریخی حوالہ اور قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہے؟
اگر کسی تاریخی دعوے کے حق میں حوالہ پیش کیا جائے تو ضروری ہے کہ اس کا اصل ماخذ، کتاب، مصنف، صفحہ اور تاریخی سیاق بھی واضح کیا جائے۔ محض کسی مبہم یا غیرمستند حوالے کی بنیاد پر تاریخ کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف جامی صاحب بھی براہِ راست کالاڻي کے معاملے پر واضح تاریخی مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں اور پنجاب کی تاریخ کے بارے میں بھی ایسی تاریخ پیش نہیں کر پاتے جو تمام تاریخی شواہد اور ادوار کو یکجا کرکے ایک مربوط تصویر سامنے رکھ سکے۔
تاریخ جذبات، ضد اور سیاسی پسند و ناپسند سے نہیں لکھی جاتی؛ تاریخ مستند ماخذ، آثار، لسانی شواہد، جغرافیائی حقائق اور قابلِ تصدیق تاریخی حوالوں کی بنیاد پر لکھی جاتی ہے۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پنجاب، سندھ، پنجابی زبان اور اس خطے کی قدیم تہذیبی تاریخ پر گفتگو کرتے وقت جذباتی نعروں کے بجائے مستند تاریخی شواہد کو بنیاد بنایا جائے۔
پروفیسر ساجد سومرو

سلام و محبت، سرحد پار کے تمام دوستوں کے نام!​تاريخ کے کچھ صفحے غم ناک بھی ہیں اور فاصلے بھی طویل ہیں، مگر دلوں کے دھاگے ...
15/08/2026

سلام و محبت، سرحد پار کے تمام دوستوں کے نام!
​تاريخ کے کچھ صفحے غم ناک بھی ہیں اور فاصلے بھی طویل ہیں، مگر دلوں کے دھاگے اور تہذیب و ثقاقت کی سانجھ اب بھی وہی ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، میں اج یہ پیغام نفرتوں کی دیواریں گرانے اور محبت کے چراغ جلانے کے لیے لکھ رہا ہوں۔
​ہندو مسلم اتحاد صرف ایک نعرہ یا سیاسی بیان نہیں، بلکہ برصغیر کی اس عظیم تاریخ کی روح ہے جس میں ہم نے صدیوں ایک ساتھ سانس لی ہے۔
​ہماری سانجھی میراث
​ہماری زبانیں، ہمارا کھانا، ہمارا لٹریچر، اور ہمارے گانے—یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہماری پہچان کا ایک بڑا حصہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
​سنگیت اور فن: غالب کی غزل ہو یا بلھے شاہ کا کلام، رفیع صاحب کی جادوئی آواز ہو یا نصرت فتح علی خان کی قوالی—نہ سر سرحدوں کے محتاج ہیں اور نہ جذبات۔
​احساس اور اپنائیت: کرکٹ کا میدان ہو یا دیارِ غیر میں ملاقات، جب بھی ایک ہندوستانی اور پاکستانی ملتے ہیں، تو غیر ملکی سرزمین پر بھی 'اپنائیت' کی خوشبو آنے لگتی ہے۔
​محبت کا پیغام: دل سے دل تک
​"نفرتوں کے لیے جگہ چھوٹی پڑ جاتی ہے، جب محبت اپنے پر پھیلاتی ہے۔"
​ہمیں ماضی کی تلخیوں اور سیاست کی سیاست کاریوں کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ہندو اور مسلم اس دھرتی کی دو ایسی آنکھیں ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر ادھوری ہیں۔ ایک دوسرے کے عقائد، تہواروں اور جذبات کا احترام ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔
​جب دیوالی کے چراغ جلیں تو روشنیاں یہاں بھی محسوس ہوں، اور جب عید کی خوشیاں ہوں تو مٹھاس سرحد پار بھی پہنچے۔ یہی وہ سچا خواب ہے جو اس خطے کے عوام کو سکون، خوشحالی اور ترقی دے سکتا ہے۔
​آؤ ایک نئی شروعات کریں
​پاکستان سے ہر اس ہندوستانی کے لیے، جو امن، دوستی اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے، ایک ہی پیغام ہے: "آؤ نفرتوں کی بات ختم کریں اور انسانیت، دوستی اور محبت کا ہاتھ تھام لیں۔"
​سرحدیں فاصلے تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن اگر دل صاف ہوں تو محبت کی خوشبو کو کوئی تار یا دیوار نہیں روک سکتی۔
​والسلام،
پاکستان سے آپ کا ایک خیر خواہ دوست عبید آزاد سہتو

"وہ گالیاں کھاتارہا اوردعائیں دیتارہا" معصوم مرادآبادی آج مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے آج ہی کے دن یعن...
22/02/2026

"وہ گالیاں کھاتارہا اوردعائیں دیتارہا"

معصوم مرادآبادی

آج مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے آج ہی کے دن یعنی 22 فروری 1958 کو دہلی میں وفات پائی اور شاہجانی جامع مسجد کے پہلو میں آسودہ خواب ہیں ۔ مولانا آزاد 11/نومبر 1888کو مقدس سرزمین مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ دوبرس کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کلکتہ آگئے اور یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کی سرگرمیوں کا اصل مرکز ان معنوں میں کلکتہ تھا کہ وہاں سے انھوں نے ’الہلال‘ اور ’البلا غ‘ جیسے معیاری اخبارات شائع کئے۔کلکتہ میں رہ کر ہی انھوں نے اپنی معرکۃ الآراء تفسیر ’ترجمان القرآن‘ لکھی۔ کلکتہ میں سرکلر روڈ پر واقع اس مکان کو اب ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے، جہاں انھوں نے بیشتر وقت گزارا اور یہیں ان کی اہلیہ کی وفات بھی ہوئی۔ جس وقت ان کی اہلیہ زلیخا بیگم فوت ہوئیں تووہ قلعہ احمد نگر کی جیل میں قید تھے۔ انگریزوں نے انھیں اپنی اہلیہ کی تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ یہ وہی قلعہ احمد نگر ہے جہاں نظر بندی کے دوران مولانا آزاد نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’غبار خاطر‘ لکھی،
جسے اردو ادب میں آج بھی ایک شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔
جن دنوں مولانا آزاد کلکتہ میں ’ترجمان القرآن‘ لکھ رہے تھے، یہ ان کی بڑی تنگدستی کا زمانہ تھا۔ قومی اردو کونسل نے حال ہی میں مولانا آزادکے کاتب ’منشی عبدالقیوم خاں خطاط‘ پر خاکسار کی ایک کتاب شائع کی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جن دنوں مولانا آزادکلکتہ میں ’ترجمان القرآن‘ لکھ رہے تھے تو اکثر اوقات وہ ابلے ہوئے چاولوں پر گزاراکرتے تھے۔ ان پر قرض بھی کافی ہوگیا تھا۔ وہ جب قلعہ احمدنگر جیل سے رہا ہوئے تو انھوں نے منشی عبدالقیوم خاں خطاط کو بلا کر ’غبار خاطر‘ کی کتابت اور طباعت کا انتظام کرنے کے لیے کہا تاکہ وہ قرض اتارا جاسکے جو اسیری کے دنوں میں ان پر ہوگیا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا نام آتے ہی ان کی کئی حیثیتیں ایک ساتھ ذہن میں ابھرتی ہیں۔ وہ ایک عالم دین تھے، مجاہدآزادی تھے، مفسر قرآن تھے، صحافی تھے اور ایک ایسے دوراندیش قائد تھے جن کی پیشین گوئیاں آج بھی ہمیں ان تاریخی غلطیوں سے آگاہ کرتی ہیں جو ہم سے سرزد ہوئیں۔ وہ ملک کی تقسیم کے سخت مخالف تھے اور انھوں نے ہجرت کررہے قافلوں کو جامع مسجد کے منبر سے پکارتے ہوئے بڑے درد انگیز لہجے میں کہا تھا:
”آج تمہارے چہرے کا اضطراب اور دلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار پچھلے چند برسوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں۔تمہیں یاد ہے،میں نے تمہیں پکارا،تم نے میری زبان کاٹ لی، میں نے قلم اٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کردئیے۔ میں نے چلنا چاہا،تم نے میرے پاؤں کاٹ دئیے۔ میں نے کروٹ لینی چاہی، تم نے میری کمر توڑ دی۔۔۔نتیجہ معلوم ہے کہ آج ان ہی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے، جن کا اندیشہ تمہیں صراط مسقیم سے دور لے گیا تھا۔سچ پوچھو تو میں ایک جمود ہوں یا ایک دور افتادہ صدا، جس نے وطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گزاری۔“
مولانا آزاد کا یہ تاریخی خطبہ جو انھوں نے ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد اکتوبر1947میں دیا تھا، ایک ایسی دستاویز ہے جو مسلمانوں کی غفلتوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ کاش مسلمانوں نے مولانا آزاد کے کہے پر عمل کیا ہوتا تو آج ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
مولانا آزاد کی قومی اور ملی خدمات اس درجے کی ہیں کہ ان کے یوم ولادت پر ملک بھر میں تقریبات منعقد ہونی چاہئیں،لیکن المیہ یہ ہے کہ دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے پہلو میں واقع ان کے مزار پر جہاں پہلے اچھے خاصے لوگ فاتحہ خوانی کرتے تھے، اب چند ہی لوگ گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے انھیں فراموش کردیا ہے اور ان خدمات کو بھلادیاہے جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ پہلے ان کے یوم ولادت کو ’یوم تعلیم‘ کے طورپر منایا جاتا تھا، کیونکہ وہ ملک کے پہلے وزیرتعلیم تھے اور انھوں نے اس حیثیت سے ملک کے تعلیمی منظر نامے میں رنگ بھرے تھے، لیکن اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔موجودہ حکومت تو اس لیے ان کا نام نہیں لینا چاہتی کہ وہ کانگریسی قائد تھے، مگر خود ہمارا رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔
مجھے گزشتہ دنوں اپنی ایک ریسر چ کے سلسلہ میں مولانا آزاد کے ذاتی ذخیرے تک پہنچنے کا موقع ملا، جو نئی دہلی میں خود ان ہی کے قائم کردہ ادارے انڈین کونسل برائے کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر)میں محفوظ ہے۔ یہاں ان کے ذاتی ذخیرے کی دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور مسودات ہیں۔ اس مقام کو ’گوشہ آزاد‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ حکومت اس ذخیرے کو کہیں اور منتقل کرنا چاہتی ہے۔ظاہر ہے یہاں کوئی ان نوادرات کو دیکھنے نہیں جاتا اور نہ ہی ان سے رجوع کرتا ہے۔
مولانا آزاد اپنوں اور غیروں دونوں کی بے رخی کا شکار ہیں۔ اس اعتبار سے وہ تاریخ کی ایک مظلوم شخصیت ہیں۔ ان کی اس مظلومیت کو شورش کاشمیری نے ان کے ایک خاکہ میں بڑے معنی خیز انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”ہندوستانی مسلمانوں کی دوعظیم ہستیوں میں ایک اقبال تھا، جو بصر عقیدت کی بھینٹ چڑھ گیا، دوسرا ابواکلام تھا، جو حصول آزادی کے آخری ایام میں مسلمانوں کی غضب ناک نفرت کا شکار رہا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی ہر زبان میں اس کو گالی دی۔ وہ اردوزبان کا سب سے بڑا ادیب، سب سے بڑا خطیب اور سب سے بڑا سیاستدان تھا، لیکن ڈاکٹر ذاکر حسین کے الفاظ میں ’اردو زبان کی ایسی کوئی گالی نہ تھی، جومسلمانوں نے اپنے اس سب سے بڑے محسن کو نہ دی ہو۔وہ گالیاں کھاتا رہا اور دعائیں دیتا رہا۔‘

10/12/2025

بھوک ہمارا ثانوی مسلہ ہے
وباؤں کا مقابلہ
ہم جدید ادویات سے کر لیں گے،
قدرتی آفتوں کو بھی سہہ لیں گے__
مگر یہ ذہنی آسودگی،
نسل در نسل منتقل ہونی والی
یہ اداسیاں
ہماری اوسط عمر گھٹا رہی ہیں۔

ہماری اگلی نسل__
ہماری آدھی عمر بھی نہیں جی پائے گی۔

شائد کسی نے ہمارے متعلق کہا تھا کہ
ہماری چھوڑی ہوئی اُداسی سے
سات نسلیں اداس ہوں گی۔

Address

Jam Noorullah
Karachi Lines
75400

Telephone

9203002543425

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Abul Kalam Azad Lbrary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Maulana Abul Kalam Azad Lbrary:

Shortcuts

Share

Category