31/08/2026
تاریخ کے سینے میں محفوظ افریقہ کے پہاڑوں اور صحراؤں کی یہ کہاوت کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ حقیقت کا ایک واضح صحیفہ ہے کہ:
”کسی کے راستے میں کانٹے نہ بچھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل اسی مسافت پر تمہیں اپنی آرزوؤں کے قدم زخمی حالت میں اٹھانے پڑیں اور تمہیں اسی دروازے پر دستک دینا پڑے!“
سنو! اور اسے فکر کی ترازو میں تولو! دوسروں کے گلے میں تلخی کے وہ گھونٹ ہرگز نہ اتارو کہ اگر زمانے کی گردش تمہیں وہی پیالہ پینے پر مجبور کر دے تو تمہاری اپنی رگِ جاں پارہ پارہ ہو جائے۔
انسانیت کی دنیا کا ازلی اصول یہی ہے کہ خدا کی مخلوق کے ساتھ وہی رویہ اور سلوک اختیار کرو، جس کی تمنا تم اپنے لیے رکھتے ہو۔
یہ رنگ و بو کی دنیا محض ایک تماشا گاہ نہیں، بلکہ مکافاتِ عمل کا ایک مکمل نظام ہے۔ آج جو رویہ تم کسی کے ساتھ اختیار کرو گے، کل کا آئینہ وہی عکس تمہارے سامنے لا کھڑا کرے گا۔
یاد رکھو! مکافاتِ الٰہی کی چکی بظاہر بہت آہستہ گھومتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن جب پیستی ہے تو ذرے ذرے کو سرمہ بنا دیتی ہے۔
دبستانِ ابوالکلام آزاد، جام نوراللہ، کنڈیارو
تحریر: عبید آزاد سہتو