Achi Batien

Achi Batien Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Achi Batien, Library, Karachi Lines.

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
اچھی باتیں۔۔ اس سفر میں مجھے اپ سب کا تعاون چاہئے
ہم سب کا پیج اور پلیٹ فارم ہے
مختلف واقعات۔ سچی کہانیاں۔ موٹیویشنل پہ مشتمل معاشرتی تحاریر ہیں ۔۔
اللہ اپکا حامی وناصر ہو❤️
Please Request to Join Us
Like & Follow &Share...

06/09/2026

🟢 *کویت میں ایک بوڑھا آدمی عدالت میں داخل ہوا* تاکہ اپنی شکایت (مقدمہ) قاضی کےسامنے پیش کرے-
*قاضی نےپوچھا آپ کامقدمہ کس کے خلاف ہے؟ اس نےکہا اپنے بیٹے کے خلاف۔قاضی حیران ہوا اور پوچھا کیا شکایت ہے،بوڑھے نے کہا،میں اپنے بیٹے سے اس کی استطاعت کے مطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہا ہوں،قاضی نے کہا یہ تو آپ کا اپنے بیٹے پر ایسا حق ہے کہ جس کے دلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے*
*بوڑھے نے کہا قاضی صاحب ! اس کے باوجود کہ میں مالدار ہوں اور پیسوں کا محتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹے سے ماہانہ خرچہ وصول کرتا رہوں-*
*قاضی حیرت میں پڑ گیا اور اس سے اس کے بیٹے کا نام اور پتہ لیکر اسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹا عدالت میں حاضر ہوا تو قاضی نے اس سے پوچھا کیا یہ آپ کے والد ہیں؟ بیٹے نے کہا جی ہاں یہ میرے والد ہیں-*
*قاضی نے کہا انہوں نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے کہ آپ ان کو ماہانہ خرچہ ادا کرتے رہیں چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو-*
*بیٹے نے حیرت سے کہا،وہ مجھ سے خرچہ کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ وہ خود بہت مالدار ہیں اور انہیں میری مدد کی ضرورت ہی نہیں ہے-*
*قاضی نے کہا یہ آپ کے والد کا تقاضا ہے اور وہ اپنے تقاضے میں آزاد اور حق بجانب ہیں۔*
*بوڑھے نے کہا قاضی صاحب!اگر آپ اس کو صرف ایک دینار ماہانہ ادا کرنے کاحکم دیں تو میں خوش ہو جاؤں گا بشرطیکہ وہ یہ دینار مجھے اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بلا تاخیر اور بلا واسطہ دیا کریے۔قاضی نے کہا بالکل ایسا ہی ہوگا یہ آپ کا حق ہے-*
*پھر قاضی نےحکم جاری کیا کہ "فلان ابن فلان اپنے والد کو تاحیات ہر ماہ ایک دینار بلا تاخیر اپنے ہاتھ سے بلا واسطہ دیا کرے گا"*
*کمرہ عدالت چھوڑنے سے پہلے قاضی نے بوڑھے باپ سے پوچھا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے بتائیں کہ آپ نے دراصل یہ مقدمہ دائر کیوں کیا تھا،جبکہ آپ مالدار ہیں اور آپ نے بہت ہی معمولی رقم کا مطالبہ کیا؟*
*بوڑھے نے روتے ہوئے کہا، قاضی محترم !میں اپنے اس بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہا ہوں،اور اس کو اس کے کاموں نے اتنا مصروف کیا ہے کہ میں ایک طویل زمانے سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا ہوں جبکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ شدید محبت رکھتا ہوں*
*اور ہر وقت میرے دل میں اس کاخیال رہتا ہے یہ مجھ سے بات تک نہیں کرتا حتیٰ کہ ٹیلیفون پر بھی-*
*اس مقصد کے لئے کہ میں اسے دیکھ سکوں چاہے مہینہ میں ایک دفعہ ہی سہی، میں نے یہ مقدمہ درج کیا ہے۔*
*یہ سن کر قاضی بے ساختہ رونے لگا اور ساتھ دوسرے بھی، اور بوڑھے باپ سے کہا،اللہ کی قسم اگر آپ پہلے مجھے اس حقیقت سے اگاہ کرتے تو میں اس کو جیل بھیجتا اور کوڑے لگواتا۔ بوڑھے باپ نے مسکراتے ہوئے کہا۔*
*"سیدی قاضی! آپ کا یہ حکم میرے دل کو بہت تکلیف دیتا،
*کاش بیٹے جانتے کہ ان کے والدین کی دلوں میں ان کی کتنی محبت ہے،اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے۔*

مرد کی اپنی خواہشوں کی فہرست شاید بہت مختصر ہوتی ہے؛ ایک مخلص ہمسفر، ایک چھوٹا سا گھر، اور اس گھر میں بیٹی یا بیٹے کی ہن...
05/09/2026

مرد کی اپنی خواہشوں کی فہرست شاید بہت مختصر ہوتی ہے؛ ایک مخلص ہمسفر، ایک چھوٹا سا گھر، اور اس گھر میں بیٹی یا بیٹے کی ہنسی۔ اس کے بعد اس کے زیادہ تر خواب اس کے اپنے نہیں رہتے۔ وہ کماتا ہے تو ماں باپ کے سکون کے لیے، آگے بڑھتا ہے تو بہن بھائیوں کے بہتر کل کے لیے، کاروبار بناتا ہے تو اپنے لوگوں کو سہارا دینے کے لیے، اور خود تھک کر بھی دوسروں کی ضرورتوں کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ معاشرہ مرد سے ہمیشہ پوچھتا ہے کہ تم نے حاصل کیا کیا؟ مگر شاید ہی کبھی کوئی پوچھتا ہے کہ تم نے اپنے حصے کی کتنی خواہشیں دوسروں کی خاطر خاموشی سے چھوڑ دیں؟ بعض مرد پوری زندگی اپنی ذات کے لیے صرف ایک چھوٹی سی دنیا چاہتے ہیں—ایک ہمسفر، چند اپنوں کی محبت اور ایک ایسا گھر جہاں واپس آکر انہیں کچھ دیر کے لیے مضبوط بننے کی ضرورت نہ پڑے۔۔۔🫀🥀💯
علی

فرشتے شور کے عادی نہیں ہوتے۔وہ خاموشی میں اترتے ہیں،اُن جگہوں پرجہاں لفظ احترام سے پڑھے جائیںاور نیت نمائش سے خالی ہو۔رس...
04/09/2026

فرشتے شور کے عادی نہیں ہوتے۔
وہ خاموشی میں اترتے ہیں،
اُن جگہوں پر
جہاں لفظ احترام سے پڑھے جائیں
اور نیت نمائش سے خالی ہو۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا
کہ جو لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہو کر
قرآن پڑھتے اور سمجھتے ہیں
ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،
رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے،
فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں
اور اللہ ان کا ذکر
اپنے پاس والوں میں کرتا ہے۔

یہ صرف فضیلت نہیں،
یہ ایک منظر ہے
جو ہمیں دکھائی نہیں دیتا
مگر وقوع پذیر ہوتا ہے۔

قرآن کی محفل میں
فرشتے سامع بن کر نہیں آتے،
وہ گواہ بن کر آتے ہیں۔
وہ دیکھتے ہیں
کہ کون لفظ پڑھ رہا ہے
اور کون دل سے سن رہا ہے۔

کبھی کوئی شخص
قرآن صحیح نہیں پڑھ پاتا،
آواز رُک جاتی ہے،
لفظ اٹک جاتے ہیں—
فرشتے وہاں سے نہیں جاتے۔
وہ جانتے ہیں
کہ یہ کوشش ہے،
اور کوشش کے لمحے
اللہ کو محبوب ہوتے ہیں۔

*یہی تو قرآن کی محفل کا حسن ہے*
*کہ یہاں کامل ہونا شرط نہیں،*
*حاضر ہونا کافی ہے۔*

فرشتے اُن آنکھوں کو بھی دیکھتے ہیں
جو آیت پر بھر آتی ہیں،
اُن دلوں کو بھی🫀
جو کسی لفظ پر ٹھہر جاتے ہیں،
اور اُن خاموشیوں کو بھی
جو تفسیر سے زیادہ گہری ہوتی ہیں۔

02/09/2026
ہم انسان وسیلوں کے محتاج ہیں. ہمیں لگتا ہے اگر فلاں شخص مدد کرے گا تو کام ہو جائے گا، اگر فلاں دروازہ کھل جائے تو قسمت ب...
01/09/2026

ہم انسان وسیلوں کے محتاج ہیں. ہمیں لگتا ہے اگر فلاں شخص مدد کرے گا تو کام ہو جائے گا، اگر فلاں دروازہ کھل جائے تو قسمت بدل جائے گی، اگر اتنے پیسے آ جاہیں تو زندگی آسان ہو جائے گی. ہم ساری زندگی وسیلے ڈھونڈتے رہتے ہیں.

اور اللہ؟ وہ وسیلے بناتا ہے. تمہارا کام صرف مانگنا ہے، اس کا کام ہے عطا کرنا. تمہارا کام قدم اٹھانا ہے، راستے بنانا اس کا کام. وہ کیسے بنائے گا؟ یہ تم سوچ بھی نہیں سکتے.
جس دروازے پر تم نے بار بار دستک دی وہ نہیں کھلا، وہ کسی اور دیوار کو ہی دروازہ بنا دے گا. جس شخص سے تمہیں امید تھی اس نے تمھیں توڑ دیا، تو وہ کسی ایسے اجنبی کو تمہارا بنا دے گا جس کا تم نے کبھی نام بھی نہیں سنا تھا. جس بیماری کا تم نے سوچا تھا کہ اب یہی میرا انجام ہے، اس بیماری کو وہ تمہاری پاکیزگی کا ذریعہ بنا دے گا.

یاد ہے موسی علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا، پیچھے فرعون کا لشکر. بظاہر کوئی وسیلہ نہیں. عقل کہتی تھی یہاں کہانی ختم. لیکن اللہ نے سمندر کو ہی وسیلہ بنا دیا، راستہ بنا دیا. آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے باغ بنا دیا. تو تمہاری یہ چھوٹی سی پریشانی کیا چیز ہے؟

ایک دن آئے گا جب تمہیں سمجھ آئے گا کہ جو دیر ہوئی وہ دراصل تمہاری حفاظت تھی. جو دعا قبول نہیں ہوئی وہ اس لیے کہ اللہ اس سے بہتر دعا تمہارے دل میں ڈالنا چاہتا تھا. اور پھر وہ لمحہ آئے گا جب وسیلے خود بنتے چلے جائیں گے. بغیر تمہارے کہے. بغیر تمہارے مانگے. کہیں سے ایک راستہ نکل آئے گا، کہیں سے دل میں ایک خیال آئے گا اور وہی خیال تمہاری زندگی بدل دے گا
بس تم آسمان کو تکتے رہ جاؤ گے. کہ یا اللہ یہ سب کیسے ہوا؟ میں نے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا. تب تمہیں پتہ چلے گا کہ تم جیسے تاخیر سمجھ رہے تھے وہ تیاری تھی. اللہ تمہارے لیے منظر سجا رہا تھا، کردار چن رہا تھا، وقت کو تمہارے حق میں کر رہا تھا. اگر آج تمہارے ہاتھ خالی ہیں تو آسمان کی طرف دیکھو. وہ خالی ہاتھوں کو ہی بھرتا ہے. وہ ٹوٹے دلوں کے قریب ہی رہتا ہے. بس ایک شرط ہے. وسیلوں پر نہیں، وسیلے بنانے والے پر یقین رکھو.

لوگوں کو مت دیکھو ک کون ساتھ دے گا. اسے دیکھو جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا. وہ بنا دے گا. ایسے بنائے گا کہ تم سجدے میں گر جاؤ گے. اور کہو گے، "یارب، میں نے تو اتنا بھی نہیں مانگا تھا جتنا تو نے دے دیا

اگر آپ مر کر بھی امر ہونا چاہتے ہیں تو اس فلمی اداکار کی تقلید کریں۔ یہ انڈین موویز کا مشہور اداکار ہے ۔اس کا نام   سایا...
28/08/2026

اگر آپ مر کر بھی امر ہونا چاہتے ہیں تو اس فلمی اداکار کی تقلید کریں۔ یہ انڈین موویز کا مشہور اداکار ہے ۔اس کا نام سایا جی شنڈے ( Sayaji Shinde) ہے۔ یہ مہاراشٹر کا رہنے والا مراٹھی اداکار ہے.
اس نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ جب میری ماں بیمار ہو گئی اور اس کے بچنے کا کوئی آسرا نہیں رہا تو میں نے ماں کو کہا کہ میں کتنا ہی امیر، بااختیار اور طاقتور ہو جاؤں مگر میں تجھے نہیں بچا سکتا، لیکن میں تیرے ساتھ بھی رہنا چاہتا ہوں..."
سنجے نے کہا پھر ایک دن میں نے اپنی ماں کو ترازو کے ایک پلڑے میں بٹھایا اور دوسرے پلڑے میں دیسی درختوں کے بیج (سیڈز) رکھے اور وہ بیج میں نے مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر لگائے، کہیں ایک ہزار تو کہیں 10 ہزار۔۔ کہیں 5 ہزار درخت ہوگئے. اب یہ درخت 20,20 فٹ اونچے اور پھل دار ہیں۔ جب تک یہ درخت رہیں گے،
ان میں پھل اور پھول ہوں گے، خوشبو ہوگی، پرندے ہوں گے،
میں ان درختوں میں اپنی ماں کے ساتھ رہوں گا...

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اب میں خود کو دوسروں کے آئینوں میں نہیں دیکھتا۔میں کبھی ایسا کیا کرتا تھا۔ ہر رائے کے سامنے یوں ک...
27/08/2026

میں اعتراف کرتا ہوں کہ اب میں خود کو دوسروں کے آئینوں میں نہیں دیکھتا۔

میں کبھی ایسا کیا کرتا تھا۔ ہر رائے کے سامنے یوں کھڑا ہو جاتا جیسے وہ کوئی عدالت ہو، اور ہر نگاہ کو ایسے لیتا جیسے وہ آخری فیصلہ ہو۔ میں اپنی شخصیت کے خدوخال تک بدلنے کی کوشش کرتا، صرف اُن آنکھوں کو خوش کرنے کے لیے جنہوں نے مجھے دوسری بار دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی۔

پھر میں تھک گیا۔

یہ کسی کمزور انسان کی تھکن نہیں تھی جو ہار کر پیچھے ہٹ جائے، بلکہ اُس شخص کی تھکن تھی جسے یہ سمجھ آ گئی کہ جس راستے پر وہ چل رہا ہے، اُس میں اتنی ساری آوازوں کے لیے جگہ نہیں۔

میں نے جان لیا کہ جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں، اُن کے لیے میں ایک ایسی گرمائش ہوں جو خریدی نہیں جا سکتی۔ اور جو مجھے جانتے ہی نہیں، اُن کے لیے ایک ایسی سرد مہری ہوں جس کی کوئی وضاحت نہیں۔ جنہیں میں نے دوست بنایا، اُن کے لیے میں پرانے گھروں جیسا سکون اور تحفظ ہوں، اور جو زندگی میں بس گزرتے ہوئے آئے، اُن کے لیے ایک بند دروازہ ہوں جس پر دستک دینا بھی بے فائدہ ہے۔

میں خود نہیں بدلا، صرف دیکھنے کے زاویے بدل گئے ہیں۔

اور لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تمہاری کہانی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ اٹھاتے ہیں، اُسی سے پوری فلم بنا لیتے ہیں، پھر خود ہی اُس پر یقین کرتے ہیں، اور آخر میں قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یہی حقیقت ہے۔

تو پھر میں اپنے ایک دل کو ہزار تشریحات کے بوجھ میں کیوں ڈالوں؟

میں کسی نمائش میں لٹکی ہوئی تصویر نہیں ہوں جو آنے والے لوگوں کی پسندیدگی کی منتظر رہے۔ میں ایک زندگی ہوں، جو اپنی بے ترتیبی، اپنی خاموشی اور اپنی اُن خامیوں کے ساتھ جیتی جاتی ہے جنہیں میں نے دوسروں کے قبول کرنے سے پہلے خود قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔

جس نے مجھ سے محبت کی، اُس نے ایک حقیقی انسان سے محبت کی۔ اور جس نے مجھ سے نفرت کی، اُس نے اُس کردار سے نفرت کی جو اُس نے خود اپنے ذہن میں تخلیق کیا۔

دونوں میں فرق کیا ہے؟

پہلے شخص نے مجھے جانا تھا، اور دوسرے نے صرف یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ مجھے جانتا ہے۔ اور یہی بات زیادہ خطرناک ہے۔

اس لیے آج میں بغیر کسی پچھتاوے اور بغیر کسی غرور کے اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اُن لوگوں کے سامنے خود کو بیان کرنا چھوڑ دیا ہے جو سننے کے بجائے صرف اپنے فیصلے سنانا چاہتے ہیں۔

اور جس دن سے میں نے یہ کرنا چھوڑا، شور کم ہو گیا، دل کشادہ ہو گیا، اور پہلی بار مجھے اپنی ہی آواز سنائی دینے لگی۔

اور وہ میرے لیے کافی تھی۔

20/08/2026

*ایمان تازہ کر لیں...!!*

*کوٹ مومن تحصیل,ضلع سرگودھا کا ایک سچا واقع*
*اس واقع کی تصدیق ڈاکٹر محسن رضا گوندل کر چکے ہیں*

سال تھا 2000

┄┅═❁ *ادب نگری* ❁═┅┄

میں رورل ہیلتھ سنٹر مڈھ رانجھا سرگودھا میں پوسٹڈ تھا۔ قریب 4 بجے آفس میں اپنے دوست پیر شاہ جہاں کیساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا
پیر صاحب اپنے چیک اپ کے لئیے بیٹھے تھے کہ لوکل تھانہ والے ایک شدید مضروب مولوی کو قریبی قصبہ تخت ہزارہ سے لے کر ہسپتال آئے

ایس ایچ او نے بتایا کہ تخت ہزارہ میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی لڑائی ہوئی ہے اور بلوائیوں نے مخالف پارٹی کے بندے بھی مضروب کر دئیے ہیں

بعداذاں اس مضروب کی شناخت *اطہر شاہ* کے نام سے ہوئی۔
میں نے اور میرے ڈسپنسر نے جب مضروب کا جسمانی معائنہ کیا تو سر پہ اسقدر کسی تیز دھار آلہ سے ضربات لگائی گئی تھیں کہ کھوپڑی کسی تربوزکی طرح کھلی ہوئی تھی، دماغ قمیض کے کالر اور گردن پہ ٹکڑوں کی صورت موجود تھا
مضروب بہوش اور تقریبا آخری سانسیں چل رہی تھیں وائٹل سائنز نہ ہونے کے برابر تھے
He was just gasping.
ہم نے آئی وی لائن لی۔ دماغ کے ٹکڑے چن چن کر کھوپڑی میں رکھے۔ زخموں کو پیک کیا۔ لوز پٹی کر دی۔ ایمبولینس تیار کروائی۔
ڈسپنسر کہنے لگا
سر شفٹنگ فضول ہے۔ سیال موٹروے انٹر چینج سے پہلے ہی مولوی مر جائے گا۔
میں نے کہا شیخ خالد شاید اللہ کا معجزہ ہو جائے
بچ جائے۔ جنرل ہسپتال لاہور نہیں بھیجتے۔ فیصل آباد قریب ہے۔ الائیڈ ہسپتال بھیج دیتے ہیں۔
لاوارث مریض جب ایمبولینس میں شفٹ ہو چکا تو پیر صاب سے منت ترلہ کیا کہ آپ ڈرائیور کیساتھ چلے جائیں۔ تو پیر صاب سخت غصہ میں آ گئے کہنے لگے۔
"ایس مردود نوں قادیانیوں سے پنگا لین دی کی لوڑ سی۔ مرن دیو اینوں"
بہرحال میں ایک مذہبی پیشوا کے اس اچانک ری ایکشن پہ بہت حیران ہوا
اسی اثناء میں مڈھ رانجھا قصبہ سے ایک غریب الیکٹریشن ادریس نامی لڑکا ہسپتال فرشتہ بن کر پہنچ گیا۔
کہنے لگا
میرے پاس 3000 روپے ہیں۔ میں مولانا اطہر شاہ کو الائیڈ ہسپتال چھوڑ آتا ہوں۔
خیر وہ ایمبولینس کیساتھ چلا گیا۔ پیر ساب گھر لوٹ گئے۔

تھوڑا وقفے سے لوکل پولیس قادیانیوں کے پانچ جوان لڑکوں کی لاشیں پوسٹمارٹم کے لئیے لے کر آئی۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور ڈی پی او سرگودھا میرے آفس میں تشریف لائے۔
ساری رات پوسٹمارٹم ہوتے رہے۔ صبح ہوئی تو انتظامیہ کے آفیسران بعد از پوسٹمارٹم واپس سرگودھا روانہ ہوئے
قادیانیوں کے تمام جوان مضروب سر پہ اور پیٹ میں کند اور تیز دھار آلہ سے لگی ضربات سے موت کی آغوش میں چلے گئے تھے۔
جس کی بھی Skull کھولی، چھوٹا سا زخم اسکے نیچے، چھوٹا سا Hematoma اور موت۔۔۔
میں بہت پریشان ہوا کہ مولانا 70 سالہ اطہر شاہ کے سر پہ اتنے بڑے گہرے زخم تھے، دماغ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر باہر قمیض سے چمٹا ہوا تھا۔ وہ آخری سانس لیتا میرے پاس پہنچ گیا اور میں نے ایک لوکل ہیلر کی طرح اسکی منیجمنٹ کر کے الائیڈ ہسپتال شفٹ کروایا
قادیانی جوان لڑکے چھوٹی سی سر کی ضربات سے جان سے گئے
دل میں خیال آیا
*یہ کیا ہو رہا ہے؟*
بہرحال پوسٹمارٹم ہوگئے
دوسرا دن تھا کہ ربوہ سے قادیانی تنظیم کے ممبران ایک مربی لیڈر کی سربراہی میں میرے آفس تشریف لائے۔ پوسٹمارٹم رپورٹس کی ڈیمانڈ کی میں نے انہیں بتایا کہ رپورٹس فائنل ہو رہی ہیں آپ ایس ایچ او سے وصول کیجئیے گا۔
مربی ٹیم لیڈر بولا
آپ ذرا علیحدگی میں میری بات سن لیں
وہ بولا
*یہ ایک لاکھ روپیہ ہے*
آپ وصول کر لیں۔ ایس ایچ او سے ہماری بات ہو گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ہماری پوسٹمارم رپورٹس تیار کر دیں
میرے دل میں ایک لمحہ کو بھی لالچ و طمع پیدا نہ ہوا
حالانکہ اسوقت میری تنخواہ فقط 40,000 تھی۔
میں نے فورا اسکی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ
*اگر کبھی زندگی میں حضورﷺ کے در پہ جانے کا
موقع ملا تو آپکے لئیے دعا کرونگا*
میری یہ بات سن کر وہ اپنا سا منہ لے کر یہ کہہ کر چلا گیا
*ڈاکٹر صاحب ھمارے ساتھ انصاف ہونا چاہئیے*
پوسٹمارٹم رپورٹس مکمل کرکے ایس ایچ او کے حوالے
کر دیں
ایک ہفتہ گزرا تھا کہ سرگودھا میٹنگ پہ جانا ہوا
میٹنگ کے بعد ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز سرگودھا کے پاس گیا تو وہ اپنی روزانہ کی ڈاک نکال رہے تھے۔
اچانک بولے
ڈاکٹر وقار حج پہ جانا ہے
میں بولا
سر کیوں نہیں۔ مگر کیسے؟؟
کہنے لگے
وزارت مذہبی امور والوں کا یہ لیٹر آیا ہے، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے 14 ڈاکٹرز مانگے ہیں۔ اپلائی کرو
میں نے وہی بیٹھے پرفارما فل سائن کیا اور آفس سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر کے چلا آیا
دو ہفتے بعد مجھے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کا لیٹر ملا کہ
You have been selected for Pakistan Hajh Medical Mission 2001.
Report to Ministry of Religious Affairs for further training.

میں خوشی سے جھوم جھوم اٹھا

*کہاں میں بدکار سیاکار گنہگار*
*اور کہاں یہ مقام اللہ اللہ*

لاہور آیا۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ گیا کہ دیکھوں یہ سلیکشن کیسے ہوئی ہے۔ میرا تو کوئی سفارشی بھی نہیں تھا۔
ڈھونڈ کر متعلقہ سیکشن آفیسر کے کمرے میں انٹر ہوا تو ایک صاحب مجھ سے تیزی سے آگے جا کر سیکشن آفیسر کے سامنے کھڑے ہوگئے
موصوف جناح کیپ پہنے ہوئے۔ ایچکن زیب تن کیے ہوئے۔ ماتھے پہ مہراب لیے ہوئے۔ داڑھی باریش بولے
جناب میں پروفیسر ہوں۔ نشتر میڈیکل کالج میں ہیڈ آف میڈیسن ڈیپارٹمنٹ ہوں۔ میں نے بھی اپلائی کیا تھا۔ میرا نام کیوں نہیں لسٹ میں
سیکشن آفیسر بولا
پروفیسر صاحب 14 ڈاکٹرز پنجاب سے چاہئیے تھے۔ 2000 درخواست دھندہ تھے۔ 100 کا گورنر پنجاب بائی نیم سفارشی تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ ایک بچے کو بلایا گیا اور اس نے ان کیمرہ 2000 میں سے 14 پرچیاں چن لیں۔
پروفیسر صاحب بولے
چلیں پھر تو مدینہ منورہ سے جس کا بلاوہ آیا ہے۔ وہی جا رہا ہے
میں پیچھے کھڑا یہ ساری گفتگو سن رہا تھا۔ وہیں سے اپنی قسمت پہ نازاں واپس ہوا کہ میں نہ تو پروفیسر کی طرح مذہبی ہوں، نہ انٹرنیشنل تبلیغی جماعت کے ساتھ چللوں پہ جاتا ہوں۔ اچانک خیال آیا کہ میں نے ربوی جماعت والوں سے نبی کریمﷺ کے ایک عاشق کے سر کی قیمت وصول نہیں کی تھی۔ کسی لالچ و طمع کے ہتھے نہ چڑھا تھا۔ حالانکہ سیاکار تھا، گنہگار تھا۔ یہی میری سلیکشن کی وجہ بنی اور صوم و صلاوات کا پابند پروفیسر حج پہ نہ جا سکا۔

بہرحال حج پہ گئے وہاں بھی ہر جگہ پروٹوکول ملتا رہا
بہت سے ایسے واقعات پیش آئے کہ مجھے ایسے لگا میں سارے حج میڈیکل مشن کے ڈاکٹرز سے اوپر رکھ کر ہر جگہ پیش کیا جا رہا ہوں
حج سے واپسی پہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک لاکھ روپیہ سعودی ریالز کی صورت دیا گیا۔
ڈیڑھ ماہ کی سیلری علیحدہ ملی، حج مفت میں ہو گیا
مجھے پھر وہ ایک لاکھ ربوی یاد آیا۔ وصول کر لیتا تو
دنیا بھی گئی تھی اور آخرت بھی۔

حج واپسی پہ دہشتگردی کورٹ سرگودھا کا سمن وصول ہوا کہ کورٹ ایویڈنس کے لئیے پیش ہوں
میں کورٹ میں گواہی کے لئیے جا رہا تھا کہ راستے میں اسوقت کے وزیر قانون کی فون کال آئی کہ آپ عدالت جا رہے ہیں
بولا! جی ہاں راستے میں ہوں
وہ بولا
ڈاکٹر ساب
*اے بڑا ہائی پروفائل کیس اے، ڈنڈی نئی مارنی*
*حکومت اس کیس نوں بغور ویکھ رئی اے*
میں بولا
منسٹر صاحب جو کچھ لکھ کر دے چکا ہوں۔ اس سے رتی برابر آگے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
بولا
عدالت کے باہر آپکو پبلک پراسیکیوٹر ملیں گے۔ ان سے مل کر عدالت میں جانا۔
میں سوچتا جا رہا تھا۔ دونوں ربوی ہیں۔ میں کیوں گواہی سے پہلے ان کی بات سنوں۔
راستے میں مولانا اطہر شاہ صاحب کا خیال آیا کہ یا تو وہ فوت ہوگئے ہوں گے یا پھر سٹریچر پہ فالج زدہ کورٹ لائے گئے ہوں گے۔
نبی کریمﷺ جن کو اللہ تعالی نے فل اتھارٹی دے رکھی ہے۔ اپنی گستاخ آنکھوں سے میں نے محمدﷺ کا معجزہ دیکھا
کورٹ میں داخل ہوا تو سامنے کرسی پہ بیٹھے مولانا اطہر شاہ صاحب کو دیکھا جو داڑھی میں اپنا ہاتھ پھیر رہے تھے۔ بھاگ کر بھری عدالت میں مجھے سینے سے لگا لیا۔ بولے
*او ساڈھے حاجی ساب آئے*
جج صاب نے وکلاء کے اوپر سے مجھے اور مولانا اطہر شاہ صاحب کو بغلگیر ہوتے دیکھا
قادیانی نامی گرامی وکلاء حیران و پریشان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ گواہی شروع ہوئی۔
جج صاحب بولے
پروفیسر نیوروسرجن الائیڈ ہسپتال والے آگے آجائیں
پروفیسرز صاحب آف دی ریکارڈ یہ بتائیں کہ مولانا اطہر شاہ صاحب کی میڈیکولیگل رپورٹ میں ڈاکٹر وقار نے سر پہ انتہائی شدید ضربات لکھی ہیں اور Dura Matter بھی قمیض کالر سے اٹھا کر کھوپڑی میں دوبارہ رکھا تھا۔ آپ نے بھی آپریشن کیا کوئی سنا ہے۔ ڈرل مشین چلائی ہوگی۔ مریض کا کوئی فنکشنل لاس نہیں ہوا۔ مریض سپر فٹ ہے۔ یہ چمتکار کیسے ہوا۔ بتائیے
مجھے نام نہیں معلوم وہ پروفیسر بولا
Sir, Its miracle of Muhammad PBUH, Medical Science has failed to answer your question Sir..
کمرہ عدالت نیورو سرجن کا یہ جواب سن کر
*سیدی مرشدی*
*یا نبی یا نبی کے فلگ شگاف*
نعروں سے گونج اٹھا
جو مسلمان ملزمان کے وکلاء لگا رہے تھے
غازی مولانا اطہر شاہ صاحب اس واقعہ کے 19 سال بعد تک زندہ رہے. 2019 میں اپنی طبعی موت دنیا فانی سے کوچ کر گئے اور خوشاب میں مسجد کے اپنے حجرہ میں محو خواب ہیں۔
دہشت گردی کورٹ سے مولانا اطہر شاہ صاحب کو شدید مضروب کرنے پہ پانچ قادیانیوں کو 14 ، 14 سال قید بامشقت سزائیں ہوئیں
40 نامزد مسلمان ملزمان میں سے 5 کو 25 25 سال قید بامشقت ہوئی
ایک مسلمان کو بھی سزائے موت نہ ہوئی۔
ربوی گروپ نے ایڑھی چوٹی کا سپریم کورٹ تک ذور لگایا کہ مسلمان ملزمان کی عمر قید سزائے موت میں تبدیل ہو جائے۔ مگر ایک نہ چلی
سیشن کورٹ کی سزائیں ہی۔ بحال رہیں۔

*وجہ عناد*
اس واقعہ کے دن کچھ دیر پہلے تخت ہزارہ کے ہی ایک ڈیرہ پہ چارہ کتراتے ہوئے ایک لڑکے کا ہاتھ ٹوکہ مشین میں آ کر کٹ گیا تھا
لواحقین اسکا ہاتھ اور زخمی بازو لئیے تخت ہزارہ بازار میں پریکٹس کرتے ایک لوکل کووئیک کے پاس جا رہے تھےکہ بازار میں اپنی دوکان میں بیٹھے پانچوں مرنے والے قادیانی لڑکوں نے روک کر کہا۔

*ایتھے کیتھے لے آئے او*
*جاؤ اپنے نبی نو کہو*
*تھوک نال جوڑ دیوے *

وہ جب لوکل ہیلر کووئیک کے پاس گئے تو وہاں مولانا اطہر شاہ صاحب اسکے پاس بخار کی دوائی لینے بیٹھے ہوئے تھے
ہاتھ تو نہ جڑا
کووئیک نے Stump بنا دیا
مگر لواحقین نے قادیانی لڑکوں کی مذاق میں کی گئی بات مولانا اطہر شاہ صاحب کو بتا دی۔
مولانا نے مدرسہ کے بچے لئیے اور قادیانی لڑکوں سے مک مکا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔
مسجد میں اس گستاخی کا اعلان ہوا تو شام کی اذان ہو چکی تھی۔ قادیانی لڑکے بھاگ کر اپنی عبادت گاہ میں جا گھسے۔ مولانا بمع شاگرد وہاں پہنچے
دروازہ کھٹکھٹایا
قادیانی لڑکوں نے فیصلہ کیا کہ یہ مولاں روز ہمارے ساتھ رنجش رکھتا ہے۔ آج اسکا کام تمام کرتے ہیں
قادیانی لڑکوں نے دروازہ کھول کر مولانا اطہر شاہ کو مدرسہ کے اندر کر لیا اور انہی کی کلہاڑی کے وار کرکے مولانا کا سر تین چار جگہ سے تربوز کی طرح کھول دیا
مولانا کے سارے بچے شاگرد بھاگ گئے اور گاوں والوں کو بتایا کہ مولانا اطہر شاہ صاحب کو قادیانیوں نے قتل کر دیا ہے۔
بعدازاں لوگوں نے دروازہ توڑ کر اندر موجود 5 قادیانی لڑکوں کو جہنم واصل کیا
انکا کہا گیا یہ جملہ
*جاو جا کر اپنے نبی کو کہو کہ کٹا ہوا ہاتھ جوڑ دے*
اللہ نے سچ ثابت کر دکھایا
کہ مولانا اطہر شاہ کا دماغ ایسے جوڑا کہ نیورو سرجن کو کہنا پڑا
It's a miracle of Muhammad PBUH.

*گنہگار امتی*
ڈاکٹر وقار.

Address

Karachi Lines
00923452924233

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Achi Batien posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Achi Batien:

Shortcuts

Share

Category