06/06/2026
کہوٹہ کا وہ ہیرو جو جنگل بچاتے بچاتے خود امر ہو گیا
کچھ لوگ زندگی کو صرف گزارتے ہیں، لیکن کچھ ایسے سرفروش بھی ہوتے ہیں جو زندگی کو کسی عظیم مقصد پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ کہوٹہ کے علاقے بگھار ہینسر سے تعلق رکھنے والے اسجد محمود جنجوعہ بھی ایک ایسی ہی لازوال شخصیت کا نام ہے، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ دھرتی ماں اور اس کے سبز آنچل (جنگلات) کی حفاظت صرف کسی محکمے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ سچے بیٹوں کا فرض ہوتی ہے۔
جب آگ کے شعلے بڑھے تو اسجد نے پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا
گزشتہ دنوں جب بگھار ہینسر کے خوبصورت جنگلات میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی، تو شعلے تیزی سے پھیلتے ہوئے قیمتی درختوں، چرند پرند اور ماحول کو راکھ کا ڈھیر بنانے لگے۔ ایسے ہنگامی وقت میں جب ہر کوئی اپنی جان بچا کر دور بھاگتا ہے، اسجد محمود جنجوعہ کا دھرتی سے محبت کا جذبہ بیدار ہوا۔ انہوں نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر شعلوں کے اس سمندر میں چھلانگ لگا دی۔
وہ گھنٹوں بے جگری سے آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ جنگل کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے، لیکن بدقسمتی سے قدرت کے اس اثاثے کو بچاتے ہوئے وہ خود ان بے رحم شعلوں کی زد میں آ گئے اور شدید طور پر جھلس گئے۔
شدید زخمی حالت میں اسجد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ ان کے چاہنے والے، رشتہ دار اور علاقے کا ہر شہری ان کی زندگی کے لیے دعائیں کر رہا تھا، لیکن زخم اتنے گہرے اور شدید تھے کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بالآخر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ جنگل کی لگی آگ تو بجھا گئے، لیکن اپنے پیچھے پورے علاقے کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایسا سمندر چھوڑ گئے جو کبھی خشک نہیں ہو سکے گا۔
اسجد محمود جنجوعہ کے بے وقت اور المناک انتقال کی خبر جیسے ہی کہوٹہ اور گردونواح میں پھیلی، پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ہر گھر میں سوگ کا سماں ہے، ہر آنکھ نم ہے اور ہر دل اداس ہے۔ جنازے میں شریک ہر شخص کی زبان پر ان کی بہادری اور اخلاق کے قصے تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی دھرتی کے سبزے کو بچانے کے لیے قربان کر دی۔
ایک لازوال قربانی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی
اسجد محمود جنجوعہ کی یہ قربانی محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ تاریخ بن گئی