01/02/2026
📢 نجی اسکولوں کے لیے اہم انتباہ - والدین باخبر رہیں!
حکومتِ پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے "22 جنوری 2026" کے سرکاری اعلامیے میں ایک بات دو ٹوک انداز میں واضح کر دی ہے:
📜 قانون کیا کہتا ہے؟
Punjab Private Educational Institutions (Promotion & Regulation) Ordinance, 1984
کی دفعہ **7-A(10)** کے مطابق:
❌ کوئی بھی نجی اسکول
والدین یا سرپرستوں کو
کسی مخصوص بک شاپ،
کسی خاص یونیفارم اسٹور،
یا کسی مقررہ وینڈر سے
کتابیں، یونیفارم، جوتے، بیگز یا دیگر سامان خریدنے پر "مجبور نہیں کر سکتا"
🚨 اسکولوں کی وہ چالیں جو اب جرم ہیں.
اگر کوئی اسکول:
▪️ داخلہ کسی مخصوص دکان سے خریداری سے مشروط کرے
▪️ فیس کے ساتھ کسی خاص شاپ کی پرچی تھمائے
▪️ یہ دعویٰ کرے کہ “صرف ہماری بتائی ہوئی یونیفارم یا کتاب قابلِ قبول ہے”
▪️ بچوں کو خریداری کی بنیاد پر کلاس میں شرمندہ کرے
❗تو جان لیں: "یہ سب قانون شکنی ہے۔"
⚖️ خلاف ورزی کے نتائج
قانون توڑنے والے اسکول کے خلاف:
▫️ جرمانہ
▫️ رجسٹریشن معطلی
▫️ دیگر سخت قانونی کارروائی
عمل میں لائی جا سکتی ہے، اور
"ضلعی رجسٹریشن اتھارٹی (DRA)" براہِ راست ایکشن لینے کی مجاز ہے۔
👨👩👧والدین کے محفوظ اور قانونی حقوق
✔️ کتابیں کسی بھی مارکیٹ سے خریدنے کا حق
✔️ یونیفارم اپنی مرضی اور بجٹ کے مطابق بنوانے کی آزادی
✔️ کسی اسکول کے دباؤ کو ماننے کی کوئی قانونی پابندی نہیں
📝 شکایت کیسے کریں؟
اگر کوئی اسکول قانون پر عمل نہیں کر رہا تو خاموش نہ رہیں:
🔗 حکومتِ پنجاب CRM پورٹل
👉 [https://crm.punjab.gov.pk/cmccpublic](https://crm.punjab.gov.pk/cmccpublic)
آپ کی شکایت:
📍 متعلقہ ضلع کے CEO ایجوکیشن
📍 ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی
تک براہِ راست پہنچتی ہے اور سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔
✍️ یاد رکھیں!
نوٹیفکیشن اپنی جگہ،
لیکن اصل طاقت "والدین کی آواز" ہے۔
جب تک والدین اجتماعی طور پر شکایت درج نہیں کریں گے،
تب تک کچھ اسکول ناجائز منافع خوری سے باز نہیں آئیں گے۔
📌 قانون موجود ہے - اب عملدرآمد والدین کے ہاتھ میں ہے۔
مزید آگاہی کے لیے اس پیغام کو شیئر کریں 🔄