07/07/2026
پریس ریلیز
ڈائریکٹر جنرل فوڈ ، حکومتِ پنجاب
لاہور، 7 جولائی 2026
ڈائریکٹر جنرل فوڈ، حکومتِ پنجاب اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والی اُس خبر کی بھرپور اور دوٹوک تردید کرتا ہے جس میں یہ بے بنیاد دعویٰ کیا گیا کہ ''پنجاب سے 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم غائب ہو گئی ہے۔'' یہ خبر حقائق کے سراسر منافی، بے بنیاد اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ مقدار — جو تقریباً 9 کروڑ بوری بنتی ہے — ایک بین الصوبائی اجلاس میں زیرِ بحث آئی اور پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ ترین افسر نے اِس کی نشاندہی کی۔ جب اِس ضمن میں متعلقہ اے آر وائ کے ذرائع سے وضاحت لی گئی تو خود یہ اعتراف سامنے آیا کہ اِس سے مراد ''ذخیرہ شدہ گندم'' تھی۔ اِس کے باوجود خبر میں دانستہ طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ گندم ''غائب'' ہو گئی ہے، جو کہ حقیقت کے منافی اور صریحاً گمراہ کن ہے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ حقائق کی روشنی میں واضح کرتا ہے کہ پنجاب کی گندم مکمل طور پر ریکارڈ پر موجود اور قابلِ حساب ہے:
پنجاب میں پیدا ہونے والی کل گندم کا تقریباً 55 فیصد (یعنی لگ بھگ 1 کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن) کاشتکار خود اپنے پاس رکھتے ہیں۔
انسانی خوراک کے لیے ماہانہ تقریباً 13 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال ہوتی ہے؛ اِس حساب سے رواں سیزن کے دوران اب تک تقریباً 45 لاکھ سے 50 لاکھ میٹرک ٹن گندم زیرِ استعمال آ چکی ہے۔
تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم و مصنوعاتِ گندم باقاعدہ ریکارڈ کے مطابق دیگر صوبوں کو مہیا کی جا چکی ہے۔
تقریباً 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم فلور ملز کے پاس موجود ہے۔
تقریباً 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم اِس وقت محکمہ خوراک پنجاب کے ذخائر میں موجود ہے۔
تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم بیج کمپنیوں کے پاس ہے۔
اِن حقائق سے واضح ہے کہ گندم کہیں ''غائب'' نہیں ہوئی، بلکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر مکمل طور پر ریکارڈ اور حساب میں موجود ہے۔ کسی نامعلوم ''ذرائع'' کا حوالہ دے کر اِس نوعیت کی بے بنیاد اور جھوٹی خبر نشر کرنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ صحافتی اصول و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
محکمہ خوراک، حکومتِ پنجاب اِس بے بنیاد خبر کی پُرزور تردید کرتا ہے اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہے کہ کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل متعلقہ ادارے سے تصدیق کو یقینی بنائیں تاکہ عوام میں بلاجواز ابہام اور بدگمانی پیدا نہ ہو۔