Sach, Koshish aur Umeed

Sach, Koshish aur Umeed مایوسی،کاہلی سے بچانے کے لئے اچھی پوسٹ شئیر کرنا مقصد ہ

16/08/2026

Last Nashist Salana Azmat e Mustafa Conference 2026

16/08/2026

Azmat e Mustafa Conference 2026 - Bayan Murshid e Kareem

16/08/2026

Aakhri Nashist: Salana Azmat e Mustafa Conference 2026 - From Islamabad Markaz

16/08/2026

Salana Azmat e Mustafa Conference 2026 - Islami Roohani Mission - Islamabad Markaz

جو لوگ اپنی 40 اور 50 کی عمر بغیر کسی ایسے پارٹنر کے گزارتے ہیں جس پر وہ جذباتی طور پر انحصار کریں، وہ سخت یا بند دل نہی...
27/04/2026

جو لوگ اپنی 40 اور 50 کی عمر بغیر کسی ایسے پارٹنر کے گزارتے ہیں جس پر وہ جذباتی طور پر انحصار کریں، وہ سخت یا بند دل نہیں بنتے—بلکہ وہ ایک خاص اندرونی طاقت پیدا کرتے ہیں۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد:
تنہا ہوتے ہیں
اداس یا نامکمل ہوتے ہیں
یا زندگی میں ناکام ہوتے ہیں
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
🔹 تنہائی انسان کو کیا دیتی ہے؟
تنہائی صرف اکیلا ہونا نہیں، بلکہ:
انسان کو خود پر انحصار کرنا سکھاتی ہے
جذبات کو خود سنبھالنے کی صلاحیت دیتی ہے
اندرونی مضبوطی (emotional resilience) پیدا کرتی ہے

جو لوگ پارٹنر کے ساتھ ہوتے ہیں، وہ اکثر:
اپنے مسائل دوسروں پر ڈال دیتے ہیں
جذباتی بوجھ بانٹ لیتے ہیں
لیکن جو اکیلے ہوتے ہیں، وہ:
خود اپنے جذبات کو سمجھتے ہیں
خود ہی خود کو سنبھالتے ہیں
یہ ایک "muscle" کی طرح ہے—جتنا استعمال کریں، اتنی مضبوط ہوتی ہے۔
🔹 سائنس کیا کہتی ہے؟
تحقیقات کے مطابق:
عمر بڑھنے کے ساتھ لوگ زیادہ emotionally stable ہو جاتے ہیں
منفی جذبات کم اور مثبت زیادہ ہوتے ہیں
لوگ غیر ضروری باتوں کو چھوڑنا سیکھ جاتے ہیں

یعنی جو لوگ لمبے عرصے تک اکیلے رہتے ہیں، وہ اس مہارت میں اور بھی آگے نکل جاتے ہیں۔
🔹 "Self-reliance" اور "Closed-off" میں فرق
آرٹیکل واضح کرتا ہے:
❌ بند دل ہونا = جذبات دبانا
✅ خود مختار ہونا = جذبات کو سمجھنا اور سنبھالنا
یعنی:
یہ لوگ مدد مانگ سکتے ہیں، مگر ضرورت پڑنے پر خود بھی کھڑے رہ سکتے ہیں
🔹 یہ طاقت عملی زندگی میں کیسے نظر آتی ہے؟
یہ ڈرامائی نہیں ہوتی بلکہ خاموش ہوتی ہے:
مشکل خبر سن کر فوراً ردِعمل نہیں دیتے
اکیلے مشکل حالات کا سامنا کر لیتے ہیں
خود پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے مسائل سنبھال سکتے ہیں
🔹 تنہائی کے فوائد
تحقیق کے مطابق:
اکیلے وقت گزارنا ذہنی سکون دیتا ہے
انسان خود کو بہتر سمجھتا ہے
دوسروں کے دباؤ سے آزادی ملتی ہے

🔹 اصل پیغام
ایسے لوگ:
زندگی سے نہیں بھاگ رہے ہوتے
بلکہ انہوں نے سیکھ لیا ہوتا ہے کہ
👉 "اپنے جذبات کو خود سنبھالنا کیسے ہے"

✨ خلاصہ (Short Summary)
یہ آرٹیکل بتاتا ہے کہ:
40–50 کی عمر میں اکیلے رہنے والے لوگ کمزور نہیں ہوتے
بلکہ وہ emotionally strong اور self-reliant بن جاتے ہیں
وہ دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنی زندگی اور جذبات کو سنبھالنا سیکھ لیتے ہیں
یہ ایک نایاب مہارت ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتی
👉 سادہ الفاظ میں:
وہ لوگ جو اکیلے رہتے ہیں، وہ اندر سے زیادہ مضبوط بن جاتے ہیں۔

*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔ پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے...
25/04/2026

*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔

~ منقول

Address

PAKISTAN
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sach, Koshish aur Umeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share