17/12/2025
پچھلے 78 سالوں میں حکومت ہمیں صرف ایک اچھا شہر دے سکی ہے جس میں زندگی 2010 تک انسانوں والی تھی امن تھا اچھے سکولز کالجز اور ہسپتال تھے۔ لیکن 2010 کے بعد یہ گند بنتا جا رہا ہے مشرق سے یہ مری تک پہنچ گیا مغرب میں ٹیکسلا تک، شمال میں لوگ مارگلہ پہاڑیوں کو برباد کر رہے ہیں اور جنوب میں فتح جنگ تک زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں۔ اوپر سے سی ڈی اے نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر شہر کو کنکریٹ بنا ڈالا درخت کاٹ لئے ہر جگہ گہرے گڑھے کھودے۔
کیا یہ حکومتیں ملک میں مزید پانچ چھ شہر نہیں بنا سکتیں؟ کیونکہ اسلام آباد میں ایک طرف تو عوام ہر جگہ سے سہولیات ہجرت کرکے آ رہے ہیں تو دوسری طرف خواص بھی کسی سے کم نہیں ایک طرف عوام کے ہجوم کے لئے سڑکیں تنگ پڑ رہی ہیں تو دوسری طرف خواص نے اپنی حفاظت کے نام پر راستے بند کئے ہوئے ہیں۔
کاش چند صاف ستھرے شہر بن جائیں تو عوام اس مہنگے شہر آنے کے بجائے وہاں رہنا شروع کریں یوں اسلام آباد پر بھی بوجھ کم ہو جائیگا اور عوام کو بھی کسی اچھی جگہ رہنا نصیب ہو گا