Govt Jobs In Pakistan

Govt Jobs In Pakistan Government Jobs in Pakistan provides the latest updates on Federal and Provincial government jobs across Pakistan.

We share daily job alerts for FPSC Jobs, PPSC Jobs, NTS Jobs, Punjab Police Jobs, Pakistan Army Jobs, Teaching Jobs, Bank Jobs, WAPDA Jobs,

FPSC Senior Elementary School Teacher Jobs 2026 | SST Latest Vacancies | Apply Online | https://youtu.be/VPcYWwrntU4    ...
30/05/2026

FPSC Senior Elementary School Teacher Jobs 2026 | SST Latest Vacancies | Apply Online |
https://youtu.be/VPcYWwrntU4

FPSC Senior Elementary School Teacher (SST) Jobs 2026 announced! In...

30/05/2026

*نئے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کا امکان ، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ*

نئے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے سے سولر پینلز ، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ ، آئی ایم ایف نے کسی بھی قسم کی ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار کر دیا۔

آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے مختلف ٹیکس تجاویز پر کام جاری ہے، جس کے تحت سولر پینلز ، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار کرتے ہوئے ای-وہیکلز پر جنرل سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے ، اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی بھی سفارش سامنے آئی ہے۔

مجوزہ پلان کے تحت سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، جس کے نتیجے میں الیکٹرک کاروں ، موٹر سائیکلوں ، رکشوں ، ٹرکوں اور بسوں سمیت دیگر ای-وہیکلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ، الیکٹرک پک اپ ، ٹریکٹر اور ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔

30/05/2026
30/05/2026

مالی مشکلات کا مجرب عمل اور اسکا حل ؛
میں بہت زیادہ مالی مشکلات میں مبتلا تھا اور وہ حل نہیں ہو رہی تھیں، پھر مجھے ایک ذکر ملا اور میں نے اس پر عمل شروع کیا تو میرے تمام مسائل حل ہو گئے۔

مالی مشکلات کے حل کے لیے:

سید موسیٰ شبیرى زنجانی (دام ظلہ) نقل کرتے ہیں کہ سجدے میں یہ پڑھا جائے:

یِا وَاسِعُ، یَا وَهَّابُ" ایک ہی سانس میں چودہ (14) مرتبہ۔
اگر ایک سانس میں ممکن نہ ہو تو صرف "یا وہاب" چودہ (14) مرتبہ پڑھ لے۔
اہلِ ذکر و دعا میں سے ایک بزرگ، جو اہلِ علم کے نزدیک مقبول تھے، انہوں نے اس ذکر کو مالی مشکلات اور اس جیسے مسائل کے حل کے لیے تجویز کیا ہے۔

مزید سید رضا صدرؒ نقل کرتے ہیں:
میں بہت سی مالی مشکلات میں مبتلا تھا جو حل نہیں ہو رہی تھیں، تو سید ابو الحسن مرتضوی نے مجھے یہ وظیفہ بتایا۔
اور میں نے سید رضا صدر سے سنا کہ انہوں نے اس ذکر پر عمل کیا تو ان کے معاملات میں آسانی اور کشادگی پیدا ہو گئی۔

30/05/2026

‎حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمہ اللہ کا یہ واقعہ علمِ دین اور صوفیانہ بصیرت کی ایک لاجواب مثال ہے۔ آپ اپنی نوجوانی کے دور میں علم کی پیاس بجھانے کے لیے ملک ملک کا سفر کر رہے تھے اور اسی دوران آپ شام کے ایک گاؤں میں پہنچے۔ وہاں آپ کا سامنا کچھ ایسے لوگوں سے ہوا جو بظاہر بہت بڑی بڑی پگڑیاں اور صوفیانہ لباس پہنے ہوئے تھے لیکن ان کے دل معرفت اور اخلاق سے خالی تھے۔ انہوں نے داتا صاحب کو ایک مسافر اور غریب طالب علم سمجھ کر ان کا خوب مذاق اڑایا، انہیں اپنے سے بہت کمتر جانا اور رات کے کھانے پر ان کی تضحیک کرنے کے لیے انہیں بالکل آخر میں بٹھایا اور سوکھی ہوئی سخت روٹیاں ان کے آگے رکھ دیں۔ داتا گنج بخش رحمہ اللہ نے ان کے اس برے سلوک پر غصہ کرنے یا ان سے بحث کرنے کے بجائے صوفیانہ عاجزی اور صبر کا مظاہرہ کیا، چپ چاپ وہ سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا لی اور رات بھر اللہ کی عبادت میں مشغول رہے۔ صبح کے وقت اس علاقے کا ایک بہت بڑا رئیس اس خانقاہ میں آیا اور اس نے داتا صاحب کو دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ وہ آپ کی علمی شہرت سے واقف تھا۔ اس رئیس نے سب کے سامنے داتا صاحب کے ہاتھ چومے اور انتہائی ادب سے ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ ظاہر پرست صوفی شرم سے پانی پانی ہو گئے اور داتا صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگے۔ داتا صاحب نے انہیں مسکرا کر معاف کر دیا اور ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ تصوف لباس، بڑی پگڑیوں یا گفتگو کا نام نہیں ہے، بلکہ تصوف تو اپنے نفس کو مٹانے، عاجزی اختیار کرنے اور دوسروں کا بار اٹھانے کا نام ہے؛ جو شخص کسی مسافر کو حقیر سمجھے وہ صوفی کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔

30/05/2026

ایک شخص امام رضاؑ کے پاس آیا اور حسد، رزق کی کمی، نحوست، اور دعا کی قبولیت میں تاخیر کی شکایت کی۔
امام رضاؑ نے فرمایا:
سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق، سورۂ ناس، اور آیت الکرسی ایک سفید کاغذ پر لکھو، پھر اسے شیشے کی بوتل میں رکھ دو، اور ایک پوری رات اپنے گھر کی سب سے اونچی جگہ پر رکھو۔
اس کے بعد اس میں سے روزانہ ایک بار پیو، یہاں تک کہ بوتل ختم ہو جائے۔
کہا جاتا ہے کہ اس سے فراخ رزق، حسد کا خاتمہ، اور دعا کی قبولیت حاصل ہوگی۔

30/05/2026

قرآن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی "قوم" نہیں تھی!
اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کیسی بے مثال لسانی درستگی اور نفاست جلوہ گر ہے! ہم انبیاء کے قصص میں دیکھتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے اپنی قوم کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر مخاطب کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں:
(لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) "بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [الاعراف: 59]
حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں:
(وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ)
"اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [ہود: 50]
اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
(وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) [ہود: 61]
حضرت لوط علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے:
(وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ...) [الاعراف: 80]
یہی حال تمام انبیاء کا رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بہت سی آیات میں اپنی قوم کو "یا قومِ" کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے مراد "بنی اسرائیل" ہوتے ہیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔
لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ کیا ہے؟
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کی طرف ہی مبعوث ہوئے تھے، مگر ان کا معاملہ مختلف ہے۔ پورے قرآن میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ہے جہاں لفظ "عیسیٰ" یا "مسیح" کو لفظ "قوم" کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔ وہ انہیں ہمیشہ "یا بنی اسرائیل" کہہ کر پکارتے تھے، بغیر قوم کا ذکر کیے۔
مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:
(وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ) [المائدہ: 72]
اور فرمایا:
(وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ) [الصف: 6]
پورے قرآن میں کہیں بھی "عیسیٰ کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا! واحد آیت جس میں حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "قوم" آیا ہے وہ یہ ہے:
(وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ) [الزخرف: 57]
یہاں "قَوْمُكَ" (آپ کی قوم) سے مراد حضرت عیسیٰ کی قوم نہیں، بلکہ حضرت محمد ﷺ کی قوم ہے، کیونکہ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے!
اس کا راز کیا ہے؟
حتیٰ کہ جب قرآن نے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا، تو انہیں ان کی قوم کی طرف منسوب کیا:
(فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ...) "پھر مریم اس (بچے) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لائیں۔" [مریم: 27]
مگر مسیح علیہ السلام کو قرآن میں کسی قوم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نسبت ہمیشہ اس کے باپ سے ہوتی ہے۔ باپ ہی کسی قبیلے، قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی بنا پر بیٹا بھی اسی قبیلے یا قوم کا حصہ کہلاتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اپنے باپ کی وجہ سے اپنی قوم سے تھے، اس لیے ان کی طرف منسوب ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ (آزر) کی وجہ سے اپنی قوم کی طرف منسوب ہوئے۔
لیکن مسیح علیہ السلام کا تعلق کس سے ہے؟
ظاہر ہے وہ کسی (نسبی) قوم سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ وہ ایک معجزے کے طور پر بغیر باپ کے اس دنیا میں تشریف لائے! اسی لیے لسانی طور پر یہ غلط ہوتا کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر پکارتے۔ ان کے لیے مناسب پکار "یا بنی اسرائیل" ہی تھی، اور قرآن نے یہی کیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا معاملہ
اگر اسی منطق کو دیکھیں تو حضرت آدم علیہ السلام، جو نہ باپ سے پیدا ہوئے نہ ماں سے بلکہ مٹی سے تخلیق ہوئے، کیا قرآن میں ان کی "قوم" کا ذکر ہے؟
یقیناً نہیں! پورے قرآن میں کہیں "آدم کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ "بنی آدم" (آدم کی اولاد) کا ذکر ملتا ہے۔ یہ قرآن کریم کی حیرت انگیز باریکی اور محکم ہونے کی دلیل ہے۔
پس، تمام انسانوں کی کوئی نہ کوئی قوم ہے سوائے دو برگزیدہ ہستیوں کے: آدم اور عیسیٰ علیہما السلام۔
کیا قرآن نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا؟
جی ہاں! قرآن نے اس مماثلت کو ایک ہی آیت میں سمو دیا ہے:
(إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ)
"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے، اسے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا 'ہو جا' تو وہ ہو گیا۔" [آل عمران: 59]
پورے قرآن میں یہ واحد آیت ہے جہاں آدم اور عیسیٰ کے نام ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس عظیم کتاب کی درستگی اور باریک بینی ملاحظہ فرمائی

30/05/2026

اللہ کی رحمت اور غفور الرحیم ہونے کی شان
آپ کو پتہ ہے اللہ کتنا غفور الرحیم ہے؟؟

​اللہ اتنا غفور الرحیم ہے کہ جب فرعون ڈوب رہا تھا دریا میں تو حضرت جبرائیل امین حاضر ہوئے اور انہوں نے فوراً سے فرعون کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کر دی اس ڈر سے کہ کہیں فرعون اللہ سے معافی نہ مانگ لے کہیں اللہ کی رحمت کو جوش نہ آجائے اور کہیں وہ معاف نہ کر دے فرعون کو، رحمت نہ ہو جائے اللہ رب العزت کی۔

​جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام جانے لگے تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ فرعون سے نرمی اور دھیمے لہجے میں بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کر لے، پلٹ جائے میری طرف۔

​سورہ طہ آیت (44)

​کیا کبھی دیکھا اتنا رحیم کسی کو؟ کیا آپ کو اللہ کی ذات کے سوا کوئی اتنی محبت دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، وہ اتنا رحیم ہے کہ اس کے غضب سے زیادہ اس کی رحمت ہے۔ وہ فرعون جس نے 900 سال خدائی کی، اس سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم دیا۔

​اللہ کی رحمت لا محدود ہے۔

​وہ سب کچھ دیکھتا ہے، سب کچھ جانتا ہے، اور ہر دل کے راز سے واقف ہے۔ چاہے ہم کتنے ہی گناہ کر بیٹھیں، اُس کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ ایک سچی توبہ ایک دل سے کی گئی دعا، اور وہ دوبارہ ہمارے قریب آ جاتا ہے۔

​اللہ کا رحم وہ سکون ہے جو دولت، عزت اور لوگوں کی تعریف سے نہیں ملتا۔ وہ ہر دکھ میں راحت، ہر اداس دل میں روشنی اور ہر گمراہ دل کو راہ دکھاتا ہے۔ بس پلٹ کر اس کی طرف دیکھو، اور اُس کے رحم میں خود کو ڈبو دو۔ بہتر سب اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اگر کچھ غلطی ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ کے صدقے ہمیں معاف فرمائے، آمین۔

​آپ کا ایک فالو اور ایک شیئر آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے شکریہ۔ 😊💙

30/05/2026

معوذتین 📖
سورۃ الفلق میں چار چیزوں سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے، اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں۔
جبکہ سورۃ الناس میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے، مگر وہ ایک چیز اپنی تباہی اور ہلاکت میں سورۃ الفلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اب غور کریں سورہ الفلق میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی، مگر اس کے آغاز میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی صرف ایک صفت کا وسیلہ پکڑا گیا۔
اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
"میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔"
ان چار چیزوں سے...
(١) تمام مخلوق کے شر سے
(٢) چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے
(٣) جادوگر عورتوں کے شر سے
(٤) حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں
اب سورۃ الناس کو دیکھیں۔ اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی، مگر آغاز میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا:
اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ
"میں پناہ مانگتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی، تمام انسانوں کے بادشاہ کی، تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی۔"
صرف ایک چیز سے اور وہ چیز ہے خنّاس کا وسوسہ۔
اے تمام انسانوں کے رب! اے تمام انسانوں کے شہنشاہ! اے تمام انسانوں کے معبود برحق! مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے۔
یہ خنّاس، یعنی چھپا ہوا دشمن، انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان۔
خنّاس اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے اور آپ کو پتا ہی نہ چلے۔ اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے۔ چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو نظر ہی نہ آئے، یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے۔
بڑا خطرناک معاملہ ہے، بہت ہی خطرناک۔ دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے!
خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی آتا ہے، ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر اُن میں سے کسی ایک کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے اور محبت فنا ہوجاتی ہے۔ دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں۔
آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں۔ اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے۔ ایک چغل خور آتا ہے، باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وایسا وسوسہ ڈال جاتا ہے کہ آپ کی محبت نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے۔
اسی طرح شیاطین جو جنات ہیں، نظر نہیں آتے۔ آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے اور اس بدگمانی کے طوفان میں آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں۔
اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین! 🤲
منقول

Special Branch Punjab Police Jobs 2026 | Technical Cadre Recruitment 2026 Apply Online
29/05/2026

Special Branch Punjab Police Jobs 2026 | Technical Cadre Recruitment 2026 Apply Online

Address

Islamabad
47000

Telephone

+923186087083

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Jobs In Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Govt Jobs In Pakistan:

Share