Bloody Civilians

Bloody Civilians "Highlighting public issues, demanding accountability, and empowering the common citizen.

Welcome to the official home of the 'Bloody Civilians'—the heartbeat and true power of the country."

24/08/2026

خیبرپختونخوا میں اگلا الیکشن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر لڑیں گے، ہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گے۔ اور تحریری معاہدہ بھی ہوگا۔ شفیع جان

اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ فیصلہ کس کا ہے عمران خان سے تو 9 مہینے سے ملاقات نہیں ہوئی اور پچھلے دنوں جو ملاقات ہوئی اس میں خان صاحب نےایسی کوئی بات نہیں کی کیا پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت نے عمران خان کو پارٹی سے مائنس کردیا ہے موجودہ کمپرومائز قیادت خان سے پوچھے بغیر ایسے بڑے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں۔۔

پٹواری کھوتی کے بچوں کو اللہ نے دماغ سے محروم رکھا اور دوسرا دماغ کی محرومی سے وہ تعلیم سے بھی محروم ہیں اور تیسرا بنیاد...
19/08/2026

پٹواری کھوتی کے بچوں کو اللہ نے دماغ سے محروم رکھا اور دوسرا دماغ کی محرومی سے وہ تعلیم سے بھی محروم ہیں اور تیسرا بنیادی کامن سینس سے بھی محروم ہیں- ان فجژ مچلتی کھوتی کے بچوں کو جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا یہ لگ جاتے- ان کو ایک واٹس ایپ گروپ میں میسج آتا اور یہ لہلاتی اور ہنہناتی کھوتی کے بچے اس کو سمجھے بغیر ہی- فاوررڈ کردیتے

پاکستان میں قیدیوں کے علاج کا بنیادی قانونی فریم ورک پاکستان پریزن رول 1978 اور پریزن ایکٹ 1894 لاگو ہے اور یہ قانون صوبائی جیلوں میں لاگو ہے لین پروسیجر میں تھوڑا بہت فرق ہوسکتا ہے- اب فحش گونگی کھوتی کے بچوں کے مطابق 24 گھنٹے گزرنے کے بعد ان کا اعتراض اب بس یہ رہ گیا کہ کسی قیدی کا علاج پرایئویٹ ہسپتال میں نہیں ہوسکتا- ان کی آسانی کے لیے پریزن رول کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں

سوال 01: اگر ایک قیدی بیمار ہوجائے تو سب سے پہلے کیا کیا جاتا ہے؟

الجواب: اگر قیدی بیمار ہوجائے تو قانون کے مطابق اس کو فورا جیل میں ایک جونیئر ڈاکٹر کے سامنے لایا جاتا ہے جو کہ اس کی بیماری کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو جیل کے ہسپتال میں منتقل کرنے کو ریکمنڈ کرتا ی اپھر اس کو ابتدائی طبی امداد دیکر اس کو جیل مین واپس دیتا- اگر جیل کے ہسپتال میں اس کے علاج کی سہولت نہیں تو اس کو پھر باہر کے ہسپتال کے لیئے ریکمنڈ کردیا جاتا ہے-

سوال 02: جس قیدی کو جیل کے باہر ہسپتال کے لیئے ریکمنڈ کیا جاتا ہے وہ کونسا ہسپتال ہوتا ہے ؟؟

الجواب: پریزن رول میں یہ لکھا ہے کہ جس قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال کے لیے ریکمینڈ کیا جاتا ہے اس کے لواحقین ، رشتہ داروں کو انفارم کیا جاتا ہے اور ان سب کی موجودگی میں اس کو ہسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے چونکہ قیدی حکومت کی پراپرٹی ہوتا ہے لہذا حکومت کی فرسٹ پریفرین سسرکاری ہسپتال ہوتا ہے کہ وہاں اس کا علاج ہو- کیونکہ اس کے علاج کی رقم قیدی نہیں پے کرتا-

لیکن اگر قیدی اپنے علاج سے سرکاری ہسپتال سے ممکن نہیں اور وہ اپنا علاج کسی پرایئویٹ ہسپتال سے کروانا چاہتا ہے تو پرایئویٹ ہسپتال سے علاج کا سارا خرچ مریض کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے وہاں گورنمنٹ پے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی-

اب جو کجلی کھوتی کے بچے پٹواری یہ کہہ رہے کہ پرایئویٹ ہسپتال سے علاج کا قانون نہیں تو ان لوگوں کے ناجائز باپ کو قتے کے خون کے ٹیسٹ پر لندن بھیجا گیا وہ کس کپیسٹی میں بھیجا گیا-

سپریم کورٹ کے مطابق عمران خان اپنے علاج کا خرچ خود برداشت کریں گے اور ان کا علاج الشفا سے ہوگا- اور تیسری چیز حکومت نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی وہ حکومت کی بنائی ہوئی اپنی رپورٹ تھی نا کہ پی ٹی آئی کی اپنی جمع کروائی رپورٹ- اور دوسری اس رپورٹ میں عمران خان کا اب تک جو ٹریٹمینٹ ہوا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں- عمران خان کو جو انجیکشن لگائے گئے کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں-

کہیں یہ پٹواری کھوتے اس وجہ سے تو نہیں ڈرے ہوئے کہ ان حرامدی نسلوں نے عمران خان کو کوئی ایسی میڈیسن دی ہے جس کی رپورٹ الشفا میں دنیا کو پتہ لگ جائے گی اور یہ حرامدی نسلیں چاہتی کہ سرکاری ہسپتالوں میں مرضی کی رپورٹیں بنوا کر اس کو چھپالیں گے؟؟

پاکستان پریزن رول کے مطابق ایسا کوئی قانون نہیں جو کسی قیدی کو پرایئویٹ ہپستال میں علاج سے روکے- جب ایک قیدی کو جیل کے ہسپتال نے آؤٹ پیشیئنٹ مریض ڈکلیئر کردیا تو اس کے بعد قیدی چاہے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے یا پرایئویٹ یہ اس کی مرضی ہوتی- پرایئیوٹ ہسپتال میں علاج کے لییے خرچ مریض خود برداشت کرتا ہے--

امید ہے پٹواریوں سمیت ہر حرامدی نسل کو آسان زبان میں سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہوں گا-

تحریر: عاصم چوہدری

07/08/2026

جب تک ملک کے ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام نہیں کریں گے اور سویلین یا سیاسی امور میں مداخلیت کا سلسلہ جاری رہے گا، تب تک نہ کوئی حکومت آزادانہ پالیسی بنا سکتی ہے اور نہ ہی ملک میں حقیقی استحکام آ سکتا ہے
بار بار جمہوریت پر شب خون مارنے، منتخب حکومتوں کو گھر بھیجنے اور جوڑ توڑ کی سیاست نے ہمارے اداروں، معیشت اور انفراسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جب تمام تر توانائیاں اور وسائل اقتدار کی شطرنج اور اپنے فائدے کی 'سیٹنگز' میں صرف ہوں گے، تو عوام کے بنیادی مسائل، جیسے کہ سڑکیں، نظامِ وانقاص (ڈرینج)، تعلیم اور صحت، یونہی نظر انداز ہوتے رہیں گے۔
بطور پاکستانی یہ حقیقت ماننا تکلیف دہ ہے کہ جب تک تمام ادارے اپنی حدود کا احترام نہیں کرتے اور عوام کے ووٹ کے تقدس کو تسلیم نہیں کرتے، تب تک 78 سال کیا، مزید دہائیاں بھی گزر جائیں تو پیشرفت صرف کاغذوں اور نعروں تک ہی محدود رہے گی۔ حقیقی تبدیلی اور ترقی صرف اور صرف آئین کی حکمرانی، شفاف جمہوریت اور بلا تفریق احتساب سے ہی ممکن ہے۔۔۔

🚨 محکمہ معدنیات KPK کی ڈرامابازی اور کاغذی جھوٹ بے نقاب! 🚨ایک طرف "میرٹ اور شفافیت" کے بڑے بڑے دعوے، اور دوسری طرف اپنوں...
07/08/2026

🚨 محکمہ معدنیات KPK کی ڈرامابازی اور کاغذی جھوٹ بے نقاب! 🚨
ایک طرف "میرٹ اور شفافیت" کے بڑے بڑے دعوے، اور دوسری طرف اپنوں کو نوازنے کا کھلم کھلا کھیل!
📍 معاملہ کیا ہے؟
محکمہ معدنیات (KP) میں بی ایس 03 (BPS-03) کے منرل گارڈ مسعود احمد خان کو براہِ راست صوبائی وزیر کے دفتر میں اسسٹنٹ کی پوسٹ پر تبادلہ کر کے نوازا جاتا ہے۔
📍 جھوٹ اور پردہ پوشی:
جب یہ خبر اور نوٹیفکیشن سامنے آیا تو محکمے نے فوری طور پر وضاحتی اعلامیہ جاری کر کے اس سرکاری آڈر کو "جعلی اور پروپیگنڈا" قرار دے دیا۔
📍 مگر سچائی چھپ نہیں سکتی!
آج جاری ہونے والے دستاویزات، محکمے کے آفیشل لیٹر پیڈ، سیریل نمبر (No.SO(Admn)/MDD/1-6/2026/) اور سیکشن افسر امتیازی صاحب کے دستخطوں نے محکمے کے اس "سرکاری جھوٹ" کا مکمل پردہ چاک کر دیا ہے۔
کیا خیبر پختونخوا میں میرٹ کا جنازہ یوں ہی نکلتا رہے گا؟
اور کیا سرکاری دفاتر اب صرف اپنے پیاروں کو نوازنے اور بعد میں "جعلی" کا ڈرامہ رچانے کے لیے رہ گئے ہیں؟
جوابدہی کون کرے گا؟ 🤔👇

06/08/2026

اس وقت جب اسٹیبلشمنٹ شدید ترین دباؤ میں ہے، پی ٹی آئی قیادت نے 2 ماہ بعد کی تاریخ دے کر حکومت کو سنبھلنے کا موقع دے دیا! علیمہ باجی کا حیران ہونا بجا ہے—تاریخ دینی تھی تو ایک دو ہفتے کی دیتے، 27 ستمبر کی تاریخ کا کیا تک بنتا ہے؟ یہ احتجاج ہے یا حکومت کو آکسیجن دینا؟

25/07/2026

پاکستان میں اس وقت کوئی قانون نظر نہیں آتا۔ یہ خیبرپختونخوا کے مثالی پولیس ہے یا پھر غنڈہ گرد؟ اگر کسی شہری سے غلطی بھی ہو جائے، تب بھی اس کی اس طرح تذلیل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اور ویسے بھی پولیس کے پاس کب سے ویگو ڈالے آ گئے؟

احتجاج ہوا، نہ گھروں پر چھاپے پڑے، نہ چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، نہ پرچے ہوئے، نہ شناختی کارڈ بلاک، نہ کوئی مسنگ...
25/07/2026

احتجاج ہوا، نہ گھروں پر چھاپے پڑے، نہ چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، نہ پرچے ہوئے، نہ شناختی کارڈ بلاک، نہ کوئی مسنگ ہوا، حکومت کو عوام کی رائے کے آگے سر جھکانا پڑا، وزیر مستعفی ہوگئے۔

> اپنے کسانوں سے خریدی گئی گندم کی بروقت ادائیگیاں نہ ہو سکیں، اور اب وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ...
24/07/2026

> اپنے کسانوں سے خریدی گئی گندم کی بروقت ادائیگیاں نہ ہو سکیں، اور اب وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر یہ درآمد ہوتی ہے تو اس پر کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جبکہ یہی رقم اور توجہ مقامی کسانوں کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے کی بہتری پر لگائی جا سکتی تھی۔

سوال یہ ہے کہ جب ملک کا کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت اور بروقت ادائیگی کا منتظر ہو، تو پھر بیرونِ ملک سے گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ایک ایسے ملک میں جہاں ڈالر کی ہر بچت اہم سمجھی جاتی ہے، وہاں مقامی پیداوار کو نظر انداز کرکے درآمدات پر انحصار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر بروقت منصوبہ بندی اور کسان دوست پالیسیاں اپنائی جاتیں تو شاید آج اربوں روپے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا تھا۔

قومی معیشت اسی وقت مضبوط ہوگی جب سب سے پہلے اپنے کسان کو مضبوط بنایا جائے، کیونکہ غذائی خودکفالت کا آغاز کھیت سے ہوتا ہے، بندرگاہ سے نہیں۔

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوت...
12/07/2026

ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!

کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!

مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!

تحریر: مسعود باجوہ

ادھر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، ادھر خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات کا نیا بابجب ایک طرف اڈیالہ جیل کے باہر کارکن اپنے ...
07/07/2026

ادھر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، ادھر خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات کا نیا باب

جب ایک طرف اڈیالہ جیل کے باہر کارکن اپنے قائد کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں، دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایسا بل منظور کیا جا رہا ہے جس کے تحت اب صرف ارکانِ اسمبلی ہی نہیں بلکہ ان کی بیگمات بھی سرکاری پروٹوکول کی حق دار ہوں گی۔ ان کے لیے خصوصی سرکاری کارڈ جاری ہوگا، جس کا تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احترام کرنا ہوگا۔

ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ سیاسی حالات میں عوامی مسائل، مہنگائی، بے روزگاری اور گورننس سے زیادہ اہم ترجیح عوامی نمائندوں اور ان کے اہلِ خانہ کی مراعات ہیں؟

سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ بعض ارکان اپنی حکومت اور اس سے وابستہ مراعات کو برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق انہیں شاید یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں عوام نے انہیں دوبارہ منتخب نہ کیا تو موجودہ پروٹوکول، اختیارات اور سرکاری سہولیات ختم ہو جائیں گی، اسی لیے وہ اپنی موجودہ حیثیت اور مراعات کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ بل انتظامی اور سکیورٹی امور کو بہتر بنانے کے لیے لایا گیا ہے، جبکہ مخالفین اسے "تبدیلی" کے نعروں کے برعکس ایک اور سرکاری مراعاتی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ ان کی نظر میں اس وقت سب سے اہم ترجیح کیا ہونی چاہیے۔

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bloody Civilians posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share