Kutub Bini کتب بینی

  • Home
  • Kutub Bini کتب بینی

Kutub Bini کتب بینی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kutub Bini کتب بینی, Library, Hyderabad Pakistan, .

26/10/2024

Urdu Lecturer Test Preparation Episode 10
پبلک سروس کمیشن اردو لیکچرر سوالات قسط نمبر (10)

* معلومات اردو ادب * * * سوال ۔۔۔۔۔۔ جواب *

سوال نمبر 1 : "اشفاق احمد زندگی کے اند ھیرے سے چھوٹے چھوٹے جگنو چننے اور پھر ان سے پورے مطلع کو روشن کرنے والے افسانہ نگار ہیں۔" یہ رائے کس کی ہے؟
جواب : ڈاکٹر انور سدید

سوال نمبر 2 : علامہ اقبال کی پہلی تصنیف کون سی تھی:
جواب : علم الاقتصاد

سوال نمبر 3 : "بوطیقا" ایک عظیم یونانی مفکر کی تصنیف ہے جس میں فن کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف کا نام بتائیے ۔
جواب : ارسطو

سوال نمبر 4 : اردو کی پہلی نقاد خاتون کا نام بتائیے ۔
جواب : ممتاز شیریں

سوال نمبر 5 : الفاظ کے جب مجموعہ میں قواعد کی خلاف ورزی ہو اسے اصطلاح میں کیا کہتے ہیں ؟
جواب : غیر جملہ

سوال نمبر 6 : کس نے پنجاب کو اردو کا پہلا مولد و مسکن قرار دیا ۔
جواب : حافظ محمود شیرانی

سوال نمبر 7 : کون سے مشہور ادیب ایک مدت تک " فلک پیا" کے نام سے مشہور ادبی جریدے میں لکھتے رہے ۔
جواب : خان بہادر عبد العزیز

سوال نمبر 8 : بتائیے 1957 میں ہمارے ملک کے کس مشہور مزاح نگار کا انتقال ہوا ۔
جواب : مجید لاہوری

سوال نمبر 9 : میں اور ہم " ضمیر کی کون سی قسم ہے ۔
جواب : ضمیر متکلم

سوال نمبر 10 : کون، کیسے ، کس نے وغیر ہ و اسم نکرہ کی کون سی قسم ہے ۔
جواب : اسم استفہام

سوال نمبر 11 : لشکر ، فوج، جماعت، ہجوم و غیر ہ اسم ذات کی کون سی قسم ہے ۔
جواب : اسم جمع

سوال نمبر 12 : پنجاب سے جاری ہونے والے پہلے اخبار کا نام بتائیں ۔
جواب : کوہ نور

سوال نمبر 13 : بر صغیر پاک و ہند میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ کب دیا گیا ۔
جواب : 1832ء کو

سوال نمبر 14 : پاکستان کی سرکاری زبان اردو کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی یہ الفاظ کس شخصیت کے ہیں ۔
جواب : قائد اعظم محمّد علی جناح

سوال نمبر 15 : "انسان اور آدمی" کس کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔
جواب : محمّد حسن عسکری

سوال نمبر 16 : "اردو تنقید پر ایک نظر" یہ اہم کتاب کس کی تصنیف ہے ۔
جواب : کلیم الدین احمد

سوال نمبر 17 : اردو کی اولین نثری کتاب کون سی ہے ۔
جواب : سب رس ۔

سوال نمبر 18 : "سب رس" کس کی تصنیف ہے۔
جواب : ملا وجہی

سوال نمبر 19 : بتائیے شبلی نعمانی نے فرانسیسی زبان کس سے سیکھی ۔
جواب : پروفیسر آرنلڈ

سوال نمبر 20 : شعراۓ اردو کا پہلا تذکرہ کس نے مرتب کیا ۔
جواب : میر تقی میر

سوال نمبر 21 : مرزا رجب علی بیگ سرور نے اپنی مشہور تصنیف کس سن میں شائع کی ۔
جواب : 1824

سوال نمبر 22 : "پاکستان نا گزیر تھا" اس کے مصنف کون ہیں ۔
جواب : سید حسن ریاض

سوال نمبر 23 : "باغ و بہار" کے مصنف میر امن کا تخلص کیا ہے ۔
جواب : لطف

سوال نمبر 24 : دو یا دو سے زیادہ حروف کے مرکب کو کیا کہتے ہیں ۔
جواب : لفظ

سوال نمبر 25 : ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی کیا ہیں ۔
جواب : انوکھا ، عجیب

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

31/05/2024

حضرت سیدنا اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمة اللّه تعالی علیہ

۱۔ جیّد شعرا میں ایک غزل میں سب سے زیادہ حسن مطلع کہنے کا اعزاز جگر مراد آبادی صاحب کے پاس ہے ۔ ایک غزل میں آٹھ حسن مطلعے ۔ اور امام احمد رضا خان صاحب نے ایک نعتیہ غزل ،

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
، تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

میں 46 مطلعے کہے ۔ اور 90 سے زیادہ قافیے استعمال کئے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک خیال دوبارہ نہ آیا اور تمام اشعار فنی محاسن میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔

2. بحر وافر سالم ۔ مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن کو عربی بحر سمجھا جاتا تھا ۔ اور اس میں میر سے غالب اور غالب سے داغ تک کسی استاد شاعر کی کوئی قابل ذکر غزل دیکھنے میں نہیں آتی ۔ لیکن امام احمد رضا خان بریلوی صاحب نے

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لئے
چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لئے

والا کلام لکھ کر اس بحر کو نئی زندگی دی ۔ یہ نعت پڑھنے کے قابل ہے ۔ اس وقت کی نامانوس بحر میں کیا موسیقیت ڈالی ہے ۔

جناں میں چمن، چمن میں سمن، سمن میں پھبن ، پھبن میں دلہن
سزائے محن ، پہ ایسے منن، یہ امن و اماں تمہارے لئے

3. شمس الرحمان فاروقی نے شعر شور انگیز میں لکھا ہے کہ میر اس لئے خدائے سخن ہے اور غالب پر فوقیت رکھتا ہے کہ میر نے غزل کے علاوہ مثنوی اور دوسری اصناف مین بھی اچھا لکھا ہے ۔ اور امام احمد رضا خان بریلوی ۔ اللہ اللہ
غزل، مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ ، قطعہ ، مثلت ، رباعی، مخمس ، مسدس ہر ایک میں لکھا ہے ۔

4. حضرت علامہ اقبال چونکہ قرآن پاک اور احادیت کے کے حوالے سے لکھتے تھے تو جید شعرا میں سے اقبال قرآن پاک یا احادیث کے عربی الفاظ کو اپنے اشعار میں استعمال کرنے والے شعرا میں سب سے آگے ہیں ۔ قریبا 5-10 اشعار ہیں اور امام احمد رضا خان صاحب نے اردو کے 39 اشعار میں قرآن پاک یا حدیث کا عربی متن کا ٹکڑا استعمال کیا ہے

ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے ترا ذکر ہے اونچا تیرا

تبارک اللہ شان تیری ، تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی ، کہیں تقاضے وصال کے تھے

5. کسی شعر میں کوئی پورا مصرع یا ایک بند میں پورا ایک مصرع یا شعر کسی دوسری زبان کو ہو تو اسے صنعت تلمیع کہتے ہیں ۔ اس میں غالب نے ایک شعر لکھا ہے ۔

دھوپ کی تابش ، آگ کی گرمی
وقنا ربنا عذاب النار !!!

اس کے علاوہ کسی جید شاعر کا کوئی شعر نظر سے نہیں گذرتا ۔ اور امام احمد رضا خان صاحب ۔ کیا خدا کی عطا ہے ۔ ان سے اس صنعت پر نعت لکھنے کی فرائش کی گی تو آپ نے چار زبانوں پر مشتمل نعت لکھ دی ۔ اور ہر سخن فہم جانتا ہے کہ حق ادا کیا

لم یات نظیرک و فی نظر
مثل تو نہ شد پیدا جانا

جب راج کو تاج تورے سر سوہے
میں نے تجھ کو شہہ دوسرا جانا

6. بچپن میں صنعت تجنیس کا ایک شعر سنا تھا ۔

اے پھول میرے پھول کو یہ پھول دے دینا
کہنا کہ تیرے پھول نے یہ پھول بھیجا ہے

ایک لفظ نے ایک شعر میں 5 معنی دیئے ہیں ۔ اور یہی اس شعر کی خوبی تھی ۔حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کا شعر دیکھئے ۔ ایک مصرعے میں ایک لفط کے 5 اور شعر میں 7 مطلب ۔ سیدہ زاہرہ سلام اللہ علیہ کے لئے لکھتے ہیں

نور، بنت نور و زوج نور و ام نور و نور
نور مطلق کی کنیز ، اللہ دے لینانور کا

7. صنعت ترصیع ۔ جس میں پہلے مصرع الفاظ دوسرے مصرع کے جیسے ہوں یا ہم قافیہ ہوں ۔ مثلا

نام۔۔۔۔۔ تیرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری
کام ۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری

اس صنعت میں شعر ڈھونڈھنے سے نہیں ملتا ۔ لیکن احمدرضا یہاں بھی کمال کر کرگئے ۔ اس صنعت میں بھی چار اشعار کہہ گئے

دھارے ۔۔۔۔ چلتے ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عطا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔قطرہ ۔۔۔۔۔تیرا
تارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلتے ۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔ سخا ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ ذرہ ۔۔۔۔۔۔۔ تیرا

اور شعر برائے شعر نہیں بلکہ ایک شعر تو زبان زد عام ہے ۔ لیکن اس صنعت کا رات ہی پتا چلا

سب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اولٰی او اعلیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی
سب سے ۔۔۔۔۔۔ بالا و والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا نبی ۔

قصیدہ مرصعہ

ایسا قصیدہ جس میں مطلع اور حسن مطلع کے بعد ہر شعر کا پہلا مصرع (کیونکہ دوسرے میں تو ردیف ہوتی ہے ) حروف تہجی کو ترتیب سے ادا کرے ۔ یعنی پہلے شعر الف ، دوسرے میں بے ، تیسرے میں تے آئے ۔ احمد رضا صاحب نے سلام کی شکل میں یہ قصیدہ بھی کہہ ڈالا

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الف
جب نہ خدا ہی چھپا، تم پہ کروڑوں درود

ذات ہوئی انتخاب ، وصف ہوئے لا جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب
نام ہوا مصطفی تم پہ کروڑوں درود ۔

صد افسوس کہ اردو ادب کی اس قادر الکلام عظیم المرتبت ہستی کو بطور شاعر کو اردو ادب میں ان کا حق نہیں ملا۔

*منقول*



21/04/2024

پبلک سروس کمیشن سوالات قسط نمبر (9)

* معلومات اردو ادب * * * سوال ۔۔۔۔۔۔ جواب *


سوال1. اردو ادب میں مختصر افسانے کا آغاز کس سے ہوتا ہے؟
ج: سجاد حیدر یلدرم

سوال2. انتظار حسین کا کون سا افسانہ ہے جس میں تصوف کو بنیاد بنایا گیا؟
ج: زرد کتا

سوال3. اردو نثر کی ابتدا فورٹ ولیم کالج سے ہوئی ۔ یہ کہنا کس نقاد کا ہے؟
ج: رام بابو سکینه

سوال4۔ میر امن دہلوی کے عہد تک اردو کو کس نام سے پکارا جاتا تھا؟
ج: اردوء معلی

سوال5. کس شاعر نے 1825ء میں مکتوب نویسی سے متعلق فارسی میں ایک رسالہ لکھا:
ج: مرزا غالب

سوال6.اردوزبان کا تعلق زبانوں کے کس گروہ سے ہے؟
ج: ہند یورپی

سوال7.دنیا میں زبانوں کے کتنے بڑے خاندان ہیں؟
ج: 8

سوال8۔بر صغیر پاک و ہند میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ کب حاصل ہوا؟
ج: 1837

سوال9.پاکستان میں اردو کو قومی زبان کب قرار دیا گیا ؟
ج: 1956

سوال10.میر تقی میر نے ادبی ورثے میں کتنے دیوان چھوڑے؟
ج: 6

سوال11. میر تقی میر کی آپ بیتی کا نام بتائیے ؟
ج: ذکر میر

سوال12۔ کس نقاد نے غالب کو میر سے بڑا غزل گو قرار دیا؟
ج: فراق گورکھپوری

سوال13۔ مرزا غالب ابتداء میں کیا تخلص کرتے تھے ؟
ج: اسد

سوال14۔ "دیوان غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل “ قرار دے سکتے ہیں“ یہ الفاظ کس نقاد کے ہیں؟
ج: ڈاکٹر محمد حسن

سوال15۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ میر تقی میر کا موضوع سخن کیا تھا؟
ج: عشقیہ

سوال16۔فیض احمد فیض کا کون سا شعری مجموعہ سب سے پہلے شائع ہوا؟
ج: نقش فریادی

سوال17.حسرت موہانی کا اصل نام کیا تھا؟
ج: سید فضل الحسن

سوال18.ادبی فن پارے کا معروضی ، لسانی، اور سائنسی بنیادوں پر تجزیہ تنقید کی کون سی قسم کہلاتا ہے ؟
ج: ساختیاتی تنقید

سوال19.کس اردو نقاد نے غزل کو " نیم وحشی صنف شاعری“ قرار دیا؟
ج : کلیم الدین احمد

سوال20. " شاعری انکشاف ذات ہے“ یہ جملہ کس نقاد کا ہے ؟
ج : عظمت اللہ خان

سوال21۔”میزان“ کس مشہور شاعر کی تنقیدی نظریات پر مشتمل کتاب ہے؟
ج: فیض احمد فیض

سوال22. لینن اور لٹریچر مارکس کا نظریہ ادب یہ اہم مضامین کی ترقی پسند نگار نے لکھے؟
ج:، ظہیر کاشمیری

سوال23. آزادی کے بعد پاکستانی ادب کی تحریک کے اولین علمبردار کون تھے؟
ج: محمد حسن عسکری

سوال24. علامہ اقبال کی پہلی تصنیف کون سی تھی؟
ج: علم الاقتصاد

سوال25. "بوطیقا" ایک عظیم یونانی مفکر کی تصنیف ہے جس میں فن کے بنیادی اصول بیان کئے گۓ ہیں ۔ مصنف کا نام بتائیں ۔
ج: ارسطو

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

12/12/2022

صنائع بدائع اصناف ادب قسط نمبر (4)

***** مجازِ مرسل اور اقسام *****

ہم نے پچھلی قسط میں مجاز مرسل کی تفصیلی تیسری اور چوتھی قسم کو پڑھا تھا اب ہم آگے پڑھیں گے ۔

5:۔ ماضی بول کر حال مراد لینا:

یعنی کسی کام کا نام زمانۂ سابق کی رعایت سے لینا جیسے کسی ریٹائرڈ پرنسپل یا کرنل کو اب بھی پرنسپل یا کرنل کہہ کر پکارنا، جیسے:

تو نے برپا کیے ہیں یہ افلاک
خاک کو تونے دی یہ صورتِ پاک

عطا کی وہ مٹی کو عقل و تمیز
ہوئی شکل یوسف جوہر دلعزیز

مشتِ خاک (مٹی) سے مراد انسان ہے اور یہ اس کی ماضی کی حالت ہے۔

6:۔ مستقبل بول کر حال مراد لینا:

اس صورت میں ایسا لفظ بولا جاتا ہے جس کا اطلاق اپنے اصلی اور حقیقی معنوں میں مستقبل کی حالت پر ہوتا ہے، مگر اس سے موجودہ حالت یا کیفیت مراد لی جاتی ہے۔

جیسے میڈیکل کے طالب علم کو ڈاکٹر کہہ کر پکارنا……

بقولِ انیسؔ

بیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا
سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا

یہ قول ہے حضرت فاطمہ صغریٰ کا جو نہایت بیمار تھیں۔ اپنے آپ کو مردہ فرمایا ہے۔

بقولِ میر تقی میرؔ

یہ جو دو آنکھ مند گئیں میری
اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش!

اس شعر میں شاعر محبوب کے دیدار سے مایوس ہوکر خود کو مردہ تصور کررہا ہے۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

09/12/2022

صنائع بدائع اصناف ادب قسط نمبر (3)

***** مجازِ مرسل اور اقسام *****

ہم نے پچھلی قسط میں مجاز مرسل کو تفصیلی سمجھا تھا اور اس کی دو قسم کو پڑھا تھا اب ہم آگے پڑھیں گے ۔

3:۔ سبب بول کر مسبب مراد لینا:

اس صورت سے مراد ہے کہ ایسا لفظ بولا جائے جس کا اطلاق اپنے اصلی اور حقیقی معنی کے اعتبار سے ’’سبب‘‘ ہوتا ہے، مگر اس سے سبب کے بجائے مسبب مراد لیا جاتا ہے جیسے:

’’بادل خوب برسا‘‘ در حقیقت پانی برستا ہے، بادل تو سبب ہے یا یہ کہنا کہ ’’گرمیوں میں اس مکان میں سورج آجاتا ہے۔‘‘ یعنی دھوپ آجاتی ہے۔ سورج، سبب ہے اور دھوپ مسبب،

جیسے بقولِ ناسخؔ

اس قدر کھایا تری فرقت میں غم
دل ہمارا زندگی سے سیر ہے

’’سیر ہونا‘‘ بیزار ہونے کے معنی میں ہے۔ سیری، غذا سے بیزاری کا سبب ہوتا ہے۔

بقولِ میر تقی میرؔ

تم کوہے آٹھ پہر حرف و حکایت اُن سے
بازو جانو انہیں، چشمِ حمایت اُن سے

بازو سے مراد مددگار ہے۔ بازو سبب ہے مددگاری کا۔

4:۔ مسبب بول کر سبب مراد لینا:

اس صورتِ حال میں ایسا لفظ بولا جاتا ہے جس کا اطلاق اپنے اصلی اور حقیقی معنی کے اعتبار سے سبب (نتیجہ) پر ہوتا ہے، جیسے مینہ برستے وقت کہنا ’’اناج برس رہا ہے‘‘ اس سے مراد پانی برسنا ہے، جو اناج پیدا ہونے کا ذریعہ اور سبب ہے۔ جیسے

اس کا کوئی گود کا پالا نہ تھا
گھر میں کوئی گھر کا اُجالا نہ تھا

اس شعر میں گھر کے اُجالے سے مراد اولاد ہے۔ اولاد مسبب ہے، اور اُجالا سبب ہے۔

بقولِ ذوقؔ

ہر ایک خار ہے گل، ہر گل ایک ساغرِ عیش
ہر ایک دشتِ چمن، ہر چمن بہشتِ نظیر

ساغر، شراب کی جگہ ساغرِ عیش بولا۔ شراب مسبب ہے، عیش سبب ہے۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

06/12/2022

صنائع بدائع اصناف ادب قسط نمبر (2)

***** مجازِ مرسل اور اقسام *****

مجازِ مرسل، علمِ بیان کی تیسری شاخ ہے۔ اصطلاح میں یہ وہ لفظ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو۔ مثلا ’’الحمد‘‘ پڑھنے سے مراد پوری سورۂ فاتحہ ہے۔ بادل برسنے سے مراد بارش ہے، دریا بہنے سے مراد صرف پانی بہنا ہے وغیرہ۔

٭ مجازِ مرسل کی اقسام:۔ تمام ماہرینِ بلاغت اس بات پر متفق ہیں کہ مجازِ مرسل کی کل چوبیس قسمیں ہیں جن میں سے چند اہم حسبِ ذیل ہیں:

1:۔ کل بول کرجزو مراد لینا:۔

مراد یہ ہے کہ جو لفظ جن معنی کے لیے وضع ہوا ہے، اس سے اُس چیز کا ایک جزو مراد لیا جائے، مثلاً: ’’بازار سے سودا لانا‘‘ بازار (کُل) بول کر ایک دکان (جزو) مراد لینا۔

مجھ سے ملتے ہی وہ بے باک ہوجانا تیرا
وہ ترا دانتوں میں انگلی دبانا یاد ہے

انگلی سے مراد انگلی کی پور ہے، یعنی کُل (اُنگلی) بول کر جزو (پور) مراد لینا۔

اور بازار سے لے آئیں اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے میرا جامِ سفال اچھا ہے

کُل (بازار) بول کر جزو (ایک دکان) مراد لینا۔

2:۔ جزو بول کر کل مراد لینا:

اس صورت سے مراد یہ ہے کہ ایسا لفظ بولا جائے جس کا اطلاق اپنے اصلی اور حقیقی معنی کے لحاظ سے ’’جزو‘‘ پر ہوتا ہے، لیکن اس سے جزو کے بجائے کُل مراد لیا جائے، جیسے سورۂ فاتحہ کو ’’الحمد‘‘ کہتے ہیں اور ’’کلمے‘‘ کا اطلاق ’’اشہدان لا الہ الا اللہ‘‘ پر کرتے ہیں۔

جیسے بقولِ فیض

رنگ پیرہن کا، خوشبو زُلف لہرانے کا نام
موسمِ گُل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام

یہاں ’’موسمِ گُل‘‘ کی ترکیب میں ’’گُل‘‘ کے لفظ سے پورا موسمِ بہار مراد لیا گیا ہے، یعنی جزو (پھول) بول کر کُل (موسمِ بہار) مراد لینا۔

جس جا ہجوم بلبل و گل سے جگہ نہ تھی
واں ہائے ایک برگ نہیں ایک پر نہیں

یہاں ’’برک‘‘ سے مراد گُل اور ’’پر‘‘ سے مراد پرندہ (بلبل) ہے، یعنی جزو بول کر کُل مراد لینا۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

01/12/2022

صنائع بدائع اصناف ادب قسط نمبر (1)

تشبیہ:

کسی چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سے دوسری چیز کے مانند قرار دینا تشبیہ کہلاتا ہے۔

مثلا" علی شیر کی طرح بہادر ہے

استعارہ:

اصطلاح میں ایک شے کو بعینہ دوسری شے قرار دے دیا جائے، اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دئیے جائیں، اسے استعارہ کہتے ہیں۔

مثلا" علی تو شیر ہے

ج۔مجازِ مرسل:

یہ علم بیان کی تیسری شاخ ہے۔ اصطلاح میں یہ وہ لفظ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو۔

مثلا"

خاتون آٹا گوندھ رہی ہے۔ یہاں آٹا اپنے حقیقی معنوں میں‌استعمال ہوا ہے۔ یعنی آٹا سے مراد آٹا ہی ہے

احمد چکی سے آٹا پسوا لایا ہے۔یہاں آٹا ،گندم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جو اس کی ماضی کی حالت ہے۔ یعنی آٹا تو نہیں پسوایا گیا بلکہ گندم پسوائی گئی تھی اور آٹا بنا۔ لیکن آٹا پسوانے کا ذکر ہے۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

24/08/2022

پبلک سروس کمیشن سوالات قسط نمبر (8)

*معلومات اردو ادب*

* سوال ۔۔۔۔۔۔ جواب*


سوال1.سانیٹ کے کتنے مصرے ہوتے؟
ج: 14

سوال2.اقبال ایک شاعر کتاب کا دیباچہ کس نے لکھا؟
ج: کرار حسین

سوال3.سبز قدم کا مطلب کیا ہے؟
ج: منحوس ہونا

سوال4۔قدرت اللہ شہاب کتاب کی صنف کیا ہے؟
ج: آپ بیتی

سوال5.حسن یوسف ہے؟
تشبیہ ۔۔۔۔استعارہ۔۔۔۔۔جملہ
ج: تشبیہ

سوال6.مسجد قرطبہ کہاں واقع ہے؟
ج: سپین

سوال7.اقبال نے پہلی بار کس نظم میں معاشی حا لا ت پہ بات کی؟
ج: خضر راہ

سوال8۔مضحکہ اڑانا کا مطلب ہے؟
ج:مذاق اڑانا

سوال9.عود ہندی غالب کی وفات سے کتنے ماہ پہلے چھپا ؟
چار، چھ یا سال
ج: چارہ ماہ

سوال10.حسن کوزہ گر کتنے حصوں پر مشتمل ہے؟
ج: چار

سوال11. خضر راہ کس کتاب میں شامل ہے ؟
ج:بانگ درا

سوال12۔خضر راہ میں خضر کے کتنے سوالوں کے جواب دیے گئے
ج: 5

سوال13۔کس سوانح کا دیباچہ سوانح کا مینیفسٹو ہوا؟
ج:حیات سعدی

سوال14۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا۔ کس کا شعر ہے؟
ج: شوق بہرائچی

سوال15۔موت کو سمجھیں ہیں غافل ۔۔
اقبال نے کس نے لیے لکھا یہ شعر ؟
ج: جسٹس شاہ دین مرحوم

سوال16۔قاف سے قاف کا کیا مطلب ہے؟
ج: ساری دنیا

سوال17.چاہ زنخداں کا کیا مطلب ہے؟
ج: ٹھوڑی کا گڑھا

سوال18.خواب لے لے خواب،کس نظم میں شامل ہے؟
ج: اندھا کباڑی

سوال19.پنواڑی، اور دو اور نظموں کے نام کہ کس شاعر کی ہیں؟
ج : مجید امجد

سوال20.فورٹ ولیم کالج کا قیام کب ہوا ؟
ج : 10 جولائی 1800

سوال21۔شہر سخن آراستہ کس کا کلیات ہے؟
ج:فراز

سوال22.عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نا روکے کوئی۔۔ کس کا شعر؟
ج:، پروین شاکر

سوال23.پروین شاکر کا پہلا تخلص؟
ج:بینا

سوال24.اردو ادب کی تشکیل جدید کس کی کتاب؟
ج:ناصر عباس نئر

سوال25.راشد الخیری کس اخبار کے مدیر؟
ج: تہذیبِ نسواں

اگلی قسط پڑھنے کے لیے انتظار کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🔜

15/08/2022

*_لیکچرار اردو انٹرویو کےلیے تیاری:طریقہ کار اور ترتیب_*

( اس تحریر کو صرف سنجیدہ امیدوار پڑھیں🤝۔باقیوں کے دعا🤲)

امیدوار یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ انٹرویو کی کوئی نفسیات نہیں ہوتی۔وہاں آپ سے کچھ بھی پوچھا جا سکتا ہے۔انٹرویو میں دراصل آپ کا جواب اور جواب دینے کا سلیقہ دیکھا جاتا ہے۔وہاں آپ کس قدر پر اعتماد ہیں اپنے جوابات اور مکالموں میں یہ چیز انتہائی اہم ہے۔کسی سوال کے جواب سے لاعلمی کا اظہار بھی اعتماد کے ساتھ کر لینے میں حرج نہیں۔تاہم زیادہ سوالات پہ لاعلمی کا اظہار منفی تاثر کا حامل ہوتا ہے۔انٹرویو کی بہتر سے بہتر تیاری بھی ضروری نہیں کہ آپ کےلیے سودمند ثابت ہو،بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ سے وہ سوالات ہو سکتے جن کا آپ کو بالکل اندازہ نہ ہو یا آپ کے بتائے ہوئے راستہ پر بھی آپ نہ چل سکیں۔مگر اس بات سے یہ سمجھنا کہ انٹرویو کی تیاری بےسود ہے گمراہ کن رویہ ہے۔لیکچرار اردو کا انٹرویو پورے اردو ادب کو محیط ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ ہر امیدوار کےلیے پورے ادب کو نگاہ میں رکھنا ممکن نہیں۔چناں چہ اس صورت حال میں اردو ادب سے بنیادی اور ضروری آگاہی حاصل کرنا اور تیاری کرنا ہر امیدوار کےلیے ناگزیر ہے۔ لیکچرار اردو کے انٹرویو کی تیاری کےلئے درج ذیل ترتیب کو مدنظر رکھ کر امیدوار بہت حد تک ذاتی اطمینان کے ساتھ پینل کا سامنے کرنے کا اعتماد خود میں دیکھ سکتا ہے۔یہی اعتماد کامیابی کےلیے کافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا ذاتی تعارف (نام،ولدیت،تعلیمی ریکارڈ،علمی و ادبی کام،تحقیقی مقالہ اور موجودہ مصروفیت) انگریزی میں تیار کر لیں۔بار بار کسی کو سنائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو زبان کا آغاز و ارتقا
یک سطری نظریات سے آگاہی
۔۔۔۔۔۔۔
شعری و نثری اصناف:تعریف اور فرق
۔۔۔۔۔۔۔۔

*_تنقیدی اصطلاحات_*

مثلا نرگسیت کیا ہے،غرابت کیا ہے؟ علامت کیا ہے ؟ اور اس طرح امتیازات و تعریفیں
۔۔۔۔۔۔۔۔

*تنقیدی دبستان و نظریات*

عمرانی،نفسیاتی،تاثراتی،مارکسی،ترقی پسند،جدیدیت،مابعد جدیدیت،تانیثیی تنقید،مابعد نوآبادیاتی تنقید

۔۔۔۔۔۔۔۔
تحقیقی و تدوینی اصطلاحات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علم بیان بدیع ۔۔۔ مع شعری مثال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*سلیبس پر خصوصی توجہ*

انٹراور ایم اے کے نصاب کو توجہ سے دیکھیں۔شامل نصاب نظموں غزلوں کی تشریح تیار کریں۔

ہو سکے تو معروض غزلوں کو اتنا دیکھ لیں کہ شعر کا دوسرا مصرعہ مکمل کر سکیں آپ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*بنیادی گرائمر*
سے واقفیت حاصل کر لیں۔خصوصا میٹرک کی قواعد و انشا کی ٹیکسٹ بک خرید کر پڑھ لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اردو ادب کی تحریکیں:تعارف،فکر،شامل لوگ*
علی گڑھ تحریک،رومانوی،حلقہ ارباب ذوق،ترقی پسند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*افسانہ نگار:کم از کم پانچ افسانے پڑھیں:سوانح،موضوعات،انفرادیت،ان پر تنقیدی کتب*
پریم چند،کرشن چندر،منٹو،بیدی،غلام عباس،انتظار حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔
*کلاسیک شاعر:دو دو شعر مع تخلص کا شعر*
میر،سودا،مصحفی،اتش،ناسخ،مومن،داغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*خصوصی شاعر:سوانح اور شعری خصوصیات،ان پر معروف تنقیدی کتب*
میر،غالب،اقبال،فیض
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جدید نظم گو:سوانح،دو نظمیں،ان پر تنقیدی کتب*
ن م راشد،میرا جی،مجید امجد،اختر الایمان،فیض،منیر نیازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جدید غزل گو:سوانح،اشعار،ان پر تنقیدی کتب*
ناصر کاظمی،ظفر اقبال،احمد مشتاق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*معروف ناول:موضوع،کردار،اشاعت دیگر معلومات اور ناول تنقیدی پر کتب*
آگ کا دیا،اداس نسلیں،آنگن،خدا کی بستی،بستی،آخر شب کے ہم سفر،بہاو،راجہ گدھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*معروف نقاد:اختصاص اور ان کی کتب*
شمس الرحمن فاروقی،گوپی چند نارنگ،شمیم حنفی،ال احمد سرور،احتشام حسین،ناصر عباس نیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*نوٹ:-* مذکورہ بالا ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے تیاری کا آغاز کریں۔ذاتی نوٹس بنائیں۔زیادہ گہرائی میں جانے کے بجائے اپنے (Concept clear)کریں۔یہ تیاری آپ کی ضائع نہیں جائے گی۔کم وقت میں زیادہ سے زیادہ چیزیں دیکھیں اور تیار کریں۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔

------------------------------ ختم شد -------------------------------

13/08/2022

--------- انٹرویو کے اہم سوالات مع جوابات ------------
------ کمیشن انٹرویو کی تیاری والے بغور پڑھیں ----------

1: ادبِ عالیہ یا ادبُ العالیہ سے کیا مراد ہے ؟

ج: اس سے مراد اعلیٰ درجے کا ادب ہے ۔لافانی ادب کلاسیک کے ہے۔قدیم یونانیوں اور رومیوں کا علمِ ادب بھی اس سے مراد ہے۔وسیع معنوں میں ہر زُبان کا قدیم اور معیاری ادب،ادبِ عالیہ یا ادبُ العالیہ کہلاتا ہے۔

2:ادب برائے زندگی سے کیا مراد ہے ؟

ج: ایسا ادب جس میں زندگی کے مسائل کی عکاسی سماجی تقاضوں کے مطابق ہو، ادب برائے زندگی کہلاتا ہے۔

3: ادب برائے ادب سے کیا مراد ہے؟

ج: ایسا ادب جس کا ادب کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو ۔دوسرے الفاظ میں کلام میں محاسنِ لفظی اور معنوی پیدا کرکے لطف اندوز ہونا،ادب برائے ادب کہلاتا ہے۔

4: ادب پارہ کیا ہے ؟

ج: ادبی قدرو قیمت رکھنے والی تحریر یا نظم و نثر کو ادب پارہ کہتے ہیں۔

5: ادبیات سے کیا مراد ہے؟

ج: لیٹریچر،نظم و نثر، ادب سے تعلق رکھنے والے علوم یا مسائل، ادبیات کہلاتا ہے۔

6: سِیاق و سِباق سے کیا مراد ہے ؟

ج: یہ دو الفاظ کا مرکب ہے۔سِیاق معنی ربطِ مضمون اور سِباق معنی دوڑ میں آگے بڑھنا ۔اصطلاح میں کسی تحریر یا مضمون کا ربط اور تسلسل قائم رکھنا ،سِیاق و سِباق کہلاتے ہیں۔

7: پلاٹ اور کینوَس سے کیا مراد ہے نیز پلاٹ اور کینوَس میں فرق بتائیں؟

ج: پلاٹ: ادبی اصطلاح میں قصہ کہانی میں واقعات کی مختلف کڑیوں کو ایک خاص ترتیب اور تنظیم سے ملانے کا نام پلاٹ ہے۔

جبکہ

کینوَس؛ ناول کے سکوپ یا وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ افسانہ کے برعکس ناول میں زندگی کے کئی پہلوؤں کا بیان ہوتا ہے،اور زندگی کے ان کئی پہلوؤں کے بیان کو ناول کا کینوس کہا جاتا ہے،جو ناول کو افسانہ سے ممیز کر دیتا ہے۔

شارٹ کینوَس :جو شارٹ کینوَس ہوتا ہے وہاں ہم پلاٹ کی تحدید مراد لیتے ہیں۔

لانگ کینوَس: اس سے مراد لووز پلاٹ کا حامل ناوِل یا ڈراما ہوتا ہے جس میں زیادہ گفتگو کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔

8:صاحبِ اُسلوب سے کیا مراد ہے ؟

ج: بہترین اور منفرد اُسلوب کا حامل ادیب یا شاعر،صاحبِ اُسلوب کہلاتا ہے۔

------------------------------ ختم شد -------------------------------

12/08/2022

پبلک سروس کمیشن انٹرویو کے لیے غیر ضروری باتیں 💞

مجھے انٹرویو دینے لینے کا کوئی خاص تجربہ تو نہیں لیکن پھر بھی آپ کو اس کے بارے میں ضرور بتاؤں گا۔ اس لیے بتاؤں گا تاکہ آپ کو وہ باتیں پتا چلیں جن کے بارے نہ تو سوال کیے جاتے ہیں نہ جواب مانگے جاتے ہیں،لیکن انھیں فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ عموماً ایسی نکات کے بارے میں امیدواروں کی سوچ ہی نہیں جاتی ہے۔

1- دورانِ انٹرویو خوش مزاج نظر آئیں۔

2- چاہے کیسے بھی حالات آجائیں اپنا حوصلہ مت چھوڑیں اور اپنے آپ کو کنٹرول رکھیں ۔

3-پورا سوال سن کا تحمل سے جواب دیں۔جلدی جلدی جواب دینا اور آدھا سوال سن کو جواب دینا ،غلط ہے۔ بظاہر آپ اپنی قابلیت ظاہر کررہے ہیں لیکن آپ کا یہ منفی عمل ہے۔

4- کرسی پر مکمل اعتماد سے بیٹھیں۔

5-اپنی ٹون اتنی ہی رکھیں کہ آواز سب شرکا تک پہنچ جائے۔ زیادہ اونچی یا نیچی آواز درست نہیں ہے۔ بعض لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کر بولنا شروع کردیتے، یاد رہے سلیکشن کی صورت میں اس کا موقع آپ کو کلاس میں مل جائے گا۔

6-عموما ایسے موقعے پر سانس پھول جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کُھل کر سانس نہیں لے رہے ہوتے ہیں۔اس لیے شروع ہی سے آپ اپنے سانس کو مکمل قابو میں رکھیں۔

7-جارحانہ لہجہ،انداز اور اطوار اپنانے سے گریز کریں۔

8- کوئی ایسا لباس مت پہن کر جائیں جو کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا ہو اور قابلِ اعتراض ہو۔

9- مردوزن بھڑکیلا لباس مت پہن کر جائیں۔ زیادہ میک اپ نقصان دہ ہے۔ایسے ہی ہر شے میں اپنا توازن برقرار رکھیں۔

10-کھلے جوتے مت پہن کر جائیں، ایڑھی کی ٹک ٹک سے مسحور کرنے کی کوشش مت کریں۔پرفیوم تیز مت لگائیں، بالوں کے لَٹ کٹ کروا کے جائیں۔

11- خوب صورت ہونا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، یہ مفید ثابت ہوتی ہے۔اگر آپ کو اپنے اوپر گمان بھی ہے تو اوچھے لفظ ادا کرنے اور کوئی بھی حرکت کرنے سے اجتناب کریں۔

12- ظاہر داری میں مت پڑیں۔سادہ اور آسان جملے بولیں۔جہاں کسی اصطلاح کا استعمال لازمی ہو،ضرور کریں۔

13-اردو بولنے کا لہجہ اور انداز اچھا ہونا چاہیے۔

14- جملے چست اور رواں بنانے کی کوشش کریں۔

14- کہیں شعری حوالہ دینا پڑے تو درست متن سے دیں، ورنہ اجتناب بہتر ہے۔

15- زیادہ عالم فاضل بننے اور ظاہر کرنے کی کوشش مت کریں۔

16- کسی بحث میں پڑنے سے گریز کریں۔ اگر پڑ جائیں تو نہایت مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دلائل دیں۔ٹون معمولی سی زیادہ ہونا درست ہے، زیادہ اونچا مت بولیں نیز اپنی باری کا انتظار کریں۔ اگر آپ کی باری نہیں آتی تو اجازت لیں کہ میرا موقف سن لیا جائے۔ عموماً آپ کو موقف نہیں سنا جاتا، اس میں بھی بہتری ہے۔آپ نے یہ نہیں کہنا کہ اپنی باری کر کے بھاگ کیوں رہے ہیں۔😉

17-کسی بارے میں بے چین اور بے قرار نظر آنے کی کوشش مت کریں۔

18- سیاست اور مذہب میں زیادہ دل چسپی کا اظہار مت کریں۔سوال کیا جائے تو جتنی جلدی ممکن ہو اس سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔

19- آپ سے نظم و نثر میں دل چسپی کے بارے پوچھا جائے تو کورا جواب نہیں دینا، بلکہ ایسے کہنا ہے کہ پڑھتا تو سبھی ہوں لیکن زیادہ رجحان فلاں کی طرف ہے۔

20- کوشش ہونی چاہیے کہ ہر سوال کو جواب دیا جائے لیکن یاد رہے کہ کسی سوال کے بارے میں بالکل سدھ بدھ نہ ہوتو چھوڑ دینا زیادہ مناسب ہے۔

21- تیکھی اور تیز نظروں سے کسی کی جانب مت دیکھیں، چہرے پر تیوری، ماتھے پر بل یا شکن مت پڑھنے دیں۔ ہاں اگر ہنسے سے آپ کو ڈمپل پڑتا ہے تو اس کنوئیں میں ڈبکی لگوانے کی کوشش ضرور کریں۔😄😀

-------------------- شکریہ والسلام ----------------------

07/06/2022

جدید تر اُردو غزل کا فنّی مطالعہ آخری قسط نمبر (2)

اسلم انصاری کی غزل میں تمثال کاری کا ہْنر اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ عکس فگن ہے۔ ان کی تمثالوں میں ان کا عہد پوری طرح سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر تصویر سازی اور پیکر تراشی میں زبان و بیان کی جملہ نزاکتیں اور رعنائیاں گندھی ہوئی نہ ہوں تو تصویریں محض خارج کا اظہار یہ بن جاتی ہیں ان میں قلب و نظر سے کلام کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی۔ اسلم کی تمثال کاری میں صرف ’’موجود‘‘ عکس ریز نہیں ہوتا بلکہ ’’ ناموجود‘‘ بھی جھلکتا ہے جو ان کے خوابوں ، خواہشوں اور تمناؤں کے رنگ سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ سارا تخلیق عمل اسلم انصاری کی فنی پختگی اور تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے عام فہم اور مانوس لفظیات کو نیا مفہومی منظر نامہ عطا کیا ہے جو عہدِ جدید سے غزل کی ہم آہنگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسلم انصاری کے اسلوب کی سج دھج اور دل کشی ذیل کے اشعار سے مترشح ہے:

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے
جوئے نغمات پہ تصویر سی لرزاں دیکھی
لبِ تصویر پہ ٹھہرا ہوا نغمہ دیکھا
جسے درپیش جدائی ہو اسے کیا معلوم
کون سی بات کو کس طرح بیاں ہونا ہے
خفا نہ ہو کہ ترا حسن ہی کْچھ ایسا تھا
میں تجھ سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

خورشید رضوی کی غزل بھی کلاسیکی معیارات کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ ان کی غزل سرائی کے ابتدائی دور میں لسانی تشکیلات کے رجحانات نے ’’جدید غزل‘‘ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس دور کے اکثر غزل گو شاعر الا ما شاء￿ اللہ جدت کے شوق میں مختلف زبانوں کے الفاظ کو غیر فن کارانہ انداز سے غزل میں شامل کر کے داد وصول کر رہے تھے۔ اس دور میں ان رجحانات سے اپنے آپ کو بچا لینا آسان کام نہ تھا۔ خورشید رضوی ان معدودے چند تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے ان لسانی رجحانات کے کھوکھلے پن اور سطحیت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو ان سے الگ رکھا۔ انہوں نے غزل کی پْرانی لفظیات میں معنویت کی تازگی شامل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ فن کے اسرار و رموز سے آشنائی تخلیق کار گھسے پٹے الفاظ کے قالب میں بھی نئی روح پھونک کر انہیں حیاتِ نو کی لذت سے سرشار کر سکتا ہے۔

خورشید رضوی نے مشرقی زبانوں بالخصوص عربی اور فارسی کے ادبیات کے مطالعے سے اظہار کے ان وسیلوں سے فائدہ اٹھایا جو عام غزل گو شاعروں کی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں۔ ان کے علم و فضل نے بہ قول مظفر علی سید ان کی شاعری کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ثروت مند کیا ہے۔ خورشید رضوی نے تشبیہات و استعارات اور علامات و اشارات کے اچھوتے اور کم یاب رنگوں سے غزل کی زیب و زینت میں اضافہ کیا ہے۔ زبان و بیان پر کامل گرفت اور لفظیات کے استعمال کا شعور ان کی قدرتِ کلام کا مظہر ہے۔ چند شعر دیکھیے:

دل میں یوں اْتر ا کسی کی ساعدِ سیمیں کا دھیان
شاخِ گل جس طرح دیوارِ قفس سے آ لگے
تم صبا کی طرح آئے اور رخصت ہو گئے
ہم مثالِ شاخِ تنہا دیر تک لرزاں رہے
کب نکلتا ہے کوئی دل میں اْتر جانے کے بعد
اس گلی کی دوسری جانب کوئی رستہ نہیں
لبوں پہ آج سرِ بزم آ گئی تھی بات
مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا کہ’ نہیں‘

غلام محمد قاصر نے مضامین کی جدت اور اظہار کی نْدرت کے ساتھ جدید تر غزل کی تعمیر و تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی غزل میں زبان کا رکھ رکھاؤ اور بندشوں کا حسن غزل کی روایت میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ قاصر کے ہاں اوزان و بحور کی تازہ کاری نئے صوتی امکانات کی نشان دہی کرتی ہے۔ انہوں نے مروج بحور میں ارکان کی کمی بیشی سے نئے اوزان کے کام یاب تجربے کیے ہیں جو ان کی عروض آشنائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں، قاصر نے متوسط اور طویل بحروں میں زیادہ غزلیں کہی ہیں۔ بحروں میں بسرام کے التزام کے باعث ان کے غزلیہ آہنگ میں روانی اور بہاؤ کی نسبت ٹھہراؤ کی کیفیت نمایاں ہے۔ چند اشعار بہ طور مثال دیکھیے:

پلکوں پہ چمکنے سے پہلے تاروں کو کیا تسخیر تو کیا
وہ شخص نظر بھر رک نہ سکا ، احساس تھا دامن گیر تو کیا
خوش ہوں کہ کسی کی محفل میں ارزاں تھی متاعِ بیداری
اب آنکھیں ہیں بے خواب تو کیا، اب خواب ہیں بے تعبیر تو کیا

تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے
سو گئے سارے مسافر منزلیں محوِ سفر ہیں
پھر بیاضِ رہ گزر میں آہٹوں کا رتجگا لکھ
کشتی بھی نہیں بدلی ، دریا بھی نہیں بدلا
اور ڈوبنے والوں کا ،جذبہ بھی نہیں بدلا

صابر ظفر جدید تر غزل سراؤں میں اپنے لہجے کی سادگی ، بیان کی رعنائی اور موضوعات کی ندرت کے لحاظ سے الگ سے پہچانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات اور کیفیات واحساسات کو جس فنی اہتمام کے ساتھ غزل میں شامل کیا ہے اس میں کہیں بھی تصنع اور بناوٹ کو دخل نہیں۔ صابر ظفر کی غزل میں غزل کی روایت اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ عکس ریز ہوئی ہے۔ انہوں نے غزل کی روایت کو صرف تحفظ ہی فراہم نہیں کیا بلکہ اس میں اپنے زمانے کا رنگ رس بھی شامل کر کے اس کی تاب ناکی اور جمالیات میں اضافہ کیا ہے۔ صابر ظفر کی غزل میں بہ ظاہر کوئی ایسا آرائشی اور زیبائشی عنصر شامل نہیں ہے جو چونکانے اور متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، ان کے ہاں تشبیہات و استعارات اور تراکیب و محاورات کا استعمال بھی کم کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے اشعار میں وہ سرشاری اور لطافت ہے جو دیر تک قلب و نظر کو اپنی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتی۔الفاظ کے درو بست اور مصرعوں کی بْنت میں ان کا فنی تجربہ اور تخلیقی ریاضت جھلکتی ہے۔ ذیل کے اشعار ان کی اس خلاقی اور ہْنر مندی کے گواہ ہیں:

کلام کرتا ہوا ، راستہ بناتا ہوا
گزر رہا ہوں میں اپنی فضا بناتا ہوا
وہ درد ہی نہیں جس نے دوا کی مہلت دی
وہ زخم ہی نہیں جو اند مال تک پہنچا
کہیں کہیں کوئی تارا، کہیں کہیں میں
نظر کے سامنے وہ شکل خال خال آئی
صورتِ مرگ فقط راہ کی ٹھوکر نکلی
زندگی تو مرے اندازے سے کم تر نکلی
شہر آئے تو سمند ر نے اسے چھین لیا
عکس لائے تھے جو اک گاؤں کے تالاب سے ہم

Address

Hyderabad Pakistan

Telephone

+923453631956

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kutub Bini کتب بینی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Kutub Bini کتب بینی:

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share