Voice Of Baam E Dunya

Voice Of Baam E Dunya Educationist
Writer
Politician
Linguist
Literary Critic

31/03/2026

اُمِ رباب

حفیظ الرحمن منبر و محراب میں   رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ساعتیں اپنے اندر ایک ایسی معنویت سموئے ہوتی ہیں جو وقت کی س...
23/03/2026

حفیظ الرحمن منبر و محراب میں


رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ساعتیں اپنے اندر ایک ایسی معنویت سموئے ہوتی ہیں جو وقت کی سطحی گردش سے بلند ہو کر روح کی گہرائیوں کو چھو لیتی ہیں۔ یہی وہ ایام ہیں جن میں بندہ اپنی کوتاہیوں کا ادراک کرتے ہوئے رحمتِ الٰہی کے در پر دستک دیتا ہے۔ عموماً ختمِ قرآن کی بابرکت تقریب طاق راتوں میں منعقد کی جاتی ہے، کہ یہی راتیں شبِ قدر کی جستجو کا استعارہ سمجھی جاتی ہیں۔ مگر اس سال جس مسجد میں ہمیں اقتداء کا شرف حاصل ہوا، وہاں اس روحانی اجتماع کے لیے جفت رات اٹھائیسویں شب کا انتخاب کیا گیا۔
یہ اعلان سن کر دل میں ایک انجانی سی کسک نے جنم لیا۔ شاید یہ ہماری سوچ کا محدود زاویہ ہے کہ ہم نے قبولیتِ دعا کو بھی مخصوص راتوں کے ساتھ مشروط کر رکھا ہے، گویا ربِ کائنات کی رحمت کسی حسابی ترتیب کی پابند ہو۔ ہم سارا سال غفلت کے حصار میں رہتے ہیں اور پھر آخری عشرے میں چند راتوں کو نجات کا "خصوصی پیکیج" سمجھ کر عبادت کی طرف لپکتے ہیں۔ کبھی سچے آنسو بہاتے ہیں اور کبھی آنسوؤں کی تمثیل رچاتے ہیں—اس امید پر کہ شاید ہماری بنجر آنکھیں کسی لمحۂ قبولیت میں ایک قطرۂ اشک کو جنم دے دیں، اور وہی قطرہ ہماری مغفرت کا وسیلہ بن جائےیہ انسانی رویہ دراصل بندگی کے فلسفے سے ایک لطیف انحراف ہے، کیونکہ عبادت سودا نہیں بلکہ سپردگی کا نام ہے۔ اسی حقیقت کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے
وہ سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے انسان کو نجات
اس شب ہماری مسجد کا منظر ایک روحانی انجمن کا سا تھا۔ ہر صف آباد، ہر گوشہ معمور، اور ہر چہرہ کسی نہ کسی امید کا امین۔۔۔۔۔۔۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین اپنے باسیوں کے ساتھ آسمان کی طرف جھک گئی ہو۔ اگلی صفوں میں بیٹھے افراد کی نظریں بار بار دروازے کی سمت اٹھتی تھیں، گویا وہ کسی خاص آمد کے منتظر ہوں ایک ایسی شخصیت جس کا تعارف خواص تک محدود تھا۔
راقم بھی آج خلافِ معمول صفِ اوّل کے قریب، دو عمر رسیدہ بزرگوں کے درمیان جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ ایک طرف ایک بزرگ ذکر و اذکار میں محو تھے، جبکہ دوسری جانب بیٹھے بزرگ اپنی عینک کے ساتھ ایک معصومانہ کشمکش میں مصروف دکھائی دینے لگے۔ ابتدا میں میں نے انہیں اپنی طرح غفلت کا شکار سمجھا، مگر جلد ہی یہ احساس ہوا کہ ہم اکثر دوسروں کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے باطن پر حکم لگا دیتے ہیں اور یہی ہماری فکری لغزش ہے۔
میں نے ان سے دریافت کیا کہ آج کے مہمانِ خاص کون ہیں۔ انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ یہ سوال امام صاحب سے کرنا چاہیے۔ ان کے اس جواب نے میرے اندر ایک نئی جہت کو جنم دیا ہم اکثر اپنی لاعلمی کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ جستجو کا پہلا قدم خود اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی اثنا میں مسجد کے دروازے غیر معمولی انداز میں کھلے، اور فضا میں ایک ہلچل سی پیدا ہوئی۔ رضاکاروں نے صفوں کے درمیان راستہ بنایا، اور پھر وہ شخصیت جلوہ گر ہوئی جسے میں مختلف علمی، ادبی اور سیاسی فورمز پر سن چکا تھا۔ مگر آج میری لائف ہسٹری میں وہ پہلی بار منبر و محراب سے ہم سے مخاطب ہونے والے تھے۔
ان کی آمد کے ساتھ ہی ذہن میں ایک اہم سوال نے انگڑائی لی:
کیا وہی شخص، جو عوامی اور بین المسالک اجتماعات میں اتحاد، ہم آہنگی اور امن کا علمبردار رہا ہے، آج بھی اسی بیانیے کو برقرار رکھے گا؟ یا پھر وہ مذہبی اجتماع کی فضا کے مطابق اپنے لہجے اور مؤقف میں تبدیلی لائے گا؟
یہ سوال محض ایک فرد کے بارے میں نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں اکثر اقوال اور افعال میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مذہبی اجتماعات میں ایک لہجہ، اور عوامی پلیٹ فارمز پر دوسرا۔ گویا سچائی بھی حالات کی محتاج ہو گئی ہو۔
مگر اگر کوئی شخص اس تضاد سے بلند ہو کر ہر پلیٹ فارم پر ایک ہی سچ، ایک ہی پیغام اور ایک ہی لہجے کے ساتھ کھڑا ہو جائے، تو وہ محض ایک مقرر نہیں رہتا بلکہ ایک فکر، ایک استعارہ اور ایک تاریخ بن جاتا ہے۔
ایسے ہی کسی لمحے میں، ایسے ہی کسی ماحول میں، اگر کوئی اپنی فکری دیانت کو برقرار رکھے تو وقت اسے محض ایک نام سے نہیں بلکہ ایک علامت کے طور پر یاد رکھتا ہے۔ اور اگر یہ اوصاف ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں، تو تاریخ اسے حافظ حفیظ کے نام سے یاد رکھتی ہے۔
آئیے، اسی تناظر میں ان کی اس خطاب کو من و عن ملاحظ فرماتے ہیں ۔۔۔ مگر اج اور اب نہیں ۔۔۔۔۔دوسری قسط میں ۔۔۔۔

عید مبارک
21/03/2026

عید مبارک

19/03/2026

ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے قتل سے ملک کے سیاسی نظام کی مضبوطی اور استحکام پر کوئی اثر نہیں

19/03/2026
19/03/2026

A fox and a dog turned into literary legends thanks to one playful sentence that secretly does heavy lifting. “The quick brown fox jumps over the lazy dog” manages to pack all 26 letters of the English alphabet into just a few words, making it the ultimate pangram. First recorded in the late 19th century, it became a favorite exercise for typing drills, font checks, and testing early machines. Teachers loved it for practice, while designers and engineers leaned on it to test clarity and style.
The phrase even played a role in global history: a variation was used to test the secure hotline between Washington and Moscow during the Cold War. What began as a whimsical line for practice grew into one of the most enduring and practical sentences in English, a compact alphabet workout that continues to bridge fun, utility, and legacy.

19/03/2026

چاند نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے حتمی اعلان سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جائے گا
تفصیل پہلے کمنٹ میں پڑھیں

19/03/2026

Dr Ali Larijani was
- Hafiz of the Qur'an
- Bsc Computer Science and Mathematics
- Msc Western Philosophy
- PHD Western Philosophy
Rest in jannah Aga jaan

19/03/2026

BREAKING 🔴⚠️🇮🇷 The mastermind of the Iran massacre Ali Larijani will be buried alongside his son, Dr. Morteza Larijani today ...

19/03/2026

دنیا کی سب سے بڑی ساؤتھ پارس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اسرائیلی حملے کے بعد 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی ہے۔
تفصیلات: https://www.geonewsurdu.tv/latest/430175-

19/03/2026

آج کی تازہ ترین صورتحال: امریکہ–ایران جنگ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید آگ کی لپیٹ میں ہے جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی و اسرائیلی افواج نے ایران کے اہم فوجی، میزائل اور توانائی کے مراکز پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں گیس فیلڈز اور اسٹریٹیجک تنصیبات بھی شامل ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایران نے اس کے جواب میں نہ صرف خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا بلکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اپنی بھرپور جوابی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ بعض حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور عالمی تجارت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
سیاسی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ امریکی قیادت جنگ جاری رکھنے کے حق میں نظر آتی ہے جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات نہیں کرے گا۔ اس دوران عالمی طاقتیں اور یورپی ممالک اس بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں، مگر فی الحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مجموعی طور پر عالمی اخبارات اور تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ یہ جنگ اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازعہ ایک بڑی علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Address

Concept Schools System GB
Hunza
15300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Baam E Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category