Ali Raza Bajwa Shaheed - Pak Army

Ali Raza Bajwa Shaheed - Pak Army The page is dedicated to Ali Raza Bajwa Shaheed - Pak Army

13/04/2026

ہو قیدِ مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزادِ وطن صُورتِ ماہی
ہے ترکِ وطن سُنّتِ محبوبؐ الٰہی
دے تُو بھی نبوّت کی صداقت پہ گواہی
گُفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشادِ نبوّت میں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے
تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیّتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

13/04/2026

بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

سورتہ ال عمران 166 تا 169اور دو گروہوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے (پہنچی) ...
22/03/2026

سورتہ ال عمران 166 تا 169

اور دو گروہوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے (پہنچی) کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرا دے۔

اور اس لئے ( پہنچی) کہ اللہ منافقوں کی پہچان کرا دے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا دشمنوں سے دفاع کرو تو کہنے لگے: اگر ہم جانتے کہ واقعتا لڑائی ہو گی (یا کہنے لگے کہ اگر ہم اسے اللہ کی راہ میں درست جنگ سمجھتے) تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، یہ لوگ اس دن ظاہری ایمان کی نسبت کھلے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے جو باتیں یہ چھپا رہے ہیں۔

(یہ) وہی لوگ ہیں جنہوں نے باوجود اس کے کہ خود (گھروں میں) بیٹھے رہے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے۔
اے حبیب! آپ فرما دیجئے،
تم اپنے آپ کو موت سے بچا لینا اگر تم سچے ہو۔

اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

22/03/2026

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

شرح:
علامہ اقبال کے یہ اشعار جدید تہذیب، طاقت کے منبع، انسان کی روحانی حیثیت اور مستقبلِ انسانیت کے بارے میں نہایت گہرا فکری اعلان ہیں۔ اقبال یہاں دنیا کو ایک نئے معرکۂ روح و بدن کے دہانے پر کھڑا دیکھتے ہیں۔ اس معرکے سے مراد صرف مذہب اور مادہ کا سادہ تصادم نہیں، بلکہ دو مختلف تصوراتِ انسان کا ٹکراؤ ہے۔ایک وہ انسان جو روح، اخلاق، ذمہ داری اور خدا آگاہی سے تشکیل پاتا ہے، اور دوسرا وہ انسان جو محض جسم، خواہش، طاقت، پیداوار اور تسلط کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔

علامہ نے عصرِ حاضر کے چہرے سے نقاب اٹھایا ہے۔ “دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش” میں اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ انسان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف روح، اخلاق، ایمان اور انسانی عظمت ہے، اور دوسری طرف مادہ، خواہش، مفاد اور بے رحم طاقت۔ یہ صرف خیالات کی جنگ نہیں، بلکہ انسان کے مستقبل، اس کی شناخت اور اس کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا معرکہ ہے۔ اسی لیے اقبال فرماتے ہیں: “تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا”۔ یعنی وہ تہذیب جو خود کو روشن، مہذب اور ترقی یافتہ کہتی ہے، اسی کے باطن سے ظلم، جنگ، استحصال، خونریزی اور انسان دشمن قوتیں جنم لے رہی ہیں۔ آج کے عالمی حالات اس شعر کی زندہ تفسیر ہیں، جہاں ترقی کے نام پر انسانیت کو کچلا جا رہا ہے اور طاقت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پھر اقبال حق کی اصل قوت کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں: “اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا”۔ یہاں مومن سے مراد وہ بیدار، غیرت مند، باکردار اور ثابت قدم انسان ہے جو حالات کے جبر کے سامنے جھکتا نہیں، جو باطل کی چکاچوند سے مرعوب نہیں ہوتا، اور جو اپنی روحانی طاقت سے تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں “اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا” ایک ایسی تہذیب کی تصویر ہے جو مشین، صنعت، طاقت اور مادی ترقی کے نشے میں انسان کے باطن کو کھو بیٹھی ہے۔ اقبال کا پیغام نہایت واضح اور لرزا دینے والا ہے: دنیا کی اصل نجات مشینوں، اسلحے اور مادی قوت میں نہیں، بلکہ زندہ ضمیر، بلند کردار، اخلاقی جرات اور ایمان کی حرارت میں ہے۔ جب تک تہذیب روح سے خالی رہے گی، اس کے ہاتھوں انسانیت زخمی ہوتی رہے گی اور جب تک مردِ مومن اپنی پامردی، خودی اور حق گوئی کو زندہ رکھے گا، باطل کی ہر مشین، ہر قوت اور ہر غرور آخرکار شکست سے دوچار ہوگا۔

بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو
امغانِ حجاز

22/03/2026

دِین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومننہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
20/03/2026

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی

20/03/2026

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

Address

Harunabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Raza Bajwa Shaheed - Pak Army posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share