Sajid Nadeem - ”Social Activist”

Sajid Nadeem - ”Social Activist” ماہر تعلیم, سیکرٹری گڈگورننس
سوشل ایکٹیوسٹ, ایڈووکیٹ ہائی کورٹ تحصیل صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک

01/03/2026
(خود جل کے روشن کر دیں گے جگ سارا)خانپور کی سیاسی سماجی اور کاروباری  شخصیت یونیک سکولنگ سٹم کے ایم ڈی و تحصیل صدر پرائی...
20/07/2025

(خود جل کے روشن کر دیں گے جگ سارا)

خانپور کی سیاسی سماجی اور کاروباری
شخصیت یونیک سکولنگ سٹم کے ایم ڈی و تحصیل صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک خانپور ساجد ندیم ایڈووکیٹ نے تحصیل خانپور میں تعلیم ۔ صحت اور بیوہ اور یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے انسانیت ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دے کر فعال کرنے کا اعلان کر دیا

تحصیل خانپور میں کوئی خاندان بھوکا نہیں سوے گا میں ہوں نا اپ کی عزت نفس کا خیال رکھا جاۓ گا مستحق غریب سفید پوش اور یتیم...
16/07/2025

تحصیل خانپور میں کوئی خاندان بھوکا نہیں سوے گا میں ہوں نا اپ کی عزت نفس کا خیال رکھا جاۓ گا مستحق غریب سفید پوش اور یتیم کوئ بھی مستحق خاندان پریشان نہ ہو جب تک جسم میں جان ہے انشاء اللہ میں آپ غریبوں کا بے لوث خدمت تھا اور خدمتگار ہوں اور رہونگا جو مستحق افراد گھرانے خود کو بھری دنیا میں بے بس تنہا سمجھتے ہیں مجبور ہیں مجھے کال کریں آپکی دعاؤں کا طلبگار
سماجی ورکر ایڈوکیٹ
ساجد ندیم
پنڈ منیم
03125362992
03005362992
03120861605

26/03/2025
خیبر پختون خواہ میں تمام اسکولوں کی موسم سرما کی چھٹیوں کو 6 جنوری تک بڑھانے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،اپنے بچوں کا خیال...
30/12/2024

خیبر پختون خواہ میں تمام اسکولوں کی موسم سرما کی چھٹیوں کو 6 جنوری تک بڑھانے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے،
اپنے بچوں کا خیال کریں،
اللہ اس خشک سردی اور اس وبا سے تمام بچوں کو محفوظ رکھے.
آمین..

ہمزہ کلاس چہارم کا طالب علم ہے۔ ایک دن وہ سکول گیا تو واپسی پر گھر نہ آیا۔ اس کے والدین کو شدید پریشانی لاحق ہوئی۔ڈھونڈت...
24/08/2024

ہمزہ کلاس چہارم کا طالب علم ہے۔ ایک دن وہ سکول گیا تو واپسی پر گھر نہ آیا۔ اس کے والدین کو شدید پریشانی لاحق ہوئی۔ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر کارشام ہوگئی۔ پھر کسی نے بتایا کہ اس نے ہمزہ کو مارکیٹ کے سامنے بیٹھا ہوا دیکھا گیا ہے۔
والدین بھاگم بھاگ جب وہاں پہنچے تو دیکھا ایک دیوار کیساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا اور اردگر کے لوگوں کو کسی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ماں نے اسے دیکھتے ہی بانہوں میں لپٹا لیا والد نے بھی پیار کیا اور اسے گھر لے آئے۔ والدین حیران تھے کہ ہمزہ نے یہ قدم کیوں اٹھایا ہے۔ وہ تو ایک بہت ہی تابعدار اور لاہق بچہ تھا۔ روزانہ باقاعدگی کے ساتھ سکول جاتا تھا۔

پھر ایسا کیاہوا کہ وہ سکول جانے کے بجائے ادھر اُدھر آوارہ گھومتا رہا۔ والدین نے جب ہمزہ سے دریافت کیا تو روتے اور سسکیوں میں اس نے بتایا کہ بے جا تعلیمی بوجھ کھیل کود سے دور رکھنا اور اچھے نمبر نہ آنے پر ٹیچرز کی مار سے خوفزدہ تھا۔ جیسے تعلیم اس کے لئے ایک سزا بن گئی ہو. اس کا کوئی دوست بھی نہیں تھا
یہ واقعہ والدین کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا ۔یہ صرف ہمزہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے سارے تعلیمی نظام کابھی مسئلہ ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام غریب کیلئے بوجھ بنتا جا رہا ہے اور بچوں کو تعلیم سے بیزار کررہاہے۔ حالانکہ تعلیم کا مقصد توبچوں کو سنوارنا اور بہتر مستقبل سے سرفراز کرنا ہے۔ یہاں پہیہ التا گھوم رہاہے۔

چھوٹے کم عمر بچوں کے تعلیمی ادارے یہ کہہ کر والدین کی تسلی کرواتے ہیں کہ پڑھائی کے ساتھ کھیل کود اور دیگر ایکٹیوٹی کروای جاے گی، لیکن ان معصوم بچوں کا پورا دن گھٹن زدہ بند کمروں میں گزرتا ہے. والدین خوش ہوتے ہیں کہ انکا بچہ سکول جا اور سکول سے آرہاہے۔ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی معصومیت وہ شرارتیں وہ ہنسنا کھلکھلانا ختم ہوتا جارہا ہے.
بچہ خواہ رو رو کر ہلکان ہوجائے۔ اگلے روز اسے دوبارہ سکول بھیجا جاتا ہے۔ بلاشبہ والدین بچے کے سب بڑے خیرخواہ ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے رویے میں تھوڑی سی نرمی پیدا کرنی چاہئے۔۔
آج سخت تعلیمی مقابلے کے فضا نے بھی ایک اور خرابی کو جنم دیا ہے جس نے بچوں کی معصومیت چھین لی ہے، نفسیاتی مسائل سے دوچار کردیا، صبح اٹھ کر سکول دن کو پھر مولوی صاحب سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور شام.کو اکیڈمی ٹیوشن اور رات سونے تک ہوم ورک مکمل کرتا رہتا ہے، کچھ طالبات بیچاری کھانا پینا تک چھؤڑ دیتی ہیں، اور پوری رات جاگ کر پڑھتی رہتی ہیں.

اس سارے چکر سے اکتا کر پڑھائی سے فرار کیلئے وہ ایسی ہی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں
اگر ان پر توجہ دیکر روز کاکام روز کروالیا جائے تو پڑھائی کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ تعلیمی ماہرین کاکہنا ہے کہ والدین کو بچوں کو ساتھ کچھ وقت ضرور گزارنا چاہئے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ انہیں کس طرح کے مسائل پیش آرہے ہیں اور انہیں کیسے حل کرنا ہے۔ والدین جب بچوں کے ساتھ معقول وقت گزاریں گے تو انہیں پتہ چلے گا

والدین کی اہم ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ گاہے بگاہے بچے کے اساتذہ کے ساتھ ملتے رہیں اور اساتذہ اپنے اسٹوڈنٹس سے دوستی کا رشتہ رکھیں نہ کہ کسی جلاد کا جس کے ہاتھ میں ڈنڈہ اور منہ پر ہمیشہ غصہ ہو.

یاد رکھیں 100٪ حاضری اچھے نمبرز اور گریڈ کبھی بھی عملی زندگی میں کامیابی کی زمانت نہیں ہوتے، خاص کر آج کل کے دور میں۔
ایسی صورتحال میں یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ ہمارے نونہالوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھیے..

14/08/2024

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

ساجد ندیم

Address

Khanpur
Haripur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajid Nadeem - ”Social Activist” posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category