25/10/2020
ہڑپہ❣!!!
پاکستان میں ساہیوال شہر سے 30 سے 40 کلومیٹر دور یہ دنیا کی دوسری قدیم ترین انسانی تہذیب و تمدن کا مسکن تھا۔ جو کہ ایک اندازے کے مطابق 3300 قبل مسیح میں ظہور پزیر تھی۔ دنیا کی تیسری قدیم ترین تہذیب اہرام مصر اور فراعین کا دور تھا جو کہ 3100 سال قبل مسیح میں موجود میں تھی
۔ہڑپہ شہر 1922 میں دریافت ہوا لیکن اس کی بہت ساری اینٹیں لاہور ملتان ریلوے بنانے میں صرف ہو چکی تھیں۔ اس جگہ کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی بھی اس کام میں شامل ہے ۔
برصغیر ہند میں 200 سے زائد تہذیبیں دریافت ہو چکی ہیں، لیکن ہڑپہ سب سے قدیم اور سب سےزیادہ پرھے لکھے لوگوں پر مشتمل تہذیب ہے ۔یہاں کے باشندے تاجر اور زراعت پیشہ تھے جبکہ ہنر مند افراد کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔قدیم ہڑپہ کے آثار تقریبا ایک سو پینسٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جن کی دریافت حادثاتی طور پر 1890 میں اس وقت ہوئی جب لاہور سے ملتان ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی تو ریلوے ٹریک کیلئے اینٹوں کی سپلائی دینےوالےٹھیکیدار نے ہڑپہ میں اینٹوں کی کان دریافت کی ہوئی تھی اور یہاں سے اینٹیں لا کر ریلوے لائن کی تعمیر میں لگائی جاتی رہیں اور جب بعض افسروں نے اینٹوں کی مخصوص ساخت کو دیکھا اور تحقیق کی تو 1920 میں جا کر پتہ چلا کہ یہ اینٹیں ہڑپہ کے قدیم شہر کی تھیں چنانچہ 1920 میں ہی اس علاقے کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔مگر تب تک قدیم تاریخ کا یہ جدید شہر اجڑ چکا تھا اور جب اس وقت کی حکومت نے یہاں پر کھدائی کا کام شروع کیا تو نامناسب حالات کی وجہ سے یہاں سے ملنے والے نوادرات کی حفاظت نہ ہو سکی ۔
ہڑپہ کا رقبہ ایک سو پچاس ایکڑ ہے جس میں کھنڈرات تقریبا 76 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔پرانی تہذیب کا یہ خوبصورت شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔انمول چوڑی اینٹ کے بنے کشادہ مکانات و گلیاں اور بڑی چنائی والے کنوئیں، ڈھکی ہوئی نالیاں، نکاسی آب کا مربوط نظام، حفظان صحت کے اصولوں
مد نظر رکھتے ہوئے اناج گھر، مزدوروں کے مکانات، ورک پلیٹ فارم، دھات پگھلانے اور ان سے برتن بنانے کی بھٹیاں، اوزان پیمائش کیلئے معیاری ترازو و باٹ مختلف بوٹیوں، مرجان، یاقوت سے بنے ہوئے ہار، تانبے اور پتھر کی مہریں، فن سنگ تراشی سے مختلف جانوروں کی تصویریں اور انجانے حروف سےکندہ شدہ مہریں مل چکی ہیں مگر دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ آج کا انسان چاند پر کمند تو ڈال چکا اور دنیا کی تباہی کیلئے سٹار وار سسٹم تو تیار کر چکا ہے دنیا بھر سے مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین آئے مگر ان انجانے حروف کو سمجھ نہ سکے اور پڑھنے سے قاصر رہے
۔ان حروف کو سمجھ لینا اب ان ماہرین کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے۔بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ ڈاکٹر احمدحسن، ڈاکٹر افضل احمد خان، ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر فرزند علی درانی، ڈاکٹر محمد رفیق مغل اور آئی ایچ ندیم پاکستان میں ہڑپہ تہذیب کی تقریبا 400 بستیاں دریافت کر چکےہیں جس سے ہڑپہ تہذیب کے مختلف ادوار میں ترقی کے مراحل کا پتہ چلتا ہے گزشتہ سال پانچ ہزار سال پرانا مگر جدید طرز کا ڈرین سسٹم دریافت ہوا۔تحقیق کے مطابق یہ قدیم دور کے نکاسی آب کے جامع نظام کی عکاسی کرتا ہے۔جبکہ موجودہ دور کا سیوریج سسٹم بھی ہڑپہ تہذیب کی نقل معلوم ہوتا ہے اس طرح ٹیلوں میں کھدائی کے دوران دوہری دیوار سے تعمیر شدہ بھٹیاں ملی ہیں۔یہ بھٹیاں سیاہ رنگ کی چوڑیاں اور مٹی کے چھوٹے ظروف پکانے کیلئے استعمال کی جاتی تھیں۔انہی بھٹیوں کے قریب رہائشی مکانات، غلہ جمع کرنے کے لئے قد آور مٹی کے بنے ہوئے مٹکے، موتی بنانے کے کارخانے، تانبہ کانسی اور سیپی کی چوڑیاں، زرد عقیق، سنگ سلیمانی سے بنے بارک ٹوکے، خوشنما مہریں، کچی اینٹوں سے بنی فصیل نما دیوار جو 27 فٹ اور بعض جگہ39فٹ چوڑی ہے اور پختہ اینٹوں سے بنا ہوا دروازہ بھی دریافت ہوا۔اس قلعہ نما دیوار کے اندر گشت کرنے کیلئے سڑک، نکاسی آب کیلئے پل، سکیورٹی چیک پوسٹ اور پہرے داروں کیلئےواچ ٹاور بھی ملے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دیوار ہڑپہ شہر کو دشمن فوجوں کے حملے اور سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی یوں اس دیوار کو دیوار چین کی طرح قدیم ترین فصیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
۔ہڑپہ چیچہ وطنی روڈ پر ان ویران ٹیلوں اور خوبصورت قدرتی جنگل کے دامن میں ایک پرکشش جاذب نظر اور خوبصورت عمارت میں ہڑپہ کا عجائب گھر ہے جس کے اندر دیواروں کے ساتھ بیس عدد شیشوں کی الماریوں میں کھدائی شدہ مقامات یعنی وادی سون، کوٹ ڈیجی، آمری، موہنجوداڑو اور ٹیکسلا سے ملنے والے نوادارت رکھےہیں عجائب گھر کے مغرب میں تقریبا ایک ہزار سال پرانا برگد کا خوبصورت درخت لگا ہوا ہے اس کے تنے اور اس کے پھیلاو کو دیکھ کر سیاح اس lکے سحر سے اتنا مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ اس کی تصویر لئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یہاں پر اکثر درختوں کی ٹہنیوں پر اہل نظر کے نامکندہ ہیں۔ہڑپہ شہر کے آثاروں کے درمیان ایک ٹیلے پر حضرت بابا نور شاہ ولی کا مزار مرجع خلائق ہے۔قبر کیلمبائی نو گز ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مناسبت سے یہ بابا نوگزہ کے نام سے معروف ہیں۔ایک روایت کے مطابق قدیم زمانے کے لوگوں کا قد طویل ہوتا تھا مگر یہاں سے دوران کھدائی برآمد ہونے والے انسانی ڈھانچوں کےقدوقامت سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم ہڑپہ کے لوگوں کا قد بھی آج کے انسانوں کے قدکے برابر ہوتا تھا۔ہڑپہ کے آثاروں کو اتنا نقصان انسانوں نے نہیں پہنچایا کہ جتنا اس کو نقصان اس زمین میں پائے جانے والے تھور اور نمک سے پہنچا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی مٹی اتنی بھربھری اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ جس کسی مٹی کے ٹیلے پر پاؤں رکھا جائے تو وہ اندر زمین میں دھنس جاتا ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق زمین میں پانچ سو مائیکروم نمک کی مقدار کسی چیز کو نقصان نہیں دیتی مگر ہڑپہ کی زمین میں تین ہزار مائیکروم سے بھی زیادہ نمک کی مقدار شامل ہے چنانچہ آثار کی باقیات کو محفوظ رکھنے کیلئے ان پر مٹی کا پلستر کیا جاتا ہے جو وہاں پائے جانے والے نمک کو اپنے اندرجذب کر لیتی ہےاوروقت کےساتھ یہ مٹی کاپلستر جھڑ جاتااور پھر اسکی جگہ نیا پلستر کر دیاجاتاہے۔بارش کی وجہ سے بعض جگہ مٹی میں غارنما اتنےگہرےکھڈےہیں کہ ایکطرف داخل ہوکر دوسری طرف باآسانی نکلاجاسکتا ہے
(منقول)