01/07/2026
میرا برقعے والی پوسٹ پر ایک مرد حضرت نے ایک دلچسپ اور قابل غور کمنٹ کیا۔ فرما رہے تھے کہ شاید برقع کا حُکم اسلام میں نہ ہو لیکن عام چادر یا حجاب کافی نہیں، کیونکہ مرد کے جذبات اتنے کچے ہیں کہ عورت کے عام کپڑوں یا پھر حجاب میں نظر آنے والے ہاتھ، پاؤں اور جسم کی ساخت دیکھ کر بھی مچل جاتے ہیں۔ لہذا، عورت کو شٹل برقع میں چھپانا مجبوری ہے تاکہ مرد کیلئے اُس میں کچھ نہ بچيں۔
یہ منطق بالکل ایسی ہے جیسے کوئی چور کہے: "اپنا بائیک باہر مت نکالو، کیونکہ اسے دیکھ کر میری چوری کی نیت جاگتی ہے اور میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتا۔" یا کوئی خونی کہیں کہ مجھے اُس شخص کا باہر نکلنا پسند نہیں، میرا اُسے قتل کر دینے کا من کرتا ہے لہذا نہ نکلے۔
عجیب منطق ہے؛ مسئلہ مرد کی نیت اور نظر کا ہے، لیکن عمر قید کی سزا عورت کو دی جا رہی ہے؟ اگر پردے کے باوجود ریپ ہوتے ہیں، اگر سات سال کی معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں،مدرسے اور اسکول کی بچیاں اور بچے محفوظ نہیں بلکہ یہاں تک کہ بکری اور جانور بھی محفوظ نہیں تو خرابی عورت کے لباس میں ہے یا مرد کے گٹر ذہن میں؟
اگر مرد سے اپنے جذبات نہیں سنبھلتے تو عورت کو قید کرنے کے بجائے کیوں نہ مرد خود کو چاردیواری میں بند کر لے؟ اور اگر سڑکوں پر آوارہ گھومنا اتنا ہی ضروری ہے، تو معاشرے کو پاک کرنے کے لیے اپنا عضوِ تناسل ہی کاٹ کر خود کو نامرد کیوں نہیں بنا لیتا؟ نا رہے گا بانس، نا بجے گی بانسری۔