Jamiat Ulama-e-Islam Hajira, Poonch, Azad Kashmir

Jamiat Ulama-e-Islam Hajira, Poonch, Azad Kashmir Contact us on Whatsapp # 03464095466

یومِ عرفہ، حج اور اس سال کی ایک عظیم سعادت 🤲🤲🤲الحمدللہ! اس سال ایک نہایت خوش آئند اور مبارک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور...
25/05/2026

یومِ عرفہ، حج اور اس سال کی ایک عظیم سعادت
🤲🤲🤲
الحمدللہ! اس سال ایک نہایت خوش آئند اور مبارک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں ذوالحجہ کا چاند ایک ہی دن نظر آیا، جس کے نتیجے میں اس سال پاکستان اور سعودی عرب میں یومِ عرفہ اور عید الاضحیٰ ایک ہی دن ادا کیے جائیں گے۔

یوں دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی دن میدانِ عرفات کی عظمتوں، یومِ عرفہ کی برکتوں اور عید الاضحیٰ کی خوشیوں میں شریک ہوں گے۔ یہ اتحادِ امت اور اسلامی شعائر کی ایک خوبصورت تصویر ھے

حج کے مبارک ایام، ان کی فضیلت اور اہم
اعمال
الحمدللہ! آج 8 ذوالحجہ ہے، جسے “یومُ الترویہ” کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاجِ کرام آج منیٰ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں تاکہ حج کے عظیم ترین ایام کا آغاز کر سکیں۔

یہ دن دراصل عشقِ الٰہی، اطاعتِ ربانی اور سنتِ ابراہیمی کی عملی تصویر ہیں۔ ہر طرف لبیک اللھم لبیک کی صدائیں، آنکھوں میں آنسو، دلوں میں عاجزی اور زبانوں پر ذکرِ الٰہی جاری ہے۔

🕋 آج 8 ذوالحجہ کو حجاجِ کرام کیا کرتے ہیں؟

آج کے دن حجاجِ کرام:

- احرام باندھ کر منیٰ روانہ ہوتے ہیں
- منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذوالحجہ کی فجر ادا کرتے ہیں
- ذکر، دعا، تلبیہ، تلاوت اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں
- کل میدانِ عرفات میں حاضری کی تیاری کرتے ہیں

یہ دن دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل توجہ، روحانی تیاری اور حج کے عظیم رکن “وقوفِ عرفہ” کے استقبال کا دن ہے۔

🌺 حج کے مخصوص ایام

حج کے عظیم اعمال بنیادی طور پر پانچ دنوں میں ادا کیے جاتے ہیں:

📍 8 ذوالحجہ — یومُ الترویہ
منیٰ روانگی اور عبادت کا دن۔

📍 9 ذوالحجہ — یومِ عرفہ
حج کا سب سے اہم دن۔
حجاج میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
اسی دن مغرب کے بعد مزدلفہ روانگی ہوتی ہے۔

📍 10 ذوالحجہ — یومُ النحر
رمیِ جمرات، قربانی، حلق یا قصر اور طوافِ زیارت ادا کیا جاتا ہے۔
اسی دن عید الاضحیٰ بھی ہوتی ہے۔

📍 11 اور 12 ذوالحجہ — ایامِ تشریق
حجاج تینوں جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں اور کثرت سے ذکر و تکبیر کرتے ہیں۔

(بعض حجاج 13 ذوالحجہ تک بھی قیام کرتے ہیں۔)

✨ ان مبارک ایام کی فضیلت

ذوالحجہ کے یہ ایام اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت عظیم ہیں۔ قرآنِ کریم میں ان مبارک راتوں کی قسم کھائی گئی:

﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“ان دنوں میں کیا گیا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔”

یہی وہ ایام ہیں جن میں:

- حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے
- قربانی کی سعادت نصیب ہوتی ہے
- دعائیں قبول ہوتی ہیں
- گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے
- اللہ تعالیٰ کی رحمتیں خصوصی طور پر نازل ہوتی ہیں

🌙 تکبیراتِ تشریق

9 ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیرِ تشریق پڑھنا واجب ہے:

“اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ”

یہ تکبیر دراصل اللہ تعالیٰ کی کبریائی، توحید اور عظمت کا اعلان ہے، جو پورے ماحول کو روحانیت سے بھر دیتی ہے۔

🤲 ہمیں ان ایام میں کیا کرنا چاہیے؟

- نمازوں کی پابندی
- تلاوتِ قرآن
- ذکر و اذکار
- کثرت سے درود شریف
- توبہ و استغفار
- صدقہ و خیرات
- یومِ عرفہ کا روزہ
- تکبیراتِ تشریق کا اہتمام
- قربانی کی تیاری

یہ ایام بہت جلد گزر جاتے ہیں، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان لمحوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں گزار دیں۔

اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کا حج قبول فرمائے، امتِ مسلمہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں بھی بار بار بیت اللہ اور روضۂ رسول ﷺ کی حاضری نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
دعا گو ۔
مفتی محمد کامران نسیم ۔

23/05/2026
23/05/2026

سینئر نائب امیر جے یوآئی جموں وکشمیر
مولانا امتیاز احمد عباسی صاحب کا قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کے حکم پر مہنگائی کے خلاف بھرپور انداز میں آزاد کشمیر حکومت اور پاکستانی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا
Muhammad Kamran Naseem
Jamiat Ulama-e-Islam Hajira, Poonch, Azad
Maulana Imtiaz Aabbasi
Shoaib Khaliq

سانحہ دیوان گوراہ ، فریقین کے درمیان صلح ہو گئ ، جانبین کیطرف سے گلے شکوے ختم ہوئے۔۔جنہوں نے صلح کروانے میں اپنا کردار ا...
19/05/2026

سانحہ دیوان گوراہ
، فریقین کے درمیان صلح ہو گئ ، جانبین کیطرف سے گلے شکوے ختم ہوئے۔۔
جنہوں نے صلح کروانے میں اپنا کردار ادا کیا وہ تمام لوگ قابل تعظیم ہیں۔۔۔

اس واقعے کی اوٹ لیکر ریاست میں انتشار پھیلانے کا ایجنڈا ناکام ہوا اور ایسے انتشاری ذہنوں اور فسادی ہتھکنڈوں کی اس سطح پر حوصلہ شکنی ریاست بھر میں امن و سلامتی کا باعث بنے گی۔۔۔

ایک گھر کے لوگوں میں بسا اوقات باہمی اختلاف و ناچاکیاں ہو جاتی ہیں مگر انہیں ہوا دے کر معزز لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا ، جعلی پراپیگنڈے کر کے تضحیک کرنا قابل مذمت ہے۔۔۔

ہمیں اپنے اخلاقی اقدار و روایات پر پورا اترتے ہوئے ایک دوسروں کے باہمی احترام کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے ، وقتی اور معمولی باتوں کو ہوا دے کر نفرت انگیز فضاء قائم کرنا کسی بھی معاشرے کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔

اپنا شیوہ ہے اندھیروں میں جلاتے ہیں چراغ
انکی ضد ہے زمانے میں یوں ہی رات رہے

19/05/2026

اجلاس کا اعلامیہ
جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کی مرکزی مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی بورڈ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریاست بھر کے تمام اضلاع سے ممبرانِ مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی بورڈ کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے آمدہ انتخابات، موجودہ سیاسی صورتحال، جماعتی اتحاد، تنظیمی امور اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے آزاد کشمیر میں جماعتی اتحاد اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک منظم، مؤثر اور مضبوط سیاسی حکمتِ عملی کے تحت میدانِ عمل میں اترے گی اور عوامی خدمت کے مشن کو مزید بھرپور انداز میں آگے بڑھائے گی۔
اجلاس میں سانحہ گوراہ پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاءِ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور متعلقہ ادارے بلا تاخیر مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 22 مئی بروز جمعہ ریاست بھر کی جامع مساجد میں تمام ائمہ و خطباء “یومِ مذمت” منائیں گے اور سانحہ گوراہ کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
مرکزی مجلسِ عاملہ نے سیاسی رواداری، برداشت اور جمہوری اقدار کے فروغ پر زور دیتے ہوئے انتشار، نفرت انگیزی اور غیر جمہوری رویّوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں تمام سیاسی و سماجی حلقوں پر زور دیا گیا کہ وہ پرامن، مہذب اور جمہوری سیاسی ماحول کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
اجلاس میں حلقہ پلندری اور حلقہ دھیرکوٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدواران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا، جبکہ کارکنان کو ہدایت کی گئی کہ وہ بھرپور، منظم اور مؤثر انتخابی مہم چلائیں۔
اسی طرح ریاست کے دیگر تمام سیاسی حلقوں میں جماعتی پالیسی کے مطابق مرکزی قیادت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا، اور جماعت کے تمام ذمہ داران و کارکنان ان فیصلوں کے پابند ہوں گے تاکہ مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی کے تحت بہتر انتخابی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
اجلاس میں فاضلِ دیوبند و جید عالمِ دین مولانا عبد الشکور صدیقی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
اسی طرح شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور علماء کرام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امن و استحکام کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا کریں۔
اجلاس کے اختتام پر ملکی سلامتی، ریاست کی خوشحالی، اتحادِ امت، استحکامِ پاکستان اور عوامی مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

17/05/2026

ضلع سدھنوتی
پتن شیر خان ،گوراہ،پلندری ٹاؤن ،منگ سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوان جے یو آئ
میں شامل ۔تمام نوجوانوں کو خوش آمدید

حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب دامت برکاتہم العالیہایک عظیم دینی، علمی، روحانی اور سیاسی شخصیتآج کے اس پُرفتن دور میں جب...
17/05/2026

حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ

ایک عظیم دینی، علمی، روحانی اور سیاسی شخصیت

آج کے اس پُرفتن دور میں جبکہ دین، علماءِ حق اور اسلامی شعائر کو مختلف محاذوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایسے حالات میں بعض شخصیات اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت بن کر اُبھرتی ہیں، جو اپنے علم، کردار، تدبر اور استقامت سے امت کی رہنمائی کرتی ہیں۔ انہی درخشاں شخصیات میں ایک عظیم نام
حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ
کا ہے۔

حضرت والا نہ صرف
جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر
کے امیر ہیں بلکہ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان
کے نائب صدر اور
انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
کے ممبر بورڈ آف گورنر کی حیثیت سے بھی عالم اسلام میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب کی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، مدارس دینیہ کی سرپرستی، اصلاحِ معاشرہ اور عوام کی دینی و فکری رہنمائی میں گزری ہے۔ ہزاروں علماء، حفاظ، خطباء اور دینی کارکنان آپ کے علمی فیضان سے مستفید ہو چکے ہیں۔ آپ کی گفتگو میں حکمت، لہجے میں شفقت اور کردار میں اخلاص نمایاں نظر آتا ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جو شخص دینِ حق کی آواز بلند کرتا ہے، اسے ہمیشہ مخالفین کی طرف سے آزمائشوں اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، ائمہ مجتہدین اور اکابر علماء تک کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا، مگر حق کا چراغ کبھی بجھ نہ سکا۔

آج سوشل میڈیا پر چند اوباش، بے مقصد اور بداخلاق عناصر کی طرف سے حضرت والا کی شان میں گستاخانہ زبان استعمال کرنا دراصل اپنی اخلاقی پستی، دینی محرومی اور فکری دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ علماءِ حق کی عزت و حرمت امت مسلمہ کے دلوں میں رچی بسی ہے، اور چند شور مچانے والے عناصر کسی عظیم شخصیت کے مقام و مرتبہ کو کم نہیں کر سکتے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ”
ترجمہ: “اللہ سے اس کے بندوں میں سے حقیقی ڈر رکھنے والے علماء ہیں۔”

اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
“العلماء ورثة الأنبياء”
یعنی “علماء انبیاء کے وارث ہیں۔”

لہٰذا علماءِ کرام خصوصاً اکابرینِ امت کی عزت و توقیر ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اختلاف اگر ہو بھی تو شائستگی، دلیل اور ادب کے دائرے میں ہونا چاہیے، نہ کہ گالی، تمسخر اور کردار کشی کے ذریعے۔

حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی دینی، ملی اور سیاسی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ آپ نے ہمیشہ حق گوئی، اتحادِ امت، امن، دینی بیداری اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے جدوجہد فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں افراد آپ سے قلبی محبت رکھتے ہیں اور آپ کو اپنا روحانی و فکری رہنما سمجھتے ہیں۔

ہم تمام باشعور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو فتنہ و فساد کا ذریعہ بنانے کے بجائے اخلاق، علم، برداشت اور تہذیب کا مظہر بنائیں، اور علماءِ حق کی عزت و حرمت کو ملحوظ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو صحت، عافیت اور مزید دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں امت کے لیے سایۂ رحمت بنائے رکھے۔ آمین۔

✍️
مرکزی میڈیا سیل
جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر

17/05/2026

مولانا سعید یوسف صاحب
تحریر: (پیج مینجر
ڈوگی ناڑا)
سوشل میڈیا موجودہ دور کا وہ بے لگام گھوڑا بن چکا ہے جس کی باگیں اب شاید کسی کے ہاتھ میں نہیں رہیں۔ سچ، دلیل، تحقیق اور فہم کا دور دور تک پتا نہیں، مگر فتووں، گالیوں اور بہتان تراشی کا ایک ایسا بازار گرم ہے جہاں ہر جاہل خود کو سقراطِ وقت سمجھتا ہے۔ پچھلے دو روز سے سوشل میڈیا پر ایک ایسا ہی طوفانِ بدتمیزی برپا ہے، جس نے معاشرتی اخلاقیات کے جنازے کو ایک بار پھر دھوم دھام سے نکال دیا ہے۔ اس بار نشانہ بنے ہیں آزاد کشمیر کی ایک مایہ ناز علمی و روحانی شخصیت— مولانا سعید یوسف صاحب (دامت برکاتہم العالیہ)۔
مولانا سعید یوسف صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ ایک عالمِ باعمل، علم کا سمندر اور ولی صفت انسان ہیں۔ وہ آزاد کشمیر کے جس سب سے بڑے مدرسے کے مہتمم ہیں، اسے اگر محض ایک مدرسہ کہنے کے بجائے "اسلامی یونیورسٹی" کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ جہاں سے ہزاروں تشنگانِ علم اپنی پیاس بجھا کر معاشرے میں روشنی پھیلا رہے ہیں۔ لیکن افسوس! علم و فصاحت کے اس مینار پر کچرا اچھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر مولانا پر طعن تشنیع کرنے والے اور ان پر بہتان باندھنے والے اس "سوشل میڈیا بریگیڈ" سے پوچھا جائے کہ:
"کیا تم نے کبھی زندگی میں مولانا سے ملاقات کی؟ کیا کبھی ان کے علمی ادارے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا؟ کیا کبھی ان کی فصاحت و بلاغت سے بھرپور گفتگو کو براہِ راست سنا؟"
تو یقین جانیے، ان میں سے 99 فیصد کا جواب "نفی" میں ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف سنی سنائی باتوں پر، کسی کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے یا محض چند لائکس اور ویوز کی خاطر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ باقی رہ گئے وہ چند کج فہم، تو ان کی مخالفت کی بنیاد یا تو علاقائی تعصب ہے یا پھر مسلکی بغض۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیاسی طور پر کسی کو مولانا سے کوئی اختلاف، شکوہ یا سوالات تھے، تو اس کا ایک مہذب طریقہ کار ہونا چاہیے تھا۔ اگر مولانا انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آتے، کوئی جلسہ کرتے، کارنر میٹنگ کرتے یا ان کے گلی محلوں میں جا کر ووٹ مانگتے، تو عوام کا پورا حق تھا کہ وہ سامنے کھڑے ہو کر شائستگی سے سوال کرتے، اپنی محرومیوں کا حساب مانگتے اور پسماندگی پر بازپرس کرتے۔ جمہوریت اسی کا نام ہے۔
لیکن، راہ چلتے کسی کا راستہ روک لینا کہاں کی شرافت ہے؟ کیا یہ غنڈہ گردی، بدتمیزی اور جہالت نہیں ہے؟
بات صرف راستہ روکنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ حد تو یہ ہو گئی کہ راستہ روک کر سرِعام گالیاں دی گئیں، زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی، ڈرایا دھمکایا گیا اور گاڑی پر مکے اور لاٹھیاں برسائی گئیں۔ کوئی بھی ذی شعور انسان اس حرکت کو دیکھ کر تڑپ اٹھے گا۔ کیا یہ بدتہذیبی، بداخلاقی اور بدمعاشی کی آخری حد نہیں ہے؟
طُرفہ تماشا دیکھیے کہ اس سنگین بدتمیزی کے بعد، اگر مولانا سعید یوسف صاحب انتظامیہ کو مخاطب کر کے قانون نافذ کرنے کا کہتے ہیں، اگر وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان شرپسندوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ورنہ قانون ہاتھ میں لینے والے یاد رکھیں کہ جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے— تو الٹا مولانا کو قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے! یعنی راستہ روکنے والے، گالیاں دینے والے اور لاٹھیاں برسانے والے "مظلوم" اور "درست" بن گئے، اور جس کی عزت پر حملہ ہوا وہ "مجرم"؟ واہ رے اخلاقیات کا معیار!
معاشرے کے اس رویے پر اب زرا نہیں، بلکہ پورا سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم نے سیاسی، مسلکی یا ذاتی اختلافات کی آڑ میں اپنے بڑوں، بزرگوں اور علمی ہستیوں کی پگڑیاں اچھالنے والے ان عناصر کا بائیکاٹ نہ کیا، تو یاد رکھیے کہ اس جنگل کے قانون کی زد میں کل کوئی بھی آ سکتا ہے۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ سوشل میڈیا کی عدالتوں میں نہیں، بلکہ ہوش اور دلیل کے ترازو میں ہونا چاہیے۔

17/05/2026

دینی مدارس و علماء نشانے پر۔۔۔۔۔۔گھر کے چراغ مصر کہ آگ لگائیں گے
(عبد اللہ)
قائد کشمیر حضرت مولانا سعید یوسف خان دامت برکاتہم العالیہ پر گزشتہ دنوں دیوان گوراہ پلندری آزاد کشمیر کے مقام پر چند شر پسند عناصر کی طرف سے حملے کی جسارت کی گئی کافی غور و خوض کے بعد یہ بات سمجھنے میں کسی حد تک کامیاب ہوا کہ حملہ کیوں ہوا؟ مجھے یقین ہے کہ اگر مولانا سعید یوسف پاکستان مخالف بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوتے تو یہ حملہ کبھی نہ ہوتا! اگر مولانا سعید یوسف افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش نہ کرتے تو یہ حملہ کبھی نہ ہوتا! کیونکہ ماضی قریب میں جب ریاست میں عوامی حقوق کی آڑ میں ملک پاکستان اور افواج پاکستان کے مخالف کچھ نعرے بلند ہوئے تو اس وقت مولانا سعید یوسف نے اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈالنے کے بجائے ریاست کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر امن اور بھائی چارگی کا درس دیا تو اسی وقت سے ان عناصر کی طرف سے مولانا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا آج موقع دیکھ کر جب ان لوگوں نے مولانا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو مجھے پتہ چل گیا کہ اس حملے کی تاریں کہاں مل رہی ہیں
دوسری طرف میرے لیے تعجب اور حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک خط جب میری نظر سے گزرا جو ایک نامور عالم کی طرف سے ائی جی ازاد کشمیر کے نام لکھا گیا تھا جس میں مولانا سعید یوسف کے رفقا جو اس وقت جمیعت علماء اسلام جمو و کشمیر کے اہم عہدوں پر فائز ہیں جو مولانا سعید یوسف ہی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں بالخصوص پیر طریقت رہبر شریعت مصلح امت حضرت مولانا مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی دامت برکاتہم العالیہ اسی طرح حضرت مولانا محمد فیاض صاحب دامت برکاتہم العالیہ حضرت مولانا قاری یونس شاکر حضرت مولانا عبدالماجد توحیدی اور دیگر چند علماء کرام کو نامزد کر کے یہ لکھا گیا تھا کہ یہ حضرات فوج دشمن ہیں فوج مخالف زبان استعمال کر رہے ہیں ریاست کے غدار ہیں اس قسم کے الزامات ان حضرات پر لگا کر درخواست آئی جی آزاد کشمیر کو پیش کی گئی یقینا میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا کہ ایک طرف اسی جماعت کو ریاست کے ساتھ اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور دوسری طرف اسی جماعت کے لوگوں کو ریاست مخالف اور فوج مخالف قرار دیا جا رہا ہے اس اضطراب کے ماحول میں کافی تحقیق کی تو پتہ چلا حملہ صرف ڈنڈوں سے نہیں ہوا کرتا بلکہ جھوٹ تہمت اور بہتان لکھ کر کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنا یہ بھی حملہ ہوا کرتا ہے لہذا یہ درخواست بھی مجھے ان پاکیزہ کردار کے حامل شخصیات پر کسی حملے سے کم نہیں لگی ایسے وقت میں مذہبی دینی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت کو یہ بات دیکھنی چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے باوجود اس کے اکابر علماء کرام کا خون بھی بہہ چکا ہے اس کے باوجود مدارس اپنا خطیر وقت ریاست کو یہ بتانے میں گزار رہے ہیں کہ ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں ہم فوج مخالف نہیں بلکہ اسی فوج کے معاون ہیں ان حالات میں اگر ہماری صفوں سے ہی اس قسم کے خطوط جائیں گے تو یہ اداروں کو کاروائی کا جواز فراہم کرنا ہے اور یہ بہت بڑی دینی مدارس علماء کے خلاف سازش ہے لہذا ان عناصر کو بھی لگام ڈالی جائے اور ان عناصر کو اپنی صفوں سے نکال کر اپنی صفوں کی تطہیر کی جائے
جزاک اللہ

Address

Hajira
12160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat Ulama-e-Islam Hajira, Poonch, Azad Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share