18/10/2020
۔ لیکن اگر نوا ز شریف اور مریم کا موقف بھی دیکھا جائے تو ووٹ کو عزت کے دینے کے علاوہ ووٹر کو عزت دینے کے اقدامات کا کوئی ذکرنہیں ہے۔ اس معاشرے میں عزت اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس پیسہ ہو۔ جو مالیاتی طور پر کسی کا مرہون منت نہ ہو وہی سماجی طور پر حاوی ہوتا ہے۔ اس ملک کے 90 فیصد باسیوں کو عزت کے حصول کے لئے تعلیم، صحت، غذا، رہائش درکار ہے۔ مستقل اور باعزت روزگار کی ضرورت ہے۔ ان بنیادی ضروریات کے بغیر عزت تو دور کی بات انسان‘ انسان بھی نہیں بن سکتا۔ اور وسیع تر عوام کے یہی وہ بنیادی مسائل ہیں جن کے حل کی گنجائش نہ اِس نظام میں ہے نہ کسی مروجہ پارٹی کے پاس اس بارے کوئی متبادل پروگرام اور لائحہ عمل ہے۔ تمام حاوی پارٹیوں کا منشور اِسی نظام تک محدود ہے۔ ماضی میں اِس نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی کم از کم ریاستی سرمایہ داری پر مبنی کچھ اصلاح پسندانہ پروگرام دئیے جاتے ہیں۔ آج سب آزاد منڈی کی معیشت کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔
نوا ز شریف کے لئے کچھ ہمدردی کی جو لہر ابھری تھی اس کی وجہ ان کی مدمقابل سیاسی پارٹیوں کے پیچھے طاقت والوں کی پشت پناہی کا بے نقاب ہونا تھا۔ لیکن نوا ز شریف جو صحت مند جمہوریت اور اداروں کے اپنی حدود میں رہنے کی بات کر رہے ہیں وہ بھی اس نظام کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ ایک بحران زدہ نظام کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ بیمار نظاموں میں صحت مند جمہوریت نہیں پنپ سکتی ۔ نواز شریف کا مطالبہ ہے کہ عوام ان انتخابات میں ان قوتوں کے خلاف ووٹ دیں جنہوں نے انہیں فارغ کروا کے جیل جانے پر مجبور کیا ہے۔ یہ اس نظام کے حقیقی آقاؤں کے لئے صرف ایک حد تک خطرناک ہے ۔ لیکن نوا زشریف اور مریم کا پروگرام یہاں آکے بالکل رک سا جاتا ہے۔ اقتصادی بحران اور عام لوگوں کو درپیش معاشی مسائل جو انتشار پیدا کرتے ہیں اسی سے حاکمیت کے توازن میں بگاڑ آتا ہے۔ اب میاں صاحبان وہ پروگرام تو دے نہیں سکتے جو ان کے اپنے طبقے کے وجود کو ہی چیلنج کرتا ہو۔ لیکن اگر عوام کو ابھارنا ہے، ان کی جرات مندانہ حمایت لینی ہے تو پھر ان کے بنیادی مسائل پر بھی بات کرنا ہو گی اور ان کے حل کا راستہ بھی دینا ہو گا۔ کیونکہ اس نظامِ سرمایہ میں ہزارہا جمہوری حکومتیں ہی کیوں نہ آجائیں ووٹر کو عزت تبھی ملے گی جب اُس کا طبقاتی استحصال ختم ہو گا، جب امیر اور غریب کا فرق مٹے گا، جب بنیادی ضروریات نجکاری اور منافع خوری کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے بنیادی انسانی حق کے طور پر ہر انسان کو فراہم ہوں گی، جب معاشرہ انفرادی خود غرضی کی بجائے اجتماعی فلاح کی طرف گامزن ہو گا۔ یہ سب کچھ اس نظام کے سیاسی نمائندے اور ادارے تو نہیں کر سکتے۔ اپنی موت کو خود بھلا کون پکارتا ہے۔
ووٹر کی عزت
July 22, 2018
تحریر:- (لال خان)