04/05/2025
"ساحلِ گوادر پر بلوچ لڑکی"
شام نے آہستہ آہستہ گوادر کو اپنی آغوش میں لینا شروع کر دیا تھا۔ سورج بھی تھک ہار کر اپنی سونے جیسی روشنی کو سمندر کے حوالے کر رہا تھا، کشتیاں، دن بھر کی تھکن اپنے وجود پر لادے، آہستہ آہستہ ساحل کی طرف لوٹ رہی تھیں اور ان کے تعاقب میں کچھ بگلے (جو ساحل کی نگہبانی پر مامور تھے) اُڑتے چلے آرہے تھے۔
ساحل پر کئی لوگ خاموشی سے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ان میں ڈاکٹر بھی تھے اور ماسٹر بھی، کلرک بھی اور چپڑاسی بھی۔ نیز کالے، گورے،قد آور، بونے ، توند والے: ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔
ان سب سے پرے وہ مغموم آنکھوں والی لڑکی آج بھی بیٹھی ہوئی تھی۔
خاموش، تنہا، اور چہرے پر وہ تھکن نہیں جو جسم کو ہو، بلکہ وہ چپ جو روح پر برسوں سے ٹھہری ہو۔
سرخ دوپٹہ، ہوا سے الجھتا، بار بار اس کے کندھوں سے سرکتا۔ اس کے قدم ننگے تھے، مگر وہ ریت سے نہ گھبراتی تھی۔
اس کی نظریں بار بار سمندر کی طرف اٹھتی تھیں — جیسے وہ کسی کو پکار رہی ہو، کسی ایسے کو، جس کا جسم دریا میں دفن ہو، اور نام ریت سے مٹ چکا ہو۔
اس نے ایک نظر سمندر کی تیز موجوں کی جانب اٹھائی اور پھر خاموشی سے سنسان ریت میں اپنی انگلی ڈال کر لکھا۔
"بابا"
یہ لفظ، لفظ نہیں تھا — ایک آہ تھی، ایک سانس تھی، ایک لمس تھا ۔ ایک ایسا لمس جو اب صرف یاد میں زندہ تھا۔
لیکن پلک جپھکتے ہی ایک بے رحم لہر آئی، اور "بابا" کو ریت سے یوں مٹا کر لے گئی جیسے دریا نے سب کچھ نگلنے کا وعدہ کر رکھا ہو۔
اس کی آنکھوں میں آنسو لرزنے لگے، مگر چہرے پر وہی وقار —
وہی صبر، جو بلوچ عورت کی پہچان ہے؛
وہ صبر جو چیختا نہیں، صرف تاریخ میں ثبت ہو جاتا ہے۔
اس نے دوبارہ انگلی اٹھائی، اور دوسرا لفظ لکھا:
"بھائی"
ایک خالص مسکراہٹ یاد آئی —
وہی بھائی، جو اس کے بچپن کا ساتھی تھا۔ مغموم یادوں کا ایک توانا احساس تھا۔ جس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے جوئیں نکالا کرتی تھی۔
لیکن دومنٹ بعد موجوں نے یہ نام بھی سمیٹ لیا۔
دریا سمجھتا ہے کہاں وار کرنا ہے۔
وہ کبھی خطا نہیں کرتا —
دکھ پر، ہمیشہ سیدھا وار کرتا ہے۔
تیسری بار، بہت سوچ کر، بہت توقف سے،
اُس نے لکھا:
اشفاق(محبوب)
یہ نام، جیسے اُس کے اندر سے پھٹا ہو —
جیسے دل نے خود اپنی رگ کا خون ان حرفوں میں انڈیلا ہو۔
یہ وہ نام تھا، جس سے کبھی اس کے گال سرخ ہو جاتے تھے،
اور اب آنکھیں۔
مگر سمندر کو محبت کا ہنر کب آتا ہے؟
اس نے نرمی سے، ندامت سے،
مگر بے رحم انداز میں،
یہ نام بھی بہا دیا۔
اب وہ لڑکی کچھ نہ بولی۔
نہ دریا کو کوسا، نہ آسمان سے شکوہ کیا۔
بس ایک گہری سانس لی،
اور پھر، اپنی ہی شناخت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے،
آخری لفظ لکھا:
"میں"
یہ نام کچھ دیر تک ریت پر چمکتا رہا —
جیسے کوئی چراغ، جلنے سے پہلے آخری بار بھڑکے۔ پھر اُس نے اپنی چادر بچھائی، ریت پر اپنا سر رکھا،
اور آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد حب دوبارہ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ہلکی موجیں، نا چاہتے ہوئے بھی "میں' کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ گویا ان کو اس " میں" پر ترس بھی آرہا ہو لیکن پیچھے سے تند وتیز لہریں ان کو زبردستی اس نام کی جانب دھکیل رہی ہوں۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
میں جو دور کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ میرے اندر دل اور دماغ کی جنگ چل رہی تھی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، اور آخر کار میں نے دماغ کی بات سن لی اور اپنی گاڑی اسٹارٹ کرکے شرمندہ نظروں سے گھر کی جانب نکل گیا۔