World of knowledge

  • Home
  • World of knowledge

World of knowledge اس گروپ میں ایسے مواد کی تشہیر ہوگی جو عقل و شعور اور علم و ادب پر مبنی ہوں گی۔

"ساحلِ گوادر پر بلوچ لڑکی"شام نے  آہستہ آہستہ گوادر کو اپنی آغوش میں لینا شروع کر دیا تھا۔ سورج  بھی تھک ہار کر  اپنی سو...
04/05/2025

"ساحلِ گوادر پر بلوچ لڑکی"

شام نے آہستہ آہستہ گوادر کو اپنی آغوش میں لینا شروع کر دیا تھا۔ سورج بھی تھک ہار کر اپنی سونے جیسی روشنی کو سمندر کے حوالے کر رہا تھا، کشتیاں، دن بھر کی تھکن اپنے وجود پر لادے، آہستہ آہستہ ساحل کی طرف لوٹ رہی تھیں اور ان کے تعاقب میں کچھ بگلے (جو ساحل کی نگہبانی پر مامور تھے) اُڑتے چلے آرہے تھے۔

ساحل پر کئی لوگ خاموشی سے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ان میں ڈاکٹر بھی تھے اور ماسٹر بھی، کلرک بھی اور چپڑاسی بھی۔ نیز کالے، گورے،قد آور، بونے ، توند والے: ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔

ان سب سے پرے وہ مغموم آنکھوں والی لڑکی آج بھی بیٹھی ہوئی تھی۔
خاموش، تنہا، اور چہرے پر وہ تھکن نہیں جو جسم کو ہو، بلکہ وہ چپ جو روح پر برسوں سے ٹھہری ہو۔

سرخ دوپٹہ، ہوا سے الجھتا، بار بار اس کے کندھوں سے سرکتا۔ اس کے قدم ننگے تھے، مگر وہ ریت سے نہ گھبراتی تھی۔
اس کی نظریں بار بار سمندر کی طرف اٹھتی تھیں — جیسے وہ کسی کو پکار رہی ہو، کسی ایسے کو، جس کا جسم دریا میں دفن ہو، اور نام ریت سے مٹ چکا ہو۔

اس نے ایک نظر سمندر کی تیز موجوں کی جانب اٹھائی اور پھر خاموشی سے سنسان ریت میں اپنی انگلی ڈال کر لکھا۔
"بابا"

یہ لفظ، لفظ نہیں تھا — ایک آہ تھی، ایک سانس تھی، ایک لمس تھا ۔ ایک ایسا لمس جو اب صرف یاد میں زندہ تھا۔
لیکن پلک جپھکتے ہی ایک بے رحم لہر آئی، اور "بابا" کو ریت سے یوں مٹا کر لے گئی جیسے دریا نے سب کچھ نگلنے کا وعدہ کر رکھا ہو۔

اس کی آنکھوں میں آنسو لرزنے لگے، مگر چہرے پر وہی وقار —
وہی صبر، جو بلوچ عورت کی پہچان ہے؛
وہ صبر جو چیختا نہیں، صرف تاریخ میں ثبت ہو جاتا ہے۔

اس نے دوبارہ انگلی اٹھائی، اور دوسرا لفظ لکھا:
"بھائی"

ایک خالص مسکراہٹ یاد آئی —
وہی بھائی، جو اس کے بچپن کا ساتھی تھا۔ مغموم یادوں کا ایک توانا احساس تھا۔ جس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے جوئیں نکالا کرتی تھی۔

لیکن دومنٹ بعد موجوں نے یہ نام بھی سمیٹ لیا۔
دریا سمجھتا ہے کہاں وار کرنا ہے۔
وہ کبھی خطا نہیں کرتا —
دکھ پر، ہمیشہ سیدھا وار کرتا ہے۔

تیسری بار، بہت سوچ کر، بہت توقف سے،
اُس نے لکھا:
اشفاق(محبوب)

یہ نام، جیسے اُس کے اندر سے پھٹا ہو —
جیسے دل نے خود اپنی رگ کا خون ان حرفوں میں انڈیلا ہو۔
یہ وہ نام تھا، جس سے کبھی اس کے گال سرخ ہو جاتے تھے،
اور اب آنکھیں۔

مگر سمندر کو محبت کا ہنر کب آتا ہے؟
اس نے نرمی سے، ندامت سے،
مگر بے رحم انداز میں،
یہ نام بھی بہا دیا۔

اب وہ لڑکی کچھ نہ بولی۔
نہ دریا کو کوسا، نہ آسمان سے شکوہ کیا۔
بس ایک گہری سانس لی،
اور پھر، اپنی ہی شناخت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے،
آخری لفظ لکھا:

"میں"

یہ نام کچھ دیر تک ریت پر چمکتا رہا —
جیسے کوئی چراغ، جلنے سے پہلے آخری بار بھڑکے۔ پھر اُس نے اپنی چادر بچھائی، ریت پر اپنا سر رکھا،
اور آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد حب دوبارہ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ہلکی موجیں، نا چاہتے ہوئے بھی "میں' کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ گویا ان کو اس " میں" پر ترس بھی آرہا ہو لیکن پیچھے سے تند وتیز لہریں ان کو زبردستی اس نام کی جانب دھکیل رہی ہوں۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔

میں جو دور کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ میرے اندر دل اور دماغ کی جنگ چل رہی تھی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، اور آخر کار میں نے دماغ کی بات سن لی اور اپنی گاڑی اسٹارٹ کرکے شرمندہ نظروں سے گھر کی جانب نکل گیا۔




سعودی عرب ایک ایسا شہر بنانے جارہا ہے جو 170 کلو میٹر طویل ہوگا اور مستقبل میں نوے لاکھ لوگوں کا گھر ہوگا۔ یہ شہر عام شہ...
12/03/2024

سعودی عرب ایک ایسا شہر بنانے جارہا ہے جو 170 کلو میٹر طویل ہوگا اور مستقبل میں نوے لاکھ لوگوں کا گھر ہوگا۔ یہ شہر عام شہروں جیسا نہیں ہوگا ۔بلکہ اسے شروع سے آخر تک ایک اسٹریٹ لائین میں بنایا جائے گا۔ یہاں فضائی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہوگی کیوں کہ یہاں پر نہ کوئی کار ہوگا نہ کوئی بس ہوگی بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے ہائی اسپیڈ میٹرو کا استعمال کیا جائے گا۔ اس شہر کی اونچائی 500 میٹر کے آس پاس ہوگی۔ اور دیواروں کی دونوں جانب بڑے بڑے Mirror Glasses لگائے جائیں گے اسی لیے لیے لوگ اسے mirror city کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ اور یہ پروجیکٹ کچھ ہی سالوں میں بن کر تیار ہوگا

12/03/2024

ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائ 7ہزار کلومیٹر ہے،

دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں،

یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں

مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں

12/03/2024

اڑنے والی کاروں کا تصور اب حقیقت میں بدل گیا ہے۔ چین کی ایک مشہور کمپنی ازنکتانگ نے دنیا کی فرسٹ Flying کار لانچ کردی ہے۔ اس کی خوبصورت دئزائینگ نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ یہ گاڑی عام روٹین میں سڑک پر دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور رش والے علاقوں میں اڑکر آپ کو آپ کے مقام تک باآسانی پہنچا سکتی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ یہ کار اگلے سال لوگوں کی خریداری کے لیے میسر ہوگی۔ اس کار کو سب سے پہلے چین میں فروخت کیا جائے گا اور اس کی قیمت دس لاکھ یوآن رکھی گئی ہے جو پاکستانی روپیز میں 3 کروڑ اور 88 لاکھ روپے بنتے ہیں۔

12/03/2024

ایمیزون جنگل میں 400 سے زائد ایسے جنگلی قبائل آباد ہیں جو
اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں۔ انکی تعداد تقریباً 45 لاکھ کے قریب بتایا جاتا ہے
اور اس جنگل میں ایسے زیریلے حشرات پائے جاتے ہیں جو اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈوں میں ہی دم توڑ دے گا

یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں،

07/03/2024

دوستو کیا ہوگا اگر چاند زمین سے ٹھکرا جائے تو کیا دنیا تباہ ہوگی اف کورس یس بٹ ٹھکرانے سے نہیں اس سے ذرا پہلے۔
جیسے جیسے چاند زمین کے قریب آئے گا اس کی گریوٹی کا اثر زمین پر دکھنا شروع ہوجائے گا۔ اور جب چاند کا فاصلہ زمین سے دولاکھ کلو میٹر رہ جائے گا تو سمندر میں خطرناک سونامی آئے گی جس سے سارے ساحلی علاقے ڈوب جائیں گے۔ اور جیسے جیسے چاند اور قریب آئے گا تو زمین پھٹنا شروع ہوجائے گی اور اس کے سارے والکینوز ایکٹیو ہوجائیں گے۔ جب چاند کا فاصلہ 60 ہزار کلو میٹر رہ جائے گا تو سمندر کی لہریں سو میٹر سے بھی اونچی ہوں گی۔زمین تو تباہ ہوگا ہی لیکن جیسے ہی چاند زمین کے atmosphere میں داخل ہوگا تو زمین کی گریوٹی اسے کئی ٹکڑوں میں بکھیر دے گی۔ جس سے زمین کی چاروں جانب ایک رنگ سسٹم بن جائے گا

 #تاریح۔ #منگول۔تحریر  #جاوید۔“ مغل “اور “ مغول “لفظ منگول کی بدلی ہوئی شکل ہے منگولوں کے عرب مملک پر حملوں اور قبضہ کے ...
05/03/2024

#تاریح۔ #منگول۔
تحریر #جاوید۔
“ مغل “اور “ مغول “لفظ منگول کی بدلی ہوئی شکل ہے منگولوں کے عرب مملک پر حملوں اور قبضہ کے بعد لفظ “منگول” جب عربی سے متعارف ہوا تو یہ لفظ “مغول ” کی صورت میں تبدیل ہوگیا کیونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں “گ” نہیں ہے اس طرح “گ”کی جگہ”غ ” نے لے لی مغولان جمع کا لفظ ہے اس کا واحد مغل یا مغول ہے۔ یورپین مورخین اور محقیقین انہیں تاتاری بھی لکھتے اور کہتے ہیں، اس وجہ سے عرب ریاستوں میں اور ساتھ ساتھ ایران ،عراق، افغانستان کی ریاستوں میں مغول بولا جانے لگا اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان میں مختصر ہوکر مغل رہ گیا اور یہ ایک ہی قوم کے مختلف نام ہیں۔ہندوستان پاکستان میں انکو اب مغل کہا جاتا ہے۔

موجودہ منگولیا، روس اور چین اور خصوصاً وسط ایشیائی سطح مرتفع صحرائے گوبی کے شمال اور سائبیریا کے جنوب سے تعلق رکھنے والی ایک قوم ہے۔اس وقت” منگولوں“ یا مغلوں کی کافی ساری تعداد دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔

تاریخ عالم میں مغلوں کی اولین مشہور شخصیت جو تومنہ خان کی پانچویں پُشت میں سے تھا چنگیز خان (پیدائش 1160ء، وفات: 1227ء) جس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر یورپ کے وسط تک ایک عظیم منگول سلطنت قائم کی۔ یہ تاریخ عالم کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو مغرب میں ہنگری، شمال میں روس، جنوب میں انڈونیشیا اور وسط کے بیشتر علاقوں مثلا افغانستان، ترکی، ازبکستان، گرجستان، آرمینیا، روس، ایران، پاکستان، چین اور بیشتر مشرق وسطی پر مشتمل تھی۔

تاریخ عالم کی دوسری بڑی منگول سلطنت کی بنیاد تومنہ خان کی نویں پُشت میں امیر تیمور برلاس (پیدائش،1336ء وفات،1405ء) نے رکھی جسے تیموری سلطنت بھی کہتے ہیں۔

تیسری مغل سلطنت کی بُنیاد تومنہ خان کی پندرہویں اور امیر تیمور برلاس کی چھٹی پُشت میں ظہیر الدین محمد بابر (پیدائش 483ء وفات، 1530ء) نے ہندوستان میں ابراہیم لودھی کوپانی پت کے میدان میں شکست دے کر 1526میں رکھی جو تقریباً 331 سال قائم رہی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . . . . .......history pages.2024../2/27/

تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند خاندان کا ناج...
05/03/2024

تاریخ ہند کی سب سے بڑی اور پہلی سلطنت موریا تھی۔ جس کا بانی چندر گپت موریا تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند خاندان کا ناجائز فرد تھا جوکسی بنا پر راجا کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب و سرحد کے غیر مطمئن قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیاChaknia or Koutlia کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔ جین مت کی روایتیں موریاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ موروں کے رکھوالے تھے۔ بدھ روایتیں کہتی ہیں کہ جب شاکیا کی شاخ موریا مگدھ سے بچ نکلا تو ایک پہاڑی علاقہ میں چلا گیا ہے جہاں موروں کی بہتات تھی۔ وہاں انھوں نے ایک شہر بسایا اور چونکہ شہر کے محلات کی اینٹوں کا رنگ مور کی گردن جیسا تھا۔ اس لیے یہ لوگ مور کہلائے اور شہر کا نام موریا نگر مشہور ہوا۔ نندن گڑھ کے ستون سابچی کے سٹوپوں وغیرہ پر موروں کی تصویر کندہ ہیں۔ پاٹلی پتر میں موریا محل کے باغ مور پالے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے فاؤچر، جان مارشل اور گرن ویڈل اس نتیجہ پر پہنچے کہ مور موریا خاندان کی قومی علامت تھا۔ یہاں تک جب گپتا دور میں مہا بھارت پر نظر ثانی کی گئی تو انھیں سنسکرت کا تلفظ میورا کا (یعنی مور قبیلہ) دے دیا گیا۔ (مور راکھا یعنی موروں کا رکھوالا) چندر گپت کے بارے میں یہ روایت ہے کہ وہ نندا خاندان کا ناجائز لڑکا تھا اور اس کی ماں کے نام سے موریا خاندان کا نام پڑا۔ بی ایس ڈاہیا کا کہنا ہے کہ یہ تمام روایات بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ تمام داستانیں فرضی ہیں ان میں زرہ پھر سچائی نہیں ہے موریا خاندان کا مور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مور ان کی خاندانی یا پسندیدہ علامت ہے۔ ستون پر کندہ اشوک کے شاہی فرمان نمبر 5 میں ان جانوروں اور پرندوں کی فہرست دی گئی جن کو مارنا منع ہے، لیکن ان میں مور شامل نہیں ہے۔ اشوک کی خوراک جو جانور شامل تھے ان میں کو بھی شامل تھا۔ یہ لوگ مور خور تھے نہ کہ مور کے محافظ۔ یہ کیسے ممکن ہے موروں کے رکھوالے کا بیٹا (چندر گپت) ایک ہزار میل دور ٹیکسلا جو شہزادوں کی عظیم درس گاہ تھی تعلیم پاتا تھا۔ یونانی تاریخیں میں کہیں بھی اس کی نشان دہی نہیں ہوتی ہے کہ موریاؤں کا تعلق نندا خاندان سے ہے۔ موریہ کون تھے؟ چانکیہ اس کے بارے میں اپنی تصنیف ارتھ شاستر میں ایک لفظ نہیں کہتا ہے۔ پران موریہ حکمرانوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتی ہیں۔ ’مدرا راکش‘ سنسکرت کے ڈراما نگار وشاکھ دت نے موریاؤں کو انھیں شودر، ورشل اور کمینہ کہہ کر حقارت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے اور خود چندر گپتا کو کلاہن (مجہو الاصل) کہا ہے۔ جب کہ ’یوگ پران‘ نے انھیں بے دین بظاہر دین دار کہا ہے۔ وشنو پران کہتا ہے نندا کی نسل کے خاتمہ کے بعد موریا قابض ہوجائیں گے اور انھیں شودر کہا ہے۔ مارکنڈیا پران میں انھیں ہے اسور کہا گیا۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس نفرت کا سبب کیا ہے۔ اس جانب ایک اشارہ ہے کہ معاشرے کے بارے میں بالعوم اور برہمنی رسوم کے بارے میں بالخصوص موریاؤں کا روئیہ ہے۔ موریاؤں نے تمام برہمنی رسومات ختم کر دیں۔ انھوں نے رسمی طور پر برہمنی مذہب کی مخالفت کی اور اس کے برعکس انھوں نے بیواؤں کی شادی کی حمایت کی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ موریا غیر ملکی تھے۔ اس لیے وہ برہمنوں کی بالا دستی کو نہیں مانتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے روایتی، سماجی مذہبی اور سیاسی نظریات کی مخالفت کرتے اور وہ ذات پات کو نہیں مانتے تھے۔ اور مزید ان کا کہنا ہے اس کی حقیقت وسط ایشیائی کلمہ ’مور‘ جس کے معنی تاج کہ ہے، یہ وہی کلمہ ہے جس کو موڈ بھی بولا جاتا یعنی وہ تاج جو دولہا شادی کہ موقع پہنتا ہے۔ کیوں وسط ایشا کہ لوگ کلمہ کو ڑ اور ڈ ساتھ بھی بھی بولتے ہیں، اس لیے اسے سنسکرت کو ’موڈ‘ سمجھا گیا، جس کے معنی مسرت اور خوشی کے ہیں۔ انھوں نے اس کلمہ پر تفصیلی بحث کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کڑٹس کہتا ہے سندھ میں پٹالا کے بادشاہوں نے بھی اس کلمہ کو اپنے ناموں کے ساتھ لگایا ہے اور یہ کلمہ وہی ہے جس کو یونانیوں نے موئز کہا ہے، یہ کلمہ وسطہ ایشیا میں بھی ایک قبیلہ کا نام تھا اور وہاں اب بھی موجود ہے اور اس کا نام بھی یہی ہے۔ موریا، خوتان ترکستان اور دیگر علاقوں کے علاوہ کشمیر کے بھی حکمران تھے۔ پاپا اول سے پہلے موریا راجستھان میں جتوڑ کے حکمران تھے، وہ خود مور راجا کی لڑکی کا بیٹا تھا۔ اس طرح مہرت راجا چتوڑ جس کا ذکر چچ نامہ میں ذکر ملتا ہے مور یا موری قبیلہ کی شاخ اور سندھ کے رائے ساسی کا رشتہ دار تھا۔ نیل گری کے پہاڑوں پر چند قدیم مجسموں کا حوالہ دیتے ہوئے فادر مٹز کہتا ہے کہ وہ موریا ری مان (موریا گھرانا کہلاتے تھے۔ وہ انھیں تار تار یا ازبک تسیلم کرتا ہے۔
منقول

انڈیا  میں موجود ایک ایسا قلعہ جسے کوئی بھی حملہ آوار فتح نہیں کرسکا۔  مسلمان، مرہٹہ، پرتگالی، فرانسیسی اور حتی کہ انگری...
02/03/2024

انڈیا میں موجود ایک ایسا قلعہ جسے کوئی بھی حملہ آوار فتح نہیں کرسکا۔
مسلمان، مرہٹہ، پرتگالی، فرانسیسی اور حتی کہ انگریز وں نے بھی اسے فتح کرنے کی بہت کوشش کی مگر یہ ہمیشہ ناقابل شکست رہا۔ اس کے ناقابل شکست ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کی جیوگرافی تھی جس نے اسے ناقابل تسخیر بنایا تھا

اس قلعہ کا نام Murud-Janjira تھا جس کے حکمران Abyssinian مسلمان تھے
یہ قلعہ 1947 میں انگریز وں کے جانے کے بعد بھارتی حکومت کا حصہ بن گیا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہر سال  تنزانیہ میں سیرینگیٹی کے جنگلوں سے شروع ہوتی ہے۔ ہر سال اپریل کے مہین...
02/03/2024

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت ہر سال تنزانیہ میں سیرینگیٹی کے جنگلوں سے شروع ہوتی ہے۔ ہر سال اپریل کے مہینے میں تقریباً تیرہ لاکھ دیو ہیکل جنگلی بھینسے اور دو لاکھ کے قریب زیبرے شمال میں کینیا کی طرف 800 کلومیٹر کا سفر شروع کرتے ہیں۔ مئی میں چار لاکھ غزال انکا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اس سفر کے دوران ان میں سے کئی شیروں کا شکار بنتے ہیں، کچھ دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے یا تو ڈوب جاتے ہیں یا مگرمچھوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی چوہوں سے سزا دینے کا سنا ہے؟یہ تاریخ میں ایجاد کیے گئے سب سے خوفناک سزا دینے کے طریقوں میں سے ایک تھا۔اس ...
02/03/2024

کیا آپ نے کبھی چوہوں سے سزا دینے کا سنا ہے؟
یہ تاریخ میں ایجاد کیے گئے سب سے خوفناک سزا دینے کے طریقوں میں سے ایک تھا۔

اس میں وکٹم کے پیٹ پر، ایک پنجرے میں زندہ چوہے رکھے جاتے تھے۔ پھر، پنجرے کو باہر سے گرم کیا جاتا تھا، جس سے چوہے بھاگنے کی کوشش میں مجبور ہوتے تھے۔ جب انھیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملتا تو وہ وکٹم کے پیٹ کو کاٹنا شروع کردیتے تھے یہاں تک کہ وکٹم مرجاتا

یہ موت کا ایک ظالمانہ اور خونخوار طریقہ تھا، اور تاریخ میں ایجاد کیے گئے سب سے برے طریقوں میں سے ایک تھا۔

دنیا کے سب سے بڑے سانپ اناکونڈا اور python  سے بھی کئی گنا بڑے سانپ  Titanoboa ! یہ سانپ  آج سے 65-70 ملین سال پہلے ایمز...
02/03/2024

دنیا کے سب سے بڑے سانپ اناکونڈا اور python سے بھی کئی گنا بڑے سانپ Titanoboa !
یہ سانپ آج سے 65-70 ملین سال پہلے ایمزون کے جنگلات میں پایا جاتا تھا۔ اس سانپ کی لمبائی پچاس فٹ اور موٹائی اتنی تھی کہ چار فٹ کے دروازے سے بمشکل گزر سکتا تھا ۔ اس سانپ کا وزن 1.3 ٹن تک تھا اور بتایا جاتا ہے کہ اس سانپ کا زمانہ ڈائنوسار کے بعد کا زمانہ ہے۔

Address


91200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when World of knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share